السبت، 05 محرّم 1448| 2026/06/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

جنوبی کوریا میں پچاس افریقی وزراء کی میزبانی اس کے معاشی اور علاقائی وزن کی عکاس ہے۔

 

 

تحریر: استاد احمد الخطوانی

 

(ترجمہ)

 

گزشتہ 2 جون کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں 50 افریقی ممالک کے وزرائے خارجہ کی موجودگی، جس کا اہتمام کوریائی حکومت نے آزادانہ طور پر کیا تھا، اصولی طور پر ایک اعلیٰ سطح کی سیاسی کامیابی اور سفارتی لحاظ سے واقعی ایک تاریخی واقعہ قرار دی جا رہی ہے۔

 

جنوبی کوریا-افریقہ کانفرنس صرف جنوبی کوریا کے ساتھ پہلے مشترکہ وزارتی اجلاس میں زیادہ تر افریقی ممالک کے 50 وزرائے خارجہ کی موجودگی تک ہی محدود نہیں تھی۔ وزرائے خارجہ کے علاوہ، اس اجلاس میں کئی اہم افریقی علاقائی تنظیموں جیسے کہ افریقی یونین، افریقی ترقیاتی بینک اور افریقی کانٹی نینٹل فری ٹریڈ ایریا کی نمائندگی کرنے والے وفود کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ یہ کانفرنس "عالمی تبدیلیوں کے درمیان مشترکہ ردعمل کے لیے کوریا-افریقہ شراکت داری" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے بین الاقوامی نظم میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں اور اس کے نتیجے میں سپلائی چین (رسد کے سلسلے) میں پیدا ہونے والے خلل اور خوراک و توانائی کے تحفظ کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کانفرنس کا افتتاح کیا، جس نے افریقہ کو جغرافیائی سیاسی اور معاشی منظر نامے پر پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔

 

سیول میں افریقی وفود کے اس اجلاس کا مقصد جنوبی کوریا اور افریقی ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مضبوط بنانا تھا، تاکہ عالمی چیلنجوں، خاص طور پر سپلائی چین، توانائی اور غذائی تحفظ سے متعلق مسائل سے نمٹا جا سکے۔ جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے بیان کیا کہ "یہ اجلاس عالمی سطح پر تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے وقت منعقد ہو رہا ہے، جب دنیا کو رسد، توانائی اور خوراک سے متعلق کثیر جہتی چیلنجز کا سامنا ہے"۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری عدم استحکام اور آبنائے ہرمز کے گرد بے یقینی کی صورتحال کے پیش نظر، "افریقی ممالک تیزی سے جغرافیائی سیاسی اور معاشی اہمیت حاصل کر رہے ہیں، جس سے سیول اور افریقی ممالک کے درمیان قریبی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہو گیا ہے"۔

 

افریقی شرکاء نے اپنے جنوبی کوریائی ہم منصبوں کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی، سپلائی چین، موسمیاتی تبدیلی، صحت کی دیکھ بھال، سلامتی اور ترقی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

 

اس سربراہی اجلاس کے موقع پر افریقی نجی شعبے کے تقریباً 300 نمائندوں، جن میں کاروباری رہنما، اداروں کے نمائندے اور ماہرین شامل تھے، نے سرمایہ کاری کے نئے مواقع، صنعتی تعاون اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے پر بات چیت کے لیے جنوبی کوریائی حکام کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔

 

افریقی براعظم میں جنوبی کوریا کی دلچسپی اس کی توانائی اور معدنی وسائل کی وجہ سے بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کے ادراک، اور اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ یہ عالمی سطح پر کھلے مقابلے کا ایک بین الاقوامی میدان بن چکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام اور آبنائے ہرمز کی بندش سمیت کئی وجوہات کی بنا پر افریقہ کی جغرافیائی سیاسی اور معاشی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال جنوبی کوریا اور افریقی ممالک کے درمیان تعاون کو ایک "فوری ضرورت" بنا دیتی ہے، جیسا کہ چو ہیون نے کانفرنس کے پہلے سیشن کے دوران اپنے افتتاحی خطاب میں کہا تھا، جس میں انہوں نے افریقہ کو "مستقبل کا براعظم" قرار دیا۔ انہوں نے اپنے اس بیان کی بنیاد تین اہم عوامل پر رکھی:

 

۱۔ اس کی آبادیاتی طاقت، جس میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

۲۔ بحر اوقیانوس اور بحر ہند اور خلیج عدن کے درمیان سمندری راستوں کے سنگم پر اس کا اسٹریٹجک مقام۔

۳۔ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات کے اس کے وسیع ذخائر۔

 

بلاشبہ یہ کانفرنس جنوبی کوریا کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد افریقی براعظم میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانا اور معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو وسعت دینا ہے۔ وہ آنے والے سالوں میں مزید تقریبات اور سربراہی اجلاس منعقد کرنے پر غور کر رہا ہے، جس میں تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے معدنیات پر ایک اور سربراہی اجلاس، اور دونوں فریقوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے لیے ۲۰۲۹ میں ایک تیسرا سربراہی اجلاس بھی شامل ہے۔

 

جنوبی کوریا اس وقت ایک معاشی طور پر ترقی یافتہ ملک ہے، جو چین اور جاپان کے بعد ایشیا کی تیسری بڑی معیشت ہے۔ یہ پیٹنٹ رجسٹریشن (ایجادات کے حقوق کے اندراج) میں چین، امریکہ اور جاپان کے بعد دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے، اور جرمنی، فرانس اور برطانیہ سے آگے ہے۔ مجموعی معاشی حجم کے لحاظ سے یہ عالمی سطح پر تیرہویں نمبر پر آتا ہے۔

 

عسکری لحاظ سے بھی جنوبی کوریا ایک طاقتور ملک ہے، جس کے پاس مقامی طور پر تیار کردہ چند بہترین میزائل دفاعی نظام موجود ہیں، جو اسے میزائل اور میزائل دفاعی شعبوں میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل کرتے ہیں، اور اس کا نمبر صرف بڑی طاقتوں کے بعد آتا ہے۔

 

یہ تمام خصوصیات جنوبی کوریا کو ایک حقیقی بڑی علاقائی طاقت بناتی ہیں۔ اگرچہ یہ چین کے خلاف امریکہ کے ساتھ تعاون کرتا ہے، لیکن یہ روایتی سیاسی معنوں میں امریکہ کی کوئی کٹھ پتلی (سیٹلائٹ) ریاست نہیں ہے۔ اس کے قائدین کسی کے ایجنٹ نہیں ہیں، اور وہاں حکومت کا ایک ایسا نظام موجود ہے جس میں سرمایہ دارانہ ادارے مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان اداروں نے گزشتہ سال منتخب حکومتوں کا تختہ الٹنے کے سابق صدر کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا، اور فوج کی حمایت کے باوجود انہیں اقتدار سے بے دخل کر کے غداری کے الزامات میں مقدمے کا سامنا کرنے پر مجبور کیا۔

 

جنوبی کوریا کی جانب سے حال ہی میں افریقی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ منعقدہ یہ کانفرنس اسے براعظم کے وسائل پر قبضے کی دوڑ میں شامل بڑی طاقتوں کی صف میں کھڑا کر دیتی ہے۔ یہ اسے چین کے مدمقابل بھی لے آئی ہے، جو اپنے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے پورے افریقہ میں تیزی سے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، وہ منصوبے جنہیں نہ تو امریکہ اور نہ ہی کوئی دوسرا مغربی ملک روک سکا ہے۔ لہٰذا، امریکہ چین کا مقابلہ کرنے کے لیے جنوبی کوریا کی مدد لینے پر مجبور ہوا ہے۔

 

اگر جنوبی کوریا افریقہ میں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ اس کی مقامی سیاسی سطح سے علاقائی سطح پر منتقلی کی علامت ہو گی، اور شاید مستقبل میں عالمی اثر و رسوخ کے لیے بھی راستہ ہموار کرے۔

Last modified onجمعہ, 19 جون 2026 21:49

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک