الأربعاء، 03 جمادى الأولى 1448| 2026/10/14
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

کیا فوجی بغاوت اسلام میں حکومت حاصل کرنے کا ایک اسلوب ہے؟ (1)!

رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مکہ کے دور سے لے کر ان تمام مراحل تک جب تک کہ آپ ﷺ نے اپنی ایک ریاست قائم کر لی اور ہر مرحلے میں انجام دی جانے والی نمایاں سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد، حزب التحریر نے اپنے اس منہج کو اخذ کیا ہے جو ان مخصوص مراحل اور اعمال پر مشتمل ہے جو رسول اللہ ﷺ نے مکی دور میں انجام دئیے۔ حزب نےاس منہج کو سید المرسلین ﷺ کے عمل کی تقلید کرتے ہوئے اخذ کیا ہے، کیونکہ یہ شرعی احکام ہیں جن کی اتباع سنتِ مطہرہ سے ثابت دیگر تمام احکام کی طرح واجب ہے۔

 

Read more...

جوں جوں ”دردِ زہ“ شدت اختیار کر رہا ہے، دنیا کس نو مولود کی منتظر ہے؟

ایران کے ساتھ محاذ آرائی نے یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو اب محض اعداد و شمار کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ ایک ایسی ریاست جو سب سے بڑی افواج، جدید ترین ہتھیاروں، وسیع ترین فوجی اڈوں اور اتحادیوں کے سب سے بڑے نیٹ ورک کی مالک ہو، وہ بھی ایک ایسی حد تک پہنچ کر رک سکتی ہے جس سے آگے بڑھنا اس کے بس میں نہ ہو؛ اس محاذ آرائی میں امریکہ پر اپنی اس صلاحیت کی تنگ دامانی عیاں ہو گئی کہ وہ اپنی عسکری اور تکنیکی برتری کو کسی فیصلہ کن فوجی یا سیاسی نتیجے میں تبدیل کر سکے۔

 

 

Read more...

امریکہ اور ایران کے مابین جنگ: غالب قوت بمقابلہ ابھرتی ہوئی طاقت

حالیہ تصادم نے ایک ایسی غالب قوت کو، جو افرادی قوت اور اسلحے کے اعتبار سے بے پناہ ہے، زبردست فضائی برتری رکھتی ہے، ایک بے مثال اور دیوقامت بحریہ کی مالک ہے، نفری اور رسد دونوں لحاظ سے وسیع بری افواج سے لیس ہے، اور دنیا بھر میں فوجی اڈوں کا ایک عالمگیر نیٹ ورک رکھتی ہے،  ایک حریف کے مدمقابل لا کھڑا کیا ہے

 

 

Read more...

روہنگیا مسلمانوں کی کسمپرسی: فراموشی کی نذر

برما (روہنگیا) کے مسلمانوں کی حالتِ زار پر گفتگو کرتے ہوئے،جو اس ملک کے بدھ مت حکمرانوں کے ہاتھوں مصائب جھیل رہے ہیں،ہم یہ بات اس لیے کر رہے ہیں کہ زبان یا نسل کا کوئی اشتراک نہ ہونے کے باوجود، ہم زمین کے سب سے مضبوط رشتے یعنی اسلام کے بندھن کے ذریعے ان سے جڑے ہوئے ہیں۔

 

 

 

Read more...

ترکیہ اور یونان کے درمیان تنازع اور کشیدگی کے اسباب

11 تا 13 ستمبر 2026ء کے دوران یونانی وزیرِ اعظم کیریاکوس مِتسوتاکِس (Kyriakos Mitsotakis) کے دورے کے بعد ترکیہ اور یونان کے مابین کشیدگی میں شدت آ گئی۔ انہوں نے بحیرۂ روم میں ترک سرحد کے بالکل قریب واقع یونانی جزائر کا دورہ کیا تاکہ وہاں تعینات یونانی افواج کا معائنہ کر سکیں، بالخصوص جزیرۂ میس (کاسٹیلوریزو) کا، جو ترک ساحل سے محض دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ان کے اس دورے سے یہ بات طشت از بام ہو گئی کہ ان جزائر پر بھی فوجی موجود ہیں جنہیں غیر عسکری علاقے (demilitarized zones) قرار دیا گیا تھا، جس کے ردِعمل میں ترکیہ نے متصل علاقوں میں اپنی فوج تعینات کر دی

 

 

Read more...

اردن-فرانس دفاعی تعاون کا معاہدہ: اردنی افواج کو استعماری تنازعے میں جھونکنے کی کوشش

جمعرات، 17 ستمبر 2026 کو پیرس کے تاریخی مقام 'لیس انویلیڈز' (Les Invalides) میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ مذاکرات کے بعد، شاہ عبداللہ دوم نے اردن اور فرانس کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کا اعلان کیا

 

 

Read more...

روس کے خلاف سیکیورٹی صف بندی اور یورپی جنگی بیانیے میں بڑھتی ہوئی شدت کے پس پردہ عوامل کا تجزیہ

حکمتِ عملی کے اعتبار سے روس اور یوکرین کا تنازع بڑی طاقتوں کے مابین ایک بڑی جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے،جس میں روس براہِ راست فریق ہے، جبکہ امریکہ اور یورپ پسِ پردہ کارفرما ہیں اور یوکرین جنگ کے میدان کا کردار ادا کر رہا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ عالمی منظرنامے پر اس جنگ کے اسٹریٹیجک اثرات انتہائی نازک اور گہرے ہیں۔

 

 

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک