بسم الله الرحمن الرحيم
اداریہ
یمن میں حالیہ جنگی پیش رفت کا ایک جائزہ
تحریر: انجینئر شفیق خمیس – ولایہ یمن
(ترجمہ)
بالآخر رواں ماہ جمعرات 10 ستمبر کو یمن کے مغربی ساحل پر جنگ کے بادل چھٹے تو ایک رسوا کن اور شدید شکست سامنے آئی، جو طارق محمد عبداللہ صالح کی قیادت والی نام نہاد "قومی مزاحمت" کی افواج کا حوثیوں کے سامنے جنوبی شہر المخا سے پیچھے ہٹنا تھا۔ طارق صالح کی جانب سے عدن کی طرف کی جانے والی دہائیاں بھی کچھ کام نہ آئیں، جو انہوں نے رواں ماہ جمعہ 4 ستمبر کو دو الگ الگ براہِ راست رابطوں کے ذریعے ایک طرف طارق صالح اور دوسری طرف وزیرِ اعظم شائع الزندانی اور آٹھ رکنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے درمیان کی تھیں۔ یہ اس وقت ہوا جب حوثیوں نے جمعرات 3 ستمبر کو ان کی فورسز پر درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے اچانک حملہ کر دیا، جس کے ساتھ ہی تعز گورنری کے مغرب میں الکدحہ، مقبنہ، البرح اور الوازعیہ کے محاذوں پر حوثیوں اور طارق صالح کی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ حوثیوں کا مقصد المخا شہر کو تعز سے الگ کرنا تھا۔ حملہ آور حوثی فورسز، یمنی حکومت سے وابستہ طارق کی فورسز میں پھیلی افراتفری اور حواس باختگی کے سایہ میں، متعدد مقامات پر پیش قدمی کرنے میں کامیاب ہو گئیں،اگرچہ طارق کی فورسز عددی قوت اور عسکری سامان کے لحاظ سے حوثیوں پر برتری رکھتی تھیں۔ حوثی میدانِ جنگ میں اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس حاصل کرنے میں کامیاب رہے، اور اسی بات کا اظہار سابق وزیرِ بلدیات عبدالرقیب فتح نے چند گھنٹوں کے لیے کچھ مقامات کے سقوط کا ذکر کرتے ہوئے کیا۔ ان دونوں رابطوں کا نتیجہ جمعہ 4 ستمبر کو اس اعلان کی صورت میں سامنے آیا کہ چوتھے ملٹری ریجن کے کمانڈر حمدی شکری کی معیت میں "عمالقہ" فورسز اور "درع الوطن" (وطن کی ڈھال) فورسز کی عسکری کمک مغربی ساحل اور تعز گورنری کے مغربی علاقوں میں پہنچ گئی ہے۔ تو آخر کیا ہوا اور یہ سب کیسے ہوا؟!
قومی مزاحمت، عمالقہ اور درع الوطن کی فورسز پر مشتمل حکومتی افواج کے پیچھے ہٹنے کے نتیجے میں حوثیوں نے الوازعیہ، البرح، مقبنہ، الکدحہ اور خالد ملٹری کیمپ پر تیزی سے قبضہ کر لیا۔ اس طرح انہوں نے المخا شہر کا گھیراؤ کر کے اسے تعز سے کاٹ دیا، جس سے یہ شہر شمال اور جنوب کے درمیان شکنجے میں آ گیا۔ اس کے ساتھ ہی پڑوسی علاقوں حیس اور الخوخہ میں خیانتوں کے بقایا واقعات اور طارق صالح کی فورسز کی صفوں میں ٹارگٹ کلنگ کے سلسلوں کا آغاز ہو گیا، اور اس پر مزید یہ کہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے کیے گئے ہدف بند اور شدید حملوں کا کاری زخم لگا، جس کا اپنی فورسز پر اثر ماننے سے طارق صالح کا انکار بھی ان کے کسی کام نہ آ سکا۔ جمعرات 3 ستمبر کی صبح طارق صالح کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ اپنی فورسز کو ذو باب کی طرف اپنے علاقوں سے پیچھے ہٹنے کے اچانک احکامات دے کر حیران کر دیں اور اپنے پیچھے سب کچھ حوثیوں کے لیے چھوڑ دیں۔ چنانچہ حوثی المخا میں داخل ہو گئے اور شہر میں کسی بھی قابلِ ذکر مزاحمت،حتیٰ کہ سعودی فضائیہ کی جانب سے بھی،کے بغیر یہ شہر ان کو سونے کی طشتری میں پیش کر دیا گیا۔
حوثی یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مغربی ساحل پر فتح انہوں نے خود حاصل کی ہے، جیسا کہ محمد علی الحوثی کا کہنا ہے: "صنعاء کے سیاسی اور عسکری موقف کی وضاحت کے تناظر میں، حوثیوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعاء جو جنگ لڑ ی جا رہی ہے وہ بے مقصد نہیں ہے، بلکہ یہ اہم مطالبات کے حصول کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر ہے، جن میں مالی و عسکری حصار اٹھانا، فضائی و بحری پابندیاں ختم کرنا، اور یمن پر عسکری کارروائیوں کا مکمل خاتمہ شامل ہے" (اخبار الثورہ، 10/9/2026)۔ اور عبدالعزیز بن حبتور نے بھی یہی طرزِ عمل اپنایا۔
تو کیا اب مأرب اور تعز کے باقی ماندہ حصوں کی باری آ گئی ہے، اور حوثی یمن کے پورے شمالی حصے پر اپنے کنٹرول کا تاج سجانے والے ہیں؟!
اور کیا العلیمی کا وہ شدید بیان،جسے سابق وزیرِ بلدیات عبدالرقیب فتح نے گزشتہ 11 جون کو اقوامِ متحدہ کے نمائندے گرونڈبرگ کے سامنے پیش کیے گئے ان کے نقطہ نظر کے حوالے سے نقل کیا تھا کہ "امن کا آغاز ریاست کی بحالی سے ہوتا ہے نہ کہ حوثیوں کے ساتھ اقتدار کی تقسیم سے"،ان کی طرف سے کوئی مذمت نہیں تھی، بلکہ اہل یمن کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا، تاکہ بالآخر انہیں حوثیوں کے ساتھ یمن کی تقسیم کو قبول کرنے کے لیے تیار اور رام کیا جا سکے؟!
کل تک 2017ء میں تشکیل پانے والی 'قومی مزاحمت' کی فورسز الحدیدہ شہر کی فصیلوں پر کھڑی تھیں، اور انہیں وہاں سے روکنے والی چیز دسمبر 2018ء کا اسٹاک ہوم معاہدہ، انسانی بنیادوں کے معاملے کو متحرک کرنا، اور اقوامِ متحدہ میں عدن حکومت کے خلاف قرار داد لانے کی دھمکی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اور آج المخا حوثیوں کے حوالے کر دیا گیا تاکہ صنعاء کی طرف پیش قدمی کرنے والی فورسز کو ضرب لگا کر واپس موڑنے کا منظرنامہ اور عسکری مواضع و شہروں کو ایک بار پھر حوالے کرنے کا ڈرامہ دوبارہ دہرایا جا سکے۔
جہاں تک صنعاء اور ریاض کے تعلقات کی بات ہے، تو حوثیوں کو سمندر اور زمین پر سعودی عسکری و معاشی اہداف پر حملے کرنے پر جس چیز نے اشتعال دلایا، وہ گزشتہ جولائی کے مہینے میں صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر بمباری کر کے ماہان ایئر کے جہاز کو اترنے سے روکنا تھا، نیز جنگ کے امور طے کرنے، ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور یمن کی ری کنسٹرکشن (تعمیرِ نو) کے فنڈز کی فراہمی شروع کرنے میں سعودی عرب کی ٹال مٹول اور تاخیری حربے تھے۔
یمن میں جنگ کے سالوں کے دوران اقوامِ متحدہ کا سیاسی کردار نمایاں رہا ہے، جہاں اس نے مذاکرات کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھی اور اسے جیسے چاہا آگے بڑھایا۔ اقوامِ متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی نمائندے ہانس گرونڈبرگ نے جمعہ 10 ستمبر کو سلامتی کونسل کے سامنے بات کرتے ہوئے کہا: "یمنی مطالبات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، اور اس کشیدگی سے پہلے میں نے ایسی تجاویز پیش کی تھیں جن سے ایک ممکنہ متبادل فراہم ہوا تھا۔ میں یمنی حکومت اور انصار اللہ کے ساتھ رابطے جاری رکھوں گا تاکہ آگے بڑھنے کے ممکنہ راستوں کا تعین کیا جا سکے اور کشیدگی کے راستے سے نکلنے کے لیے اختیارات کھلے رہیں۔ نیز میں علاقائی فریقوں کے ساتھ مل کر کام کروں گا جن کی شمولیت اس صورتِ حال کو قابو میں لانے کے لیے ناگزیر ہے"۔ انہوں نے مزید کہا: "جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بالآخر کس چیز پر مذاکرات ہوں گے اور اتفاقِ رائے ہو گا، تو یہ صرف یمنیوں کا اپنا معاملہ ہے"۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "برسوں سے میرا دفتر تمام مکاتبِ فکر اور تنوع کے حامل یمنیوں کے ساتھ مشاورت کرتا رہا ہے"۔ 2015ء سے 2024ء کے سالوں کے دوران 33 ارب ڈالر کی فراہمی میں اس کے معاشی کردار کے ساتھ ساتھ، کیا اہل ایمان اپنے ملک اور ان کے وسائل پر بین الاقوامی کشمکش کے سایہ میں حیرت سے منہ کھولے بیٹھے رہیں گے؟! دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے حزب التحریر کے ساتھ مل کر کام کرنا ایک قطعی اور ناگزیر فرض بن چکا ہے۔
«ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» "پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت قائم ہو گی"۔
Latest from
- مبارک سرزمینِ: فلسطین کی آزاد خواتین خواتین کو بدعنوان کرنے اور CEDAW معاہدے کو فروغ دینے والوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں!
- الرایہ کےمتفرقات - ( شمارہ نمبر 617)
- کیا جنگ عنقریب رک جائے گی اور امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جائے گا؟
- سوڈان میں سیاسی بحران اور حل کے امکانات
- جبل الشيخ کی چوٹی سے نتنياهو اور كاتس کے تکبر اور غرور کا خاتمہ صرف اسلام کے لشکروں کے ذریعے ہی ہو گا