Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

وجودِ باری تعالیٰ کے اثبات کے دلائل سے واقفیت

 

(ترجمہ)

 

الوعي میگزین – شمارہ نمبر،477

چالیسواں سال، شوال 1447ھ

بمطابق، اپریل 2026ء

 

تحریر : يوسف الساريسي – فلسطين

 

امریکہ کی طرف سے مسلم دنیا میں الحاد (Atheism) کو پھیلانے کی کوششیں:

 

کچھ سال پہلے، جولائی 2022ء میں، کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے ایک امریکی پروگرام کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا، جس کا مقصد مسلم دنیا میں الحاد (Atheism) کی ترویج کرنا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ سے وابستہ ”بیورو آف ڈیموکریسی، ہیومن رائٹس اینڈ لیبر“ (DRL) نے 21 اپریل، 2022ء کو ایک اعلان کیا، جس کا عنوان تھا: “DRL FY20 IRF Promoting and Defending Religious Freedom Inclusive of Atheist, Humanist, Non-Practicing and Non-Affiliated Individuals” یعنی ”DRL FY20 IRF: الحاد، انسان دوست (Humanist)، برائے نام مسلمان اور کسی مذہب سے وابستہ نہ رہنے والے افراد سمیت مذہبی آزادی کا تحفظ اور فروغ“۔ اس پروگرام کی سرگرمیوں کی فنڈنگ کا مقصد یہ ہوگا کہ ”ہدف ممالک میں تمام مذاہب کی مختلف کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے ملحد، انسان دوست (Humanist)، کسی مذہب پر عمل نہ کرنے والے اور کسی مذہب سے وابستہ نہ رہنے والے متنوع افراد کے لئے وکالت کرنے والے نیٹ ورکس کو قائم یا مضبوط بنایا جائے“[1]۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ان سرگرمیوں کے لئے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے علاوہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے علاقوں کی نشاندہی کی تھی۔

 

نتیجتاً، مسلمانوں اور خاص طور پر حاملینِ دعوت کے لئے یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ اللہ ﷻ کے دین کے خلاف امریکہ اور اس کے پیروکاروں کی چھیڑی ہوئی اس جنگ کا مقابلہ کریں، اور حق کے تیروں سے ان کے باطل کو پاش پاش کر دیں۔ اسی مقصد کے تحت یہ مضمون تحریر کیا گیا ہے۔

 

مقدمہ:

جب ہم اپنے سے فکری اختلاف رکھنے والوں سے بحث و مباحثہ کرتے ہیں، تو بات چیت کے لئے ایک ”مشترک بنیاد“ (Common Ground) کا ہونا ناگزیر ہے۔ ایک ایسے شخص سے بحث کرنا جو مسلمان اور صاحبِ ایمان ہو، کسی ایسے شخص سے بحث کرنے سے یکسر مختلف ہوتا ہے جو ملحد ہو اور سرے سے خالق کے وجود کا منکر ہو۔ اسی طرح ایک عیسائی کے ساتھ بحث کا انداز ایک دہرئیے (Marxist) کے ساتھ مباحثہ کرنے سے مختلف ہوتا ہے اور یہی معاملہ دیگر مختلف تصورات رکھنے والوں کے ساتھ بھی ہے ۔ یہاں ”مشترک بنیاد“ سے ہماری مراد وہ امور ہیں جن پر دونوں بحث کرنے والے متفق ہوں اور انہیں ایسے بنیادی اصول کے طور پر تسلیم کرتے ہوں جو بحث کے لئے بنیاد اور حوالہ کا کام دیں۔ چنانچہ ان اصولوں کو ان معاملات کے لئے معیار کے طور پر استعمال کیا جائےگا جن پر بحث کی عمارت کھڑی کی جائے گی، تاکہ مشترکہ نتائج یا اس بنیاد پر مبنی افکار تک پہنچا جا سکے۔

 

کسی بھی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والا ایک مسلمان کسی بھی زیرِ بحث مسئلے میں قرآن و سنت کو بطورِ حوالہ (فیصلہ کن بنیاد) تسلیم کرتا ہے، البتہ وہ آپ سے شرعی نصوص (أصول الفقه) کے معتبر دلائل میں اختلاف کر سکتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ایک ملحد ان تمام باتوں سے انکار کرے گا کیونکہ وہ سرے سے ہی اللہ کے وجود کا منکر ہوتا ہے۔ البتہ جہاں تک ایک نصرانی کا تعلق ہے، تو وہ خدا کے وجود اور انبیاء و رسل کو تو مانتا ہے لیکن وہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں رکھتا۔ لہٰذا، کسی بھی فرد سے بحث کا آغاز ایسے مخصوص بنیادی اصولوں سے ہونا چاہیے جن کا اعتراف دونوں فریقین کرتے ہوں۔ اس طریقہ کار کو اپنانے کا مقصد یہ ہے کہ بحث نتیجہ خیز اور تعمیری ثابت ہو۔ تاکہ اس کے ذریعے حق تک رسائی اور درست نتیجے تک پہنچنا ممکن ہو سکے۔

 

ملحدین سے بحث کے لئے ضروری بنیادی  اصول:

 

اگر کوئی داعی، کسی ملحدین یا شکوک و شبہات رکھنے والوں کے ساتھ عقلی طریقے سے وجودِ باری تعالیٰ کے مسئلے پر مباحثہ کرنا چاہتا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ مباحثہ کے آغاز سے پہلے ایسے اصول اور بنیادیں پیش کرے جو عمومی مشاہدہ میں جانے جاتے ہوں اور جن پر بحث کی عمارت کھڑی کی جائے۔ یہ عمل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وجودِ الہٰی کو ثابت کرنے کے لئے جو دلائل پیش کیے جائیں وہ قوی ہوں، ان میں کوئی جھول نہ ہو، اور وہ مخالفین کے لئے حجت اور قائل کر دینے والی قوت رکھتے ہوں۔

 

اس مضمون میں، ہم ان ضروری بنیادی اصولوں کا احاطہ کریں گے جن کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب ہم اللہ کے وجود کے بارے میں ملحدین، منکرین یا شکوک و شبہات رکھنے والوں کے ساتھ بحث کرنے اور ان کے خلاف دلیل قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔کیونکہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان کے ساتھ ایسی مشترک بنیادوں سے آغاز کریں جو ہمارے اور ان کے درمیان یکساں ہوں۔ اور یہ بنیادی اصول قرآن و سنت سے اخذکردہ دلائل (الأدلة النقلية) نہ ہوں، اور نہ ہی یہ علمِ اصول الفقہ سے اخذ ہوں۔ بلکہ یہ ایسے بنیادی اصول ہوں جو ہمارے اور ان کے درمیان مشترک ہوتے ہیں؛ اور ان میں سے چند یہ ہیں ”عقل اور اس کے بنیادی پیمانے،فکر و تصورات کی شرائط اور عقلی دلیل (الدليل العقلي) کی بنیاد کا طریقہ کار“۔

 

جب ہم ان دلائل کا جائزہ لیتے ہیں جنہیں ہم اصولِ دین یا عقیدہ میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کو عقلی طور پر ثابت کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں — جیسے کہ دلیلِ محدودیت (دليل المحدوديةargument /evidence of limitation - )، دلیلِ احتیاج (دلیل الاحتیاج argument / evidence of dependency - )، اور دلیلِ عنایت (دلیل العنايةargument of providence -) وغیرہ — تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دلائل عقلی پیمانوں اور مضمر بنیادوں (implicit premises) پر انحصار کرتے ہیں، جو ان دلائل میں ہی موجود ہوتی ہیں۔ یہ بنیادیں (premises) اکثر مخفی ہوتی ہیں یا انہیں باضابطہ طور پر بیان نہیں کیا جاتا، اور ہمیں ان کو ظاہر کرنے اور ان کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بطور بنیادی اصول — خواہ وہ بدیھی امور (self evident matters) ہوں یااصلیات (بنیادی امور) ہوں — کوئی بھی دو ذی عقل ان سے اختلاف نہیں کریں گے۔ یعنی، مخالف رائے والوں کے لئے متفقہ بنیاد (common ground) صرف عقلی دلائل (الأدلة العقلية) اور ان کے مفروضے (premises) ہی ہوتے ہیں۔

 

دلائل کی تمہید:

 

چونکہ عقل کی حقیقت، عقلی دلائل اور استدلال (طريقة الاستدلال) کا طریقہ کار اکثر لوگوں کے نزدیک واضح اور مرتب نہیں ہے، بالخصوص ان لوگوں کے ہاں جو فکری کج روی کا شکار ہیں جیسے ملحدین اور شکوک و شبہات رکھنے والے؛ اس لئے یہ ضروری تھا کہ کسی ملحد یا شک کرنے والے کے ساتھ وجودِ باری تعالیٰ کے ثبوت و دلائل پر بحث شروع کرنے سے پہلے چند عقلی حدود پر اتفاق کر لیا جائے۔ مخالف فریق مباحثہ کے دوران بعض ایسی تجاویز یا دعووں سے اختلاف کر سکتا ہے جن کے یقینی ہونے کو ہم ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر لیتے ہیں، جبکہ وہ انہیں غیر حتمی سمجھتا ہو یا انہیں تسلیم کرنے پر تیار نہ ہو۔ مثال کے طور پر، جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خالق کا خود 'غیر مخلوق' ہونا لازمی ہے اور اس کے برعکس سوچنا عقلی طور پر محال (Absurd) ہے، تو ہم یہاں ایک عقلی مقدمے پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں: یعنی بطلانِ تناقض (تناقض کا باطل ہونا) اور تلازمِ صفات (صفات کا ایک دوسرے کے لئے لازم ہونا)۔ مخالف فریق اس پر اعتراض کر سکتا ہے اور کسی ایسے علمی رخنہ یا خامیوں کی تلاش میں دلیل کی گرفت سے بچنے کی کوشش کر سکتا ہے جس کے ذریعے وہ راہِ فرار اختیار کر سکے۔ اسی لئے، یہ زیادہ بہتر ہے کہ بحث سے پہلے ان حدود کو دونوں فریقین پر لازم اور طے شدہ کر دیا جائے۔

 

اسی لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم مطلوبہ عقلی دلیل کے لئے پہلے سے راہ ہموار کریں، اور وہ اس طرح کہ مخصوص بنیادی اصولوں پر اتفاق کیا جائے، جو کہ دلیل کی ماۂیت اور دلائل کی حدود ہیں۔ جہاں تک دلیل کی ماۂیت کا تعلق ہے تو اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ: ”ثبوت کے لئے وہ کون سی دلیل ہے جو مطلوب ہے، جس کے ذریعے ایسا نتیجہ حاصل ہو جو بلا شک و شبہ قطعی ہو؟“ یہاں یقین لانے کے لیے خالق کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا مطلوب نہیں ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا تھا:

 

﴿يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِنْ السَّمَاءِ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَى أَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً﴾

 

”اہلِ کتاب آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے ایک (لکھی ہوئی) کتاب نازل کر لائیں، حالانکہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ہمیں اللہ کا کھلم کھلا دیدار کروا دو“ [سورۃ النساء؛ 4:153]۔

 

 

مطلوبہ استدلال دراصل یہ ہے کہ ایک معلوم شے سے آغاز کر کے ایک مجہول (غیر معلوم) چیز کا علم حاصل کیا جائے، کیونکہ دلیل کا مطلب ہی یہ ہے کہ جو کسی دوسری چیز کی طرف رہنمائی کرے۔ پس دلیل کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی ایسی معلوم شے سے شروع ہو جو کہ محسوس اشیاء کا حسی ادراک (Sensory Perception) ہے، تاکہ اس کے ذریعے کسی غائب یا مجہول حقیقت تک پہنچا جا سکے، اور یہاں ہماری مراد ”معرفتِ الٰہی“ اور ”ایمان بالغیب“ ہے۔ یعنی استدلال کی بنیاد محض منطقی حدود یا فلسفیانہ شکوک و شبہات پر نہ ہو، بلکہ حس (Sensation) پر ہو، اور اس کے ساتھ ساتھ عقلی دلیل اور فکر و سوچ کی شرائط کو بروئے کار لایا جائے۔

 

جہاں تک دوسرے امر کا تعلق ہے، تو وہ مفروضے جنہیں ہم استعمال کرتے ہیں، یہ ایسے بنیادی اصول ہیں جو عالمگیر سطح پر مانے جاتے ہیں اور ان پر مخالف کے ساتھ عمومی طور پر اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ یہ چار اقسام پر مشتمل ہیں: اصول (البديهيات)، بنیادی امور (الأصليات)، سببیت (السببية)، اور تلازمِ صفات (صفات کا باہم لازم ہونا)۔ اب ہم ان حدود کی مختصر وضاحت کریں گے تاکہ ان کی حقیقت واضح ہو جائے اور ان کی اہمیت اچھی طرح سمجھی جا سکے۔

 

اول: بديہی امور (بديهيات):

 

اصول (البديهيات)، جنہیں ابتدائی اصول (ألاولیات -Primary Principles) بھی کہا جاتا ہے، وہ معیارات ہیں جن پر استعمال کیے جانے والے عقلی دلائل کی صحت کا دارومدار ہوتا ہے۔ انہیں ”بدیہی“ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ براہِ راست فکر و تصورات کے قوانین پر مبنی ہوتے ہیں۔ فکر میں ایک بنیادی قانون مطابقت (المطابقة -Concordance) کا ہے، جس سے ”بطلان التناقض“ (تناقض کا باطل ہونا) کا اصول جنم لیتا ہے۔ چنانچہ، یہ لازمی ہے کہ دلائل ایک دوسرے کے متضاد نہ ہوں۔ اسی طرح، دلائل کا سلسلہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو کبھی ختم نہ ہو، جسے ”لا متناہی تسلسل کا بطلان“ (بطلان التسلسل اللانهائي -Invalidity of Infinite Regress) کہا جاتا ہے۔ (مثال کے طور پر، اگر ہر چیز کو کسی دوسری چیز نے پیدا کیا ہے، تو یہ سلسلہ ایک ایسی ہستی پر ختم ہونا چاہیے جسے کسی نے پیدا نہ کیا ہو (یعنی اللہ تعالیٰ)، ورنہ کائنات کبھی وجود میں ہی نہ آتی)، اور نہ ہی یہ دلائل ”دائروی“ (Circular) ہونے چاہئیں، جسے "بطلان الدور" (Invalidity of Circular Reasoning) کہا جاتا ہے۔ (یہ کہنا کہ ”الف“ نے ”ب“ کو پیدا کیا اور ”ب“ نے ”الف“ کو، یہ عقل کے نزدیک محال اور باطل ہے)۔ مزید برآں، ایک اصول ”بطلانِ ترجیح بلا مرجح“ کا ہے، (اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی چیز کے ہونے یا نہ ہونے کے امکانات برابر ہوں، تو اس کا وجود میں آ جانا ثابت کرتا ہے کہ کسی ”(خالق)“ نے اس کے  وجود کو ترجیح دی ہے)۔ اور یہ کہ ہر واقعے کے لئے ایک فاعل کا ہونا ضروری ہے، جو کہ اصولِ سببیت (Causality) ہے۔ اس کے علاوہ، استحکام (Stability) کا اصول ہے، جو سببیت کا معکوس (Inverse) ہے۔ اصولوں کا یہی وہ مجموعہ ہے جس پر ہم عقلی دلیل کی تعمیر کے دوران بھروسہ کرتے ہیں، اور دلیل کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان اصولوں کے تابع ہو اور ان کی خلاف ورزی نہ کرے؛ ورنہ اس دلیل کو غیر عقلی یا عقل کے منافی تصور کیا جائے گا۔

 

اصول (البديهيات) ایسے قضیے (propositions) ہیں جو کسی دلیل کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ عقل ان کے معانی کو سمجھتے ہی فوراً ان کی تصدیق کر لیتی ہے۔ اسی اعتبار سے یہ بنیادی اصول مانے جاتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ مثالوں کے ذریعے ان کی وضاحت اور تشریح کر دی جائے تاکہ ان کی مخصوص اصطلاحات پر اتفاق ہو جائے، نہ کہ انہیں دلیل کے ذریعے ثابت کیا جائے۔مثال کے طور پر، بطلانِ تناقض کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں: جیسے ایک ہی شے میں ”وجود“ اور ”عدم“ (موجود ہونا اور نہ ہونا)کا بیک وقت جمع ہونا محال ہے، یا یہ کہ کوئی ہستی ایک ہی وقت میں زندہ بھی ہو اور مردہ بھی، یا یہ کہ کوئی شے ایک ہی لمحے میں روشن بھی ہو اور تاریک بھی۔ یہ متناقض امور، جن کا ایک ساتھ اکٹھے ہونا ممکن نہیں، ان ناممکنات میں سے ہیں جنہیں عقل قبول نہیں کرتی۔ ورنہ حق و باطل برابر ہو جائیں، اور صحیح و غلط ایک ہی چیز بن جائیں، حالانکہ یہ دونوں متضاد ہیں اور ان کا بیک وقت اکٹھے ہونا قطعاً ممکن نہیں۔ اسی طرح ایک اور مثال یہ ہے کہ ایک شے بیک وقت دو مختلف مقامات پر موجود نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ اس وقت میرے سامنے القدس میں موجود ہیں، تو اسی وقت آپ کا دمشق میں موجود ہونا ناممکن ہے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی باطل ہے کہ کوئی شے بیک وقت محدود بھی ہو اور لا محدود بھی، یا ایک ہی وقت میں عاجز بھی ہو اور قادر بھی، وغیرہ وغیرہ۔

 

افکار اور عقائد کے باب میں بطلانِ تناقض (تناقض کے باطل ہونے) کے اطلاق کی ایک مثال مسیحیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) خدا کا بیٹا ہے، اور وہ بیک وقت خدا کے ساتھ ”ازلی“ بھی ہے۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جسے عقل قبول نہیں کرتی؛ کیونکہ ”بیٹے“ کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ پیدا ہوا ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کے وجود کے بعد وجود میں آتا ہے، یعنی وہ باپ اس بیٹے کے وجود کا سبب (Cause) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ایک مخصوص وقت میں موجود نہیں تھا اور پھر بعد میں وجود میں آیا۔ یہ بات ”ازلیت“ کے تصور کے بالکل متضاد ہے، کیونکہ ازلی وہ ہوتا ہے جس کے وجود کی کوئی ابتدا نہ ہو اور اسے کسی نے (اپنے سے پہلے) پیدا نہ کیا ہو۔ چنانچہ عقل اس متناقض دلیل کو مسترد کر دیتی ہے، اور نتیجے کے طور پر اس نظریے پر ایمان لانا ناقابلِ قبول اور غیر عقلی قرار پاتا ہے۔

 

جہاں تک لا متناہی تسلسل کا بطلان (Infinite Regress کے باطل ہونے) کے اصول کا تعلق ہے، تو اس کی ایک مشہور مثال اس سپاہی کی ہے جو اپنے سامنے موجود ایک شخص پر اپنی رائفل سے گولی چلاتا ہے۔ لیکن (فرض کریں کہ) اس سپاہی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ذمہ دار افسر سے گولی چلانے کا حکم لے، اور وہ پہلا افسر اپنے سے اعلیٰ عہدے دار سے حکم لے، اور وہ اعلیٰ افسر اس سے بھی برتر کسی شخص سے حکم وصول کرے، اور یہ سلسلہ لامتناہی طور پر پیچھے کی طرف چلتا رہے۔ عقل اس قسم کے لامتناہی تسلسل کو مسترد کرتی ہے۔ چونکہ سپاہی گولی چلا چکا ہے اور وہ سامنے والے شخص کو لگ چکی ہے، اس لئے یہ ضروری ہے کہ گولی چلانے کے اس حکم کا آغاز اس کڑی میں موجود کسی نہ کسی ایک فرد سے ہوا ہو۔ یہ دعویٰ کرنا کہ یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے، قطعی طور پر باطل اور عقل کے نزدیک مسترد شدہ ہے؛ کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ یہ سلسلہ سپاہی کے گولی چلانے کے لئے اب تک ”لامتناہی وقت“ کا منتظر ہے، یعنی وہ واقعہ ابھی پیش ہی نہیں آیا، یا پھر یہ کہ یہ کڑی سرے سے موجود ہی نہیں اور بنیادی طور پر غیرمؤثر ہے۔ لیکن چونکہ گولی چلائی جا چکی ہے، اس لئے گولی چلانے کے حکم کا آغاز اس کڑی کے کسی نہ کسی فرد سے ہونا لازم ہے، یا پھر قاتل سپاہی نے کسی حکم کے بغیر اپنی مرضی سے یہ عمل کیا ہے۔ لہٰذا، لامتناہی تسلسل باطل ہے۔

 

افکار کے دائرے میں لا متناہی تسلسل کا بطلان (Infinite Regress کے باطل ہونے) کے اصول کا ایک اطلاق اس دعوے پر ہوتا ہے کہ وہ خالق جس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے، وہ ایک ”پہلا خالق“ ہے، اور اس پہلے خالق کو ایک ”دوسرے خالق“ نے پیدا کیا، اور دوسرے خالق کو ایک ”تیسرے خالق“ نے، اور یوں یہ سلسلہ لامتناہی طور پر چلتا رہے گا۔ یہ بات عقلاً ناممکن اور باطل ہے؛ کیونکہ یا تو یہ سلسلہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے یا پھر اس کی قطعاً کوئی منطق نہیں ہے۔ چونکہ کائنات اپنے تمام مظاہر کے ساتھ موجود ہے، اس لئے اسے لازمی طور پر ایک ایسے خالق کی ضرورت ہے جس نے اس کی ابتدا کی ہو، اور اس سلسلے کا حتمی طور پر یہیں ختم ہونا ضروری ہے۔ دوسرے نکتۂ نظر سے دیکھا جائے تو بطلانِ تناقض کے اصول کی بنیاد پر یہ ناممکن ہے کہ ایک ہی چیز بیک وقت ”خالق“ بھی ہو اور ”مخلوق“ بھی؛ اسے یا تو خالق ہونا چاہیے یا مخلوق۔ ان دونوں اصولوں (بطلانِ تسلسل اور بطلانِ تناقض) کو یکجا کرنے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ خالقوں کا یہ لامتناہی سلسلہ سرے سے موجود ہی نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی منطق بنتی ہے، بلکہ موجودہ حقیقت صرف ایک ہی خالق ہے، جس کا خود ”غیر مخلوق“ ہونا واجب اور ضروری ہے۔

 

دوئم : بنیادی امور (الأصليات) :

 

بنیادی امور (الأصليات) سے مراد ایسے معاملات ہیں جو اشیاء کی حقیقت یا ان کی ابتدائی حالت میں مضمر ہوتے ہیں۔ یہ ایسے معاملات ہیں جو اشیاء کی فطرت اور ان کی کیفیت میں متعین ہوتے ہیں، اور یہ ضروری نہیں کہ آغاز میں ہی عقل میں موجود ہوں۔ استصحاب الأصل (Presumption of Continuity) کا قاعدہ، علمِ اصولِ فقہ کا ایک معروف قاعدہ ہے (جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کسی تبدیلی کی دلیل نہ مل جائے، چیزوں کو ان کی اصل حالت پر برقرار سمجھا جائے گا)۔

 

بنیادی امور (الأصليات) کو ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ جس چیز کو ثبوت اور برہان کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس کی ”ضد“ یعنی اس کی مخالف حالت ہے؛ یعنی کسی چیز کا اپنی اصل حالت کو چھوڑ کر دوسری حالت میں تبدیل ہونا دلیل کا تقاضا کرتا ہے۔ چنانچہ جب ہم چیزوں کے وجود، ان کی صفات اور ان کی حالتوں کے بارے میں تحقیق اور استدلال کرتے ہیں، تو ہمارا مرجع (Reference Point) یہی بنیادی امور (الأصليات) ہوتے ہیں۔ معاملات کا ان کی اصل حالت کی کیفیت سے منسوب کرنا متعین اور غیر متنازع ہوتا ہے، کیونکہ عقل میں اس اصل کے برعکس کسی حالت کا حقائق پر مبنی تصور بلا شبہ قطعی طور پر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ، بنیادی امور (الأصليات) کو ثابت کرنے کے لئے محض ایسی مثالیں فراہم کر دینا کافی ہے جو اس ”قطعی طور پر مسترد شدہ متضاد حالت“ کا تصور واضح کرتے ہوں۔

 

بنیادی امور  (الأصليات) کے قواعد میں درج ذیل شامل ہیں:

 

1-   ٹھوس مادی اشیاء کی ”اصل ابتدائی“ حالت ان کا عدم (غیر موجود ہونا) ہے؛ لہٰذا ان اشیاء کے وجود کے لئے قطعی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔

2-   اشیاء میں ”اصل ابتدائی حالت“ یہ ہے کہ وہ ساکن اور غیر متبدل (نہ بدلنے والی) ہوتی ہیں، اور وہ فطرتاً تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرتی ہیں۔ اسے استحکام کا اصول (مبدأ الاستقرار) کہا جاتا ہے۔

3-   اشیاء کا اپنی حالتِ استحکام اور جمود (Inertia) سے نکلنا صرف اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب ان پر کوئی ایسی مؤثر سببی قوت (Causal Energy) اثرانداز ہو جو ان کی حالتوں کو تبدیل کرنے کا کام کرے۔

4-   اشیاء کی حرکت میں اصل قاعدہ ”انتشار اور بے ترتیبی“ (Chaos/Randomness) ہے۔ یہ اشیاء خود بخود منظم نہیں ہوتیں بلکہ کوئی بیرونی قوت ہی انہیں مجبور کرتی ہے۔ وہ ”منظم قوت“ ہی ہوتی ہے جو مختلف اجزاء کے درمیان روابط اور تعلقات پیدا کر کے ”سببی نظام“ (Causal Systems) کو وجود میں لاتی ہے۔ یہ بیرونی قوت ایک مخصوص پیٹرن یا ترتیب پیدا کرنے کے لئے توانائی صرف کرتی ہے تاکہ وہ اجزاء ایک مخصوص بامقصد کام (Purposed Function) کو پورا کر سکیں۔

5-   اشیاء میں ”اصل ابتدائی“ حالت ان کا بے جان ہونا ہے، یعنی زندگی کا نہ ہونا۔ جاندار اشیاء کو اپنے اندر زندگی پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ایک ”سبب“ (Cause) کی ضرورت ہوتی ہے۔ جاندار اشیاء میں موجود زندگی ایک عارضی اور ابھرنے والی (Emergent) حالت ہے، اور ان کا اپنی اصل حالت—یعنی بے جان ہونے یا موت—کی طرف لوٹ جانا ناگزیر ہے۔

6-   انسانی ذہن میں ”اصل ابتدائی“ حالت لاعلمی یا جہالت کی ہے؛ اور علم اس پر وارد ہونے والی ایک بیرونی یا عارضی چیز ہے۔ چنانچہ اسے علم حاصل کرنے کے لئےمحنت و کوشش سے اسے پانے اور دوسروں سے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

7-   حیوانی دماغ میں ”اصل ابتدائی“ حالت تمیز کرنے والی عقل، فکر، ذہانت اور شعوری ربط کا فقدان ہے؛ حیوان کا رویہ محض جبلتی امتیاز (Instinctual Discrimination) کا نتیجہ ہوتا ہے جو فکری تصورات سے خالی ہوتا ہے۔

8-   انسان کے بارے میں ”اصل ابتدائی“ قاعدہ اس کا معصوم (بے گناہ) ہونا ہے؛ کسی بھی مخصوص فعل کے ارتکاب کا الزام، خواہ وہ منفی ہو یا مثبت، دلیل اور ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔

 

لازمی عناصر (الأصليات) عقلی اصولوں (البديهيات) سے مشابہت رکھتے ہیں، سوائے اس کے کہ لازمی عناصر اشیاء کی فطرت اور ان کی کیفیت میں موجود ہوتے ہیں جبکہ عقلی اصولوں میں یہ معاملہ نہیں ہوتا، یہاں ایک باریک منطقی فرق ہے؛ یعنی لازمی عناصر (الأصليات)، یہ مادی دنیا کی چیزوں کے وہ حقائق ہیں جو ہم مشاہدے سے جانتے ہیں، جیسے یہ حقیقت کہ مادہ خود بخود پیدا نہیں ہوتا۔ جبکہ عقلی اصول (البدہیات)، یہ عقل کے اپنے اندرونی قوانین ہیں، جیسے یہ ماننا کہ ایک ہی وقت میں ایک چیز موجود اور غیر موجود نہیں ہو سکتی)۔ لازمی عناصر (الأصليات) کی اہمیت اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ یہ بعض ان دلائل کے کمزور پہلو بند کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں جن کے ذریعے بعض لوگ شواہد کو باطل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، متعدد کائناتوں (multiverse) کا نظریہ ایک ایسا ہی ”کمزور پہلو“ ہے جس کے ذریعے بعض ملحد ماہرینِ فلکیات اس ضرورت کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس انتہائی منظم کائنات کے لئےکسی منظم کرنے والے خالق کی ضرورت ہے۔ اس کمزور پہلو کو اس قاعدے کے ذریعے بند کیا جاتا ہے کہ: ”اشیاء میں اصل حالت عدم (ناپید ہونا) ہے، جب تک کہ ان کا وجود قطعی طور پر ثابت نہ ہو جائے“۔ چنانچہ، جو کوئی بھی اس کائنات کے علاوہ (جس کا ہم ادراک کرتے ہیں) دوسری کائناتوں کے وجود کا دعویٰ کرتا ہے، اسے ان کے وجود کو قطعی دلیل سے ثابت کرنا ہوگا، کیونکہ یہ دعویٰ ”اصل ابتدائی حالت“ کے برخلاف ہے۔ اور اگر وہ دلیل فراہم نہیں کرتا، تو اس کا دعویٰ باطل ہے، اور ان مبینہ دوسری کائناتوں کے وجود کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔

 

اسی طرح، یہ باطل دعویٰ کہ انسانی عقل کی اصل ابتدائی حالت ”باعلم ہونا“ ہے نہ کہ ”لاعلمی یاجہالت“۔ اگر یہ دعویٰ درست ہوتا تو ہر انسان عالم پیدا ہوتا اور اسے سیکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جسے عقل مکمل طور پر مسترد کرتی ہے، اور یہ قطعی طور پر حقیقت کے منافی ہے، اور اسی طرح کے دیگر معاملات بھی اسی قاعدے کے تحت آتے ہیں۔

 

یوں بنیادی امور (الاصلیات) کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کو اس قاعدے کے ذریعے مسترد کیا جاتا ہے کہ ”اشیاء کی حرکت میں اصل ابتدائی حالت ”انتشار اور بے ترتیبی“ ہے۔ وہ خود بخود منظم نہیں ہوتیں جب تک کہ کوئی قوت انہیں اس پر مجبور نہ کرے“۔ اس کی تائید قانونِ بے ترتیبی (Entropy) یا حرارت کے دوسرے قانون (Second Law of Thermodynamics) سے بھی ہوتی ہے، (قانونِ اینٹروپی (Entropy) کسی سسٹم میں بے ترتیبی کا پیمانہ یعنی یہ کہ کوئی سسٹم ہمیشہ اپنی موجودہ ترتیب کی حالت سے بگاڑ کی طرف جانے کا میلان رکھتا ہے اور یہ کہ منظم کئے جانے کا عمل یقیناً ناقابل واپسی ہوتا ہے، مثلاً یہ کہ ایک عمارت وقت کے ساتھ ملبے کا ڈھیر تو بن سکتی ہے، لیکن ملبہ خود بخود عمارت نہیں بن سکتا۔) لہٰذا، ڈارون کا نظریہ ارتقاء، اور ارتقاء کے دیگر مبینہ نظریات جیسے مارکس کا ”نظریہ ارتقائے تاریخ“، بنیادی امور (الاصلیات) اور قانونِ اینٹروپی (Entropy) سے قطعی طور پر متضاد ہیں۔ نتیجتاً، اشیاء میں اصل ابتدائی حالت ”خود کار تنظیم“ کا نہ ہونا ہے؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ مبینہ ارتقاء (نیچے سے اوپر کی طرف جانا) فطری عمل کے برعکس اور الٹ ہے۔ اگر اشیاء میں اصل حالت یہ ہوتی کہ وہ خود بخود منظم ہو گئی ہیں، تو ہمیں کائنات میں کوئی بھی مادہ بے ترتیب حالت میں نہ ملتا۔ چنانچہ، ہمارے ارد گرد موجود بعض اشیاء میں بے مقصدیت اور بے ترتیب واقعات کا پایا جانا— جیسے قدرتی عوامل کے اثرات — ان ارتقاء پسندوں کے استدلال کو منہدم کر دیتا ہے اور حرکت میں ”بے ترتیبی کی اصل حالت“ کو ثابت کردیتا ہے۔

 

بنیادی امور (الاصلیات) میں سے ایک قاعدہ یہ ہے کہ ”ثبوت کی ذمہ داری دعویٰ کرنے والے پر ہوتی ہے“۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے آدمی کے بچوں کا باپ ہونے کا دعویٰ کرے لیکن اسے ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت نہ لائے۔ ثبوت کی عدم موجودگی کی صورت میں، ہم ”اصل حالت“ کے حکم کی طرف رجوع کریں گے، جو کہ عدم (ناپید ہونا) ہے — یعنی اصل ابتدائی حالت یہ ہے کہ ابتدا میں کسی بھی مرد کی بیویاں یا بچے نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس حالت کا محض تصور کرنا ہی — یعنی یہ فرض کر لینا کہ تمام مردوں کے شروع ہی سے بیویاں اور بچے ہوتے ہیں — تو یہ تصور حقیقت اور عقل کے منافی ہے۔ لہٰذا، دعویٰ کرنے والے سے ثبوت طلب کیا جائے گا، اور کافی ثبوت یا دلیل پیش کئے بغیر دعویٰ ختم ہو جائے گا۔ تاہم، یہ معاملہ ”پدریت (والد ہونے)“ کی دوسری صورت سے مختلف ہے، کیونکہ بچے کا موجود ہونا خود اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ اس کے دو والدین (ماں باپ) موجود ہیں؛ کیونکہ بچہ ایک حقیقت کے طور پر موجود ہے اور اس کا وجود لازمی طور پر ایک ”سبب“ (Cause) کا تقاضا کرتا ہے۔

 

سوئم: سببیت (السببية):

 

سببیت کو مذکورہ بالا عقلی اصولوں (البديهيات) کا حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کی ایک دوسری قسم بھی ہے، جسے واقعاتی یا فطری سببیت (Realistic or Natural Causality) کہا جاتا ہے۔ یہ فطری سببیت، عقلی سببیت کے ساتھ مکمل طور پر موافقت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو سببیت کے نظام پر پیدا فرمایا اور عقل کو تخلیق کر کے اس کے اندر سببی ربط کی صلاحیت رکھ دی۔ چنانچہ، ان دونوں (کائنات کے نظام اور انسانی عقل) کے درمیان مکمل مطابقت پائی جاتی ہے۔

 

تاہم، فطری سببیت  اپنی کچھ تفصیلات اور معیارات رکھتی ہے جن کی وضاحت ضروری ہے، تاکہ سبب اور مسبب (Cause and Effect) کے درمیان پایا جانے والا ربط درست اور منظم رہے۔ اس کی تین اقسام ہیں: سادہ سببیت (السببية البسيطة)، سببی نظام (النظام السببي)، اور انسانی سببیت (السببية الإنسانية)۔ ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

‌أ.       سادہ سببیت (السببية البسيطة):

 

اشیاء اپنی اس حالتِ استحکام میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کی مزاحمت کرتی ہیں جس حالت میں وہ موجود ہوتی ہیں۔ اور ایسا کوئی تبدیل کرنے والا عنصر جو ان اشیاء کی موجودہ کیفیت اور حالت کو بدل سکتا ہے، وہی ”سبب“ کہلاتا ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت رونما ہوتی ہے جب وہ (سبب) ایک مخصوص لمحے میں ایک ایسی موثر قوت حاصل کر لے، جس کے ذریعے وہ ایسی اشیاء کو ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل کر سکے جو اثر قبول کرنے کی صلاحیت (یعنی مناسب خصوصیات) رکھتی ہوں۔ کسی سبب کے موثر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ان دیگر عوامل کے ساتھ تعاون شامل ہو جو اثر ڈالنے میں اس کی مدد کرتے ہیں، اور یہ عوامل ”شرائط“ کہلاتے ہیں۔ سببی اثر کے اس عمل کے بعد لازمی طور پر اس کا نتیجہ یعنی ”اثر“ ظاہر ہوتا ہے۔ علتی اثر کی بنیاد سببی قوت کا وجود ہونا ہے، اور اس قوت کے ختم ہو جانے سے سبب کا اثر بھی رک جاتا ہے، جبکہ ”شرط“ کےمعاملے  میں(قوت کا ہونا اور ختم ہونا) ضروری نہیں ہے۔

 

‌ب.   سببی نظام (النظام السببي):

 

کوئی بھی ایک سسٹم اجزاء کے ایک ایسے مجموعے اور روابط پر مشتمل ہوتا ہے جو ان اجزاء کو ایک پروگرامنگ کے مطابق مخصوص اور منظم طریقے سے یکجا کرتے ہیں تاکہ مطلوبہ مقصد حاصل ہو جائے یا مطلوبہ کام انجام دے۔ اشیاء فطرتاً نظم و ضبط اور پابندی سے آزاد ہونے کی طرف مائل ہوتی ہیں اور ان کا جھکاؤ انتشار اور بے ترتیبی کی طرف ہوتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، وہ منظم ہونے اور باہمی روابط بنانے کے لئے آپس میں خود بخود تعاون نہیں کرتیں۔ لہٰذا کسی نظام کے وجود کے لئے ابتدا ہی سے ایک ایسے سبب کا ہونا ضروری ہے جو اس کے اجزاء کو جمع کرے، ان کے درمیان ربط قائم کرے، اور انہیں اس مقصد کے مطابق ترتیب دے جس کے لئے اس کے ڈیزائنر نے اسے بنایا ہو۔ جیسا کہ ایک عمارت ایک سسٹم ہوتی ہے، ایک میز ایک سسٹم ہے، پانی کے نکاس کی نالی ایک سسٹم ہے، وغیرہ وغیرہ۔

 

جہاں تک سببی نظام (Causal System) کا تعلق ہے، تو یہ ایک عام ساکن نظام سے اس بنیاد پر ممتاز ہوتا ہے کہ یہ اپنے اندر ایک موثر سببی قوت رکھتا ہے، ایک مخصوص عمل سرانجام دیتا ہے، اور کسی دوسری چیز میں تبدیلی کا سبب بنتا ہے۔ اس کی مثالوں میں میکانی نظام جیسے کار اور ریفریجریٹر، اور حیاتیاتی نظام جیسے انسانی جسم شامل ہیں۔

 

میں نے ایک ایسے نکتہ چینی کرنے والے شخص سے، جس کا رجحان الحاد کی طرف تھا، ایک سوال پوچھا: ”تم اس بات پر یقین کیوں نہیں کر سکتے کہ فطرت خود بخود ایک میز یا کار پیدا کر سکتی ہے یا یہ کہ ارتقاء کے ذریعے یہ اشیاء خودبخود بن جائیں ؟“، وہ اس سوال کا کوئی جواب نہ دے سکا، تاہم اس نے مجھ سے یہ اتفاق کیا کہ ایسا ہونا عقلی طور پر ناممکن ہے، مگر وہ اس کی وجہ نہیں جانتا تھا۔ میں نے اسے جواب دیا کہ وہ اسباب یا فطری عوامل جو فطرت میں اپنا عمل دکھاتے ہیں — جیسے ہوا، بارش، سورج کی روشنی، زمین کی کششِ ثقل، سمندر کی لہریں، آتش فشاں، زلزلے، ہوا کا دباؤ اور حرارت وغیرہ — وہ خود سے کوئی نظام تخلیق نہیں کر سکتے۔ بلکہ اس کے برعکس، ان کا اثر بے ترتیب (Random) ہوتا ہے، اور وہ بنیادی طور پر پہلے سے موجود نظاموں میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔

 

نیز یہ کہ حرارت کے قوانین کے اندر بے ترتیبی (Entropy) کا قانون موجود ہے جو یہ تقاضا کرتا ہے کہ تمام نظام بے ترتیبی کی طرف مائل ہوتے ہیں نہ کہ اس کے برعکس۔ چنانچہ، پتھروں کا ایک مجموعہ کبھی بھی خودبخود آپس میں نہیں مل سکتا اور کسی خاص مقصد کے لئے ایک منظم اور باہم مربوط نظام بنانے پر مجتمع نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس کے عین برعکس حقیقت یہ ہے کہ نظام خود کو حدود اور روابط سے آزاد کرنے اور بکھرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ لہٰذا، یہ ثابت کرنا کہ کائنات، انسانیت اور زندگی میں مکمل اور شاہکار نظام موجود ہیں — خاص طور پر سببی نظام (Causal Systems) — تو یہ اس کائنات کے لئے ایک ڈیزائنر (صانع) اور مقصدیت (الغائية) کے وجود کو ثابت کرنے کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔

 

‌ج.    انسانی سببیت (السببية الإنسانية) :

 

فطری سببیت اور انسانوں کے افعال و کردار سے متعلق سببیت کے درمیان ایک واضح فرق موجود ہے، اور اس کی وجہ نوعِ انسان میں مرضی یا انتخاب کی آزادی کا پایا جانا ہے۔ انسانی وجود کے دو پہلو ہیں: ایک مادی یا جسمانی پہلو اور دوسرا فکری و عقلی پہلو۔ جسمانی پہلو ایک مادی حقیقت ہے جو دیگر جانداروں کے معاملے کے ساتھ مشترک ہے۔ یہ ایک ”سببی نظام“ (Causal System) ہے جو مختلف اعضاء اور حیاتیاتی نظاموں جیسے نظامِ ہاضمہ، نظامِ اعصاب وغیرہ پر مشتمل ہے۔ رہی بات عقلی و معنوی پہلو کی، تو انسان میں غور و فکر (سوچنے) کی خاصیت موجود ہوتی ہے؛ یعنی اس بات کی صلاحیت کہ وہ حواسِ خمسہ کے ذریعے محسوس کیے جانے والے بیرونی حقائق کو اپنی سابقہ معلومات کے ساتھ جوڑے، اور پھر اس معاملہ کا ادراک کرے، یعنی ان کی تشریح کرے اور انہیں کوئی معنی دے۔

 

انسانی افعال 'موثر اسباب' ہیں، جو انسان کی فطری جسمانی قوت اور عقلی قوت یعنی تصورات کے باہمی ملاپ کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ انسانی سبب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جذباتی اور فطری جسمانی قوت کے ساتھ ساتھ عقل کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ عقل ہی ان تصورات کی حامل ہوتی ہے جو اس جسمانی قوت کی سمت متعین کرتے ہیں۔ چنانچہ، 'انسانی سبب' وہ عمل ہے جو ایک انسان کسی خاص معاملے پر اثر انداز ہونے اور اسے ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنے کے لئے انجام دیتا ہے۔ اس عمل کا تعین عقل اپنی 'پسند اور ارادے' (Choice and Will) کے ذریعے کرتی ہے، جس کی بنیاد وہ تصورات ہوتے ہیں جو اس عمل کے کرنے یا نہ کرنے میں اس عمل کے مفاد سے متعلق عقل میں موجود ہوتے ہیں۔

 

چہارم : تلازمِ صفات (Concomitance of Attributes):

 

اشیاء کے درمیان بہت سے لازمی اور باہمی تعلقات پائے جاتے ہیں، اور یہاں ہمارا تعلق اشیاء کی صفات کے باہمی تلازم سے ہے۔ تلازم سے مراد ایسا تعلق ہے جہاں ایک صفت کا ہونا دوسری صفت کے وجود کو لازم کر دے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی چیز ”منظم“ ہے، تو اس کے پیچھے ایک ”منظم کرنے والے“ (Organizer) کی صفت کا ہونا لازم ہے۔ یہ تلازم ان امور میں سے ہے جنہیں دلائل پیش کرنے سے پہلے ثابت کرنا ضروری ہے، اور اس طرح یہ استدلال کے لئے لازمی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خالق کے لئے عقل سے ثابت شدہ بعض صفات تک رسائی دراصل محسوس اشیاء کی دیگر صفات سے اخذ کردہ نتائج پر مبنی ہوتی ہے۔ اشیاء کی یہ صفات ان کی دیگر محسوس صفات سے لی گئی ہوتی ہیں۔ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خالق کی عقلی صفات کی اصل، مخلوق کی صفات کی ضد (Opposites) تک پہنچتی ہے۔

 

اشیاء کے لئے ”تلازمِ صفات“ سے مراد یہ ہے کہ چیزیں متعدد صفات کی حامل ہوتی ہیں، جن میں سے کچھ براہِ راست محسوس کی جا سکتی ہیں اور کچھ پوشیدہ یا ان کی ماہیئت ناواقف ہوتی ہیں۔ تلازمِ صفات کا مطلب یہ ہے کہ ہم کسی مخصوص شے کی ایک نامعلوم صفت کو اس کی دوسری معلوم صفت یا دو معلوم صفات سے اخذ کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ آپس میں جڑی ہوئی یا لازم و ملزوم ہوں۔ اور یہ تلازم ان دونوں صفات کے درمیان پائے جانے والے اس یقینی مادی تعلق یا ملاپ سے ثابت ہوتا ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہ ہو۔ یہ قطعی تلازماتی تعلق دو چیزوں کے درمیان مکمل استقراء یا مستقل وابستگی کے ذریعے قائم ہوتا ہے، اور اسی طرح یہ سببی یا شرطی تلازم، یا کسی ایسی مشترکہ صفت کے ذریعے بھی قائم ہوتا ہے جو ان دونوں کو جمع کر دے، یا پھر تسلسل اور ترتیب وغیرہ کے ذریعے بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔

 

استقراء (Induction) دو چیزوں کے درمیان مستقل لازم و ملزوم ہونے (یعنی تلازم) پر دلالت کرتا ہے، اور اسی مستقل تعلق سے ان کے درمیان ایک استدلالی ربط پیدا ہوتا ہے۔ استقراء کے طریقے کو استعمال کرتے ہوئے اشیاء کی مخصوص صفات کا ثبوت فراہم کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس استقرائی طریقے میں ایک مسئلہ پایا جاتا ہے، کیونکہ اس کا انحصار کلّی استقراء (Complete induction) یعنی تمام جزئیات کا احاطہ کرنے کے بجائے ”استقراءِ ناقص“ (Incomplete induction) یعنی بعض جزئیات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے پر ہوتا ہے۔ کلّی استقراء کا تقاضا ہے کہ ان تمام جزئیات کا انفرادی طور پر ایک ایک کر کے مشاہدہ اور ادراک کیا جائے جن کا ہم ادراک کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ان میں کسی مخصوص صفت کے پائے جانے کے تلازم کو ثابت کیا جا سکے۔ بہرحال اس نوعیت کا یہ استقراء کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ تاہم، اشیاء کی ”بنیادی حالتوں“— یعنی اشیاء کی ماہیٔت میں موجود کسی ثابت صفت یا خصوصیت — پر انحصار کرتے ہوئے ادراک کی عمومیت کے لئے استقراءِ ناقص کو کافی سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح، اس صفت کو عمومی جانتے ہوئے ادراک کیا جاتا ہے اور استقراءِ ناقص ”کلّی استقراء“ کو مکمل استقراء کی جگہ کافی سمجھا جاتا ہے۔

 

مثال کے طور پر، لکڑی کے جلنے کی صلاحیت  کو ثابت کرنے کے لئے دنیا کی تمام لکڑیوں کو جلانا ضروری نہیں ہے۔ اس کے بجائے، لکڑی کے چند ٹکڑوں کو جلا کر تجربہ کرنا اور پھر یہ عمومی قاعدہ بیان کر دینا کافی ہے کہ 'تمام لکڑیاں جلتی ہیں'۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ جلنے کی صلاحیت اس کی ماہیت میں موجود ایک خاصیت ہے، اور اگر یہ نہ جلے تو یہ لکڑی نہیں رہے گی۔ یہ صفت لکڑی کی ان لازمی صفات یا پوشیدہ خصوصیات میں سے ہے جو اس سے کبھی بھی مطلق طور پر الگ نہیں ہوتیں۔ چنانچہ، استقراءِ ناقص کو تجرباتی مشاہدے اور حسی ادراک کے ذریعے تسلیم کرنے پر کافی سمجھا جاتا ہے، جس کا انحصار مشاہدہ شدہ مظاہر اور اشیاء کی خصوصیات میں شامل ان کے لازمی تلازم (concomitant relationship) پر ہوتا ہے۔

 

