Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

کرغزستان میں بڑھتا ہوا چینی اثر و رسوخ

 

 

تحریر: استاد ہارون عبدالحق

 

(ترجمہ )

 

تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے کے تناظر میں، کرغزستان میں چینی اثر و رسوخ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شروع میں اپنے معاشی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے کے بعد، اب چین اپنی سیاسی اور فوجی طاقت کو بھی مزید تقویت دے رہا ہے۔ اس کی وجہ ملک کی معیشت میں چین کا بے مثال حصہ ہے۔ واضح رہے کہ چین سیاسی اور فوجی تعاون کے ذریعے کرغزستان میں اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کی کوشش کر رہا ہے۔

 

اس بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا ایک اشارہ ملک کے قرضوں کا حجم ہے۔ کرغزستان کا سرکاری قرضہ تقریباً 10 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں اس میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ اس قرض میں سے 1.5 بلین ڈالر چین کے واجب الادا ہیں، جو ملک کے بیرونی قرضوں کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

 

چینی کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 27.2 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس حجم کا زیادہ تر حصہ چین سے ہونے والی درآمدات پر مشتمل ہے۔ تجارت کے اس بھاری حجم نے چین کو کرغزستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بنا دیا ہے۔ 2025 کے پہلے نو ماہ کے دوران، کرغزستان میں چین کی براہ راست سرمایہ کاری 282.3 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے چین ملک میں سب سے بڑا سرمایہ کار بن گیا۔

 

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ چینی سرمایہ کاری اور قرضے مخصوص شرائط کے ساتھ آتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر چین کرغزستان میں کسی منصوبے کا آغاز کرتا ہے یا سرمایہ کاری کرتا ہے، تو وہ چھوٹے سے چھوٹے پیچ (screw) تک تمام ضروری آلات چین سے ہی درآمد کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، مقامی مارکیٹ سے ایک پیچ تک نہیں خریدا جاتا!

 

مزید برآں، چین اپنے شروع کردہ منصوبوں اور سرمایہ کاری پر کام کرنے کے لیے اپنے ہی شہری لاتا ہے۔ چین کے زیادہ تر قرضے اسی ماڈل پر کام کرتے ہیں: ملک کسی خاص منصوبے کی تکمیل کے لیے چین سے قرض لیتا ہے، اور پھر ایک چینی کمپنی اس منصوبے کا ذمہ اٹھاتی ہے۔ قرض کی رقم چینی کمپنی کو چلی جاتی ہے، اور چینی کارکن منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بڑی تعداد میں ملک کا رخ کرتے ہیں۔

 

اپنی خاموش اور بتدریج حکمتِ عملی کے ذریعے، چین ہمارے ملک کی معیشت کے اہم شعبوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ ان معاشی مفادات کا تحفظ اور مستقبل میں ان کی ترقی کو یقینی بنانا اب اس کی ترجیحات میں شامل ہو چکا ہے۔ فطری طور پر، یہی حقیقت کرغزستان اور چین کے درمیان معاشی تعلقات کو ایک سیاسی اور فوجی فریم ورک میں تبدیل کرنے کا باعث بن رہی ہے۔

 

اس تبدیلی کے ابتدائی آثار پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ 19 مئی کو، چین کے وزیر برائے پبلک سیکیورٹی وانگ ژیاؤ ہونگ نے ہمارے ملک کا دورہ کیا اور وزیرِ داخلہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کرغز-چینی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

 

20 مئی کو وانگ ژیاؤ ہونگ نے اسٹیٹ نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے چیئرمین سے ملاقات کی، جنہوں نے ملک کے اندر چینی سرمایہ کاروں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے کمیشن کی آمادگی کا اعلان کیا۔ یہ ملاقاتیں واضح طور پر اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔ حکام چین کے لیے تمام دروازے کھولنے کو تیار ہیں۔ بدلے میں، چین اپنی سرمایہ کاری میں مزید اضافے کی تیاری کر رہا ہے۔ فطری طور پر، ان سرمایہ کاریوں کے ساتھ ساتھ چینی شہریوں کی بڑی تعداد میں آمد بھی متوقع ہے۔

 

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ حکام نے ملک میں کام کرنے کی اجازت پانے والے غیر ملکی کارکنوں کا کوٹہ 50,000 سے بڑھا کر 100,000 کر دیا ہے۔ 25 اپریل کو، وزراء کی کابینہ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں چینی کارکنوں کے ملک میں داخلے کو آسان بنایا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، معاشرے میں بے چینی اور غصے کا بڑھنا فطری ہے، اور بعض تنازعات بھی پھوٹ پڑے ہیں۔ اس صورتحال کو روکنے کے لیے، اور خاص طور پر چینی معاشی مفادات اور چینی کارکنوں کے تحفظ کے لیے، دونوں ممالک کے سیکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

 

اس کے علاوہ، حکام ملک میں چینی نمائشیں شروع کر کے، یونیورسٹیوں میں چینی علوم (Chinese studies) کے شعبے قائم کر کے، اور چینی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے مسلسل تقریبات منعقد کر کے چین کے امیج کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک تقریب میں ایک سرکاری نمائندے نے کہا کہ ”کرغز-چینی تعلقات تین ہزار سال پر محیط تاریخ رکھتے ہیں“۔ یہ ہمارے عوام اور چینیوں کو بھائیوں کے طور پر پیش کرنے کی ایک کوشش کی نشاندہی کرتا ہے، باوجود اس کے کہ ان کے درمیان قطعی طور پر کوئی تعلق یا مشترکہ خصوصیات موجود نہیں ہیں۔

 

مزید برآں، جب بھی چینیوں کے خلاف عوامی غصے کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوتے ہیں، حکومتی ترجمان عوام کو پرسکون کرنے اور ردعمل کو روکنے کے لیے فوری متحرک ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب ایسی ویڈیوز گردش کرنے لگیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ”چینی بہت زیادہ ہو گئے ہیں“ یا ”چینیوں نے ملک پر قبضہ کر لیا ہے،“ تو صدارتی انفارمیشن پالیسی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین نے ایک بیان جاری کیا جس میں ان ویڈیوز کو فتنہ انگیز اور غلط معلومات پھیلانے والا قرار دے کر ان کی مذمت کی۔

 

مزید برآں، قومی قرضوں سے متعلق معلومات پہلے عوامی سطح پر دستیاب ہوا کرتی تھیں۔ تاہم، اب صرف کل قومی قرضے کو ظاہر کیا جاتا ہے، جبکہ ہر انفرادی فریق یا ادارے کے واجب الادا قرض کی رقم نہیں بتائی جاتی۔ اس سے قبل ملک کے بیرونی قرضوں کا سب سے بڑا حصہ چین کا تھا، مگر اب نئی پالیسی کے تحت چین کے واجب الادا قومی قرضے کا حجم عوام پر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد آبادی میں چین مخالف جذبات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ حکومت مستقبل میں چین سے مزید قرضے حاصل کرے گی۔

 

چنانچہ حکومت کا یہ ماننا ہے کہ ملک کی ”ترقی“ کے لیے چین کو تمام مواقع فراہم کرنا جی ڈی پی میں اضافے اور ”ترقی“ کا باعث بنے گا۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری اور قرضے ان میکانزم (ذرائع) میں سے ایک ہیں جنہیں استعماری طاقتیں دوسرے ممالک کی دولت لوٹنے، ان کے سرمائے کا صفایا کرنے اور اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

 

علاوہ ازیں، چین کے ساتھ تعاون ملک میں چینی باشندوں کی بڑھتی ہوئی آمد کا راستہ کھولتا ہے۔ مگر حکام اس نام نہاد ”ترقی“ کے فریب میں مبتلا ہو کر ملک کے مستقبل کو ایک بند گلی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

 

جیسا کہ ایک سرکاری نمائندے نے کہا کہ ”کرغز-چینی تعلقات کی تاریخ تین ہزار سال پر محیط ہے۔“ یقیناً ہمارے آباؤ اجداد چین سے نمٹنا جانتے تھے، اسی لیے چین آج تک ہماری سرزمین کو فتح کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اگر ہم ان کے نقشِ قدم پر چلیں اور ان کی تنبیہات پر کان دھریں، تو ہم انتہائی احتیاط کے ساتھ چین کا سامنا کرنے اور اس کے اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کو روکنے کے قابل ہو سکیں گے۔

 

یہاں ہمیں عوامی شاعر کالی گل بائیولو (Kaligulbayulu) کے الفاظ یاد آتے ہیں: ”وہ آہستہ سے سرک کر تمہاری آغوش میں آتا ہے، اور پھر تمہاری گردن میں اپنا پھندا ڈال دیتا ہے۔ اے میری قوم! دھوکہ نہ کھانا، چین کی عیاری اور مکاری سے فریب نہ کھانا۔“

 

لہٰذا، حکام کو چاہیے کہ وہ عوام کی آواز سنیں اور ان پالیسیوں کو بند کریں جو ملک کو چین کا زیرِ بار اور محتاج بنانے کی طرف لے جا رہی ہیں۔

Last modified onجمعہ, 26 جون 2026 23:18

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.