السبت، 29 ذو القعدة 1447| 2026/05/16
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

کیا چین جنگ کے اصول بدل رہا ہے؟

 

تحریر: استاد نبیل عبد الکریم

 

(ترجمہ)

 

 

ایسی دنیا میں جہاں جنگوں کا اعلان اب ہمیشہ میڈیا پلیٹ فارمز پر نہیں ہوتا، اور نہ ہی ان کا فیصلہ صرف جنگی طیاروں کی گھن گرج سے ہوتا ہے، ایک مختلف قسم کا تنازع جنم لے رہا ہے۔ ایک خاموش، بین السرحدی تنازع، جو جغرافیہ سے ماورا ہے، جہاں طاقت کا توازن نئے سرے سے تشکیل پا رہا ہے، اور بڑی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی حدود کا امتحان لیا جا رہا ہے۔

 

اس ابھرتے ہوئے منظر نامے میں، ایران محض پابندیوں یا فوجی خطرات کا سامنا کرنے والے ملک کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر نظر آ رہا ہے جو غیر روایتی طریقوں سے اپنی پوزیشن کی از سرِ نو تعریف کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور چین کے ساتھ مفادات کے اشتراک اور ٹیکنالوجی کے کھلی عالمی منڈی میں ایک آسانی سے دستیاب شے بن جانے سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ امریکہ اس قربت کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے، کیونکہ سوال یہاں یا وہاں کے محض کسی معاہدے یا سودے سے کہیں آگے ہے، جو ایک گہرے سوال تک پہنچتا ہے: کیا ہم ایک نئے بین الاقوامی نظام کا آغاز دیکھ رہے ہیں جس میں طاقت کی اجارہ داریوں کا خاتمہ ہو رہا ہے، یا محض زیادہ پیچیدہ اور مبہم طریقوں سے طاقت کی از سرِ نو تقسیم ہو رہی ہے؟

 

2016 سے، جب تہران اور بیجنگ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی تجویز پہلی بار پیش کی گئی تھی، اس تعلق کے ارتقا کی حد واضح نہیں تھی۔ تاہم، 2021 میں طویل مدتی تعاون کے معاہدے پر دستخط نے ایک ایسے اتحاد کی بنیاد رکھ دی جو معاشیات سے بالاتر ہو کر جیو پولیٹکس  تک پھیلا ہوا ہے۔ چین اپنے "بیلٹ اینڈ روڈ" اقدام کے ذریعے نہ صرف ایک تجارتی راستہ تلاش کر رہا ہے، بلکہ اسٹریٹجک قدم جمانے کے مقامات بھی ڈھونڈ رہا ہے، اور ایران،اپنے جغرافیائی محل وقوع اور وسائل کے ساتھ،اس منصوبے کا ایک سنگِ میل ہے۔

 

یہ معاہدہ، ان لوگوں کے لیے جو اس سے ناواقف ہیں، پہلی بار 2016 میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ تہران اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے ملاقات کے دوران تجویز کیا گیا تھا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری کا خیال پیش کیا گیا تھا۔ 2019 میں، ایران نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ یہ محض ایک خیال ہے اور کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہے۔ بعد ازاں، یہ پروان چڑھا یہاں تک کہ 27 اپریل 2021 کو "اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے" کے نام سے اس پر باضابطہ دستخط ہوئے، جس کی مدت 25 سال ہے (الجزیرہ نیٹ، 27 اپریل 2021)۔ یہ معاہدہ ایک عمومی فریم ورک کے طور پر تھا، نہ کہ اپنی تمام مخصوص دفعات کے ساتھ کوئی مفصل معاہدہ۔ 2023 میں اس معاہدے کی تجدید نہیں کی گئی، لیکن باہمی دوروں کے دوران تعاون کو مزید تقویت ملی اور کئی ذیلی معاہدوں پر دستخط کیے گئے (العربیہ، 14 فروری 2023)۔ یہ معاہدہ مکمل طور پر خفیہ نہیں ہے۔ اس کا باضابطہ اعلان کیا گیا تھا، اس کی 25 سالہ مدت معلوم تھی، اور اس میں اقتصادی، سیاسی اور ممکنہ طور پر سیکورٹی تعاون شامل ہے۔ تاہم، یہ مکمل طور پر شفاف بھی نہیں ہے، کیونکہ اس کی بہت سی تفصیلات باضابطہ طور پر شائع نہیں کی گئی ہیں۔ اس لیے اسے کبھی کبھی مبہم یا نیم خفیہ قرار دیا جاتا ہے۔ افشا ہونے والی تفصیلات میں درج ذیل شامل ہیں:

 

۱۔ سرمایہ کاری کے بدلے تیل ، "معاہدے کا مرکزی نکتہ": چین ایک طویل مدت تک، جو کہ ممکنہ طور پر 25 سال تک ہو سکتی ہے، رعایتی اور مقررہ قیمتوں پر ایرانی تیل حاصل کرے گا۔ اس کے بدلے میں وہ توانائی، بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں، ریلوے، اور چین اور دیگر مقامات پر ایرانی تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرے گا۔

۲۔ ایران کو چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ" اقدام سے جوڑنا: ایران کے ذریعے ایشیا کو یورپ سے جوڑنے والی بندرگاہوں اور ریلوے کی ترقی، جس کے نتیجے میں ایران ایک الگ تھلگ ملک کے بجائے عالمی تجارتی گزرگاہ میں تبدیل ہو جائے گا۔

۳۔ فوجی اور سیکورٹی تعاون: مشترکہ فوجی مشقیں، انٹیلی جنس کی معلومات کا تبادلہ، اور نگرانی کی ٹیکنالوجیز کی تیاری۔

 

۴۔ ٹیکنالوجی اور مواصلات: ہواوے جیسی چینی کمپنیوں کو مارکیٹ میں داخلے کی اجازت دینا، 5G نیٹ ورکس کی ترقی، اور ڈیجیٹل نگرانی کرنا۔ اس تعاون کے حصے کے طور پر، ایران نے 2024 میں ایک نجی چینی کمپنی کے ذریعے ایک چینی تجارتی "ڈوئل سیٹلائٹ" حاصل کیا، جس تک رسائی یا اس کے مستقبل کے استعمال کو خریدا گیا۔ یہ سیٹلائٹ، جسے TEE-01B (ارتھ آئی 1) کے نام سے جانا جاتا ہے، سرکاری طور پر ایران کی ملکیت نہیں بلکہ ایک نجی چینی کمپنی کی ملکیت ہے، اور ایران نے اس کی خدمات یا ڈیٹا خریدا ہے۔ اس کا کنٹرول، یا کم از کم اس کے آپریشن کا کچھ حصہ، ایران سے باہر صرف چین میں واقع گراؤنڈ اسٹیشنوں سے کیا جاتا ہے۔ اس سیٹلائٹ کے کام کرنے کی تفصیلات غیر واضح ہیں، لیکن مغربی دعووں کے مطابق مبینہ طور پر اسے جنگ میں فوجی اڈوں کی نگرانی اور فوجی کارروائیوں میں مدد کے لیے استعمال کیا گیا (رائٹرز، 15 اپریل 2026

 

ایران کو اس معاہدے میں کئی فوائد نظر آئے، جس نے اسے امریکہ اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن پیدا کرنے کے قابل بنایا، خاص طور پر اس کی طرف امریکی پالیسی میں تبدیلی، اس کے رہنماؤں کے قتل، ایٹمی معاہدے سے دستبرداری اور دیگر پیش رفت کے بعد۔ اس معاہدے میں ایران کے بنیادی مقاصد میں درج ذیل شامل تھے: امریکی پابندیوں سے بچنا، کیونکہ چین فنڈنگ، تجارت اور سیاسی تحفظ فراہم کرے گا۔ ایک ایرانی چینی محور (axis) کا قیام، جو مستقبل میں روس تک پھیل سکتا ہے۔ اور توانائی کے راستوں کے لیے ایک بالواسطہ خطرہ، کیونکہ چین خلیج میں اپنی موجودگی کو مضبوط کرے گا، اور ایران کو آبنائے ہرمز جیسے بحرانوں سے نمٹنے میں زیادہ اعتماد حاصل ہو گا۔

 

تاہم، ایران شفافیت کی عدم موجودگی میں چین کو حد سے زیادہ طویل مدتی مراعات دینے کے بارے میں فکر مند تھا، کیونکہ اسے قرض کے جال (debt trap) میں پھنسنے کا خطرہ تھا۔ خود چین بھی محتاط تھا، اس لیے اس نے اس معاہدے کو مکمل حقیقت میں نہیں بدلا، اور ایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے اس پر عمل درآمد میں سست روی رہی، اور سرمایہ کاری 400 ارب ڈالر کے حجم تک نہیں پہنچی جیسا کہ افواہیں تھیں۔

 

یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جنگ محض اس معاہدے کا نتیجہ تھی، لیکن اس کے چھڑنے اور اس کے اثرات کے ساتھ ہی یہ معاہدہ دباؤ کا ہدف بن گیا، شاید یہ ایران کو اسے کم کرنے یا مکمل طور پر منسوخ کرنے پر مجبور کرنے کی ایک کوشش تھی، جبکہ دیگر مقاصد کو برقرار رکھا گیا۔

 

چنانچہ، ایسا لگتا ہے کہ کسی بھی امریکی اشتعال انگیزی یا دباؤ کے غیر اعلانیہ مقاصد میں سے ایک مقصد نہ صرف ایران کے رویے کو تبدیل کرنا ہے، بلکہ اس کے پاس موجود اس دباؤ (leverage) کو استعمال کرنے کی صلاحیت کو کم کرنا یا بالکل ختم کرنا بھی ہے۔ سمندری راستوں پر کنٹرول حاصل کرنا، یا ان کے لیے خطرہ بننے والوں کو بے اثر کرنا، دہائیوں سے واشنگٹن کے سٹریٹیجک نظریے (strategic doctrine) کا مرکز رہا ہے، اور کسی بھی ایسی علاقائی طاقت کو جو اس بہاؤ میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہو، ایک عدم استحکام پیدا کرنے والے عنصر کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے قابو کرنا، بلکہ ختم کرنا ضروری ہے۔

 

تاہم، تضاد اس حقیقت میں مضمر ہے کہ ایران کو اس صلاحیت سے محروم کرنے کی کوشش اسے اس سے مزید مضبوطی سے چمٹنے، یا اس کی تلافی کے لیے غیر روایتی ذرائع تیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہے، چاہے وہ علاقائی گماشتوں (proxies) کے ذریعے ہو یا خلائی اور نگرانی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے۔ یہاں، تنازع جغرافیے کے ٹکراؤ سے اوزاروں (tools) کی جدوجہد میں، اور آبی گزرگاہوں کے تنازع سے اس مقابلے میں بدل جاتا ہے کہ کون انہیں بند کرنے یا ان کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لہٰذا، اس حساس موڑ پر کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ کی بے تابی نہ صرف ایران کو قابو میں رکھنے کی اس کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ ایک گہری جدوجہد کو بھی ظاہر کرتی ہے: ایک ایسی جنگ کہ عالمی سطح پر کھیل کے اصول کون طے کرے گا اور ضرورت پڑنے پر ان راستوں کو بند کرنے کی طاقت کس کے پاس ہو گی۔ اس سطح پر، یہ بحران اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہا، بلکہ بین الاقوامی نظام کی اصل نوعیت پر ایک بڑے تصادم کا حصہ بن چکا ہے۔

 

تاہم، مذاکرات کا حتمی نتیجہ یہ طے کرے گا کہ  بجائے اس کے کہ وہ امریکی اثر و رسوخ کے مدار میں ایک سیٹلائٹ ریاست رہے،آیا امریکہ ایران کو ایک ماتحت ریاست میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہا ہے یا یہ کہ ایران ایک محتاج ریاست بننے سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے اور چین کے ساتھ معاہدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک آزاد ریاست بننے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے اقتدار میں رہنے پر منحصر ہے۔ اگر امریکہ اسے تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو وہ ایران کو ایک ماتحت باجگزار ریاست (vassal state) میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

 

قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ تمام زمینی، سمندری اور فضائی راستے مسلم ممالک میں واقع ہیں۔ اگر اللہ ﷻ خلافت کے قیام کی توفیق عطا فرمائے، تو یہ جغرافیائی اور سٹریٹیجک عوامل بے پناہ طاقت کی نمائندگی کریں گے۔ تاہم، ان صلاحیتوں کا فعال ہونا ایک ایسی سیاسی اکائی (entity) کے وجود پر منحصر ہے جو انہیں ایک جامع وژن کے تحت استعمال کرنے کی اہل ہو، جس کی عملی صورت خلافت کا ظہور اور وسائل کو استحکام اور انصاف کے حصول کی طرف موڑنا ہے۔

چنانچہ، بین الاقوامی سطح پر اثر و رسوخ کی بحالی کے لیے منظم سیاسی اور فکری جدوجہد کی ضرورت ہے جس کا مقصد واضح بنیادوں پر طاقت کی از سرِ نو تعمیر، اسلامی طرزِ زندگی کا احیاء، اور امتِ مسلمہ کو اس قابل بنانا ہو کہ وہ ایک ایسے تہذیبی منصوبے کے اندر اپنے مقام اور وسائل کا فائدہ اٹھا سکے جو عالمی توازنِ طاقت پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

 

 

Last modified onہفتہ, 16 مئی 2026 17:40

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک