بسم الله الرحمن الرحيم
اخبار 'الرایہ' شمارہ نمبر 604 کے متفرق مضامین
(ترجمہ )
صفحہ اول کی سرخی
ہم، اخبار الرایہ کی انتظامیہ، نئے ہجری سال 1448ھ کی آمد کے موقع پر پوری امتِ مسلمہ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ اسے اپنی نصرت سے نوازے اور زمین پر اس (دین) کو تمکن اور استحکام عطا فرمائے۔ دشمنوں کی منظم دشمنی اور حملوں کے نتیجے میں امت جس زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہے اسے یاد دلاتے ہوئے، ہم امت کو پکارتے ہیں کہ وہ اپنے ارادوں کو مضبوط کرے اور ہمارے ساتھ مل کر نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کی جدوجہد کرے۔ ہمارا پختہ یقین ہے کہ یہی وہ ادارہ ہے جو امت کو اس کا سابقہ مقام "بہترین امت" کے طور پر واپس دلائے گا جو بنی نوع انسان (کی رہنمائی) کے لیے پیدا کی گئی ہے، اور اسے اس قابل بنائے گا کہ وہ اپنی سرزمینوں سے کفار اور استعماری مغربی ممالک کے اثر و رسوخ کا خاتمہ کر سکے۔
===
صفحہ اول کے لیے
اے مسلم افواج، تم جوابدہ ہو
اے مسلمان افواج کے افسرو اور سپاہیو: تم اپنے لوگوں کی تکالیف سے اتنے بے نیاز کیوں ہو؟ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ "اللہ کی راہ میں نکلو،" تو تم بوجھل ہو کر زمین سے چمٹ کر کیوں رہ جاتے ہو؟ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ "مبارک سرزمینِ فلسطین کی آزادی کے لیے اٹھو،" تو تم کیوں اپنے کپڑوں میں منہ چھپا لیتے ہو اور منہ موڑ لیتے ہو؟ تم کب تک ہمارے شہداء کے خون کو محض اعداد و شمار سمجھتے رہو گے، اور اپنی کندھوں پر موجود اس عظیم امانت کا بوجھ محسوس کرنا کب شروع کرو گے؟
اللہ کی قسم، تم واقعی جوابدہ ہو، اور خون کا ہر قطرہ اس عظیم دن تمہارا گریبان پکڑے گا جب دل خوف سے مغلوب ہوں گے اور آنکھیں دہشت سے کھلی رہ جائیں گی۔ اس دن کوئی حکمران یا عہدیدار تمہیں ذرہ برابر فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔ بلکہ تم مر جاؤ گے اور فرشتے تمہاری روحیں قبض کرتے ہوئے کہیں گے:
﴿وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ ۖ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ﴾
"اور تم ویسے ہی اکیلے ہمارے پاس آگئے جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور جو کچھ ہم نے تمہیں (دنیا میں) دیا تھا وہ سب تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے، اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھتے جن کے بارے میں تمہارا دعویٰ تھا کہ وہ تمہارے معاملے میں (اللہ کے) شریک ہیں؛ یقیناً تمہارے باہمی تعلقات ٹوٹ گئے اور جن دعووں میں تم مگن تھے وہ سب تم سے گم ہو گئے۔" (سورۃ الانعام: آیت 94)
لہٰذا اس دنیا اور آخرت کی عزت و سربلندی کی طرف آگے بڑھو، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس فرمان کو یاد رکھو جس نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ * إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَاباً أَلِيماً وَيَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئاً وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾
"اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا جاتا ہے تو تم بوجھل ہو کر زمین سے چمٹ جاتے ہو؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ہے؟ حالانکہ دنیا کی زندگی کا فائدہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے * اگر تم (جہاد کے لیے) نہیں نکلو گے تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا، اور تم اسے ذرہ برابر نقصان نہ پہنچا سکو گے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔"( سورۃ التوبہ: آیات 38-39)
