بسم الله الرحمن الرحيم
حزب التحرير ولايہ ترکیہ نے استنبول میں “غزہ نسل کشی، سازشوں اور غداری کی گرفت میں” کے عنوان سے کانفرنس منعقد کی
حزب التحرير ولايہ ترکیہ کی حیثیت سے، ہم نے آپریشن طوفان الاقصیٰ کی تیسری سالگرہ کے موقع پر استنبول میں “غزہ نسل کشی، سازشوں اور غداری کی گرفت میں” کے عنوان سے اپنی کانفرنس منعقد کی۔
ایسنیورت میں واقع نینے خاتون ثقافتی مرکز میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور ماحول جوش و خروش سے بھرپور تھا۔ کانفرنس میں اہم مشاہدات اور تجاویز پیش کی گئیں جن کا مقصد غزہ کو مسلسل توجہ کا مرکز بنائے رکھنا اور مسلمانوں، بالخصوص اسلامی علماء اور دانشوروں کو ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرانا تھا۔
ابراہیم کایا کی ناظميت میں پروگرام کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے ہوا، جس کے بعد ایک ویڈیو پیش کی گئی جس میں غزہ میں جاری ظلم و ستم اور مظالم کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے بعد ترکیہ کے میڈیا آفس کے رکن محمد امین یلدرم نے افتتاحی خطاب کیا۔
یلدرم نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ اور فلسطین محض انسانی ہمدردی یا اخلاقیات کے مسائل نہیں، بلکہ بنیادی طور پر اسلامی مسائل ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ صورت حال کو اسی نقطۂ نظر سے دیکھنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا:
“غزہ اور فلسطین نہ تو تین مذاہب کی مشترکہ مقدس سرزمین ہیں، جیسا کہ بعض گمراہ کن آوازیں دعویٰ کرتی ہیں، اور نہ ہی ایسی جگہ ہیں جہاں مسلمان اور غاصب یہودی مبینہ طور پر نام نہاد ‘دو ریاستی حل’ کی بنیاد پر ساتھ رہ سکتے ہیں۔
اس کے برعکس، یہ اسراء و معراج کی مبارک سرزمین ہے، جہاں ہماری پہلی قبلہ گاہ مسجد اقصیٰ واقع ہے۔
امت مسلمہ کی حیثیت سے، فلسطین کا دفاع کرنا، اسے قبضے سے آزاد کرانا، اور اس کی اس طرح حفاظت کرنا کہ آئندہ کوئی بھی اس پر لالچ بھری نظر ڈالنے یا اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرے، ہماری دینی ذمہ داری ہے۔”
محمد امین یلدرم کے خطاب کے بعد، فلسطین یکجہتی انجمن (FIDDER) کے صدر محمد میشینش نے خطاب کیا۔ غزہ کو عوامی شعور میں زندہ رکھنے کی اہمیت پر زور دینے کے بعد، میشینش نے کہا:
“لوگ غزہ کے لیے اپنی امیدیں ہمارے دور کے فرعون اور شر کی مجسم تصویر ٹرمپ کے نام نہاد امن منصوبے سے وابستہ کر رہے ہیں۔
نام نہاد جنگ بندی کے بعد سے اب تک غزہ میں انسانی امداد کو مطلوبہ سطح پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
آج غزہ کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ سہارا دینے والی حمایت کی ایک مضبوط دیوار ہے۔ غزہ میں ہر شخص خیموں میں زندگی گزار رہا ہے۔
لیکن میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ غزہ میں ہمارے مجاہد بھائیوں نے ہتھیار نہیں ڈالے، اور وہ کبھی نہیں ڈالیں گے۔
بیرونی دباؤ اور اندرونی غداریوں کے باوجود مزاحمت جاری رہے گی، کیونکہ یہ ان کے دلوں میں راسخ ایمان کا معاملہ ہے۔”
میشینش کے بعد، صحافی اور مصنف احمد وارول نے خطاب کیا۔ صلاح الدین ایوبی کی جانب سے یروشلم کو اسیری سے آزاد کرانے اور بعد ازاں یروشلم کے دوبارہ قبضے میں چلے جانے کا موازنہ کرنے کے بعد، وارول نے درج ذیل الفاظ میں حتمی حل پر زور دیا:
“آج ہمیں جس صورت حال کا سامنا ہے، اسے ہمیں کبھی مایوسی کی طرف نہیں لے جانا چاہیے۔
امت کی حیثیت سے، ہمیں اللہ کے نظام کی طرف لوٹنے اور خلافت قائم کرنے کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
جب خلافت قائم ہوگی، تو اللہ کے اذن سے، امریکہ اور یہودی ریاست مسلمانوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے۔”
اس کے بعد، کارکن اور مصنف اردال ایلی بیوک نے مائیکروفون سنبھالا۔ ایلی بیوک نے اس بات کی نمایاں مثالیں پیش کیں کہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے قافلوں کو مسلم ممالک کی حکومتوں نے کس طرح روکا:
“غزہ میں مصائب اور ظلم و ستم 57 مسلم ممالک کے حکمرانوں کے اقدامات کا نتیجہ ہیں۔
‘غزہ: نسل کشی، سازشوں اور غداری کی گرفت میں’ کے عنوان میں ہمیں ‘تسلیمِ شکست’ کا لفظ بھی شامل کرنا چاہیے۔
غزہ تک امداد پہنچانے کی اجازت دینے کے معاملے میں یہ حکمران بالکل یہودیوں جیسا رویہ اختیار کرتے ہیں؛ انہوں نے عملاً اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
ہم ہر طرف غداری کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ان غداریوں کے باعث ہمارے بھائی بہنوں کو اتنی ہی تکلیف پہنچ رہی ہے جتنی خود یہودی ریاست پہنچا رہی ہے۔”
کانفرنس کا اختتامی خطاب عالم دین اور مصنف ڈاکٹر عبدالرحیم سین نے کیا۔
ڈاکٹر سین نے ان مجاہدین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے آپریشن طوفان الاقصیٰ انجام دیا، جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور مسلمانوں کو ایک بار پھر فلسطین کے مسئلے کی یاد دلائی۔
اپنے پورے خطاب کے دوران، جو طاقتور اور فکر انگیز مثالوں سے بھرپور تھا، ڈاکٹر سین نے اہم سیاسی تجزیے پیش کیے اور درج ذیل باتیں کہیں:
“طوفان الاقصیٰ نے معمول پر لانے کے عمل کے معمار، کافر ٹرمپ کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا۔
اسی لیے اس نے یہودی ریاست کو، جس کی لگام اس کے ہاتھ میں ہے، نسل کشی کرنے کا حکم دیا۔
نام نہاد جنگ بندی صرف غزہ کو خاموش کرانے کے لیے نافذ کی گئی تھی۔
مسلم ممالک کے منافق حکمران، جو غزہ میں پانی کا ایک گھونٹ تک پہنچانے کے لیے کوئی قدم نہ اٹھا سکے، ٹرمپ کے حکم پر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل یقینی بنانے کے لیے اجتماعی طور پر متحرک ہو گئے۔
انہی حکمرانوں نے فلسطین میں ایک مینڈیٹ انتظامیہ قائم کرنے کے لیے ہمارے بھائیوں کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔
یہی غداری کا اصل سلسلہ ہے۔”
قرآن مجید کی آیات سے استدلال کرتے ہوئے، ڈاکٹر سین نے غزہ کی صورت حال کا مختصر جائزہ پیش کیا اور مسلم ممالک کی حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی ان غداریوں کو بے نقاب کیا جن کا انہوں نے ذکر کیا۔ انہوں نے اسلامی علماء کو سچ بولنے کی اپنی ذمہ داری بھی یاد دلائی۔
اپنے خطاب کے اختتام کے قریب، ڈاکٹر سین نے اس حدیث کا حوالہ دیا جس میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان اور یہودی ایک دوسرے سے جنگ نہ کریں۔
انہوں نے اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ خلافت کے پرچم تلے متحد امت کی افواج یہودی ریاست کو شکست دیں گی اور مسجد اقصیٰ کی مبارک سرزمین سے اس کے وجود کا خاتمہ کر دیں گی۔ لہٰذا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو آزادی اور فتح کے بارے میں پُرامید رہنا چاہیے۔
ڈاکٹر عبدالرحیم سین کی تقریر مکمل ہونے کے بعد پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
حزب التحرير ولايہ ترکیہ نے استنبول میں “غزہ نسل کشی، سازشوں اور غداری کی گرفت میں” کے عنوان سے کانفرنس منعقد کی
حزب التحرير ولايہ ترکیہ کی حیثیت سے، ہم نے آپریشن طوفان الاقصیٰ کی تیسری سالگرہ کے موقع پر استنبول میں “غزہ نسل کشی، سازشوں اور غداری کی گرفت میں” کے عنوان سے اپنی کانفرنس منعقد کی۔
ایسنیورت میں واقع نینے خاتون ثقافتی مرکز میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور ماحول جوش و خروش سے بھرپور تھا۔ کانفرنس میں اہم مشاہدات اور تجاویز پیش کی گئیں جن کا مقصد غزہ کو مسلسل توجہ کا مرکز بنائے رکھنا اور مسلمانوں، بالخصوص اسلامی علماء اور دانشوروں کو ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرانا تھا۔
ابراہیم کایا کی ناظميت میں پروگرام کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے ہوا، جس کے بعد ایک ویڈیو پیش کی گئی جس میں غزہ میں جاری ظلم و ستم اور مظالم کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے بعد ترکیہ کے میڈیا آفس کے رکن محمد امین یلدرم نے افتتاحی خطاب کیا۔
یلدرم نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ اور فلسطین محض انسانی ہمدردی یا اخلاقیات کے مسائل نہیں، بلکہ بنیادی طور پر اسلامی مسائل ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ صورت حال کو اسی نقطۂ نظر سے دیکھنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا:
“غزہ اور فلسطین نہ تو تین مذاہب کی مشترکہ مقدس سرزمین ہیں، جیسا کہ بعض گمراہ کن آوازیں دعویٰ کرتی ہیں، اور نہ ہی ایسی جگہ ہیں جہاں مسلمان اور غاصب یہودی مبینہ طور پر نام نہاد ‘دو ریاستی حل’ کی بنیاد پر ساتھ رہ سکتے ہیں۔
اس کے برعکس، یہ اسراء و معراج کی مبارک سرزمین ہے، جہاں ہماری پہلی قبلہ گاہ مسجد اقصیٰ واقع ہے۔
امت مسلمہ کی حیثیت سے، فلسطین کا دفاع کرنا، اسے قبضے سے آزاد کرانا، اور اس کی اس طرح حفاظت کرنا کہ آئندہ کوئی بھی اس پر لالچ بھری نظر ڈالنے یا اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرے، ہماری دینی ذمہ داری ہے۔”
محمد امین یلدرم کے خطاب کے بعد، فلسطین یکجہتی انجمن (FIDDER) کے صدر محمد میشینش نے خطاب کیا۔ غزہ کو عوامی شعور میں زندہ رکھنے کی اہمیت پر زور دینے کے بعد، میشینش نے کہا:
“لوگ غزہ کے لیے اپنی امیدیں ہمارے دور کے فرعون اور شر کی مجسم تصویر ٹرمپ کے نام نہاد امن منصوبے سے وابستہ کر رہے ہیں۔
نام نہاد جنگ بندی کے بعد سے اب تک غزہ میں انسانی امداد کو مطلوبہ سطح پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
آج غزہ کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ سہارا دینے والی حمایت کی ایک مضبوط دیوار ہے۔ غزہ میں ہر شخص خیموں میں زندگی گزار رہا ہے۔
لیکن میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ غزہ میں ہمارے مجاہد بھائیوں نے ہتھیار نہیں ڈالے، اور وہ کبھی نہیں ڈالیں گے۔
بیرونی دباؤ اور اندرونی غداریوں کے باوجود مزاحمت جاری رہے گی، کیونکہ یہ ان کے دلوں میں راسخ ایمان کا معاملہ ہے۔”
میشینش کے بعد، صحافی اور مصنف احمد وارول نے خطاب کیا۔ صلاح الدین ایوبی کی جانب سے یروشلم کو اسیری سے آزاد کرانے اور بعد ازاں یروشلم کے دوبارہ قبضے میں چلے جانے کا موازنہ کرنے کے بعد، وارول نے درج ذیل الفاظ میں حتمی حل پر زور دیا:
“آج ہمیں جس صورت حال کا سامنا ہے، اسے ہمیں کبھی مایوسی کی طرف نہیں لے جانا چاہیے۔