تاہم، اس قسم کا استقراء ان صفات کو ثابت نہیں کرتا جو عارضی ہوں اور مستقل نہ ہوں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص کسی جزیرے پر پلا بڑھا ہو اور وہاں اس نے  یہی دیکھا ہو کہ تمام بطخوں کے پر سفید تھے، تو وہ اپنے اس محدود استقراء کی بنیاد پر یہ عمومی نتیجہ نکالے گا کہ تمام بطخوں کے پر سفید ہوتے ہیں۔ لیکن اگر وہ اس جزیرے سے باہر کا سفر کرے اور اسے سیاہ پروں والی کوئی بطخ مل جائے، تو اسے احساس ہوگا کہ اس کا سابقہ ادراک غلط تھا کیونکہ وہ استقراءِ ناقص پر مبنی تھا۔ اس نے اپنے فیصلے کی بنیاد بطخ کے پروں کے رنگ پر رکھی تھی، جو کہ ایک عارضی صفت ہے، نہ کہ کوئی لازمی یا مستقل صفت، اور اشیاء میں ایسی صفات میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ، اس کے لیے زیادہ درست بات یہ ہوگی کہ وہ کہے کہ ان جگہوں پر جہاں اس نے تحقیق کی، اس کے مشاہدے کے مطابق بطخوں کا رنگ سفید پایا گیا؛ بشرطیکہ وہ اپنے اس ادراک کو دیگر رنگوں کی بطخوں کے وجود کی نفی کے لئے عمومی نہ کر دے، کیونکہ دوسرے رنگوں کی بطخوں کا وجود ہونے میں کوئی شے مانع نہیں ہے۔

 

جہاں تک دو چیزوں کے درمیان سببی تلازم یعنی اثر  اور محرک کے باہمی تعلق کا تعلق ہے، تو یہ اس سببی تعلق کے ذریعے پایا جاتا ہے جو سبب کو نتیجے کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اسی طرح شرط اور سبب کے درمیان شرطی تلازم پایا جاتا ہے تاکہ نتیجہ برآمد ہو سکے۔ مثال کے طور پر اگر آپ اندھیرے میں کسی کے بولنے کی آواز سنیں، تو یہ یقینی طور پر ایک زندہ انسان کی موجودگی پر دلالت کرتی ہے جس سے وہ آواز سنائی دی ہے، کیونکہ اثر (آواز) حتمی طور پر محرک (انسان) کے وجود کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسی طرح دھوئیں اور آگ کے درمیان ایک سببی تلازم ہے، کیونکہ آگ دھوئیں کے وجود کا سبب ہے اور دھواں اسی کا نتیجہ ہے۔ اور اسی طرح زمین پر قدموں کے نشانات اور اس جاندار کے درمیان بھی تلازم پایا جاتا ہے جو ان پر چل کر گزرا ہو۔ رہی بات شرطی تلازم کی، تو اس کی مثال آگ اور آکسیجن کے درمیان وہ تعلق ہے جو جلنے کے عمل کے لئے ضروری ہے۔ اگر آکسیجن ختم ہو جائے تو سبب (آگ) اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، آکسیجن نہ ہو گی تو نہ جلنے کا عمل ہوگا اور نہ ہی دھواں پیدا ہو گا، کیونکہ آکسیجن جلنے کے لئے ایک لازمی شرط یا لازمی پہلو ہے۔

 

جہاں تک دو امور کے درمیان ایک کے بعداگلے کے آنے کا تعلق ہے، تو اس کی مثال دن کے بعد رات کا آنا ہے، اور والدین کے بعد بچوں کا وجود میں آنا ہے۔ ایک کے بعد اگلے آنے والے تلازم میں ایک 'ترتیب' بھی ہے، جیسے دو کے بعد تین کا آنا، اور ترتیب میں چار کے بعد پانچ کا آنا، اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

 

مستقل خود مختار وجود یا تابع وجود سے متعلق صفات کا تلازم (Concomitant of Attributes):

 

صفات کے تلازمConcomitant of Attributes پر تحقیق کرتے وقت، اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ کچھ اشیاء کی اپنی مخصوص صفات ہوتی ہیں، جبکہ کچھ ایسی عمومی اور مشترکہ صفات ہوتی ہیں جو تمام اشیاء کا احاطہ کرتی ہیں۔ جب ہم استقراء (Induction) کے ذریعے کسی عمومی نتیجے تک پہنچنا چاہتے ہیں، تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اشیاء کی مخصوص صفات کے بجائے ان کی عام صفات کو بنیاد بنائیں؛ کیونکہ مقصد کائنات اور اشیاء کی حقیقت کو پرکھ کر اس بنیادی سوال کا جواب حاصل کرنا ہے کہ آیا محسوس اشیاء کا وجود مستقل اور خود مختار ہے یا ان کا وجود کسی دوسرے پر منحصر ہے؟ اور بنیادی تحقیق موجودات کی اصل (ابتداء) کے بارے میں ہے، اور قاعدہ یہ ہے کہ 'اصل' کا وجود مستقل ہونا چاہیے نہ کہ کسی دوسرے کے تابع۔ اسی 'اصل' کو تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ مستقل وجود رکھنے والی ہستی اور تابع وجود رکھنے والی اشیاء کے درمیان فرق واضح ہو سکے۔

 

تاہم، یہ صفت — یعنی اشیاء میں ان کی اپنی خود مختاری (استقلالindependently existent ) اور دوسروں پر منحصر ہونا — براہِ راست حواس کے ذریعے محسوس نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس حقیقت تک دیگر محسوس صفات کے ذریعے پہنچا جائے جو اس کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ وجود میں اس کی خود مختاری (استقلال) اس بات کی متقاضی ہے کہ ایسی صفات موجود ہوں جو اس خود مختاری کے ساتھ جڑی ہوں۔ ان کا اشیاء میں ہونا لازم ہے۔ ہم ان صفات کو تلاش کریں گے، اور اگر وہ ہمیں مل جائیں تو ہم مستقل وجود کے ساتھ جڑی صفت کے پائے جانے کا فیصلہ کریں گے۔ اور اگر ہمیں خود انحصاری کے برعکس صفات ملیں—یعنی کسی دوسرے پر منحصر ہونا — تو ہم منحصر ہونے کی صفات کے ثبوت سے ادراک کریں گے۔

 

صفات کا وہ تلازم جس کی ہم یہاں تحقیق کر رہے ہیں، اس میں صفات کے ایک ایسے مجموعے کی تلاش شامل ہے جو 'خود انحصاری' کے ساتھ لازم و ملزوم ہو، اور صفات کا دوسرا مجموعہ جو اس کے برعکس یعنی 'منحصر ہونے' کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔ جب ہم اشیاء کی عام صفات کو تلاش کرتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایسی صفات کے حامل ہونے میں شریک ہیں جو ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہیں اور مل کر ایک ایسے وجود کی صفات بناتی ہیں جو کسی دوسرے پر منحصر ہوتا ہے، جیسے کہ نقص اور عجز۔ ان صفات میں لاعلمی، کمزوری، نقائص، ضرورت اور محدودیت ہونا شامل ہیں۔ یہ تمام وہ مشترکہ صفات ہیں جو منحصر وجود (یعنی، مخلوق) کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ اس کے برعکس، ان صفات کے الٹ وہ صفات ہیں جو 'ذاتی طور پر مستقل اور خود مختار' وجود کی ہیں، اور وہ خود مختاری کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں، جیسے کہ کمال، ابدیت، قدرتِ مطلقہ، کسی کا محتاج نہ ہونا، سب کا احاطہ کئے ہوئے علم ہونا، ارادہِ مطلق، ربوبیت اور دیگر صفات کا پایا جانا۔

 

اس بات پر توجہ دینا بھی ضروری ہے کہ کچھ صفات ایسی بھی ہیں جو مستقل وجود رکھنے والی ہستی اور تابع و محتاج موجودات، یا کامل وجود اور ناقص وجود، دونوں میں مشترک نام کے ساتھ پائی جاتی ہیں؛ جیسے کہ وجود، ارادہ، زندگی اور علم کی صفات۔ تاہم، صفت کی نوعیت کے لحاظ سے کامل صفت اور ناقص صفت کے درمیان فرق موجود ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ کامل کو حواس کے ذریعے محسوس نہیں کیا جا سکتا، اس لئے ہم عقل کے ذریعے اللہ کی غیبی صفات کی نوعیت کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ اس کے بجائے، ہم صفت کی موجودگی اور اس کے عمومی معنی کا ادراک یا تو عقل کے ذریعے کریں گے، اگر وہ قابلِ فہم ہو، یا پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی ذات اور صفات کے بارے میں قطعی دلائل کے ساتھ بھیجی گئی وحی کے ذریعے کریں گے۔ ہم پر واجب ہے کہ اللہ کی صفات کے بارے میں دی گئی الہامی خبر کو ویسا ہی تسلیم کریں جیسا کہ وہ وارد ہوئی ہے، لیکن اس میں خالق اور انسانوں کے مابین موازنہ نہیں کرنا چاہیے، چاہے ان صفات کے نام ایک جیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ انسان صرف ان صفات کے معنی کا ادراک محسوس مخلوقات کی حد تک ہی کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر، انسان سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے 'علم والا' کہا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ بھی 'علم رکھنے والا' ہے، لیکن اللہ کے علم کی حقیقی نوعیت اور اس کی وسعت انسانوں کے علم میں نہیں ہے۔ اس لئے خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی موازنہ ہو ہی نہیں سکتا۔

 

       خالق کے وجود کے استدلال کے لئے الاستقلالية independently existentاور التابعية dependent تلازم صفات کی اہمیت :

 

جب ہم ادراک کی جانے والی محسوس اشیاء کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں، تو ہم ان میں پائی جانے والی ایسی عام اور مشترک صفات کو تلاش کرتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہوں اور کبھی جدا نہ ہوں۔ تاکہ اس تلازم کے ذریعے یہ حکم لگایا جا سکے کہ ان کا وجود مستقل اور خود مختار ہے یا تابع۔مثال کے طور پر جب ہم کائنات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجرامِ فلکی کے ایک مجموعے پر مشتمل ہے، اور ان میں سے ہر جرمِ فلکی خود کئی اجزاء اور عناصر پر مشتمل ہے جو باہم مربوط ہیں۔ یہ مشاہدہ حصوں سے مل کر بننے والی ترکیب (composition) کی صفت کے وجود کی نشاندہی کرتا ہے، اور یہ صفت ایک ڈیزائن کردہ نظام (designed system) کے وجود کو ظاہر کرتی ہے۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ اشیاء کی اصل حالت بے ترتیبی کی ہوتی ہے، اور وہ کسی دوسرے کی مداخلت کے بغیر خود کو منظم نہیں کرتیں۔ اگر ہم کسی ایسی مرکب چیز کو دیکھیں جو ایک ترتیب سے جڑے ہوئے حصوں سے بنی ہو اور پھر وہ ایک مخصوص عمل یا کام انجام دے، تو ہم حتمی طور پر یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ یہ ایک ڈیزائن کردہ نظام ہے۔

 

اسی طرح جب ہم کائنات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا ہر جرمِ فلکی محدود ہے۔ کائنات میں ”محدودیت“ کی صفت کا پایا جانا ایک دوسری صفت کے ساتھ لازم و ملزوم اور منسلک ہے، جو کہ عاجز ہونا ہے۔ ایک عاجز شے کسی چیز کو عدم سے وجود میں نہیں لا سکتی، اور وہ بدرجہ اولیٰ خود کو وجود بخشنے سے بھی قاصر ہوتی ہے؛ چنانچہ وہ (اپنے وجود کے لئے) کسی ایسی ہستی کی محتاج ہوتی ہے جو اسے وجود میں لائے، اور یوں وہ ایک ”مخلوق“ بنتی ہے۔ لہٰذا، عجز ایک ایسی صفت ہے جو ”مخلوق ہونے“ کی صفت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جو ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ کائنات کی صفات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ ”مخلوق“ ہے۔ یہ صفت کائنات کے اپنے وجود میں خود مختار نہ ہونے کی نشاندہی کرتی ہے؛ یعنی یہ ثابت ہو گیا کہ کائنات اپنے وجود میں کسی دوسرے کی محتاج ہے۔

 

یہاں ہم نے اشیاء کی تحقیق اور معائنہ کیا ہے، اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے وجود کے ساتھ جڑی ہوئی ایسی مشترکہ صفات رکھتی ہیں جیسے کہ محتاجی کی صفت اور محدودیت کی صفت۔ پھر ہم نے ان صفات کے وجود سے ان کے ساتھ لازم و ملزوم دیگر صفات کا استنباط کیا ہے، جیسے کہ عجز ، اور عدم کے بعد وجود میں آنا، یعنی ان کا مخلوق ہونا۔ مزید یہ کہ اشیاء میں ان صفات کے پائے جانے سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ اپنے وجود میں خود مختار نہیں ہیں — یعنی وہ بذاتِ خود قائم (self-existent) نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بالا بنیادی اصولوں کے مطابق ان کی اصل ابتدائی حالت 'عدم' (کچھ نہ ہونا) ہی ہے؛ اور یہ قاعدہ ہے کہ اشیاء کی اصل حالت عدم ہوتی ہے جب تک کہ ان کے وجود کا ثبوت نہ مل جائے۔ چونکہ ان اشیاء کا وجود حس اور مشاہدے سے ثابت ہوتا ہے، اس لئے یہ ثابت ہوا کہ ان کا وجود کسی دوسرے کے وجود پر منحصر ہے اور وہ خود سے مستقل اور خود مختارنہیں ہے۔ اور قانونِ اسباب کو استعمال کرتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان کے وجود کے لئے لازمی طور پر ایک ایسی ہستی درکار ہے جو انہیں وجود میں لانے کا سبب بنی ہو؛ یعنی وہ عدم کے بعد پیدا کیے گئے ہیں، اور وہ کسی ایسے کے محتاج ہیں جو انہیں وجود میں لائے اور انہیں تخلیق کرے۔

 

اور یہی ہستی ان کا خالق ہے جس نے ان مخلوقات کو عدم سے پیدا کیا۔ اس خالق کے وجود کے لئے لازم ہے کہ وہ خود مختار اور مستقل ہونا چاہیے، وہ اپنے وجود کے لئے کسی دوسرے کا منحصر نہ ہو، ورنہ وہ خود بھی مخلوق بن جائے گا، اور یہ ایک باطل تضاد ہے جو کسی صورت درست نہیں۔ یہ صفت — یعنی خالق ہونا — ایک کامل صفت ہے جس سے خالق کا متصف ہونا ضروری ہے، اور اس صفتِ کامل سے ان تمام متضاد صفات کی نفی ہوتی ہے جن سے ناقص مخلوقات متصف ہوتی ہیں۔ چنانچہ ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ خود مختار وجود، بطورِ 'واجب الوجود'، لازمی طور پر ایک ازل سے ابد تک خالق، قادر، صاحبِ ارادہ، سب جاننے والا (علیم)، بے نیاز، کامل، حاکمِ اعلیٰ اور وحدہٗ لاشریک رب ہے۔ اس خالق کی ذات کا ان تمام نقائص سے پاک ہونا ضروری ہے جو مخلوقات میں پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا، یہ منطقی طور پر لازم آتا ہے کہ وہ غیر مخلوق ہو، عاجز نہ ہو، محتاج نہ ہو، اور محدود نہ ہو، کیونکہ عقل کے مذکورہ بالا اصولوں کے مطابق ایک ہی ذات میں دو متضاد صفات کا جمع ہونا باطل ہے۔

 

خالق کی یہ صفات، اگرچہ بذاتِ خود مادی یا محسوس نہیں ہیں — کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات براہِ راست حواس سے محسوس نہیں کی جا سکتیں — تاہم عقل نے انہیں حس کے ذریعے یعنی 'حسی عقلی دلیل' سے خالق (الخالق) کے لئے ادراک کیا اور ان کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ یہ ادراک محسوس مخلوقات کے ساتھ جڑی ہوئی 'نقائص کی صفات' کو سمجھنے، اور خالق کے وجود کے ساتھ لازم و ملزوم 'کمال کی صفات' کے وجود کی ضرورت کو پہچاننے سے حاصل ہوا ہے۔ لہٰذا، خالق کے وجود کے لئے یہ ضروری صفات ایسی صفات ہیں جن کا عقل نے ادراک کیا ہے اور عقل ہی نے انہیں ثابت کیا ہے، خواہ خالق کی ذات براہِ راست عقل کے لئے قابلِ محسوس نہ ہو۔

 

ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اس مثال پر غور کریں جو قرآن کریم نے یہ ثابت کرنے کے لیے دی ہے کہ ہمارے سردار سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نہ تو ایک خدا ہیں اور نہ ہی اللہ کے بیٹے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں ارشاد فرمایا،

 

﴿مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلاَنِ الطَّعَامَ انظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الآيَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّى يُؤْفَكُونَ﴾

 

”مسیح ابن مریم تو صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں، ان کی والدہ صدیقہ (نہایت سچی) ہیں، وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ دیکھو! ہم کس طرح ان کے سامنے نشانیاں واضح کرتے ہیں، پھر دیکھو وہ کدھر الٹے پھرے جا رہے ہیں“ (المائدۃ؛ 5:75)۔

 

 

ہمارے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ مریم کا کھانا کھانا 'محتاجی' کی صفت کے پائے جانے کی نشاندہی کرتا ہے، اور محتاجی 'عجز' کی علامت ہے، اور عاجز ہستی ابدی نہیں ہو سکتی، اور اس کا رب ہونا ناممکن ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں پر عیسیٰ علیہ السلام کے مخلوق ہونے کی نشانیاں — یعنی دلائل — واضح کر دیے، لیکن وہ دھوکے میں ہیں — یعنی وہ دلائل سے منہ موڑتے ہیں اور گمراہی و ضلالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر وہ اپنی عقل کے بنیادی اصولوں کے مطابق سوچتے تو جان لیتے کہ عیسیٰ علیہ السلام ایک انسان ہی ہیں، اور نتیجے کے طور پر انسانوں کی تمام خصوصیات اور صفات ان پر صادق آتی ہیں: یعنی کھانا، پینا، سونا، پیدا ہونا اور وفات پا جانا۔ یہ تمام خصوصیات جانداروں کی صفات ہیں جنہیں اپنے افعال اور معاملات چلانے کے لئے دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ضرورت ایک دوسری صفت یعنی 'عجز' کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے، اور عجز کی صفت 'مخلوق ہونے' کی صفت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مخلوقات کی دیگر صفات جیسے نقص، عجز، حاجت، موت اور زندگی وغیرہ لازم آتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ایک پیدا کئے گئے بندے ہیں، نہ کہ خالق یا رب۔ عقل کی رو سے یہ درست ہی نہیں کہ ایک ہی ذات میں ابدیت اور ربوبیت کی صفات کو نقص اور عجز کی صفات کے ساتھ جمع کر دیا جائے، کیونکہ یہ ناممکن ہے، یہ ایک تضاد ہے، اور تضاد باطل ہوتا ہے۔

 

پنجم) دلیلِ مصنوعیۃ designing اور دلیلِ محدودیۃ evidence of limitation پر دلائل کی حدود کا اطلاق :

 

 

آئیے ایک مادی مثال لیتے ہیں جو 'دلیلِ محدودیت' کو استعمال کرتے ہوئے ہمیں خالق کے وجود کی ضرورت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ ایک لکڑی کی میز کا مشاہدہ کرنے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی شے ہے جو اپنے لئے ایک بنانے والے کے وجود کی دلیل دیتی ہے۔ ہم اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس میز کا بنانے والا لازمی طور پر ایک ماہر بڑھئی ہو گا، جو اپنے فن کا علم رکھتا ہو گا، اسے مہارت سے انجام دینے والا ہو گا، ارادہ اور قدرت رکھتا ہو گا، اس میز کو بنانے کا کوئی مقصد ہو گا، وہ بصیرت رکھتا ہو گا، اس کے ہاتھ ہوں گے جن سے اس نے ڈیزائن کیا، اور وہ اوزاروں اور خام مال وغیرہ کا مالک ہو گا۔ یہ تمام وہ صفات اور لوازمات ہیں جن کاہونا اس میز کے تخلیق کار کے لئے  ضروری ہے۔ تاہم، صرف میز کے مشاہدے سے بنانے والے کی دیگر صفات کا دعویٰ کرنا ممکن نہیں ہے، مثلاً یہ کہ اس کی رنگت گوری ہے، یا اس کی آنکھیں نیلی ہیں، یا اس کا نام احمد ہے، یا وہ سرخ قمیض پہنتا ہے، یا وہ یروشلم میں رہتا ہے، وغیرہ۔ یہ دعوے عقلی نہیں ہیں؛ یہ محض اندازے ہیں اور غیب کے بارے میں قیاس آرائیاں ہیں۔ میز، بطور ایک تخلیق شدہ شے کے، ان معاملات کے بارے میں قطعی کوئی دلیل نہیں دیتی، نہ ہی کسی قریب یا دور کے کسی حوالے سے، الا یہ کہ وہ بڑھئی جس نے اسے بنایا ہے، ذاتی طور پر ہم اسے جانتے ہوں۔ اور اگر ایسا معاملہ ہے کہ ہم اس بڑھئی کو جانتے ہیں، تو یہ مخصوص صفات اس کے بارے میں سابقہ معلومات کی بنیاد پر ذکر کی جا سکتی ہیں، یا اگر ہمیں کوئی خاص پہچان یا شناختی کارڈ مل جائے جو اس بڑھئی کی نشاندہی کرے، تو اس کے بارے میں پوچھا جائے اور پھر وہ بڑھئی خود اپنے بارے میں مطلع کرے۔

 

لکڑی کی ایک میز پر غور و فکر ہمیں اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ یہ میز ایک 'تیار کردہ' شے ہے، کیونکہ یہ میز چند حصوں پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ایک خاص مقصد انجام دیتی ہے؛ چنانچہ، یہ میز ایک مستحکم 'بامقصد نظام' ہے۔ یہ میز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کے لئے ایک بنانے والے کا ہونا ضروری ہے۔ ہم اس میز کی محسوس صفات، جیسے کمال، ترتیب، میز بنانے میں مہارت، خوبصورتی، اور مؤثر طریقے سے کام کی انجام دہی سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس میز کے بنانے والے میں ایسی ضروری صفات ہونی چاہئیں جو اس میز کے ڈیزائن کے مشاہدے سے حاصل ہوئی ہیں، یعنی مہارت، علم، کمال، اہلیت، ملکیت، ارادہ، اور دیگر صفات۔ یہ صفات میز بنانے والے کے لئے ضروری صفات کا ایک مجموعہ ہیں تاکہ وہ ڈیزائن کردہ شے، یعنی لکڑی کی میز، تیار کرنے کے قابل ہو سکے۔

 

جب میز کی اس مثال کا اطلاق کائنات پر کیا جاتا ہے، تو ہم ہر چیز میں ایک ترتیب اور ان قوانین کے وجود کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس کائنات کے نظام کو چلاتے ہیں۔ کائنات میں موجود یہ ترتیب اورنظم لازمی طور پر اس کے ایک بنانے والے یعنی خالق کی مرہونِ منت ہونی چاہیے، اور اس کے بنانے والے کو علم، کمال، حکمت، قدرت، ملکیت، ارادہ اور دیگر صفات کے ساتھ متصف ہونا چاہیے۔

 

جہاں تک 'دلیلِ محدودیت' کا تعلق ہے، تو ہم کائنات میں مخصوص صفات کا مشاہدہ کرتے ہیں، جیسے کہ محدودیت۔ محدودیت کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم مختلف اشیاء کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ایک ابتداء ہے اور ایک اختتام؛ یعنی وہ مکانی طور پر محدود ہیں۔ جو چیز جگہ میں ابتداء رکھتی ہے، اس کا زمانے میں آغاز ہونا بھی ناگزیر ہے، کیونکہ زماں، مکاں کے تابع ہوتا ہے اور وجودی طور پر جگہ کے ساتھ منسلک ہے۔ مکاں کے وجود کے بغیر زماں کا کوئی آزادانہ وجود نہیں ہے، اور مکاں کے بغیر زمانے کا کوئی وجود نہیں۔ نتیجتاً، ہر محدود شے کے مکانی اور زمانی وجود کی ایک ابتداء ہوتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک مخصوص وقت پر عدم سے وجود میں لائی گئی ہے۔ دوسرے زاویے سےغور کیا جائے تو کسی محدود شے کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے میں عاجز سمجھا جاتا ہے؛ یعنی وہ کسی دوسرے کے سہارے کے بغیر اپنی حدوں سے باہر نکلنے کے قابل نہیں ہوتی۔ لہٰذا، وہ ناقص اور عاجز ہوتی ہے۔ چنانچہ، صفتِ محدودیت اور صفتِ عجز یا نقص کے درمیان ایک تلازم (باہمی تعلق) پایا جاتا ہے۔ لہٰذا، صفتِ محدودیت، صفتِ عجز کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ محدود کا عاجز ہونا ضروری ہے، اور عاجز اپنی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتا، اور اس کا عجز سب سے واضح طور پر خود کو وجود بخشنے سے قاصر ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لئے، وہ اپنے وجود میں دوسرے پر منحصر ہوتی ہے؛ یعنی اسے کسی دوسرے نے پیدا کیا ہے، اور وہ ایک خالق کا محتاج ہے جو اسے پیدا کرے۔ خلاصہ یہ کہ اشیاء میں صفتِ محدودیت اور عجز کے درمیان تلازم ہے، اور پھر عجز اور مخلوق ہونے کی صفت کے درمیان تلازم پایا جاتا ہے۔

 

ایک اور پہلو سے دیکھا جائے تو خالق کو ان کمال کی صفات کے ساتھ متصف ہونا چاہیے جو خالق ہونے کی صفت کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں، اور خالق کے لئے ہر قسم کے نقائص اور عجز کی صفات کی نفی لازمی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہی ذات میں ان متضاد صفات کا جمع ہونا ایک باطل تضاد ہے جسے عقل اپنے اصولوں کے مطابق مسترد کرتی ہے۔ خالق ہونے کی صفت کے ساتھ خالق کے لئے لازم و ملزوم صفات میں سے ایک 'قادر' کی صفت ہے، اس طرح کہ وہ عاجز نہ ہو؛ اور ان صفات میں سے ایک 'ابدیت' بھی ہے، اس طرح کہ وہ محدود نہ ہو؛ اسی طرح سب کا احاطہ کئے ہوئے باعلم ہونا، ارادہِ مطلق اور کمال کی دیگر صفات بھی ہیں، اور ان صفات کا خالق میں موجود ہونا اس کی تخلیق کردہ اشیاء، مخلوقات اور اس کی محسوس شدہ مادی صفات کے وجود سے ثابت ہو جاتا ہے۔

 

چنانچہ ہم میز کے معاملہ میں دلیلِ مصنوعیہ کے ذریعے، اور اس تخلیق شدہ شے میں موجود مخصوص صفات کے وجود سے، اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس میز  کے تخلیق کار میں ان لازم و ملزوم صفات کا ہونا ضروری ہے۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ ڈیزائنر کی صفات کا اثر تیار کردہ شے میں ظاہر ہوا ہے، جو کہ ایک سببی ربط (Causal link) ہے، یعنی ایک اثر اور مؤثر  کے درمیان پایا جانے والا سببی تعلق ہے۔

 

تاہم، 'دلیلِ محدودیت' میں ہم نے 'صفات کے تلازم' کے ذریعے یہ نتیجہ نکالا کہ کائنات کا وجود ایسا وجود ہے جو اپنی ذات میں مستقل اور خود مختار نہیں ہے۔ اس کے بجائے، یہ ایک ایسا وجود ہے جو دوسرے پر منحصر ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ مخلوق ہے۔ مخلوق کے لیے لازمی طور پر ایک خالق ہونا چاہیے جو اس کی تخلیق کا سبب ہو؛ چنانچہ ہم کائنات کے لیے ایک 'خالق کے واجب الوجود' ہونے کے نتیجے پر پہنچے ہیں۔ چونکہ خالق کے ساتھ جڑی ہوئی سب سے اہم صفت اس کا اپنی ذات میں مستقل اور خود مختار ہونا ہے، اس لیے یہ لازمی ہے کہ خالق کی یہ صفت دیگر ایسی صفات کے ساتھ لازم و ملزوم ہو جو محدود، عاجز، محتاج اور پیدا کردہ مخلوقات کی صفات کے برعکس ہوں۔ خالق کو غیر محدود، ازلی (الازلیہ)، قادرِ مطلق (القدرۃ المطلقہ) اور بے نیازی (الصمدیہ) کے ساتھ متصف ہونا چاہیے۔ ہم ابدیت کی صفت کے ساتھ منسلک دیگر صفات کی موجودگی کی ضرورت تک بھی پہنچتے ہیں، جیسے کہ کمال کی صفات، نقص کی نفی، علیمِ الخبیر، ارادہِ مطلق، وحدانیت، ربوبیت اور دیگر صفات۔ یہ وہ ضروری صفات ہیں جن کا اثبات عقل، ربُّ العالمین کے لئے لازم قرار دیتی ہے۔

 

یہ وہ اہم ترین حدود ہیں جن پر خالق کے وجود کے بارے میں اللہ کے منکرین کے ساتھ بحث کے لئے بنیادی اصولوں  کے طور پر متفق ہونا ضروری ہے، تاکہ انہیں ان عقلی دلائل اور براہین کا پابند بنایا جا سکے جو ہم اللہ تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

 

اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس تحریر کو اس امتِ مسلمہ کے لئے فائدہ مند بنائے، جسے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ، حق کے لئے اور ہدایت کے لئے بنی نوع انسان پر گواہ بنایا ہے۔ اور وہ ہمیں اس انسانیت کے لئے ایسا رہنما بنا دےجن کے ہاتھوں اللہ زمین کی گمراہ قوموں کو ہدایت عطا فرمائے، تاکہ وہ اطمینانِ قلب اور یقین کے ساتھ اللہ کے دین میں داخل ہو سکیں۔ آمین یا رب العالمین!

[1] https://husna.news/yvfdxwmk

 

Last modified onجمعرات, 28 مئی 2026 13:21

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.