===
صفحہ اول کے لیے
ریاستِ خلافت میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ٹیکنالوجی (اطلاعات و مواصلات کی ٹیکنالوجی)
انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کا یہ شعبہ اصل میں کفارِ مغرب نے قائم کیا، پروان چڑھایا اور اسے ترقی دی ہے۔ اس کی بنیادیں، ڈھانچہ اور اصول مغربی عالمی نقطہ نظر اور زندگی کے بارے میں اس کے مخصوص نظریے پر استوار کیے گئے ہیں۔ مغرب نے اسے دولت لوٹنے، اپنا اثر و رسوخ بڑھانے، ذہن سازی کرنے، وفادار ایجنٹ تیار کرنے، زندگی کے مختلف پہلوؤں کو خراب کرنے اور اپنا طرزِ زندگی، رویے اور اخلاقی اقدار مسلط کرنے کے لیے ایک استعماری حربے میں بدل دیا ہے۔ نتیجے کے طور پر، اس کا اثر اکثر فوجی ہتھیاروں سے بھی زیادہ گہرا اور کئی لحاظ سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے۔
چونکہ ریاستِ خلافت کو اس شعبے کی اس کی تمام شاخوں سمیت ضرورت ہے، جو زندگی کے تقریباً ہر پہلو میں گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ اسلامی عقیدے سے ماخوذ ایک جامع عوامی پالیسی تشکیل دی جائے اور اس شعبے کی بنیادوں سے دوبارہ تعمیر کی جائے تاکہ یہ زندگی کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر پر مبنی ہو۔ حزب التحریر نے اپنے ارکان کے ایک ممتاز گروپ کی کوششوں کے ذریعے بالکل یہی کام انجام دیا ہے، جس نے حال ہی میں ایک جامع کتابچہ شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے: "ریاستِ خلافتِ راشدہ میں محکمہ اطلاعات و مواصلات کی ٹیکنالوجی (انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ)۔"
یہ ایک اہم محکمہ ہے جس کا ریاست کے نظم و نسق اور اس کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑتا ہے، جبکہ یہ ریاست کے دیگر محکموں، بالخصوص محکمہ جنگ، محکمہ صنعت، محکمہ داخلی سلامتی اور محکمہ خارجہ کے ساتھ بھی قریبی روابط رکھتا ہے۔
اسی وجہ سے، عمومی طور پر ان ٹیکنالوجیز کو استعمال کرنے والوں اور خصوصی طور پر دعوتِ اسلامی کے علمبرداروں اور مستقبل کے مدبرین پر یہ لازم ہے، جو اللہ کے اذن سے خلافتِ راشدہ کی صورت میں آنے والے تہذیبی منصوبے کے استقبال کی تیاری کر رہے ہیں، کہ وہ اس تحریر کو پڑھنے، سمجھنے اور اس شعبے سے متعلق احکامات کے بارے میں لوگوں میں شعور بیدار کرنے میں جلدی کریں۔ اس سے عملی طور پر ڈیجیٹل خودمختاری کے حصول میں آسانی ہوگی، جو قومی سلامتی کے ستونوں میں سے ایک ہے، اور ہمیں استعماری کافر طاقتوں کی طرف سے مسلط کردہ ہر قسم کے تکنیکی انحصار سے خود کو آزاد کرنے کے قابل بنائے گی۔
ایسا کرنے سے ہم معلومات اور اس کے ذرائع، اس کے استعمال کے میدانوں، سافٹ ویئر اور اس کے اطلاقات، ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال، الیکٹرانکس اور ان کے خام مال، معدنیات اور سپلائی چینز، اور یہاں تک کہ سیاروں اور ان کے مدار کے نظاموں پر بھی کنٹرول حاصل کر لیں گے۔ یہ چیزیں اب ایک مکروہ سرمایہ دارانہ نظام کی اجارہ داری میں نہیں رہیں گی جو لوگوں کو غلام بناتا ہے اور ان کے ساتھ مادی منافع کی مساوات میں محض اعداد و شمار کے طور پر سلوک کرتا ہے۔ اس کے بجائے، ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی انسانیت کو اس کا وقار اور انسانی قدر و قیمت واپس لوٹائے، کیونکہ ہم ایک ایسے پیغام (رسالت) کے علمبردار ہیں جس کے سپرد اللہ کے اذن سے انسانیت کا مستقبل کیا گیا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾
"اور (اے پیغمبر) ہم نے تم کو تمام جہان کے لیے رحمت بنا کر ہیجا ہے۔" (سورۃ الانبیاء، آیت 107)
===
مرکزی اداریہ کے نیچے
حزب التحریر آپ کو ایک عظیم شرعی فریضے اور بلند مرتبت اعزاز کی طرف پکار رہی ہے
اے مسلمانو، اے نسلِ انسانی کے لیے پیدا کی گئی بہترین امت کے بیٹوں اور بیٹیوں: حالات انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں، اور خشکی و تری میں فساد برپا ہو چکا ہے۔ آپ ایک تنگی اور مصیبت زدہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں، اور یہ سب صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت سے آپ کے منہ موڑنے، آپ کے اقتدار کی عدم موجودگی اور آپ کی ریاست کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کی وجہ سے ہے۔ اس کے نتیجے میں، آپ کے دشمن کو آپ پر غلبہ حاصل ہو گیا ہے، جو قتل و غارت، دربدری اور آپ کی مقدسات کی پامالی کے ذریعے آپ کو شدید تکالیف میں مبتلا کر رہا ہے۔
لہٰذا، اس امت کے بیٹوں اور بیٹیوں پر یہ لازم ہے، جن کے آباؤ اجداد نے کبھی دنیا کی قیادت کی تھی اور انسانیت تک نور اور ہدایت پھیلانے کے لیے شہداء کی قربانیاں دی تھیں، کہ وہ اپنے دین اور اپنی عزت کے سرچشمے کی طرف واپس لوٹ آئیں اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے خلوصِ دل سے جدوجہد کریں؛ ایک ایسی ریاست جو وقار، آزادی، نور اور ہدایت کا گہوارہ ہو، تاکہ وہ ایک عظیم نسل کے بہترین جانشین ثابت ہو سکیں۔
اس عظیم شرعی فریضے اور بلند مرتبت اعزاز کے لیے حزب التحریر آپ کو پکارتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے انصار بن جائیں، بالکل اسی طرح جیسے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) تھے۔ انہوں نے اپنے دلوں اور اپنے اعمال سے اسلام کو اپنایا، اور عطا، قربانی، لگن اور ایثار کی بہترین مثالیں قائم کیں۔ ایسا کر کے، آپ اس دنیا اور آخرت کی خوشیاں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وہ رضا حاصل کر سکتے ہیں جو ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا للهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾
"اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے پکارنے پر حاضر ہو جایا کرو جب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور یہ کہ تم سب اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔" (سورۃ الانفال: آیت 24)
===
عراق کے عوام کی تکالیف کا حل اس کے موجودہ نظام سے نہیں نکلے گا
اے عراق کے مسلمانو: یہ بات حقیقت میں انتہائی افسوسناک ہے کہ عراق جیسا ملک، جو وافر قدرتی وسائل، زرخیز زمین، میٹھے پانی اور باصلاحیت انسانی وسائل سے مالا مال ہے، آج خود کو مالی نااہلی، معاشی زوال، ہمہ گیر غربت اور بے روزگاری کی دلدل میں گھرا ہوا پائے۔ یہ سب کچھ اس کرپٹ نظام کا نتیجہ ہے جو اس پر مسلط کیا گیا ہے اور ان چوروں کی کارستانی ہے جو اس نظام کے محافظ بنے ہوئے ہیں؛ جن کی واحد فکر لوگوں کی دولت اور محنت کو لوٹنے کے منصوبے بنانا ہے، جبکہ وہ اپنے مفادات اور ان ریاستوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں جن کے وہ تابعِ فرمان ہیں۔
یقیناً، کوئی بھی ذی شعور شخص یہ تصور نہیں کر سکتا کہ ان تکالیف کا کوئی بھی حل اسی نظام سے برآمد ہو سکتا ہے جس نے ان مسائل کو جنم دیا ہے، یا اس کے ان بدعنوان پاسبانوں کے پاس کوئی حل ہو سکتا ہے۔ اس کے بجائے، حل خود امت کے اندر سے نکلنا چاہیے اور وہ ہے اپنے رب سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کی طرف واپسی۔ اسی شریعت میں ان تمام سختیوں کا مکمل مداوا اور شفا بخش مرہم موجود ہے، کیونکہ یہ کائنات، انسان اور زندگی کے خالق کی طرف سے عطا کردہ علاج ہے۔
