Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

طرابلس سے بنغازی تک : کیا ترکی — امریکہ کا سہولت کار — لیبیا کا نقشہ ازسرنو کھینچ رہا ہے؟

 

 

تحریر: انجینئر وسام الاطرش

 

(ترجمہ)

 

ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کا 11 اور 12 اگست 2026 کو لیبیا کا دورہ محض ایک اور روایتی سفارتی دورہ نہیں تھا۔یہ ایک ایسے ملک کا دورہ تھا جہاں بیرونی دارالحکومتوں کو ہمیشہ طرابلس کے راستے داخل ہونے کی عادت رہی ہے۔ چنانچہ فیدان نے دارالحکومت میں عبدالحمید الدبیبہ، محمد المنفی اور محمد تکالہ سے ملاقات کی، جس کے بعد وہ بنغازی چلے گئے، جہاں انہوں نے خلیفہ حفتر، صدام حفتر، عقیلہ صالح اور بلقاسم حفتر سے ملاقاتیں کیں۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ترکی مشرق اور مغرب کو متحد کرنے اور ایک "متحدہ، خود مختار اور آزاد لیبیا" کی تعمیر میں مدد دینے کے لیے دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔

 

صرف یہی ایک تصویر ترکی کی پالیسی میں آنے والی اس تبدیلی کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ ترکی، جو 2019 میں طرابلس حکومت کے دفاع میں لیبیا کی جنگ میں داخل ہوا تھا اور دارالحکومت پر حفتر کے حملے کو پسپا کرنے کے بعد اس کی افواج اور فوجی مدد طرابلس حکومت کا اعتماد حاصل کرنے میں ایک فیصلہ کن عامل ثابت ہوئی تھیں، اب مشرقی لیبیا کو حریف کا کیمپ نہیں سمجھتا، بلکہ اب وہ دونوں فریقوں پر اثر و رسوخ کی چابیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب معاملہ یہ نہیں رہا کہ طرابلس بنغازی پر فتح حاصل کرے، بلکہ اب مقصد یہ ہے کہ آنے والے کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کی شکل کچھ بھی ہو، لیبیا میں ترکی کی موجودگی برقرار رہے۔

 

اس لیے فیدان کے اس دورے کو اس سے پہلے کی جانے والی پیش رفت سے الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ کیونکہ 24 جولائی 2026 کو فیدان نے انقرہ میں صدام حفتر کا استقبال کیا، ایک ایسی ملاقات میں جس نے مشرقی لیبیا کی طرف انقرہ کے بڑھتے ہوئے جھکاؤ کو واضح طور پر ظاہر کیا۔ اور اس سے قبل صدام 29 جون کو واشنگٹن کا دورہ کر چکے تھے، جہاں انہوں نے مسعد بولس کی موجودگی میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی (مسعد بولس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عرب اور افریقی امور کے سینئر مشیر ہیں، جنہیں متعدد علاقائی امور کی نگرانی سونپی گئی ہے جن میں سب سے اہم لیبیا کے منظر نامے کو ازسرنو ترتیب دینے کا امریکی منصوبہ ہے)۔ اس کے بعد انہوں نے اگلے دو دنوں تک لیبیا کے معاملے سے وابستہ امریکی حکام کے ساتھ اپنی ملاقاتیں جاری رکھیں، تاکہ فوجی ادارے اور دیگر لیبیائی اداروں کے اتحاد، ایک متحدہ حکومت کے قیام اور انتخابات کے انعقاد پر بات چیت کی جا سکے۔ اور ان رابطوں کا وقت کوئی اتفاقیہ نہیں تھا، کیونکہ ایسا لگتا تھا کہ واشنگٹن مشرق میں طاقت کے نمایاں ترین مراکز میں سے ایک کے ساتھ براہِ راست چینل کھول رہا ہے، جبکہ انقرہ بھی اسی وقت ان کے ساتھ اپنا الگ چینل بنا رہا تھا۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ ترکی کی یہ پیش قدمی اسی کیمپ، اور خاص طور پر اس کے مرکز میں موجود صدام حفتر، کی طرف بڑھتی ہوئی امریکی پیش قدمی کے عین مطابق تھی، جو کہ مسعد بولس کی قیادت میں لیبیا کے اقتدار اور اداروں کی ازسرنو ترتیب کے جاری سلسلے کا حصہ ہے۔

 

