Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

الرایہ  کےمتفرقات - ( شمارہ نمبر 617)

 

 

صفحہ اول کی سرخی:

اے وسطی ایشیا کے مسلمانوں! اپنے حکمرانوں کو امریکہ اور دیگر استعماری طاقتوں کے مفادات کی خدمت نہ کرنے دیں؛ کیونکہ اس کے نتیجے میں آپ کے وسائل اور دولت استعماری کفار کے ہاتھوں میں منتقل ہو جائیں گے، جبکہ وسطی ایشیا کے عوام شدید معاشی تنگدستی کا شکار ہیں! اور ان خائن حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کا واحد راستہ،جو اپنے اقتدار اور ذاتی مفادات کے لیے آپ کے وسائل استعماری کفار کے حوالے کر رہے ہیں،اسلام کی طرف رجوع کرنا، اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا، اس کی بنیاد پر متحد ہونا اور خلافت کے سایے میں اس کا نفاذ کرنا ہے۔ تبھی مسلمانوں پر کفار کے تسلط کا مکمل خاتمہ ممکن ہوگا، اور ان شاء اللہ، اللہ کی نصرت ہمارے ساتھ ہوگی۔

 

===

 

صفحہ اول کے لیے:

 

فرانس اور اس کی حجاب کے خلاف جنگ!

فرانسیسی صدارتی انتخابات کے لیے نیشنل ریلی پارٹی کی امیدوار مارین لو پین نے عوامی مقامات پر اسلامی حجاب کے استعمال پر پابندی کے معاملے کو ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے ایلسی محل تک رسائی کی صورت میں ایک ایسا قانون عوامی ریفرنڈم کے لیے پیش کرنے کا عہد کیا ہے جس میں حجاب پہننے کو جرم قرار جائے گا، جس پر اس اقدام کی آئینی حیثیت اور اس کے نفاذ کے امکانات کے حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔ لو پین نے 'ایکس' (X) پلیٹ فارم پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ ریفرنڈم کے ذریعے فرانسیسی عوام کے سامنے "اسلامی افکار کا مقابلہ کرنے کا ایک بڑا قانون" پیش کریں گی، جس میں ان کے بقول سخت تدابیر شامل ہوں گی؛ اور ان میں سے ایک عمومی مقامات پر اسلامی حجاب پہننے کو جرم قرار دینا بھی ہے۔

 

اس معاملے پر تمام حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے اور میڈیا و سوشل میڈیا پر موافق اور مخالفین کے درمیان چہ مگوئیاں بڑھ گئی ہیں۔ اسی دوران "سی نیوز" (CNews) نے سی ایس اے (CSA) انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے کے نتائج شائع کیے جس میں کہا گیا کہ 60 فیصد فرانسیسی عوام عمومی مقامات پر حجاب پر پابندی کے خیال کی حمایت کرتے ہیں۔ دوسری جانب، سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹک ٹاک" اور دیگر ذرائع پر ایک مہم پھیل گئی جس میں فرانسیسی انفلوئنسرز نے اس منصوبے کو آزادیوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کے طور پر خود حجاب پہنا۔

 

انتہا پسند دائیں بازو کے عناصر سالوں سے لوگوں کو اس کے خلاف بھڑکا رہے ہیں جسے وہ "اسلامی یلغار" کا نام دیتے ہیں، اور اپنے خطابات میں حجاب کو انتہا پسندی اور بدامنی سے جوڑتے ہیں، نیز مذہبی آزادی، ذاتی آزادی اور انسانی حقوق کے عالمی منشور کے تصورات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ہر اس چیز کے خلاف جنگ کا اعلان کر رہے ہیں جس کا تعلق اسلام سے ہے۔

 

اس سلسلے میں حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے شعبہ خواتین کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا: اس بات کا اشارہ دینا ضروری ہے کہ ان سالوں میں فرانس جن سیاسی، معاشی، صحتی اور سیکیورٹی مسائل کا شکار ہے، وہ اس کی تاریخ کے شدید ترین چیلنجز ہیں۔ اس کے باوجود، دائیں بازو کے انتخابی منشور ان تمام مسائل کے سنجیدہ حل پیش نہیں کرتے، بلکہ ان کی تمام تر کوششیں ہر اس چیز کے خلاف جنگ کے اعلان پر مرکوز ہیں جس کا اسلام سے کوئی تعلق ہے؛ چنانچہ کبھی عبایا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جاتا ہے، کبھی مساجد اور تنظیموں کے خلاف، اور کبھی اسکول ٹرپس میں بچوں کے ساتھ جانے والی ماؤں کے حجاب کے خلاف... وغیرہ!

 

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا:

اصل اور گہرا مسئلہ یہ ہے کہ انتہا پسند دائیں بازو نے اپنے تفریق آمیز اور نسل پرستانہ خطابات کے ذریعے کافی حد تک لوگوں کے دلوں میں خوف بٹھانے اور اسلام کو ایک ایسے ہوا کے طور پر پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جو جانیں لینے اور آزادیوں کا خاتمہ کرنے کے موقع کی تلاش میں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کا بھی ایک طویل عرصے سے اسلام اور مسلمانوں کی تصویر بگاڑنے، گمراہ کرنے، مغالطہ آمیزی اور بہتان تراشی میں بڑا کردار رہا ہے؛ اسی لیے مذکورہ بالا سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ پابندی کے حمایتیوں کی بڑی اکثریت عمر رسیدہ افراد پر مشتمل تھی جبکہ نوجوان اس تجویز کو کم قبول کرتے ہیں۔ کیونکہ نوجوانوں کی اکثریت کا تعلیمی اور عملی زندگی میں مسلمانوں سے واسطہ پڑا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ذرائع ابلاغ واقعات کو کس طرح پیش کرتے ہیں، نیز وہ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے ان دوسرے موقفوں سے بھی آگاہ ہوتے ہیں جو اکثر میڈیا کے بیانیے سے متصادم ہوتے ہیں۔

 

بیان میں آگے کہا گیا: فرانس میں اس مخصوص وقت پر دائیں بازو کا حجاب کے خلاف جنگ کا اعلان محض ایک انتخابی ہتھکنڈا ہے جس کا مقصد لوگوں میں خوف اور جھوٹ پیدا کر کے ان کے حساس جذبات کو چھیڑنا اور ووٹ حاصل کرنا ہے، ورنہ حقیقی سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل کہیں زیادہ اہم ہیں اور فرانسیسی حکومت کو درپیش گہرے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کا سنجیدہ حل اور علاج پیش کرنا زیادہ ضروری تھا۔

 

پریس ریلیز کے اختتام پر کہا گیا: افسوس کی بات یہ ہے کہ انتہا پسند ہمیشہ اپنی ناکامی اور اپنے تہذیبی نقص کو چھپانے کے لیے اسلام کو ہی ایک ایسا کھونٹا بنائے رکھیں گے جس پر وہ ان مسلسل بحرانوں کا ملبہ ڈال سکیں جو انہیں گھیرے ہوئے ہیں اور اس تنزلی کو روک سکیں جس میں وہ گرتے جا رہے ہیں، اور وہ ہمیشہ اپنی توانائیاں اصل میدانِ جنگ سے باہر کے تنازعات میں ضائع کرتے رہیں گے، اور وہ ہر صورت میں ناکام و نامراد ہی رہیں گے۔

 

===

 

اہم مضمون کے ذیل میں:

 

مسلمانوں اور ان کی افواج کے نام: اپنے ممالک سے امریکہ کے ہاتھ روک دو!

دنیا بھر کے حالات و واقعات پر نظر رکھنے والا شخص یہ دیکھ سکتا ہے کہ مسلم ممالک میں امریکہ کے ملٹری یا سیاسی تسلط اور مداخلت کی خبریں نیوز چینلز اور خبر رساں ویب سائٹس کی رپورٹوں پر چھائی ہوئی ہیں؛ چاہے وہ ایران کا معاملہ ہو، قطر اور پاکستان کی ثالثیاں ہوں، لبنانی مذاکرات ہوں، یا شام میں اس کی مداخلت اور وہاں یہودی وجود کے تجاوزات کی پردہ پوشی ہو، یا یمن کا معاملہ اور اس میں آلِ سعود کے حکمرانوں کا کردار ہو، یا سوڈان میں اس کے دو ایجنٹوں کے درمیان جاری خانہ جنگی ہو، یا مصر کا غصہ اور غزة کے حوالے سے اس کا کردار ہو، یا اردن، سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، عراق، شام اور ترکیہ میں قائم اس کے فوجی اڈے ہوں، یا جگہ جگہ اس کے مبعوثین اور نمائندوں کی نقل و حرکت ہو، علاوہ ازیں یہودی وجود میں امریکی سفیر کے ایسے بیانات جو گویا خود یہود کی زبان بول رہے ہوں، اور دیگر بے شمار امور جن کا یہاں احاطہ ممکن نہیں۔

 

اس پر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا: اے مسلمانوں! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟! جبکہ تمہارے حکمرانوں کی امریکہ اور مغربی ممالک سے وفاداری اور دوستی کا پردہ فاش ہو چکا ہے، تمہارے علاقوں میں حقیقی کارفرما قوت کون ہے یہ بالکل ظاہر ہو چکا ہے، اور تمہاری دولت اور وسائل کو کون لوٹ رہا ہے یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے، اور اب کوئی ایسی بات باقی نہیں بچی جس کی وضاحت کی ضرورت ہو۔

 

اسی طرح پریس ریلیز میں مسلم ممالک کی افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا: کیا تم اپنے کم ظرف اور نااہل (رویبضہ) حکمرانوں کی خیانتوں پر یوں ہی خاموش رہو گے، جبکہ تم دیکھ رہے ہو کہ وہ امریکہ کی خدمت اور اس کے احکامات پر عمل درآمد میں پیش پیش ہیں، اور تمہارے ملکوں اور وسائل پر اسے تسلط فراہم کرنے میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ تمہارے اپنے اہل خانہ شدید ترین فقر و غربت کی زندگی گزار رہے ہیں؟! اس کے علاوہ تمہارے حکمرانوں کو اپنے ان کرتوتوں اور جرائم پر ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی بلکہ وہ علانیہ ان کا ارتکاب کرتے ہیں، تو آخر تم کب تک خاموش تماشائی بنے رہو گے، نہ کوئی قدم اٹھاؤ گے اور نہ ہی کسی برائی کو روکنے کی کوشش کرو گے؟!

 

اور پریس ریلیز کے اختتام پر مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا: تمہارے لیے ان برے اور تکلیف دہ حالات، جو نہ کسی دوست کے لیے خوش آئند ہیں اور نہ ہی دشمن کے لیے نقصان دہ، سے نجات کی کوئی راہ نہیں سوائے نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے قیام کے، جس کا وعدہ اللہ سبحانه وتعالی نے اپنے ایمان والے اور عمل کرنے والے بندوں سے کیا ہے، اور جس کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے دی ہے؛ اور یہی وہ ریاست ہے جس کے قیام کے لیے حزب التحریر کوشاں ہے، وہ رہنما جو اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا، لہذا اس کے قیام کے لیے اس کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے میں پہل کرو، کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی عزت اور اللہ کی بڑی رضا ہے۔

 

===

 

تیونس کی جانب سے "فینکس ایکسپریس 2026" مشقوں کی میزبانی: غلامی اور انحصار کو مستحکم کرنے کی ایک نئی کڑی

وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ تیونس رواں ماہ 06 سے 18 ستمبر تک افریقہ کے لیے امریکی کمانڈ کے تعاون سے کثیر القومی بحری مشقوں "فینکس ایکسپریس 2026" کی میزبانی کرے گا، جس میں 13 برادر اور دوست ممالک کی نمائندگی کرنے والے تقریباً 400 فوجی اور مبصرین شرکت کر رہے ہیں۔

 

یہ میزبانی بنزرت شہر میں ایک امریکی ملٹری تنصیب کی توسیع کے لیے امریکی ٹینڈر جاری ہونے کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آئی ہے، جسے "سینٹر آف نیول ایکسی لینس" کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں جنگی کشتیوں کے لیے ایک بندرگاہ اور ہیلی کاپٹر پیڈ شامل ہے، جس کی تعمیر 2024 میں شروع ہوئی تھی۔

 

اس کے ردِ عمل میں حزب التحریر / ولایہ تیونس کے میڈیا آفس نے درج ذیل نکات پر زور دیا:

 

اوّلاً: امریکہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ملک ہے؛ عراق اور افغانستان میں اس کے جرائم سے سب واقف ہیں، اور غزة، مغربی کنارے، لبنان، شام، یمن اور ایران میں مسلمانوں کے خلاف یہودی وجود کی جارحیت کے لیے اس کی حمایت ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لہٰذا اس کے ساتھ فوجی تعاون شرعاً حرام ہے، کیونکہ یہ حالتِ جنگ میں دشمن کے ساتھ تعاون ہے، اور اللہ سبحانه فرماتا ہے:

 

﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإثْمِ وَالْعُدْوَانِ

"اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔" [سورة المائدة:آیت 2]

 

ثانیاً: یہ فوجی مشقیں جو "جرائم اور غیر قانونی ہجرت کے خاتمے" اور "بحری سرحدوں کی حفاظت اور جہازوں کی تلاشی" جیسے نعروں کے تحت منعقد کی جا رہی ہیں، نہ تو امتِ مسلمہ کے مفاد میں ہیں اور نہ ہی تیونس کے عوام کے، بلکہ ان کا بنیادی مقصد مقامی افواج کو امریکی سیکیورٹی اور ملٹری سسٹم میں ضم کرنا ہے، اور انہیں بحیرہ روم کے خطے اور شمالی افریقہ میں امریکی مفادات کی حفاظت کا آلہ کار بنانا ہے، اور مضيقِ ہرمز میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کی ایک زندہ مثال ہے۔

 

ثالثاً: امتِ مسلمہ کو ایسے شدید چیلنجز کا سامنا ہے جن کا تقاضا ہے کہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے سایے میں اسلام کے جھنڈے تلے اپنی توانائیاں اور افواج متحد کرے، تاکہ وہ اپنے اور اپنے ملکوں کے خلاف گھات لگائے بیٹھے دشمن کا مقابلہ کر سکے۔ اور اللہ سبحانه نے ہم سے نصرت اور تمکین کا وعدہ فرمایا ہے بشرطیکہ ہم اس کے دین کی نصرت کریں، اس کی ریاست قائم کریں اور اس کی شریعت کو نافذ کریں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

 

﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

"اور اللہ یقیناً ان کی مدد فرمائے گا جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں، بیشک اللہ زبردست طاقتور اور غالب ہے۔"[سورة الحج:آیت 40]

 

===

 

خلافت ہی مسلمانوں اور تمام انسانیت کے لیے نجات کا ذریعہ ہے

اللہ تعالٰی نے پاکستان پر یہ احسان فرمایا ہے کہ اسے ایک ایٹمی طاقت بنایا اور اسے صنعتی صلاحیت پر مبنی ایک مضبوط فوج عطا کی، جس میں اللہ سبحانه وتعالیٰ کو راضی کرنے اور شہادت حاصل کرنے کی شدید تڑپ موجود ہے۔ یہ ملک اس بات کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے کہ خلافت کے سایے میں وحدت کے واجب کو پورا کرنے کے لیے امت کے ممالک اور وسائل کو متحد کرنے کا مرکز و محور بن سکے۔ مثال کے طور پر، خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد انصار اور مہاجرین نے اس بات کی اجازت نہیں دی کہ امت تین دن اور رات سے زیادہ بغیر خلیفہ کے رہے۔ لہٰذا اس امت کے لیے دو خلیفہ ہونا جائز نہیں ہے، چہ جائیکہ پچاس سے زائد حکمران موجود ہوں!ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الآخَرَ مِنْهُمَا» "جب دو خلیفوں کے لیے بیعت کر لی جائے تو ان میں سے دوسرے (بعد میں بیعت کیے جانے والے) کو قتل کر دو۔"

 

پاکستان کی فوج کے بہادر افسرو! دنیا و آخرت کی عزت اور کامیابی اللہ سبحانه وتعالیٰ کی شریعت کو نافذ کر کے اس کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔ اور ہم اس طاغوت کو مسترد کرتے ہیں جو اللہ سبحانه وتعالیٰ کی شریعت کی حدیں توڑتا ہے:

 

﴿قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

"ہدایت گمراہی سے بالکل واضح ہو چکی ہے، پس جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔"[سورة البقرة:آیت 256]

 

لہٰذا ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ جو دنیا کے بدلے آخرت کو خریدتے ہیں:

 

﴿إِنَّ اللّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَيْهِ حَقّاً فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللّهِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

"بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں، پس وہ مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں؛ یہ تورات، انجیل اور قرآن میں اللہ کے ذمے ایک سچا وعدہ ہے، اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے؟ پس تم اپنے اس سودے پر خوشیاں مناؤ جو تم نے اس سے کیا ہے، اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔" [سورة التوبة:آیت 111]

 

بلاشبہ ریاستِ خلافت تمام مسلمانوں اور عام انسانیت کی امید اور ان کی نجات کا واحد راستہ ہے، اور اس کا قیام ایک شرعی واجب ہے جس کے لیے مسلمانوں کو جدوجہد کرنی چاہیے اور انصارِ مدینہ جیسے اجر و ثواب کی امید رکھنی چاہیے۔

 

===

 

قازقستان کی حکومت کی اسلام کے خلاف جنگ جاری

قازقستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے میڈیا آفس نے خبر دی ہے کہ: "جون سے اگست 2026 کے عرصے کے دوران، قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے تفتیش کیے گئے فوجداری مقدمات میں 19 افراد کو دہشت گردانہ اور انتہا پسندانہ جرائم کے ارتکاب پر قید کی مختلف سزائیں سنائی گئی ہیں۔" اسی عرصے کے دوران آستانہ، الماتی اور شیمکینٹ کے علاوہ اقمولا، اقتوبے، الماتی، جامبل، مانگیستاؤ اور ترکستان کے علاقوں میں سیکورٹی تلاشی کے آپریشنز کے نتیجے میں 28 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

 

الرایہ: توکایف کی حکومت، جس نے کچھ ہی عرصہ قبل نزاربایف حکومت کی جگہ لی ہے، اسلام اور اس کے پیروکاروں سے جنگ کی اپنی پالیسی پر کاربند ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد وسطی ایشیائی ممالک میں اقتدار میں آنے والے نظام خصوصی طور پر اس مقصد کے لیے قائم کیے گئے تھے کہ اسلام کو ان خطوں میں دوبارہ لوٹنے سے روکا جا سکے۔ اور یہی وہ مخصوص وجہ ہے جس کی بنا پر ان ممالک میں لوگوں کو اسلامی احکام کی پابندی سے روکنے کے لیے ان پر دباؤ کی سطح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ چنانچہ داڑھی رکھنے اور حجاب پہننے پر پابندی، نوجوانوں کو مساجد میں جانے سے روکنا، بڑی عمر کو پہنچنے سے پہلے فریضہ حج کی ادائیگی پر پابندی، اور کسی بھی مذہبی تقریب کے انعقاد پر قدغن، یہ تمام اقدامات اور اس سے بھی بڑھ کر دیگر پابندیاں مسلمانوں کو ان کے دین کی طرف لوٹنے سے روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

 

===

 

مغرب میں مسلمانوں سے بڑھتی ہوئی دشمنی کے درمیان، مسلمانوں کا وجود ان کے معاشروں کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے

اگست کے مہینے میں ڈنمارک میں حزب التحریر کی ایک کامیاب مہم کے بعد،جس کا مقصد ڈنمارک کے سیکنڈری اسکولوں کے مسلم طلباء کو نماز، رمضان کے روزے اور حجاب جیسے بنیادی اسلامی شعائر پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے سیاسی داغ لگانے کے بعد اپنی اسلامی شناخت پر قائم رہنے کی ترغیب دینا تھا،مختلف پارلیمانی گروہوں کے سیاست دانوں نے مسلمانوں کے خلاف معاندانہ ردِ عمل کا اظہار کیا۔ انضمام کے وزیر، مارٹن بوڈسکوف نے حتمی انداز میں بیان دیا کہ "انتہا پسندانہ اسلامی اقدار کے لیے ڈنمارک میں کوئی جگہ نہیں ہے" اور "ان اقدار کی ترویج ایک خطرناک امر ہے"!

 

سیاسی نتائج اور میڈیا میں وسیع بحث و مباحثے کے ساتھ ساتھ، قومی پرستوں اور انتہا پسند دائیں بازو کے کارکنوں نے کوپن ہیگن میں ایک عوامی ریلی نکالی، جہاں بعض شرکاء نے کھلم کھلا اسلام پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا اور راہگیروں کے سامنے نازی سلام پیش کیا۔

 

الرایہ: انتہا پسند دائیں بازو کا وہ درندہ جو مغرب میں اپنا مکروہ چہرہ دکھا رہا ہے، وہ ان کے اپنے ہاتھوں کی تراشیدہ چیز ہے، اور یورپی حکومتیں ہی اس نفرت اور تصادم کی ذمہ دار ہیں جو انہوں نے انتہائی منصوبہ بندی سے بوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مغرب میں مقیم مسلمان، بالخصوص نوجوان، بڑی تعداد میں اسلام کی طرف رخ کر رہے ہیں اور اسے رحمت کے پیغام اور اس نسل کشی اور انسان دشمن نظریے کے عملی متبادل کے طور پر اپنا رہے ہیں جو گرتی ہوئی مغربی تہذیب کے پردے کے پیچھے سے نظر آتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنی اسلامی شناخت اور اقدار سے وابستہ رہیں، اور شعور، قوت اور حکمت کے ساتھ اسلام کو ایک عالمی پیغام کے طور پر اٹھائیں، تو یورپ میں مسلم گروہوں کا وجود یورپی معاشروں اور عوام کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہوگا، جنہیں ان کی حکومتیں دھوکے اور نفرت کے ذریعے ایک بحران سے دوسرے بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 

===

 

Last modified onمنگل, 22 ستمبر 2026 05:39

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.