المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان
| ہجری تاریخ | 28 من ربيع الاول 1448هـ | شمارہ نمبر: 1448/09 |
| عیسوی تاریخ | جمعرات, 10 ستمبر 2026 م |
پریس ریلیز
امریکہ اپنے ایجنٹوں کو، جنہوں نے مکہ دفاعی اتحاد تشکیل دیا، اپنی جانب سے ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے پکار رہا ہے
9 ستمبر کو امریکی کانگریس کے رکن جو ولسن نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر مکہ دفاعی اتحاد کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا: "مکہ دفاعی معاہدے کے مطابق ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب حوثیوں کو تباہ کر دیں۔ اور یمن کو آزاد کروایں۔" 8 ستمبر 2026 کو پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے مکہ دفاعی اتحاد کو فعال کر سکتے ہیں، کیونکہ معاہدے کے مطابق کسی رکن ریاست پر مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور ہوگا۔ یہ بیان حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر نئے حملوں کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔
ایران کو اپنے تابع کرنے میں ناکامی کے بعد، باوجود اس کے کہ امریکہ نے مختلف مہلک ہتھیار استعمال کیے اور اہم فوجی، شہری اور بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جن میں خارگ آئل جزیرے پر شدید بمباری بھی شامل تھی، اور اس کے باوجود کہ وہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت میں موجود 'جھوٹے گواہوں'، جن میں سب سے نمایاں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر تھے، جنہیں ٹرمپ نے "دو حقیقتاً غیر معمولی افراد" قرار دیا تھا، جبکہ عاصم منیر کو اپنا "پسندیدہ فیلڈ مارشل" کہا تھا، کی ثالثی کے ذریعے ایران کو ہتھیار ڈالنے یا دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی پابندی پر مجبور نہ کر سکا، تو امریکہ نے خطے میں اپنے رُوَیبِضَہ (معمولی و بے وقعت) ایجنٹوں کو ایران کے خلاف اپنی جانب سے گھناؤنا کام کرنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے خطے میں اپنے ایجنٹوں اور پیروکاروں کو ہدایت دی کہ وہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی پر مشتمل سہ فریقی فوجی اتحاد تشکیل دیں۔ ٹرمپ نے اس اتحاد کے قیام پر اپنی بھرپور خوشی کا اظہار کیا اور اسے اپنے لیے ایک کلیدی مدد اور ایران کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ایک بڑی لاٹھی قرار دیا۔
یہ بات اب ہر شخص پر واضح ہو چکی ہے، عام عوام سے لے کر دنیا بھر کے فوجی اور سیاسی مبصرین تک، بلکہ خود امریکہ پر بھی، کہ امریکہ دنیا بھر میں شروع کی جانے والی جنگوں اور فوجی مہمات میں، بالخصوص اسلامی ممالک کے خلاف، فیصلہ کن فتح حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ مہلک ہتھیاروں کے وسیع ذخیرے کے باوجود، اس کی فوج میں وہ نظریاتی ایمان موجود نہیں جو فوجیوں کو اپنے عقائد کی خاطر لڑنے اور قربانی دینے پر آمادہ کرتا ہے؛ کیونکہ امریکہ کی جنگیں کسی اعلیٰ و ارفع مقاصد کیلئے نہیں، جو مظلوموں کی مدد یا عدل کے قیام کے لیے لڑی جائیں، بلکہ یہ استعمار، لوٹ مار اور غارت گری کی مہمات ہیں۔ خود فوجی بھی اس حقیقت سے واقف ہیں، اور یہی ایک ایسا عمل ہے جو بہت سے فوجیوں کو خودکشی پر آمادہ کرتا ہے۔ چنانچہ سمندروں میں تعینات بحری جہازوں پر متعدد خودکشیاں ہو چکی ہیں، اور یہ واقعات اتنی کثرت سے ہوئے کہ امریکہ انہیں چھپا نہیں سکا۔ نتیجتاً امریکی فوج ایسے اجرتی فوجیوں پر مشتمل ہے جو حکومت کی جانب سے انہیں دی جانے والی مراعات، فوائد اور انعامات کے حصول کے لیے فوج میں بھرتی ہوتے ہیں۔ تاہم، جب یہ سب ایک سپاہی کی جبلت بقا اوراپنی زندگی بچانے سے متصادم ہوتا ہے تو یہ تمام چیزیں ختم ہو جاتی ہیں؛ اور بزدلی اور زندہ رہنے کی خواہش اُن ترغیبات اور مراعات پر غالب آ جاتی ہے جن کا وعدہ امریکہ کی حکومت اور فوجی و سیاسی قیادت کرتی ہے۔
امریکی رہنما اپنی افواج اور بحری بیڑوں کے بارے میں ان حقائق سے پوری طرح آگاہ ہیں، یعنی یہ ایسی فوج ہے جو تنازعات بھڑکانے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن انہیں ایسے انداز میں حل کرنے سے قاصر ہیں جو امریکی مفادات کو پورا کرے۔ اس ادراک نے انہیں علاقائی پراکسیز پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، چنانچہ انہوں نے ایک ایسے فوجی اتحاد کی تشکیل کا حکم دیا ہے جو امریکہ کو مسلم فوجیوں کو اپنے معرکوں میں استعمال کرنے اور وہ گھناؤنا کام کروانے کی اجازت دیتا ہے جسے اس کے اپنے فوجی انجام دینے سے قاصر ہیں۔ امریکی افواج افغانستان میں بیس سال سے زائد عرصے کے دوران مجاہدین کو فیصلہ کن طور پر شکست دینے میں ناکام رہیں، جس طرح وہ عراق میں اپنے بزدل فوجیوں کی بھاری جانی نقصان اٹھانے کے باوجود فیصلہ کن فتح حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ چنانچہ امریکی رہنما اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ تنہا جنگیں نہیں لڑ سکتے، بالخصوص وہ جنگیں جن کے لیے زمینی افواج درکار ہوں۔ یہ تبدیلی 2012 کی امریکی دفاعی حکمتِ عملی میں نمایاں طور پر سامنے آئی، جسے صدر باراک اوباما اور وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کے دور میں اپنایا گیا، اور جس میں بیک وقت دو بڑی جنگیں لڑنے کے فوجی منصوبہ بندی کے نظریے کو ترک کر دیا گیا۔ سابقہ نظریے کے مطابق امریکہ کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ بیک وقت دو بڑے علاقائی تنازعات، مثلاً ایک یورپ میں اور دوسرا ایشیا یا مشرقِ وسطیٰ میں، لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ چنانچہ امریکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے تربیت یافتہ مسلم فوجیوں کو استعمال کرتے ہوئے ایران کو فیصلہ کن طور پر شکست دینا چاہتا ہے۔ یہ بات بالکل ممکن ہے کہ یہ تینوں ریاستیں امریکی بحری اور فضائی طاقت کی مدد سے زمینی حملہ شروع کریں، ایران پر قبضہ کریں، اس کی حکومت کا تختہ الٹیں اور اس کی جگہ ایسی حکومت قائم کریں جو ان کے مفادات کی خدمت کرے، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے 2003 میں عراق پر حملے کے لیے ان افواج اور دیگر پراکسیز اور اتحادیوں کو "صلیبی اتحاد" میں متحرک کیا تھا اور بلا تردد ایسا کیا تھا۔
اے پاکستان کی افواج کے مخلص افسران!
کیا آپ کو اسلام اور مسلم سرزمین کے دفاع کے نام پر تربیت نہیں دی گئی تھی، جو وہی بنیاد ہے جس پر آپ کی ریاست قائم کی گئی تھی اور اب آپ وہ گھناؤنا کام انجام دیں گے جسے کفر کے سب سے بڑے سرغنہ، امریکہ، اور یہودی وجود خود انجام دینے سے قاصر ہیں؟ کیا آپ ان دونوں کے حلیف بننے پر تیار ہیں جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا، یعنی یہود، اور ان لوگوں کے جو گمراہ ہوئے، یعنی عیسائی؟ آپ کیسے خاموش رہ سکتے ہیں جبکہ آپ کے رہنما آپ کو اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں، اور بالخصوص امریکہ، کی خدمت کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟ کیا 1952 کے آرمی ایکٹ میں آرٹیکل 24 موجود نہیں، وہ آرٹیکل جو ان فوجی جرائم سے متعلق ہے جو "براہِ راست یا بالواسطہ دشمن کی مدد یا اسے ریلیف فراہم کرتے ہیں،" اور جن کی سزا موت ہے؟ اس سے پہلے کہ آپ کو ایسی جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا جائے جس میں قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے، آپ کو اصلاحی اقدام کرنا چاہیے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
«إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ»
"جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل ہوں، تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہیں۔" (البخاری و مسلم)
آپ کو اپنے فوجی اور سیاسی اداروں کو ان لوگوں سے پاک کرنا ہوگا جو خطے میں امریکی استعمار کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جان لو کہ جس طرح ہمارے فوجیوں کا پاکیزہ خون افغانستان اور سرحدی علاقوں میں امریکی جنگوں میں، اور دنیا بھر میں ان استعماری مشنز میں بہایا گیا جنہیں وہ "امن قائم رکھنے کے مشنز" کا نام دیتے ہیں، اسی طرح آپ کے رہنما واشنگٹن میں موجود اپنے صلیبی آقا کے مفادات کی خاطر ایران میں آپ کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ بہت دیر ہونے سے پہلے انہیں ہٹانے میں جلدی کرو، اور حزب التحریر کو اپنی فوجی مدد (نصرۃ) فراہم کرو، جو منہجِ نبوت پر خلافت قائم کرے گی اور تمہیں مسلم سرزمینوں کو، خشکی اور تری دونوں پر، امریکہ، یہودیوں اور تمام استعمار کی گندگی سے پاک کرنے کی قیادت کرے گی۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ﴾
"اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم زمین سے چمٹ جاتے ہو؟ کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہو؟ حالانکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا سامان بہت ہی تھوڑا ہے۔" [سورۃ التوبہ:38]
ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ پاکستان |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: https://bit.ly/3hNz70q |
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com |