اور یہیں سے اس کی وسیع تر جغرافیائی سیاسی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ چنانچہ واشنگٹن اور انقرہ دونوں متوازی طور پر ایک ہی فائل پر کام کر رہے ہیں، ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے، جیسا کہ فیدان نے اپنے دورے کے دوران لیبیا میں اداروں کو متحد کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنے کی تڑپ اور بین الاقوامی کوششوں کو یکجا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی خواہش کا اعادہ کیا، اور مستقل استحکام کے حصول کے لیے لیبیا میں اداروں کو متحد کرنے کے مقصد پر مبنی امریکی اقدام کی حمایت کا اظہار کیا (العربی الجدید، 13/08/2026)۔ اور اس طرح، محض طرابلس کے ذریعے ایک مستحکم لیبیا کی تعمیر ممکن نہیں ہے، اور ملک کے مشرق کی نمائندگی کرنے والی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

مسعد بولس کا اقدام اپنے جوہر میں انتخابات کے مرحلے تک پہنچنے سے پہلے سیاسی, فوجی اور مالیاتی اداروں کو یکجا کرنے کی طرف گامزن دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ اقدام ایک متحدہ بجٹ کی منظوری، مشترکہ حفاظتی انتظامات کے قیام اور افریقہ میں امریکی فوجی کمانڈ "افریکام" کی نگرانی میں سرت میں فوجی مشقوں کے انعقاد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے (الجزیرہ، 02/07/2026)۔ اس تناظر میں، امریکی-لیبیائی حفاظتی اور فوجی تعاون محض ایک تربیت سے بڑھ کر ہے، یہ ایک ایسا ماحول تیار کرنے کی کوشش ہے جس پر ایک متحدہ لیبیائی فوجی ادارہ قائم ہو سکے۔

 

اور یہیں سے ترکی اور امریکہ کے باہمی گٹھ جوڑ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ترکی مغرب میں گہرا فوجی اور حفاظتی اثر و رسوخ رکھتا ہے، اور ساتھ ہی اس نے مشرق کے ساتھ بھی اپنے روابط بنانا شروع کر دیے ہیں، جبکہ امریکہ فریقین کو جمع کرنے اور فوجی و مالیاتی اداروں کو ازسرنو منظم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور اگر یہ سلسلہ کسی ایسے تصفیے کی طرف لے جاتا ہے جس میں مشرق اور مغرب اقتدار میں شراکت دار بنیں، تو مستقبل کے طرزِ حکومت میں حفتر خاندان کا ابھرنا ایک ایسا امکان بن جاتا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ موجودہ موازنہ قوت صدام حفتر کو اقتدار کے کسی بھی مستقبل کے فارمولے میں شامل کرنا ناگزیر بنا دیتا ہے۔

 

اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ترکی اور لیبیا کا تعاون صرف سیاست تک محدود نہیں ہے۔ چنانچہ سلامتی اور دفاع اگرچہ سٹریٹیجک تعلقات کی فہرست میں سب سے آگے ہیں، لیکن یہ توانائی، بنیادی ڈھانچے، تعمیرِ نو اور تجارت کی راہیں بھی کھولتے ہیں۔ اور ترک کمپنیوں نے خود مشرقی لیبیا میں بھی اپنے کام کا دائرہ بڑھایا ہے، جن میں بنغازی، البیضاء، شحات اور طبرق کے منصوبے شامل ہیں۔ اور اس طرح فوجی طاقت اقتصادی اثر و رسوخ میں بدل جاتی ہے، اور معیشت اپنے طور پر سیاسی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے کا ایک ذریعہ بن جاتی ہے۔

 

اور شاید ترکی کی حکمتِ عملی کے علامتی پہلو کو سب سے زیادہ نمایاں کرنے والی چیز بنغازی میں عمر المختار کی قبر پر فیدان کا کھڑا ہونا ہے۔ مزار کا انتخاب محض کوئی پروٹوکول کا حصہ نہیں تھا، بلکہ فیدان نے لیبیا کی قومی تاریخ کے سب سے معتبر اور مستحکم کردار کو مخاطب کرنے کا انتخاب کیا، اور اس مجاہدِ آزادی کی یاد تازہ کی جسے استعماری اٹلی نے 1931 میں پھانسی دی تھی۔

 

اور یہاں ترکی لیبیا کے لوگوں کے سامنے خود کو محض ایک بحیرہ روم کی طاقت کے طور پر پیش نہیں کر رہا جو صرف اپنے مفادات کی تلاش میں ہو، بلکہ ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کر رہا ہے جو خطے کے ساتھ تاریخی اور جذباتی یادوں کے رشتے سے جڑی ہوئی ہے، اس یورپ کے برعکس جس کی لیبیا میں تاریخ استعمار اور قبضے سے وابستہ رہی ہے۔ یہ ایک ایسی علامتی پالیسی ہے جو مادی قوت کی تکمیل کرتی ہے؛ ایک طرف ہتھیار، تربیت اور سرمایہ کاری ہے، تو دوسری طرف یادیں اور شناخت ہیں۔

 