امت کی حیثیت سے، ہمیں اللہ کے نظام کی طرف لوٹنے اور خلافت قائم کرنے کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
جب خلافت قائم ہوگی، تو اللہ کے اذن سے، امریکہ اور یہودی ریاست مسلمانوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے۔”
اس کے بعد، کارکن اور مصنف اردال ایلی بیوک نے مائیکروفون سنبھالا۔ ایلی بیوک نے اس بات کی نمایاں مثالیں پیش کیں کہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے قافلوں کو مسلم ممالک کی حکومتوں نے کس طرح روکا:
“غزہ میں مصائب اور ظلم و ستم 57 مسلم ممالک کے حکمرانوں کے اقدامات کا نتیجہ ہیں۔
‘غزہ: نسل کشی، سازشوں اور غداری کی گرفت میں’ کے عنوان میں ہمیں ‘تسلیمِ شکست’ کا لفظ بھی شامل کرنا چاہیے۔
غزہ تک امداد پہنچانے کی اجازت دینے کے معاملے میں یہ حکمران بالکل یہودیوں جیسا رویہ اختیار کرتے ہیں؛ انہوں نے عملاً اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
ہم ہر طرف غداری کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ان غداریوں کے باعث ہمارے بھائی بہنوں کو اتنی ہی تکلیف پہنچ رہی ہے جتنی خود یہودی ریاست پہنچا رہی ہے۔”
کانفرنس کا اختتامی خطاب عالم دین اور مصنف ڈاکٹر عبدالرحیم سین نے کیا۔
ڈاکٹر سین نے ان مجاہدین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے آپریشن طوفان الاقصیٰ انجام دیا، جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور مسلمانوں کو ایک بار پھر فلسطین کے مسئلے کی یاد دلائی۔
اپنے پورے خطاب کے دوران، جو طاقتور اور فکر انگیز مثالوں سے بھرپور تھا، ڈاکٹر سین نے اہم سیاسی تجزیے پیش کیے اور درج ذیل باتیں کہیں:
“طوفان الاقصیٰ نے معمول پر لانے کے عمل کے معمار، کافر ٹرمپ کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا۔
اسی لیے اس نے یہودی ریاست کو، جس کی لگام اس کے ہاتھ میں ہے، نسل کشی کرنے کا حکم دیا۔
نام نہاد جنگ بندی صرف غزہ کو خاموش کرانے کے لیے نافذ کی گئی تھی۔
مسلم ممالک کے منافق حکمران، جو غزہ میں پانی کا ایک گھونٹ تک پہنچانے کے لیے کوئی قدم نہ اٹھا سکے، ٹرمپ کے حکم پر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل یقینی بنانے کے لیے اجتماعی طور پر متحرک ہو گئے۔
انہی حکمرانوں نے فلسطین میں ایک مینڈیٹ انتظامیہ قائم کرنے کے لیے ہمارے بھائیوں کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔
یہی غداری کا اصل سلسلہ ہے۔”
قرآن مجید کی آیات سے استدلال کرتے ہوئے، ڈاکٹر سین نے غزہ کی صورت حال کا مختصر جائزہ پیش کیا اور مسلم ممالک کی حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی ان غداریوں کو بے نقاب کیا جن کا انہوں نے ذکر کیا۔ انہوں نے اسلامی علماء کو سچ بولنے کی اپنی ذمہ داری بھی یاد دلائی۔
اپنے خطاب کے اختتام کے قریب، ڈاکٹر سین نے اس حدیث کا حوالہ دیا جس میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان اور یہودی ایک دوسرے سے جنگ نہ کریں۔
انہوں نے اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ خلافت کے پرچم تلے متحد امت کی افواج یہودی ریاست کو شکست دیں گی اور مسجد اقصیٰ کی مبارک سرزمین سے اس کے وجود کا خاتمہ کر دیں گی۔ لہٰذا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو آزادی اور فتح کے بارے میں پُرامید رہنا چاہیے۔
ڈاکٹر عبدالرحیم سین کی تقریر مکمل ہونے کے بعد پروگرام اختتام پذیر ہوا۔