بسم الله الرحمن الرحيم
اردن-فرانس دفاعی تعاون کا معاہدہ: اردنی افواج کو استعماری تنازعے میں جھونکنے کی کوشش
تحریر: ڈاکٹر خالد الحکیم
(ترجمہ)
جمعرات، 17 ستمبر 2026 کو پیرس کے تاریخی مقام 'لیس انویلیڈز' (Les Invalides) میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ مذاکرات کے بعد، شاہ عبداللہ دوم نے اردن اور فرانس کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کا اعلان کیا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے مابین دفاعی شراکت داری کو مزید گہرا اور مستحکم بنانا ہے۔ تاہم، سماجی رابطے کے پلیٹ فارم 'ایکس' (سابقہ ٹوئٹر) پر شاہ عبداللہ کے جاری کردہ بیان میں اس معاہدے کی مخصوص شرائط یا اس کے حقیقی دائرہ کار کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ اس قسم کی پردہ پوشی عموماً اس وقت کی جاتی ہے جب عسکری معاہدات میں ایسی حساس شقیں شامل ہوں جن سے اندرونِ ملک شدید عوامی ردعمل پیدا ہونے یا خطے میں اثر و رسوخ اور بالادستی کے لیے برسرِ پیکار بین الاقوامی حریفوں کے چوکنا ہونے کا خدشہ ہو، بالخصوص جب خطے میں اس نوعیت کے دفاعی معاہدوں کی مسلسل بھرمار ہو رہی ہو۔
اس معاہدے پر دستخط کے علاوہ، اردن کے شاہ اور فرانسیسی صدر نے لبنانی فوج کے کمانڈر جنرل جوزف عون سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران، انہوں نے لبنانی فوج کی اعانت کے راستے تلاش کرنے کے لیے "عقبہ پروسیس" (Aqaba Process) کے تحت ایک نئے مشاورتی دور کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیا۔ اس بات چیت میں فرانس کی پشت پناہی کے ساتھ اردن کے اس ممکنہ کردار کا بھی باضابطہ اعتراف کیا گیا کہ اگر اقوامِ متحدہ کی امن فوج 'یونیفیل' (UNIFIL) کے مینڈیٹ میں توسیع نہ کی گئی تو اردن اس کے متبادل کے طور پر فرائض انجام دے سکتا ہے۔
بہرحال، شاہ اردن کے دورے کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ سرکاری اعلامیے میں ان باضابطہ موقفوں اور عمومی خدوخال کی نشاندہی کی گئی جو اس معاہدے کی بنیاد بنے ہیں، اور یہ معاہدہ دفاع، سلامتی اور علاقائی امور کے شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔ اعلامیے کے نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
· فرانس اور اردن کے درمیان دفاعی و سلامتی کی شراکت داری کی اہمیت، اور اردن کے امن و استحکام کی حمایت کے لیے فرانس کے عزم کا اعادہ۔
· باضابطہ دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط، جو اپنی دفاعی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے دونوں ریاستوں کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
· دو ریاستی حل کی بنیاد پر مشرقی یروشلم (القدس) کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عملی اقدامات اٹھانا؛ مغربی کنارے کے الحاق کی کسی بھی کوشش یا فلسطینی عوام کو بے دخل کرنے کی کسی بھی (اسرائیلی) کوشش کو دوٹوک مسترد کرنا؛ اور غیر قانونی E1 بستیوں کے توسیعی منصوبے کی مذمت کا اعادہ۔
· شام کے اتحاد، سلامتی، استحکام اور خودمختاری کی غیر مشروط حمایت؛ شام پر جاری "اسرائیلی" حملوں کو فوری روکنے اور 1974 کے افواج کی علیحدگی کے معاہدے (Disengagement of Forces Agreement) کا مکمل احترام کرنے کی ضرورت پر زور۔