اس لیے آج لیبیا واقعی بنیادی طور پر  یورپی اثرورسوخ سے نکل کر ایک ایسے میدان میں تبدیل ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے جہاں ترکی اور امریکہ کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، جو باقی ماندہ یورپی نفوذ کو بیدخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو ایسے معاشی، حفاظتی اور توانائی کے مفادات سے جڑا ہے جو اس بوڑھے بر اعظم کی بقا کی ضروریات کو بھی پورا نہیں کرتے۔ اور کھیل کے اصولوں میں تبدیلی کے ساتھ، اب لیبیا کے اندر عسکری اور اقتصادی طور پر متحرک قوتیں مشرق اور مغرب میں اس کے مستقبل کو نئی شکل دینے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہیں۔

 

اور یہاں یہ معاملہ مغربِ عربی کے پڑوسی ممالک کے زاویے سے سامنے آتا ہے۔ چنانچہ اگر امریکہ مشرق اور مغرب کو یکجا کرنے پر زور دے رہا ہے، ترکی ان دونوں کے ساتھ متوازی تعلقات بنا رہا ہے، اور خود بنغازی ایک زیادہ پرکشش شہری اور معاشی مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے، تو تونس، الجزائر اور مصر اسے محض ایک خالصتاً لیبیائی معاملہ قرار دے کر نہیں دیکھ سکتے۔ کیونکہ لیبیا کی ازسرنو تشکیل کا عملی مطلب شمالی افریقہ میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہے۔

 

اور اس لیے سب سے اہم سوال صرف یہ نہیں ہے کہ: متحدہ لیبیا پر حکومت کون کرے گا؟ بلکہ یہ ہے کہ: وہ فریم ورک کون تیار کرے گا جس کے تحت یہ اتحاد جنم لے گا؟ کیونکہ اگر لیبیا کا اتحاد کسی امریکی اور ترک چھتری تلے قائم ہوتا ہے، تو یہ اندرونی تقسیم کو ختم کرنے میں تو کامیاب ہو سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بیرونی طاقتوں کے مراکز پر ایک نئے انحصار کو بھی مضبوط کر سکتا ہے۔ لیکن اگر لیبیا کے عوام اس بین الاقوامی سنگم کو ایک خود مختار ریاست کی تعمیر کے موقع میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو لیبیا ایک مختلف تاریخی موڑ پر کھڑا ہو سکتا ہے۔

 

اور ایک وسیع تر اور سب سے اہم سوال برقرار رہتا ہے: مغربِ اسلامی اپنے جغرافیے، تاریخ، ثقافت اور تہذیبی شناخت کے مشترکہ رشتوں کے باوجود، منصوبوں کو قبول کرنے والی پوزیشن سے نکل کر خود اپنے فیصلے اور منصوبے بنانے والے کی حیثیت کیوں نہیں اختیار کر سکتا؟ لیبیا کا مستقبل صرف واشنگٹن، انقرہ اور یورپ کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی تونس، الجزائر، لیبیا، مراکش اور یہاں تک کہ موریطانیہ کی بیداری اور ترقی کو ان بڑی طاقتوں کے توازنِ قوت کا یرغمال بنے رہنا چاہیے جنہوں نے اقوام کی تقدیر کے ساتھ کھیلنا اپنا شیوہ بنا رکھا ہے۔

 

پس شاید عمر المختار کی قبر پر فیدان کی کھڑی ہونے والی تصویر سے حاصل ہونے والا سب سے گہرا سبق یہ ہے کہ اس خطے کو صرف لیبیا کو متحد کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اسے اپنی سٹریٹیجک مرضی و فیصلے کی طاقت کو یکجا کرنے کی صلاحیت بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا اتحاد جو ان مصنوعی خیالی سرحدوں سے بالاتر ہو، اور اس خطے کو — جس نے ہجرت کی تیسری دہائی سے پہلی خلافتِ راشدہ کی آغوش بننے کا شرف حاصل کیا — اس قابل بنائے کہ وہ اپنے فیصلوں کے مطابق اپنی سلامتی، معیشت اور بیداری کو پروان چڑھا سکے۔ اور تاریخ، تہذیب اور اسلام کا یہ رشتہ محض ایک مشترکہ یادگار رہنے کے بجائے ایک ایسے مستقبل کی بنیاد بن جائے جس میں نبوت کے نقشِ قدم پر قائم دوسری خلافتِ راشدہ کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کی بشارت پوری ہو سکے، تاکہ مغربِ اسلامی، استعمار کے خلاف ایک صدی کی جدوجہدِ آزادی کے بعد، محض ایک ایسا میدان بن کر نہ رہ جائے جہاں بیرونی قوتیں اسے اپنی مرضی سے ازسرنو تشکیل دینے کے لیے باہم برسرِ پیکار ہوں۔

 

Last modified onجمعرات, 27 اگست 2026 19:59

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.