بسم الله الرحمن الرحيم
خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)
14/09/2026
سونے اور چاندی کو کرنسی کے طور پر اختیار کرنے سے بے قابو مہنگائی پر خاتمہ پایا جا سکتا ہے
12 ستمبر 2026ء کو روزنامہ بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا کہ 10 ستمبر 2026ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمت اشاریہ (Sensitive Price Indicator – SPI) کی بنیاد پر مہنگائی میں 0.23 فیصد اضافہ ہوا۔ یوں سالانہ بنیاد پر مہنگائی میں مجموعی طور پر 8.62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں پیاز کی قیمت میں 125.52 فیصد، گندم کے آٹے میں 30.18 فیصد، مٹن میں 15.92 فیصد، گائے کے گوشت میں 13.28 فیصد، تازہ دودھ میں 8.12 فیصد اور سادہ ڈبل روٹی میں 8.09 فیصد اضافہ شامل ہے، جبکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔
https://www.brecorder.com/news/40439129/weekly-spi-based-inflation-surges-023pc
تبصرہ:
روپے کی قدر میں کمی کے باعث ہونے والی مہنگائی کوئی اتفاقی امر نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے ڈیزائن کا نتیجہ ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ہر فیاٹ کاغذی کرنسی (Fiat Paper Currency)، جس میں روپیہ اور ڈالر دونوں شامل ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ اپنی قدر میں کمی کا شکار ہونے کے لیے مجبور ہے۔ ہر فیاٹ کرنسی کی قدر بنیادی طور پر عوام کے اس اعتماد سے وابستہ ہوتی ہے جو وہ اس ریاست پر رکھتے ہیں جو یہ کرنسی جاری کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ حکومتیں سودی قرضوں کی ادائیگی کے لیے زیادہ سے زیادہ نوٹ چھاپ کر زرِمبادلہ کی مقدار میں اضافہ کرتی رہتی ہیں۔ چنانچہ کرنسی کی رسد میں تیزی سے اضافے کے باعث ہر کرنسی یونٹ کی قوتِ خرید کم ہوتی جاتی ہے۔ یہ مالیاتی افراطِ زر (Monetary Inflation) اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں اضافے یعنی قیمتوں کے افراطِ زر (Price Inflation) کا سبب بنتا ہے، کیونکہ اشیاء اور خدمات دونوں کی خریداری کے لیے یہی کرنسی استعمال ہوتی ہے۔
اسلام میں کرنسی کی بنیاد سونے اور چاندی پر ہے۔ یہ ایسی حقیقی اور ذاتی قدر (Intrinsic Value) رکھنے والی اشیاء پر مبنی ہوتی ہے، نہ کہ ریاست پر عوام کے اعتماد پر۔
جہاں تک نئی کرنسی کے وجود میں آنے کا تعلق ہے، تو یہ محض پرنٹنگ پریس کا سوئچ دبانے یا کی بورڈ پر ایک بٹن پریس کرنے سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے کان کنی (Mining)، معدنیات کے حصول (Extraction)، تصفیہ و تطہیر (Refining) اور سکّے ڈھالنے (Minting) جیسے محنت طلب مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ سونے اور چاندی پر مبنی کرنسی کی یہی نوعیت حکومتی اخراجات اور محصولات کی وصولی، دونوں میں نظم و ضبط پیدا کرتی ہے۔ یہ حکومتوں کو اس بات سے روکتی ہے کہ وہ سودی قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید کرنسی جاری کرتی رہیں۔ اس کے علاوہ، اسلام سود (Riba/Interest) کو حرام قرار دیتا ہے، جو مسلسل بڑھتے ہوئے قرضوں کی بنیادی وجہ ہے۔ صدیوں تک خلافت نے اپنی حدود میں بے قابو مہنگائی کو روک کر رکھا۔ دنیا کے عوام کو اس شدید مہنگائی سے نجات دلانے کا واحد راستہ اسلام فراہم کرتا ہے، جو آج لوگوں کو کچل رہی ہے اور ان کی صنعت اور زراعت کو تباہ کر رہی ہے۔
ایران اور یمن کے لیے امریکی منصوے کو فوراً ناکام ہو جانا چاہیے، جیسے عراق کے لیے امریکی منصوبہ 2003 میں ناکام ہوا تھا
10 ستمبر 2026 کو بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا، "پاکستان نے جمعرات کے روز کہا کہ مکہ معاہدے کے تحت اسلام آباد کی جانب سے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے جواب میں فوجی ردعمل کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم اس نے مزید کہا کہ پاکستان ’وقت آنے پر‘ عمل کرے گا۔"
تبصرہ:
پاکستان کی ڈیپ اسٹیٹ امریکی منصوبے کے بارے میں اندرونی ماحول کو آزما رہی ہے۔ وہ منصوبہ جس میں پاکستان آرمی کو ایران اور یمن کو زیر کرنے کے لیے استعمال کرنا شامل ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے مسلمانوں سے لڑنے اور انہیں قتل کرنے کے کبیرہ گناہ کی سنگینی کے شایان شان احتجاج کے لیے اپنی آوازیں بلند کریں۔ بے شک، ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ پاکستان کے مسلمانوں نے 2003 میں عراق کو زیر کرنے کے لیے پاکستان آرمی کے استعمال کے امریکی منصوبے کو روک دیا تھا۔
جون 2003 میں جنرل مشرف نے عراق میں پاکستان آرمی بھیجنے کے اپنے عزم کا اعلان کیا۔ 24 جون 2003 کو اے بی سی نیوز کے ایک انٹرویو میں مشرف نے اعلان کیا، “"انہوں (کیمپ ڈیوڈ میں صدر بش) نے عراق کے تنازعے کا ذکر کیا، اور ہم نے پاکستانی فوجیوں کے بارے میں بات کی۔ اصولی طور پر، ہم اتفاق کریں گے … پاکستان ہاں، تقریباً 8 سے 10 ہزار تک، ممکنہ طور پر تقریباً ایک ڈویژن کی طاقت فراہم کر سکتا ہے۔" تاہم، مسلمانوں نے امریکی منصوبے کے خلاف جرات مندانہ سیاسی سرگرمیاں کیں۔ چنانچہ 24 ستمبر 2003 کو مشرف یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ، "پاکستان عراق میں فوج بھیج سکتا ہے لیکن ہمیں اندرونی ماحول بدلنا ہوگا۔"
اے پاکستان کے مسلمانو! بزدل کبھی تبدیلی کی قیادت نہیں کر سکتے۔ وہ لوگ جو ظالموں کے سامنے بہادری سے کھڑے ہوتے ہیں وہ لاپرواہی نہیں ر رہے ہوتے کہ بے سبب اپنے اوپر نقصان کو دعوت دیں بلکہ وہ انبیاء (علیہم السلام) اور انبیاء (علیہم السلام) کے سردار، محمد المصطفیٰ ﷺ، اور صحابہ (رضی اللہ عنہم) کے راستے پر چلنے والے ہوتے ہیں، ۔ وہ حق کی بات بلند کرنے کی ذمہ داری پوری کرتے ہیں، ہر آزمائش کو صبر سے برداشت کرتے ہیں، اور خوشی سے قربانیاں دیتے ہیں۔ پس، اللہ ﷻ کے سوا کسی سے نہ ڈرو، اپنی آوازیں بلند کرو اور اللہ ﷻ کے اذن سے امریکی منصوبے کو ناکام بناؤ۔ حزب التحریر نے 2003 میں تمہاری قیادت کی، اور اب تمہارے درمیان اور تم میں سے موجود ہے، تاکہ اب بھی تمہاری قیادت کرے۔
امریکہ کو یمن کے لیے اپنے ناپاک منصوبے کو پورا کرنے کے لیے مسلمانوں کی افواج کی ضرورت ہے
9 ستمبر کو ریپبلکن کانگریس مین، جو ولسن نے بیان دیا، "مکہ ڈیفنس الائنس کہتا ہے کہ کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا — اب وقت آ گیا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب حوثیوں کو تباہ کر دیں۔ یمن کو آزاد کروائیں۔"
https://x.com/RepJoeWilson/status/2097734641352364337
تبصرہ:
سابق فوجی افسر، جو ولسن، امریکی مسلح افواج کی ان حدود اور کمزوریوں سے اچھی طرح واقف ہیں جو بزدلی کی وجہ سے مفلوج ہیں، اور امریکہ میں موجود اپنے اڈوں سے رابطے کے طویل راستوں (LOCs) کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس لیے، جو ولسن امریکی مقاصد کے حصول کے لیے مسلمانوں کی افواج کے لیے امریکہ کی شدید ضرورت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
امریکہ یمن میں ایران کے کٹھ پتلیوں (پراکسیز) کو تباہ کرنا چاہتا ہے تاکہ ایران کو کمزور کیا جا سکے، تاکہ ایران کے حکمران امریکہ کے فرماں بردارہو جائیں اور واشنگٹن کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں، قطع نظر اس کے کہ مسلمانوں کو کتنے ہی نقصانات اور بوجھ کا سامنا کرنا پڑے، بالکل اسی طرح جیسے پاکستان کے حکمران ہیں۔ اس کے علاوہ، امریکہ یمن میں نایاب زمینی عناصر (Rare Earth Elements) پر بھی مکمل کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے، تاکہ اپنے حریف چین کے لیے راستے بند کر سکے، جس کی کمپنیاں پہلے ہی یمن میں تلاش و تحقیق کا کام کر رہی ہیں۔
چنانچہ، امریکہ کے ایجنٹ، یعنی مسلمانوں کے حکمران، مسلمانوں کے وسائل اور زمینوں پر امریکی تسلط کو مظبوط بنانے کے لیے مسلم افواج کو استعمال کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں!
اے مسلمانو! اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾
"اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو،" [سورہ المائدہ: 2]۔
مسلمانوں کا مسلمانوں سے لڑنا اور مسلمانوں کا خون بہانا گناہ اور زیادتی ہے۔ مسلمانوں کا مسلمانوں کے خلاف جنگوں میں کفار کے ساتھ اتحاد کرنا گناہ اور زیادتی ہے۔
مسلمانوں کے لیے نیکی اور تقویٰ یہ ہے کہ وہ ایک ریاست کے طور پر متحد ہوں اور حملہ آور کفار کا مقابلہ کریں اور انہیں مسلمانوں کی سرزمینوں سے نکال باہر کریں۔ پس، مسلمانوں کو خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے جو مسلمانوں کو متحد کرے گی اور ہمارے گھروں میں موجود سانپ، یعنی امریکی فوجی اڈوں بشمول اس کے فرنٹ بیس، یہودی وجود ("اسرائیل") کا خاتمہ کرے گی۔
کیا امت کے میزائل، ڈرونز اور جنگی طیارے صرف مسلمانوں کو قتل کرنے کے لیے ہیں؟
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ یمن کی مسلح افواج نے 8 ستمبر 2026ء کو اعلان کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کی آرامکو تنصیبات اور جنوبی سعودی عرب میں واقع خمیس مشیط ایئر بیس کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون آپریشن کیا ہے۔ یہ کارروائی گزشتہ تین دنوں کے دوران یمن پر سعودی قیادت میں کیے جانے والے فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
https://www.tasnimnews.ir/en/news/2026/09/08/3691955/yemen-s-armed-forces-target-aramco-facilities-khamis-mushait-air-base-in-saudi-arabia
تبصرہ:
مسلمان ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، خواہ یہ موجودہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری تنازعات ہوں، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ہو، یا ماضی کے تنازعات، جیسے 1980ء سے 1988ء تک ایران اور عراق کے درمیان جنگ۔
مسلمان قوم پرستی کی لعنت کے باعث ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔ اگر یہ کافی نہیں تھا تو اب ذیلی قوم پرستی (Sub-nationalism) بھی ابھر رہی ہے، جس کے تحت ایک ہی ریاست کے اندر رہنے والے مسلمان ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں، جیسا کہ سوڈان اور پاکستان کے علاقے بلوچستان میں دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی فوجی انٹیلی جنس چاہتی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان مزید لڑائیاں ہوں۔ وہ یہ نہیں چاہتی کہ امت مسلمہ کے ہتھیار مسلم دنیا میں موجود امریکی فوجی اڈوں، بشمول اس کے اگلے مورچے یعنی یہودی وجود، پر برسیں۔ جون 2006ء کے شمارے میں شائع ہونے والے امریکی جریدے "آرمڈ فورسز جرنل (Armed Forces Journal)" میں ریٹائرڈ امریکی فوجی انٹیلی جنس افسر، آرمی لیفٹیننٹ کرنل (ر) رالف پیٹرز نے "بلڈ بارڈرز (Blood Borders)" کے عنوان سے ایک مضمون لکھا، جس میں اس نے مسلم دنیا کو مزید تقسیم کرنے کی حمایت کی۔
تقسیم کا شرعی حل یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کو ایک امام کی قیادت میں متحد کیا جائے، جو اللہ ﷻ کی نازل کردہ تمام احکامات کے مطابق حکمرانی کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ» "جو شخص کسی جاہلیت کے جھنڈے تلے مارا جائے، جو عصبیت کی دعوت دیتا ہو یا عصبیت کی حمایت کرتا ہو، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے"[مسلم]۔ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے امام نوویؒ نے لکھا: «وَإِنَّمَا يَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ لَا لِنُصْرَةِ الدِّينِ، وَالْعَصَبِيَّةُ إِعَانَةُ قَوْمِهِ عَلَى الظُّلْمِ» "وہ دین کی نصرت کے لیے نہیں بلکہ عصبیت کی خاطر غضب ناک ہوتا ہے، اور عصبیت یہ ہے کہ آدمی ظلم کے معاملے میں اپنی قوم کی مدد کرے"۔
لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ خلافتِ راشدہ (ہدایت یافتہ خلافت) کے دوبارہ قیام کے لیے جدوجہد کریں، جو تمام مسلم ریاستوں کو ایک واحد اسلامی ریاست میں متحد کرے گی۔
اورنگزیب نے مسلم بحری افواج کے لیے راہ ہموار کی
اسلام آباد، 7 ستمبر (اے پی پی): صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ بحریہ کے موقع پر پاک بحریہ کے افسران، سیلرز اور سول اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاک بحریہ کی عزم، شجاعت اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)
تبصرہ:
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور ترکیہ سمیت مسلمانوں کی بحری افواج میں جذبۂ مزاحمت و مقابلہ اور جنگی صلاحیت موجود ہے۔ تاہم، موجودہ کرپٹ قیادتوں کے زیرِ انتظام ہماری بحری طاقت کو امریکی فوجی استعماریت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی بحری افواج کے حوالے سے امریکی حکمتِ عملی یہ ہے کہ مسلم دنیا کی آبناؤں اور سمندروں پر اپنا کنٹرول قائم کیا جائے۔ اسی مقصد کے لیے امریکہ کے ایجنٹ محمد بن سلمان نے ایک کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد قائم کیا ہے، جس میں پاکستان، بنگلہ دیش اور ترکیہ کی بحری افواج بھی شامل ہیں۔ فی الوقت اس اتحاد کو ایرانی مسلمانوں کو یمن کے مسلمانوں کی جانب سے بیرونی حمایت سے محروم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
بحری افواج کو اورنگزیب جیسی قیادت کی ضرورت ہے، جنہوں نے دین کی بالادستی قائم کی، اگرچہ کفار کو یہ ناگوار گزرتا ہے۔ اپنی پانچ سو سالہ ظالمانہ حکمرانی کے عروج پر بدھ مت کی راکھائن سلطنت نے چٹاگانگ پر قبضہ کر لیا تھا۔ چنانچہ 1664ء میں اورنگزیب نے شائستہ خان کو چٹاگانگ کی آزادی کا حکم دیا۔ دسمبر 1665ء کے اختتام تک شائستہ خان نے اپنے بیٹے بزرگ اُمید خان کو 288 جنگی جہازوں پر مشتمل بحری بیڑے کے ساتھ روانہ کیا۔ ایک اہم اور تزویراتی جزیرے سندیپ کو آزاد کرانے کے بعد، مسلمانوں نے فتح یا شہادت کے عزم کے ساتھ خشکی اور سمندر، دونوں جانب سے ایک دلیرانہ مشترکہ حملہ کیا۔ مشرکین کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے ملاح اپنے جہاز چھوڑ کر بھاگ گئے یا ہتھیار ڈال دیے، جبکہ متعدد بحری جہاز غرق یا قبضے میں لے لیے گئے۔ 25 جنوری کو مسلمانوں کے جنگی جہازوں نے چٹاگانگ کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ اپنی بحری قوت کھونے کے بعد بے بس ہو جانے والے کفار نے ایک دن تک مزاحمت کی، لیکن بالآخر 26 جنوری کو ابن حسین کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اورنگزیب نے آزاد کرائے گئے شہر کا نام تبدیل کرکے اسلام آباد رکھا، یعنی اسلام کا مسکن۔ چٹاگانگ کی آزادی نے پوری راکھائن سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا اور بالآخر اس کے زوال کا سبب بنی، حالانکہ یہ سلطنت اپنی پانچ صدیوں پر محیط ظالمانہ حکمرانی کے عروج پر تھی۔
پس مسلمانوں کی بحری افواج کو دوسری خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے!
ہندوستان کے مظلوم مسلمان، مسلمانوں کی افواج میں سے کسی محمد بن قاسم کے منتظر ہیں
اسلام آباد، 6 ستمبر (اے پی پی): پاکستان نے اتوار کے روز بھارت کے شہر سہارنپور میں ہفتے کے روز ایک صدی قدیم مسجد کے انہدام کی شدید مذمت کی۔
6 ستمبر 2026ء
https://www.app.com.pk/national/pakistan-strongly-condemns-demolition-of-mosque-in-india/
تبصرہ:
ہندو حکمران اشرافیہ اسلام اور اس کی علامات، یعنی مساجد، اللہ ﷻ کے مقدس اور ناقابلِ حرمت گھروں (بیوت) کے خلاف جنگ برپا کیے ہوئے ہے۔ ہندو انتہا پسند حکمران جماعت اقتدار میں برقرار رہنے کے لیے مسلسل فرقہ وارانہ کشمکش کو ہوا دیتی ہے۔ اسے ایسا کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ ہندوستان کے عوام کی کمر توڑ دینے والی غربت کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ اس سے قبل وہ صدیوں تک اسلامی نظامِ حکمرانی کے تحت خوشحالی سے لطف اندوز ہوتے رہے تھے۔ اس کا 2004ء کا انتخابی نعرہ ”انڈیا شائننگ، انڈیا رائزنگ“ اب زنگ آلود ہو کر بکھرتا جا رہا ہے۔
ہندو اشرافیہ کی ناکامی کی بنیادی وجہ مغربی تہذیب کو اندھی تقلید میں اختیار کرنا ہے۔ ہندو اشرافیہ سرمایہ داریت نافذ کر رہی ہے، جس نے ہندوستان کی دولت کو چند مخصوص خاندانوں کے ہاتھوں میں مرتکز کر دیا ہے، جبکہ بیشتر عوام کو شدید معاشی مشکلات اور غربت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہندو حکمران اشرافیہ امریکی استعماریت کا ایک آلہ بن چکی ہے، جو ہندوستان کو چین کے ساتھ عسکری رسہ کشی میں دھکیل رہی ہے۔ یہ سب کچھ امریکی خارجہ پالیسی کے مقاصد کی خاطر کیا جا رہا ہے، جس کا بوجھ ہندوستان کے عوام پر اس حد تک ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اسے برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
مسلمانوں کے سیکولر حکمران اس طرح کبھی بھی ظالم ہندو حکمرانوں کا ہاتھ نہیں روکیں گے، جس طرح محمد بن قاسم نے راجہ داہر کا ہاتھ روکا تھا، جو نریندر مودی کا جدِّ امجد اور اس کے لیے نمونۂ کردار ہے۔ یہ حکمران اسلام کو محض انفرادی عبادات، اجلاسوں کے دوران تلاوتِ قرآن اور کعبۂ معظمہ کے بڑے پیمانے پر تشہیر کیے جانے والے دوروں تک محدود رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمان ایسے محمد بن قاسم کے منتظر ہیں جس کا وژن پورے برصغیر میں اسلام کی رحمت کی بالادستی قائم کرنا ہو، خواہ حکمران اشرافیہ میں موجود ہندو مشرکین اسے ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔
اللہ ﷻ نے فرمایا:
﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾
”وہی ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار گزرے“[سورۃ التوبہ: 33]۔
مسلمانوں کی افواج ظالموں کے خاتمے کے لیے ہیں، کسی کے نا جائز و ظالمانہ اقتدار کے تحفظ کے لیے نہیں
اسلام آباد، 05 ستمبر (اے پی پی): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے یومِ دفاع کے موقع پر پوری قوم کی طرف سے مسلح افواج کے شہداء، غازیوں اور ان کے اہل خانہ کو دلی خراجِ تحسین پیش کیا۔
https://www.app.com.pk/national/pm-pays-tribute-to-martyrs-on-defence-day/
تبصرہ:
اللہ عزوجل کے حضور عاجزانہ شکر گزاری کے ساتھ، پاکستان کے مسلمان 6 ستمبر 1965 کو ہندو ریاست کے زمینی حملے کو ناکام بنانے میں اپنی مسلح افواج کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں۔ کم تعداد اور کمزور ہتھیاروں کے باوجود، مسلمانوں نے فتح یا شہادت کی آرزو کے ساتھ بہادری سے جنگ لڑی، جس نے انہیں میدانِ جنگ میں ایک ایسی قوت عطا کی جسے کفار مغلوب نہ کر سکے۔
جہاد امتِ مسلمہ کا ایک بنیادی ستون ہے۔ صدیوں تک مسلمانوں کے لشکروں نے اللہ کے کلمے کو بلند تر رکھا، اور راجہ داہر جیسے مشرقی اور رینالڈ آف چیٹیلون (Raynald of Châtillon) جیسے مغربی ظالموں کا قلع قمع کیا۔ بے شک، فتح اور شہادت کی تڑپ آج بھی محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی کے فرزندوں کے دلوں میں راسخ ہے۔
چنانچہ یہ بات انتہائی دردناک ہے کہ آج مسلمانوں کے لشکر مغربی استعمار کے ایجنٹ، موجودہ مسلم حکمرانوں کے نا جائز اقتدار کو سہارا دے رہے ہیں۔ یہ افواج ان تمام آوازوں کو دباتی ہیں جو ان جابر حکمرانوں کے خلاف اٹھتی ہیں، جن میں پاکستان کا عاصم منیر، مصر کا السیسی اور سعودی عرب کا محمد بن سلمان (MBS) شامل ہیں۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی افواج میں موجود اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو ظلم کے خاتمے پر ملنے والے عظیم اجر کی یاد دہانی کرائیں۔ وہ انہیں انصار (رضی اللہ عنہم) کے اس بلند مقام کی یاد دلائیں جنہوں نے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کر کے مدینہ سے ظلم کا خاتمہ کیا تھا۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ملٹری افسران سے اس بات کا مطالبہ کرے کہ وہ ایک خلیفہ راشد کے ہاتھ پر بیعت کر کے دنیاۓ اسلام سے اس جابرانہ نظام کا خاتمہ کریں، جو اللہ کی راہ میں جہاد کے ذریعے مودی جیسے مشرقی اور نیتن یاہو جیسے مغربی ظالموں کے خاتمے کے لیے ان کی قیادت کرے گا۔
پس، افواج سے حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کرنے کا مطالبہ عالمِ اسلام کی عوامی رائے کا ایک نمایاں عنصر بن جانا چاہیے۔