بسم الله الرحمن الرحيم
بحرانوں کی بھول بھلیوں میں تیونس: خرابی کہاں ہے؟
تحریر: استاد یاسین بن یحییٰ
(ترجمہ)
اب تیونس میں بات کسی ایک بحران کی نہیں رہی، بلکہ باہم جڑے ہوئے بحرانوں کے ایک ایسے لامتناہی سلسلے کی ہے جس سے پانی، بجلی، تیل، روٹی، چینی اور پیٹرول جیسے شعبے بھی محفوظ نہیں رہ سکے ہیں… کبھی نہ ختم ہونے والی قطاریں لگی ہیں، اور پبلک ٹرانسپورٹ کا تو حال ہی نہ پوچھیے، وہ بیان سے باہر ہے!۔ ابھی ایک بحران میں کچھ کمی آتی نہیں کہ فوراً دوسرا بحران سر اٹھا لیتا ہے، اور اس دوران تعلیمی سال کا آغاز، چھٹیاں اور گوشت کی قیمتیں جیسے مخصوص مواقع بھی آ دھمکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی ریاست ہے جو بحرانوں سے نمٹنے کے لیے کبھی ٹال مٹول سے کام لیتی ہے اور کبھی عوام کی توجہ بھٹکانے کا سہارا لیتی ہے؛ جہاں گرمیوں کا موسم میلوں، تہواروں اور فنکاروں کی نذر ہو جاتا ہے تو سردیاں کھیلوں کے مقابلوں کی نذر ہو جاتی ہیں۔
بحران بڑھتے چلے جا رہے ہیں، اور ان کے ساتھ ساتھ وجوہات کے تجزیے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صدر کی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں، جبکہ ایوانِ صدر کا مؤقف ہے کہ یہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ اور جب کشیدگی میں شدت آتی ہے اور عوام سڑکوں پر نکل آتے ہیں، تو صدر کسی مخصوص فریق کا نام لیے بغیر ”سازش“ اور ”عوام کو اذیت دینے“ کے بارے میں تقریر کر کے مداخلت کرتے ہیں، اگرچہ یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ان کا اشارہ اندرونی عناصر کی طرف ہے۔ اس کا نتیجہ مزید کشیدگی، حالات کی ابتری، اور اس سیاسی اشرافیہ پر سے مکمل اعتماد اٹھ جانے کی صورت میں نکلتا ہے جو وعدے تو کرتی ہے مگر نبھاتی نہیں، اور جو حالات پر قابو پانے یا عوام کو تسلی دینے میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے۔
ان کے پیچھے اصل اسباب اٹل قوانین (سُنَن) ہیں
ان بحرانوں کا اثر عوام کی اس بے دلی اور مایوسی کی صورت میں ظاہر ہوا کہ وہ ملک کے اندر مستقبل کی تعمیر کے بارے میں سوچنے سے بھی کترانے لگے ہیں۔ نہ کوئی نیا منصوبہ، نہ سرمایہ کاری، اور نہ ہی شادی بیاہ… ملک چھوڑ جانے کا جنون، یا یوں کہیے کہ مغربی ممالک کی نام نہاد ”موعودہ جنت“ کی طرف اجتماعی فرار کا رجحان غالب آ چکا ہے۔ اور اس حوالے سے اعداد و شمار نہ صرف تیونس بلکہ خطے کے تمام ممالک میں انتہائی ہولناک اور تباہ کن ہیں۔
سال 2025ء کی تیسری سہ ماہی میں 1,316 احتجاجی تحریکیں ریکارڈ کی گئیں۔ 93 فیصد تیونسیوں کا ماننا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ پر اعتماد کی شرح 4 فیصد اور سیاسی جماعتوں پر 3 فیصد سے زیادہ نہیں، جبکہ 89 فیصد لوگ عدالتی نظام پر قطعی اعتماد نہیں کرتے۔ انتخابات میں نوجوانوں کی شرکت کی شرح 6 فیصد سے آگے نہیں بڑھتی۔ اور 92 فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ اور میڈیا کے ذریعے انتخابی مہمات میں بیرونی مداخلت جمہوریت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے،جو دنیا بھر میں بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔
لیکن اصل وجوہات پے در پے آنے والے چہروں کی ناکامی، اختیار کردہ پالیسیوں کی ناکامی اور پورے نظام کی ناکامی سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کائنات، انسان اور زندگی کو پیدا فرمایا، اور اپنی مخلوق میں ایسے اٹل قوانین (سُنَن) رکھے ہیں جو نہ کبھی چوکتے ہیں اور نہ ہی بدلتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾
”خشکی اور تری میں لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب فساد برپا ہو گیا ہے، تاکہ وہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ (حق کی طرف) لوٹ آئیں“ [سورۃ الروم:آیت 41]۔
اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا﴾
”اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا، تو یقیناً اس کے لیے تنگ زندگی ہوگی“ [سورۃ طہ: 124]۔
اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:«يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ: خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِيْتُمْ بِهِنَّ، وَأَعُوذُ بِاللهِ أَنْ تُدْرِكُوهُنَّ...»”اے مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو جاؤ،اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم وہ زمانہ پاؤ...“۔
،یہ وہ حدیثِ مبارکہ ہے جس میں آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ بے حیائی کا عام ہونا، ناپ تول میں کمی، زکوٰۃ کی عدم ادائیگی، عہد شکنی، اور اللہ کی کتاب یعنی قرآنِ مجید کے مطابق فیصلے ترک کر دینا؛ یہ تمام چیزیں بدعنوانی، غربت، حکمرانوں کے ظلم و جبر اور دشمن کے مسلط ہو جانے کے راستے کھول دیتی ہیں۔
بورقیبہ سے بن علی تک… کوتاہیوں اور غفلتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ
ریاست پر عدم اعتماد سے متعلق ہماری یہ بات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہمیں تیونس میں فرانسیسی استعمار کے خلاف مزاحمت کے رہنما شیخ قائد علی بن خلیفہ النفاتی کا وہ تاریخی قول یاد آتا ہے جب محمد الصادق بے نے فرانسیسی سرپرستی (پروٹیکٹوریٹ) کی دستاویز پر دستخط کیے تھے کہ: (الآن صارت طاعة الباي كفر) ”اب بے کی اطاعت کفر بن چکی ہے“۔
بورقیبہ سے لے کر،جس نے اس نام نہاد ”جدید“ ریاست کی تعمیر میں استعمار کے ساتھ ہاتھ ملایا جس نے مذہب کو ریاست سے الگ کر دیا، اور قدرتی وسائل کو بغیر کسی حساب کتاب کے ”امانت“ کے نام پر اس کے حوالے کر دیا، نیز فرانسیسی ژاں دوپیا کا قائم کردہ وہ تعلیمی نظام رائج کیا جس کا مقصد فرانس کے لیے افرادی قوت تیار کرنا تھا۔ پھر بن علی اور اس کی دین داری کے سوتے خشک کرنے کی پالیسی تک، جس نے استعمار کو دندناتے پھرنے اور دولت لوٹنے کی کھلی چھوٹ دے دی۔ اس کی ایک واضح مثال مسکار گیس فیلڈ اور برٹش گیس کا معاملہ ہے؛ تیونس کا یہ سب سے بڑا گیس فیلڈ شیل (Shell) کمپنی نے 30 سال تک (1992ء سے 2022ء تک) نچوڑا، اور وہ تیونس کی بجلی اور گیس کی کمپنی (جو اب دیوالیہ ہو چکی ہے) کو عالمی منڈی کی قیمتوں پر گیس فروخت کرتی رہی!۔ پھر انقلاب کے بعد وہ 20 ارب ڈالر، اور اس سے پہلے 40 ارب ڈالر کی خطیر رقم لوٹ کر فرار ہو گیا۔
پھر 2011ء کا انقلاب آیا، اور فرانس کے شہر دوویل میں جی سیون (G7) کے اجلاس کے بعد یہ فیصلہ صادر ہوا کہ: موجودہ نظام جوں کا توں برقرار رہے گا، بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کی جائے گی اور قرضوں کی واپسی جاری رہے گی، جبکہ یورپ میں لوٹی گئی اور اسمگل شدہ رقوم کی واپسی کا کوئی ذکر تک نہیں کیا گیا۔ اور ضابطہ یہ کہتا ہے کہ: جو ریاست بدعنوانوں کا احتساب نہیں کرتی، تاریخ خود اس کا احتساب کرتی ہے اور وہ انجام کار منہدم ہو جاتی ہے۔
انقلاب کا خواب ایک کمزور سیاسی حقیقت اور اقتدار کی رسہ کشی کی نذر ہو کر چکنا چور ہو گیا۔ عوامی رائے کو متحرک اور منظم کرنے کے لیے کوئی بڑا نصب العین باقی نہیں رہا۔ اور جب اجتماعی مقصد ختم ہو جائے تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے اور ہر فرد صرف اپنی بقا کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ ہم قرضوں کی اس اندھی سرنگ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی مسلط کردہ پالیسیوں کے جال میں پھنس گئے جن میں سبسڈیز کا خاتمہ اور سرکاری شعبے میں بھرتیوں پر پابندی شامل ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوان یہ دیکھ رہے ہیں کہ ریاست انہیں نہ روزگار فراہم کرتی ہے اور نہ ہی کوئی محفوظ مستقبل۔ جب عوام یہ دیکھتے ہیں کہ اشرافیہ کے پاس کوئی حکمتِ عملی نہیں، وہ چند ٹکڑوں کی خاطر بیرونی طاقتوں کو خوش کرنے کے درپے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کی قربانی دینے کے لیے قطعاً تیار نہیں، تو پھر ہم عام لوگوں سے قربانی دینے کا تقاضا کیسے کر سکتے ہیں؟۔
درآمد شدہ آئیڈیالوجی سے مفلوج سیاسی ماحول میں بنیادی خرابی
موجودہ سیاسی فضا اور طبقے کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس کا بیشتر حصہ مغربی سیاسی فکر میں ڈوبا ہوا ہے، اور اس نے جمہوریت کو سیاسی عمل کا اصل محور بنا رکھا ہے، یہاں تک کہ زیادہ تر سیاسی جماعتیں بے رنگ، بے اثر اور کسی بھی حقیقی نصب العین سے محروم ہو چکی ہیں۔
اور آج اقتدار اور اپوزیشن کے مابین اس بات پر تنازعہ کہ حق اور مشروعیت کس کے پاس ہے،خواہ براہِ راست جمہوریت کے ذریعے ہو یا نمائندہ جمہوریت کے ذریعے،کوئی بھی فریق حل نہیں کر سکا ہے اور نہ ہی وہ کبھی حل کر پائیں گے؛ کیونکہ جمہوریت کے پاس حق و باطل اور درست و غلط کا کوئی واضح معیار ہی نہیں ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے:﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ﴾”اور جس بات میں بھی تمہارا اختلاف ہو، اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے“ [سورۃ الشوریٰ:آیت 10]۔
اور خلیفہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ ارشادِ گرامی ہے:(أطيعوني ما أطعت الله فيكم، فإن عصيته فلا طاعة لي عليكم)”تم اس وقت تک میری اطاعت کرو جب تک میں تمہارے معاملے میں اللہ کی اطاعت کروں، لیکن اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھ پر تمہاری کوئی اطاعت واجب نہیں“۔
ملک کو جمہوری بنانا دراصل اس مغربی منصوبے کا حصہ ہے جو استعمار کو ملکی منظرنامے اور قوانین میں سرایت کرنے اور ان پر تسلط جمانے کا موقع فراہم کرتا ہے، جس سے بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے ملک میں داخل ہونا، شراکت داریاں قائم کرنا اور ہر قسم کے وسائل کو نچوڑنا ممکن ہو جاتا ہے،خاص طور پر جب انہوں نے تنازعات کی صورت میں توانائی کے اہم شعبوں کی سرمایہ کاری کے ثالثی فیصلوں کو بین الاقوامی قوانین کے تابع کر دیا ہے۔
جمہوریت خود اپنے ہی ماننے والوں کے ہاں ایک داغدار اور بے وقعت جنس بن چکی ہے،خواہ ٹرمپ ہو یا یورپ (جہاں آج اٹلی، جرمنی اور فرانس میں دائیں بازو کے انتہا پسند غالب آ رہے ہیں)؛ ان کا سب سے بڑا خوف اور جنون اسلام اور تارکینِ وطن ہیں۔ اگر مغرب کو ہمارے وسائل سے محروم کر دیا جائے تو وہ آپس میں ہی ایک دوسرے کو نوچ کھائیں۔ اور اب ذرا دنیا کے بڑے ممالک کے قرضوں کا حجم دیکھیے… فلک بوس اور ہوش ربا اعداد و شمار ہیں۔
اگر نظام کے اندر سے نکلنے والے حل محض پیوند کاری اور دھوکہ ہیں، تو پھر متبادل کہاں ہے؟
نظاموں کی طاقت اور اہلیت کا اندازہ عام حالات میں نہیں بلکہ بحرانوں کے دوران ہوتا ہے، اور اس کا حل کسی ایسے نظام کی پیوند کاری میں نہیں ہے جس کی ناکامی پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہو، بلکہ اصل بنیاد کی طرف لوٹنے میں ہے: یعنی ایک ایسا عقیدہ جو حکمرانی کرے، شریعت کے احکام جن کا نفاذ ہو، عدل جو قائم کیا جائے، اور ایک متحد امت۔
جہاں تک مطلوبہ متبادل کا تعلق ہے، تو حزب التحریر نے اسے جامع اور تفصیلی انداز میں تیار کر رکھا ہے، اور اس کے ارکان شب و روز کوشاں ہیں، اور اپنی امت کے بیٹوں اور بیٹیوں، نیز اہلِ قوت و طاقت کو پکار رہے ہیں کہ وہ امت کے تہذیبی منصوبے، اسلامی طرزِ حیات کے از سر نو احیاء اور ریاستِ خلافت کے قیام کے روڈ میپ کے گرد جمع ہو جائیں۔ اس کے سایہ تلے، تیونس اور پوری امت ایک ایسی نئی صبح کا استقبال کرے گی جو قحط سالی اور زوال کے ان برسوں کے اوراق الٹ دے گی اور امت کو اس کی تاریخی قیادت دوبارہ لوٹائے گی،جب وہ اپنے رب سبحانہ و تعالیٰ پر اور پھر اپنے بیٹوں کے بازوؤں پر بھروسہ کرتی تھی، کافر استعمار کی مذاکراتی میزوں پر نہیں۔