اردنی حکومت حالیہ عرصے میں شدید سیاسی مضمرات اور ان سنگین چیلنجوں کے گہرے خوف میں مبتلا ہے جنہوں نے اسے خطے میں جاری کشمکش کے عین دہانے پر لا کھڑا کیا ہے،ایسی کشمکش جو علاقائی سمجھوتوں اور معرکہ آرائیوں کے دوران خود اس کی بقا کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ حکومت ایران، امریکہ اور یہودی وجود کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی میں فریق بننے اور امریکہ اور اردن کے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے کے سبب ان پیچیدہ حالات کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ تاریخی تعلقات اور مسلسل باہمی عسکری و سلامتی کے تحفظ کے باوجود، اردنی حکومت خود کو یہودی وجود کی جانب سے شدید غیر محفوظ محسوس کرتی ہے اور اس کے عزائم سے خائف ہے۔ شاہ عبداللہ نے صدر میکرون کے ہمراہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں دو ریاستی حل کے مدہم پڑتے امکانات، مغربی کنارے کے الحاق اور یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع کے حوالے سے گہری تشویش ظاہر کی تھی؛ کیونکہ یہ اقدامات فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اردن کو "متبادل وطن" بنانے کے خدشات کو براہِ راست تقویت دیتے ہیں۔
ان گہرے فوجی، سلامتی اور سیاسی خطرات کے پیشِ نظر، اردنی حکومت اپنی دفاعی صلاحیتوں کو وسعت دینے کی ناگزیر ضرورت محسوس کرتی ہے،خاص طور پر فضائی دفاع، انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ذریعے،اور غیر روایتی جنگی ٹیکنالوجی، جیسے کہ ڈرونز اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں جدید آلات کے ذرائع کو متنوع بنانا چاہتی ہے۔ حکومت نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ اپنی بقا اور سیاسی استحکام کی ضمانتوں کے عوض بعض یورپی ممالک، علاقائی طاقتوں اور چین کے عزائم و مفادات کی تکمیل کے لیے اپنے جغرافیائی سیاسی (جیو پولیٹیکل) مقام کو بطورِ ہتھیار استعمال کر کے اپنے دفاع کو مضبوط کر سکتی ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے حکومت نے جدید جنگی طریقوں کا ساتھ دینے کی خاطر اپنی فوج کی ازسرِ نو ساخت گری کی کوشش کی تاکہ فوج کو ان غیر ملکی قوتوں کے مفادات کی پاسداری کا ذریعہ بنایا جا سکے؛ اور فرانس، جس نے ایک دہائی سے اردن میں اپنے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں، ایسا ہی ایک بڑا شراکت دار ہے۔
اس معاہدے کے پیچھے فرانس کا یہ قدم دراصل یورپ کی اس دلی خواہش کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ خطے کے تنازعات میں بعض فریقوں کے حق میں امریکہ کی کھلی اور اندھی جانبداری کے مقابلے میں خود کو عرب ممالک کے لیے ایک متبادل اور زیادہ متوازن شراکت دار بنا کر پیش کرے۔ سرزمینِ شام (بلادِ شام) میں پیرس اور لندن کے مابین مفادات کی دیرینہ ہم آہنگی موجود ہے؛ اور اپنی جغرافیائی سیاسی بنیاد میں، اردن اور فرانس کا یہ معاہدہ ایک مسابقتی اور خود مختارانہ حیثیت کا حامل ہے جس کا ہدف اس تاریخی دائرہ اثر میں سے جو کچھ بھی بچایا جا سکتا ہے اسے بچانا ہے۔ یہ حکمتِ عملی امریکی خارجہ پالیسی کے غیر متوازن اتار چڑھاؤ اور انتخابی معرکوں میں امریکی پالیسی سازوں کے الجھاؤ سے الگ ہو کر اپنے اہم ترین مفادات کے تحفظ کی فرانسیسی اور برطانوی خواہش کے زیرِ اثر تشکیل پائی ہے۔ حالیہ دنوں میں اردن نے متعدد مشترکہ دفاعی معاہدوں کا جال بچھایا ہے: اس نے 2021 میں امریکہ کے ساتھ معاہدہ کیا، اور پیرس کے ساتھ طے پانے والے اس تازہ ترین اور چوتھے معاہدے سے قبل، وہ آسٹریا اور نیدرلینڈز کے ساتھ بھی ایسے ہی معاہدات کر چکا ہے۔ یہ تمام پیش رفت گزشتہ برس برسلز میں عمان کے اندر نیٹو کے سفارتی رابطہ دفتر کے قیام کے معاہدے اور اردن و برطانیہ کے مابین عسکری تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے پر ہونے والی حالیہ بات چیت کا تسلسل ہیں۔
اب اردنی عوام میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ یہ تمام معاہدات اردن اور اس کے باسیوں کے حقیقی مفادات کا کس طرح تحفظ کر سکتے ہیں، یا اس کی سلامتی، بے دردی سے لوٹے جانے والے وسائل، برباد ہوتی معیشت اور فلک بوس قرضوں کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں؟ عوام یہ نکتہ بھی اٹھا رہے ہیں کہ یہ سودے بازی یہودی وجود کی جانب سے درپیش خطرات،خصوصاً جبری بے دخلی،اور دو ریاستی حل کی ناکام سفارت کاری کا کیا سدِباب کر سکتی ہے؟ یہاں نام نہاد جمہوری سرمایہ دارانہ ریاستوں کی کھلی منافقت بے نقاب ہو جاتی ہے؛ وہ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اس حکومت کے ساتھ ہم آہنگی اور گٹھ جوڑ برقرار رکھے ہوئے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جو آمریت، وحشیانہ جبر، آوازوں کو کچلنے اور اقربا پروری کی علامت ہے،اور یہ سب کچھ خود اس کے اپنے ہی عوام کی بربادی کی قیمت پر ہو رہا ہے۔
اردن کا "کافر، استعماری مغرب" کی بیساکھیوں پر بھروسا کرنا سرمایہ دارانہ سیاست کے اپنے پیمانوں پر بھی ایک ہارا ہوا جوا ہے،ایک ایسی سیاست جو خالصتاً مفادات، نفع خوری اور بحرانوں کے عارضی بندوبست پر کھڑی ہے اور جو اپنے مفادات اور بالادستی کی ضرورت کے مطابق لمحہ بہ لمحہ پینترا بدلتی ہے۔ اس نظام میں نہ کوئی مخلص دوست ہوتے ہیں، نہ مستقل اتحاد اور نہ ہی دائمی آلہ کار؛ جونہی کوئی حکمران یا دست نگر حکومت ان کے مفادات کی تکمیل کے قابل نہیں رہتی،یا ان کی راہ کا پتھر بنتی ہے،تو وہ بلا تاخیر اسے اور اس کے پورے سیاسی ڈھانچے کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں۔ اگر کوئی حکومت اپنی بقا اور تحفظ کی بنیاد اپنے ہی عوام کے خلوص پر نہ رکھے تو وہ اپنے حریص دشمنوں کے مقابلے میں کہیں سے کوئی پناہ یا مدد نہیں پا سکتی۔
یہاں یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ فرانس ہرگز کوئی "دوست" نہیں ہے جیسا کہ مقامی سرکاری ذرائع ابلاغ اسے پیش کر کے مسلمانوں کو فریب دینے اور ان معاہدوں کا جواز گھڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صلیبی جنگوں کے دور سے ہی فرانس نے اسلام اور مسلمانوں پر عسکری اور فکری یلغار میں ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ اس تاریخی بغض کو سمجھنے کے لیے 1917 میں بلادِ شام پر فرانسیسی قبضے کے دوران دمشق میں فاتحِ بیت المقدس صلاح الدین ایوبی کے مزار پر کھڑے ہو کر فرانسیسی جنرل ہنری گورو کے تکبر بھرے الفاظ یاد کر لینا ہی کافی ہے کہ: "ہم لوٹ آئے ہیں، اے صلاح الدین! اب اٹھو"۔ تیونس اور الجزائر پر فرانس کا استعماری قبضہ،جس کے دوران مسلمانوں کا بہیمانہ قتلِ عام کیا گیا، لاکھوں الجزائریوں کا خون بہایا گیا، اور ہزاروں شہداء کے سر قلم کر کے انہیں پیرس کے 'میوزیم آف مین' (Museum of Man) میں نوادرات کے طور پر سجایا گیا،اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس کی صلیبی عداوت کا کھلا ثبوت ہے۔ مزید برآں، خود صدر میکرون ماضی قریب میں اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ اسلام "پوری دنیا میں بحران کا شکار ہے"۔ اس تمام تر دشمنی کا واحد پلید مقصد یہ ہے کہ: خلافت کے دوبارہ قیام کا راستہ روکا جائے،ایک ایسی ریاست جس کے ظہور کا وقت اب آن پہنچا ہے تاکہ وہ ان استعمار پسندوں کے عزائم اور منصوبوں کے پردے چاک کرے، اور روئے زمین پر وہ عدل اور رحمت نافذ کرے جس کی تلاش میں آج کی دنیا تڑپ رہی ہے۔