بسم الله الرحمن الرحيم
مبارک سرزمینِ: فلسطین کی آزاد خواتین خواتین کو بدعنوان کرنے اور CEDAW معاہدے کو فروغ دینے والوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں!
سرزمینِ مبارک (فلسطین) کی خواتین اور بیٹیوں کی بڑی تعداد نے الخلیل شہر میں اپنی بہنوں کی پکار پر لبیک کہا اور ایک غیر معمولی اجتماع میں شرکت کی۔ اس اجتماع کا مقصد خواتین اور مسلم خاندان سے متعلق شرعی احکام پر گفتگو کرنا، انہیں آگاہی فراہم کرنا اور مغرب زدگی و فساد کی ان مہمات سے محفوظ رکھنا تھا جو مختلف طریقوں اور حربوں سے عورت کو تباہ کرنے اور اس کے نتیجے میں خاندان اور معاشرے کو برباد کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اجتماع، بلکہ کانفرنس، میں متعدد تقاریر ہوئیں۔ پہلی تقریر کا عنوان تھا: "عورت: وحی کے محفوظ کردہ وقار اور باہم متصادم نعروں کے درمیان"۔ اس میں اسلام میں عورت کے مقام، وحی کے ذریعے اس کی عزت، مرتبے اور حقوق کے تحفظ، نیز مغرب اور اس کے حامیوں کی جانب سے انہیں مسخ اور تبدیل کرنے کی کوششوں کو واضح کیا گیا۔
دوسری تقریر بعنوان "مغرب کی جانب سے عورت پر شدید یلغار" میں معاشرتی نظام سے متعلق شرعی احکام، بالخصوص مردوں اور عورتوں کے اختلاط اور ان کے درمیان رکاوٹیں ختم کرنے کے مسئلے پر توجہ دی گئی۔
تیسری تقریر کا عنوان تھا: "سیڈاو معاہدہ اور اس کے بعد اسلامی احکام کے خلاف جنگ اور مسلم عورت کو بگاڑنے کی کوشش"۔ اس میں بتایا گیا کہ سیڈاو معاہدے کی متعدد دفعات شرعی احکام سے متصادم ہیں اور انہیں مسلم عورت پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
چوتھی تقریر بعنوان "فلسطین میں نسوانی تحریک: ایک تلخ حاصل" میں خواتین کے اداروں اور انجمنوں کے لیے غیر ملکی مالی معاونت اور مشتبہ رقوم کا ذکر کیا گیا، جن کا مقصد عورت اور خاندان کو بگاڑنا ہے۔
پانچویں تقریر بعنوان "مردوں اور عورتوں کا اختلاط: حدود و احکام" میں شرعی نقطۂ نظر سے اختلاط کے مفہوم کی وضاحت کی گئی، اور نجی و عوامی زندگی کے ساتھ ساتھ سماجی رابطے کے ذرائع پر مردوں اور عورتوں کے تعلقات سے متعلق حدود و احکام بیان کیے گئے۔
چھٹی تقریر بعنوان "خواتین کو بااختیار بنانا" میں عورت کے بارے میں معاصر بیانیے میں نمایاں طور پر موجود اس نعرے کے خطرات، اور اس کے فریب آمیز طریقوں کے اثرات و نتائج کو اجاگر کیا گیا۔
اس کے بعد غزہ ہاشم کی ایک خاتون کا ریکارڈ شدہ مؤثر پیغام دکھایا گیا، جس میں انہوں نے خواتین کی انجمنوں سے غزہ کی عورتوں کے قتل، بے دخلی، جانی نقصان، مصائب، اذیت اور قید کے حوالے سے ان کے کردار پر بات کی۔
اختتامی تقریر "الخلیل کی خواتین" کی جانب سے ایک دوٹوک پیغام پر مشتمل تھی کہ وہ مغربی ایجنڈوں، سیڈاو معاہدے کی دفعات اور ان سے جڑی ہر اس چیز سے براءت کا اعلان کرتی ہیں جو اللہ کی شریعت اور اس کے احکام سے متصادم ہو۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین ہمیشہ سے سرزمینِ مبارک رہا ہے اور رہے گا، اور اس کی خواتین اور آزاد بیٹیاں مغرب زدگی اور فساد کی ہر کوشش کے خلاف ایک مضبوط قلعہ بنی رہیں گی۔
اس موقع پر "اے وہ موتی جسے کل بڑی قدر سے محفوظ رکھا گیا" کے عنوان سے ایک نظم بھی پڑھی گئی۔
اجتماع یا کانفرنس کے دوران دو ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔ پہلی ویڈیو میں مغربی معاشروں میں عورت کی صورتِ حال کے بعض تاریک پہلو دکھائے گئے، جن جیسا مسلم عورت کو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری ویڈیو میں مسلم عورت کے خلاف بنائے جانے والے بعض منصوبوں اور افکار کے پہلو پیش کیے گئے۔
یہ جامع کانفرنس ایک مؤثر دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس میں ثابت قدمی، غلبے، اور سرزمینِ مبارک (فلسطین) سمیت ہر جگہ مسلم خواتین اور بچیوں کی حفاظت کی دعا کی گئی۔
https://www.hizbut-tahrir.info/ur/index.php/%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%AA/%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%AA%DB%8C-%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/4763.html?print=1&tmpl=component#sigProId1061cc3276
Latest from
- الرایہ کےمتفرقات - ( شمارہ نمبر 617)
- کیا جنگ عنقریب رک جائے گی اور امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جائے گا؟
- سوڈان میں سیاسی بحران اور حل کے امکانات
- جبل الشيخ کی چوٹی سے نتنياهو اور كاتس کے تکبر اور غرور کا خاتمہ صرف اسلام کے لشکروں کے ذریعے ہی ہو گا
- کیا شنگھائی تعاون تنظیم اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کی گئی ایک تنظیم ہے؟