لہٰذا، ہم آپ کو ایک بار پھر اپنے رب کی پکار پر لبیک کہنے کی دعوت دیتے ہیں کہ اس کے نظامِ شریعت کو نافذ کریں، جسے اس سبحانہ و تعالیٰ نے آپ پر فرض کیا ہے۔ صرف اسی کے ذریعے آپ ایک باوقار زندگی حاصل کر سکتے ہیں اور سرمایہ داری کی اس کرپشن اور لالچ سے نجات پا سکتے ہیں جس نے یہ تمام بحران پیدا کیے ہیں۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَداً مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ﴾
"اور اللہ ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن و اطمینان سے تھی، اس کا رزق ہر جگہ سے فراوانی کے ساتھ اس کے پاس پہنچ رہا تھا، پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کے بدلے انہیں بھوک اور خوف کا مزہ چکھا دیا۔" (سورۃ النحل: آیت 112)
===
ہمیں اپنے بچوں میں کفر کے سرکردہ لیڈروں: امریکہ اور برطانیہ کے خلاف دشمنی پیدا کرنی چاہیے
آلِ سعود کی سلطنت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اپنے واشنگٹن اور لندن کے آقاؤں کی خدمت گزاری میں شرمناک باری باری کا بدلنا اب سب پر عیاں ہو چکا ہے۔ اس لیے اہل یمن پر لازم ہے کہ وہ انہیں اور ملک کی انتظامی و حفاظتی قیادت میں موجود ان کے مقامی پیروکاروں کو مسترد کر دیں، جن پر وہ (آقاؤں کی طرف سے) حرام دولت نچھاور کرتے ہیں تاکہ وہ عوام پر کوڑے کے طور پر استعمال ہوں۔
اے یمن کے ہمارے لوگو: تمہاری تکالیف کا موثر علاج اور تمہارے مسائل کا حل آلِ سعود کے حکمرانوں کی پیروی میں نہیں ہے، جو اسلام اور مسلمانوں کے دشمن امریکہ کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ اور نہ ہی یہ متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی حمایت میں ہے، جو برطانویوں کے پروردہ ہیں، جنہوں نے ہماری سرزمینوں کو نوآبادی بنایا، ہماری دولت لوٹی اور ہماری خلافت کو تباہ کیا۔
ہمیں اپنے بچوں کی پرورش کفر کے سربراہوں امریکہ، برطانیہ اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں کی دشمنی پر کرنی چاہیے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق، واحد شرعی حل یہ ہے کہ آپ پر ہر صورت اور ہر علامت میں مسلط کردہ سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے، اس کے ایجنٹ حکمرانوں کو ہٹا دیا جائے، اور نبوت کے نقشِ قدم پر 'دوسری خلافتِ راشدہ ' کے قیام کے ذریعے اسلامی طرزِ زندگی کا ازسرِ نو آغاز کیا جائے۔ یہ ایک ایسی ریاست ہوگی جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکمرانی کرے گی، لوگوں کے معاملات کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خوشنودی کے مطابق چلائے گی، اور دنیا تک اسلام کا پیغام (رسالت) پہنچائے گی، تاکہ امت کی دولت کافر استعمار کے بجائے ایک بار پھر خود اس کے اپنے لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔
یہ وہی ریاستِ خلافت ہے جسے قائم کرنے کے لیے حزب التحریر تگ و دو کر رہی ہے۔ حزب کا کہنا ہے کہ اس نے اس مقصد کے لیے مستقبل کے مدبرین (سٹیٹس مین) کی ایک کھیپ تیار کر لی ہے اور نفاذ کے لیے ایک مکمل دستور بھی تیار ہے، جو زندگی کے تمام شعبوں کی تنظیم کرتا ہے اور قرآنِ کریم و سنتِ نبوی سے ماخوذ ہے۔ لہٰذا، ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ اس عظیم شرعی فریضے کی ادائیگی کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کام کریں۔
===