الأربعاء، 22 رمضان 1447| 2026/03/11
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اداریہ

 

ٹرمپ اور غلبہ و بالادستی کی سیاست: نظریہ اور عمل کے درمیان

 

 

تحریر: انجینئر حسب اللہ النور – ولایہ سوڈان

 

(ترجمہ)

 

بین الاقوامی تعلقات میں "استحکامِ غلبہ" (Hegemonic Stability) کا نظریہ سیاسیات، معاشیات اور تاریخ کے میدانوں میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ یہ نظریہ یہ تصور پیش کرتا ہے کہ عالمی نظام اس وقت استحکام کی طرف مائل ہوتا ہے جب کوئی خاص ملک عالمی سطح پر غالب قوت بن کر ابھرے۔ چارلس پی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنی کتاب "The World in Depression" (1929-1939ء) میں یہ نظریہ پیش کیا تھا۔ 2004ء میں دو ممتاز ماہرینِ سیاسیات جیمز فیرون اور ڈیوڈ لیٹن نے لکھا: "ریاستہائے متحدہ اب عالمی حکمرانی کی ایک نئی شکل کی طرف بڑھ رہا ہے"، اور انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ نظر انداز کیے گئے متعلقہ معاہدوں کو دوبارہ فعال کیا جانا چاہیے تاکہ سرپرستی کی ایک نئی شکل اختیار کی جا سکے۔ اسٹیفن کرزنر نے لکھا: "اگر ہم بدترین حکومتوں والی ناکام ریاستوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں، تو وہ خود اپنی اصلاح نہیں کر سکیں گی کیونکہ ان کی انتظامی صلاحیتیں محدود ہیں"۔

 

سیاسی محاذ پر، عراق کے خلاف جنگ کے بعد، بش نے امریکہ کی برتری کو بھانپ لیا، چنانچہ اس نے کانگریس کے سامنے اپنے مشہور خطاب میں "نیا عالمی نظام" (New World Order) کا اعلان کیا، جس نے بین الاقوامی سطح پر امریکی تسلط کے خدوخال واضح کر دیے۔ بعض لوگ غلبہ و بالادستی کی اس سیاست کا آغاز صدر ریگن کے اسٹریٹجک ڈیفنس انیشی ایٹو (Strategic Defense Initiative) کے اعلان سے قرار دیتے ہیں، جسے "اسٹار وارز" (Star Wars) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

 

گزشتہ صدی کی نوے کی دہائی کے آخر میں "نئی امریکی صدی کا منصوبہ" (Project for the New American Century) کے نام سے ایک پروگرام سامنے آیا، جس میں یہ درج ہے کہ "اگر امریکی طاقت کا درست استعمال کیا جائے، تو یہ عالمی نظام کو جمہوریت کی طرز پر دوبارہ ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے"۔ بش جونیئر نے اپنی خارجہ پالیسی میں اسی منصوبے پر انحصار کیا، جس کے نتیجے میں 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد اس نے اپنا وہ مشہور جملہ کہا: "جو ہمارے ساتھ نہیں ہے، وہ ہمارے خلاف ہے"۔

 

ٹرمپ کے برسرِ اقتدار آتے ہی بالادستی کی اس سیاست کا مکمل وژن واضح ہو کر سامنے آ گیا۔ اس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے بیان میں پانامہ کینال اور گرین لینڈ کے جزیرے کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال، خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرنے، کینیڈا کے خلاف معاشی طاقت کے استعمال اور مشرقِ وسطیٰ کو جہنم بنا دینے کی دھمکی دی۔

 

مزید برآں، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سینیٹ میں اپنی تعیناتی کی توثیق کے دوران بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بیان کیا کہ ٹرمپ نے اپنے پیشروؤں کے بنائے ہوئے عالمی نظام سے کس طرح لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا: "جنگ کے بعد کا عالمی نظام نہ صرف پرانا ہو چکا ہے، بلکہ آج یہ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جسے ہمارے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ قواعد و ضوابط پر مبنی بین الاقوامی نظام ایک غلط مفروضے پر قائم کیا گیا تھا، لہٰذا اسے ترک کرنا ناگزیر تھا۔

 

اسی تناظر میں جرمنی کے صدر، فرانس کے وزیر اعظم اور کینیڈا کے وزیر اعظم نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ٹرمپ بین الاقوامی نظام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، بلکہ سیاست دان اور تجزیہ نگار اس بات پر تقریباً متفق نظر آتے ہیں کہ اب نیا بین الاقوامی نظام امریکہ کے مطلق غلبہ و بالادستی کی طرف مائل ہے۔

 

ٹرمپ نے غلبہ و بالادستی کی تمام صورتوں پر عمل درآمد شروع کرنے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کیا۔ اقتصادی محاذ پر اس نے خلیجی ممالک سے کھربوں ڈالر چھین لیے، اپنے حلیفوں سمیت سب پر کسٹم ڈیوٹی نافذ کر دی، اور یوکرین، تائیوان اور دیگر ممالک سے نایاب معدنیات حاصل کرنے کا مطالبہ کیا۔ جہاں تک سیاسی محاذ کا تعلق ہے، اس نے درجنوں بین الاقوامی تنظیموں سے علیحدگی اختیار کی، جن میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بھی شامل ہیں، اور اقوام متحدہ کو نظر انداز کرنے کی کوشش میں "مجلسِ امن" (پیس کونسل) کے قیام کا اعلان کیا۔ مزید برآں، کھلم کھلا مداخلت کرتے ہوئے اس نے عراق میں نوری المالکی کو وزیر اعظم نامزد کرنے پر اعتراض کیا اور صراحت کے ساتھ اعلان کیا کہ شام کے صدر احمد الشرع کا تقرر اس نے خود کیا ہے۔

