المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان
| ہجری تاریخ | 22 من رمــضان المبارك 1447هـ | شمارہ نمبر: 1447/36 |
| عیسوی تاریخ | بدھ, 11 مارچ 2026 م |
پریس ریلیز
قومی ریاست کے سیاسی تصور اور مسلم حکمرانوں کی امریکی ورلڈ آرڈر کی غلامی نے امت مسلمہ کو مغرب کے لیے ترنوالہ بنا دیا ہے! امت کی وحدت بذریعہ خلافت ہی امت کی جان، مال، سرزمین اور عقیدے کی حفاظت کی ضمانت ہے!
موجودہ ایران-امریکہ جنگ امت کے خلاف کافر استعمار کی صلیبی جنگوں کا تسلسل ہے۔ 1991 میں عراق پر امریکہ اور اتحادی افواج کا حملہ، 1992-95 میں سربیا اور کروشیا کا بوسنیا پر حملہ، 1998 میں امریکہ کے سوڈان اور افغانستان پر حملے، 2001 میں امریکہ کا افغانستان پر قبضہ، 2003 میں امریکہ کا عراق پر قبضہ، 2006 میں یہودی ریاست کی لبنان سے جنگ، 2011 میں لیبیا پر امریکہ اور نیٹو کا حملہ، 2014-19 تک امریکہ اور روس کی شام میں بمباری اور قتل عام اور حال میں غزہ اور ایران پر صیہونی اور صلیبی حملے پچھلے چالیس سالوں میں مسلم ممالک پر صلیبی حملوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن اس صلیبی جنگ کو ہماری حکمران اشرافیہ نے امت مسلمہ کے خلاف صلیبی یلغار کی بجائے قومی ریاستوں کے تناظر سے دیکھا، جس کا فطری نتیجہ یہی تھا کہ مسلم حکمران اپنے آپ کو "قومی مفاد" کے حصول تک محدود رکھتے ہیں، یہاں تک کہ "قومی مفاد" کے نام پر وہ خود بھی مسلم علاقوں پر ان صلیبی حملوں میں معاونین کے طور پر شامل ہو گئے۔ بلکہ یہ مسلم حکومتیں تو قومی مفاد کے نام پر خود دوسری مسلم حکومتوں پر بھی حملہ آور ہوئیں، جیسے کہ ایران-عراق کی آپس کی جنگ، سعودی عرب کا یمن پر حملہ یا پاکستان کے افغانستان پر موجودہ حملے۔ پس یہ بالکل واضح ہے کہ قومی ریاست کی سیاسی سوچ نے مسلم ممالک کو کفار کے صلیبی حملوں کے سامنے تر نوالہ بنا دیا ہے، ہماری طاقت کا شیرازہ بکھیر دیا ہے اور ہماری سرزمین پر کفار کے قبضے کو ممکن بنایا ہے۔ قومی ریاست کا تصور امت کی وحدت اور اسلام کے حکمرانی کے بارے میں تصوارت کے منافی ہے۔ اسلام امت کے بٹوارے، تقسیم اور مسلم علاقوں کے درمیان سرحدوں کو واضح انداز میں مسترد کرتا ہے۔
اسلام مسلمانوں پر ایک سے زائد امیر کے تقرر کو مسترد کرتا ہے، خواہ وہ آپس میں بھائی چارے یا دوستی کے ساتھ رہیں یا دشمنی کے ساتھ۔ رسول اللہ ﷺ ہمیں پہلے ہی اس صورتحال کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے ہماری رہنمائی فرما چکے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا
«إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الآخَرَ مِنْهُمَا»
"اگر دو خلفاء کے لیے بیعت کر لی جائے تو ان میں بعد والے کو قتل کر دو۔" (صحیح مسلم)
اسلام کی سیاست امت کی سیاست ہے، قومی ریاست کی نہیں۔ اسلام ان مصنوعی سرحدوں کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستان کے اہلِ قوت، اہلِ اثر اور علماء جان لیں کہ جو کوئی قومی ریاست اور 'قومی مفاد' کی سیاست کرتا ہے، وہی مسلمانوں کی تباہی کا ذمہ دار ہے!
صلیبی مغرب نے دنیا اور مسلمان ممالک کی سیاست اور پالیسیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے انٹرنیشنل آرڈر کو ترتیب دیا، اس آرڈر میں شمولیت ہماری بقا کی بجائے ہمارے معاملات طاغوت کے حوالے کرنے کے مترادف ہے، اور جس کے ذریعے مغرب کو ہمارے معاملات پر براہ راست کنٹرول حاصل ہے۔ اقوام متحدہ، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایف اے ٹی ایف، عالمی عدالت، انٹرنیشنل اٹامک انرجی، اور ٹرمپ کا 'بورڈ آف پیس' مغرب کے مفادات کے حصول کے آلہ کار اور مسلم طاقت اور قوت کو تباہ اور تقسیم کرنے اور مسلم ممالک کو مغرب کا غلام رکھنے کے لیے بنائے گئے ادارے ہیں۔ یہ انٹرنیشنل ادارے ایک سپر امریکی ریاست اور امریکی خارجہ پالیسی کے ہتھیار ہیں۔ اسلام اس انٹرنیشنل آرڈر کو طاغوت (غیر اللہ پر مبنی اتھارٹی) گردانتے ہوئے ہمیں اس کے کفر کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ سبحان تعالی نے فرمایا:
﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾
"کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی اور جو آپ سے پہلے نازل کی گئی، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جائیں، حالانکہ انہیں طاغوت کے کفر کا حکم دیا گیا تھا۔ اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بہت دور کی گمراہی میں ڈال دے۔" (سورۃ النساء:60)
اے اہل قوت، اہل اثر اور علماء!
یہ کس طرح قابل برداشت ہے کہ ایپسٹین کی پیداوار تہذیب تو دنیا کے معاملات کا فیصلہ کریں اور مسلمان، جنہیں دنیا کی امامت کی ذمہ داری دی گئی تھی، وہ مغرب اور امریکہ کی غلامی پر قناعت کریں؟ کیا یہ ہمارا حق اور فرض نہیں کہ ہم دنیا کی سیاست سنبھالیں اور دنیا کے امور کو اسلام کے مطابق چلائیں، اور اس کرپٹ سرمایہ دارانہ لبرل آئیڈیالوجی اور شیطان کے پجاریوں کی حکومت کا خاتمہ کریں۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے قران پاک میں فرمایا:
﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾
"وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، چاہے مشرکوں کو یہ کتنا ہی برا کیوں نہ لگے۔" (الصف:9)
آخر کیوں آج کا فرعون ٹرمپ تو نیو مڈل ایسٹ منصوبے کے مطابق خطے کو امریکی مفادات کے مطابق ترتیب دے، خواہ اس کے لیے مسلمانوں کے خون سے ہولی کیوں نہ کھیلنی پڑے، لیکن ہم مسلمان، جو اس خطے کے وارث ہیں، اس خطے کو ایک خلافت کے قیام کے ذریعے یکجا کرتے ہوئے یہودی وجود کو نیست و نابود اور امریکہ کو اس خطے سے باہر نہ پھینکیں؟ ایران امریکہ جنگ اور اس سے قبل غزہ، افغانستان اور عراق نے امریکی تہذیب اور اس کی فوجی طاقت کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اہلِ قوت میں سے مخلص عناصر خلافت کے قیام کی فرضیت اور اہمیت کو سمجھیں۔ اس تبدیلی کا ویژن اور تیاری اس وقت صرف اور صرف عالم اسلام کی سب سے بڑے اسلامی سیاسی ڈھانچے حزب التحریر کے پاس ہے، جو میدان عمل میں اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امت اور اہل قوت کو پکار رہی ہے۔ پس آگے بڑھیں اور قومی ریاستوں اور انٹرنیشنل آرڈر کی زنگ آلود بیڑیوں کو خلافت کے قیام کے ذریعے اکھاڑ پھینکیں۔
ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ پاکستان |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: https://bit.ly/3hNz70q |
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com |