 

عسکری میدان میں اس نے جہاد کے اس جذبے کو بجھانے کی کوشش میں غزہ کی پٹی کی تباہی میں حصہ لیا، جو 1948ء سے اب تک فروزاں ہے۔ ایک تاریخی واقعے میں اس نے وینزویلا کے صدر کو ان کے خوابگاہ سے اغوا کیا، اور اعلان کیا کہ وہ گرین لینڈ کو طاقت کے زور پر بھی حاصل کر لے گا، نیز کولمبیا اور میکسیکو پر حملے کی دھمکیاں دیں۔ پھر جلد ہی وہ مشرق وسطیٰ کی طرف لوٹا تاکہ ایران کو نشانہ بنا کر اس کی قوت کو محدود کر سکے۔ اگرچہ ایران پر حملہ اس کا فوری ہدف تھا، لیکن "نظریہ غلبہ" کے تقابلی جائزے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اصل نشانہ پورا مشرق وسطیٰ ہے۔ یہ برنارڈ لیوس کے اس قول پر مبنی ہے جو کہ "مشرق وسطیٰ کے ممالک کو دوبارہ تقسیم کرنے کے نظریے کا بانی (گاڈ فادر) ہے تاکہ ان پر قابو پانا آسان ہو"۔ اس کا کہنا تھا: "جو دنیا پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے، اسے مشرق وسطیٰ پر قابض ہونا ہوگا"۔

 

مشرق وسطیٰ جغرافیائی و سیاسی لحاظ سے دنیا کا مرکز ہے، اور عقیدے کے اعتبار سے امت مسلمہ کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسے راسخ عقیدے سے جڑا ہے جس کی جڑیں زمین میں اور شاخیں آسمان میں ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ خطہ مغربی سیاستدانوں کے لیے خوف اور بے چینی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس حوالے سے بے شمار تحقیقی مطالعے اور بیانات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر برطانوی تھنک ٹینک میں ایک کانفرنس کے دوران سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا تھا: "سیاسی اسلام، خواہ وہ عقیدے کی بنیاد پر ہو یا تشدد کی صورت میں، یہ پہلے درجے کا سیکورٹی خطرہ ہے۔ اور اگر اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ ہم تک پہنچ جائے گا"۔

 

اسی طرح امریکی تجزیہ نگار اسٹیفن کا کہنا ہے: "مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے حصول کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس خطے کو چھوٹی چھوٹی بکھری ہوئی ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے جن کے واشنگٹن کے ساتھ گہرے سیکورٹی تعلقات اور مفادات وابستہ ہوں"۔ سابق امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے کہا: "آج ہمیں جس سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہے وہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کو ضابطہ حیات اور زندگی گزارنے کے طریقے کے طور پر مانتے ہیں"۔ جارج بش جونیئر نے کہا: "مسلمانوں کا مقصد ایک ریاست قائم کرنا ہے، اور یہ ہجوم ان وسائل کو اپنی طرف کھینچے گا جو انہیں خطے کے تمام نظاموں کو اکھاڑ پھینکنے اور اسپین سے انڈونیشیا تک ایک بنیاد پرست اسلامی سلطنت قائم کرنے کے قابل بنا دیں گے"۔

 

اہلِ مغرب نے ماضی اور حال میں امت کی وحدت کے خطرے کو بھانپ لیا تھا، اس لیے انہوں نے اسے پارہ پارہ کرنے اور چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی، اور اب بھی ان کے درمیان فتنہ و فساد کے بیج بو رہے ہیں۔ حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں اتحاد کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا ہے:

 

﴿إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ

 

"بیشک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس میری ہی عبادت کرو" (سورۃ الانبیاء:آیت 92

 

اور ہمیں تفرقہ بازی اور انتشار سے منع کرتے ہوئے فرمایا:

 

﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

 

"اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو تفرقے میں پڑ گئے اور واضح نشانیاں آ جانے کے بعد بھی اختلاف کیا، اور ان لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے" (سورۃ آل عمران:آیت  105

 

سیاسی وحدت محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک فرض ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا جسے مسلم نے روایت کیا ہے:«إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الآخَرَ مِنْهُمَا» "جب دو خلیفوں کی بیعت کر لی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو"۔ تو کیا ہم ایک ایسے امام کی بیعت نہیں کریں گے جس کے ذریعے ہم اس امریکی تسلط کا مقابلہ کر سکیں؟ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ صحیح حدیث ہے:«إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ، يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» "امام (خلیفہ) ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے رہ کر لڑا جاتا ہے اور اس کے ذریعے (دشمن سے) بچا جاتا ہے"۔

Last modified onبدھ, 11 مارچ 2026 20:50

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک