السبت، 19 محرّم 1448| 2026/07/04
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سوڈانی حکومت کی معاشی پالیسیوں میں افراتفری

 

 

تحریر: انجینئر باسل مصطفیٰ

 

(ترجمہ)

 

سوڈانی پاؤنڈ کی قدر میں مسلسل اور شدید گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، اور یہ ڈالر کے مقابلے میں 5000 پاؤنڈ کی ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس صورتحال نے مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے اور مقامی کرنسی اپنی قدر و منزلت کا بڑا حصہ کھو چکی ہے۔ اس کے براہِ راست اثرات عوام کے معیارِ زندگی پر پڑے ہیں، یہاں تک کہ بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (IOM) کے مطابق 86 فیصد خاندان اب اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے حصول میں مشکلات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گیس کے ایک سلنڈر کی قیمت تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار پاؤنڈ تک جا پہنچی ہے، جو کہ نویں گریڈ کے ایک استاد کی 86 ہزار پاؤنڈ ماہانہ تنخواہ سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح فرسٹ گریڈ کے ملازم کی 2 لاکھ 25 ہزار پاؤنڈ تنخواہ بھی ایک خاندان کی پورے مہینے کی روٹی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے!

 

سوڈانی پاؤنڈ ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں نو گنا تک گر چکا ہے اور اپنی 90 فیصد قدر کھو چکا ہے؛ ڈالر کی قیمت جو 2023 میں 570 پاؤنڈ تھی، اب بڑھ کر 4700 پاؤنڈ ہو چکی ہے اور اس کے 5000 تک پہنچنے کے خدشات عام ہیں۔ اسی طرح سعودی ریال 200 پاؤنڈ سے بڑھ کر 1050 پاؤنڈ اور مصری پاؤنڈ 13 سوڈانی پاؤنڈ سے بڑھ کر 98 پاؤنڈ کا ہو گیا ہے۔

 

کرنسی کی اس بدترین گراوٹ نے قیمتوں اور قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے اشیاء کی قیمتیں دس گنا بڑھ گئی ہیں؛ مثلاً پیٹرول کا ایک گیلن جو 3000 پاؤنڈ کا تھا، اب 30,000 پاؤنڈ کا ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس تنخواہوں کی حقیقی قدر بری طرح ختم ہو چکی ہے؛ اساتذہ کی وہ تنخواہیں جو چند سال پہلے 181 سے 498 ڈالر کے برابر تھیں، آج پاؤنڈ میں ان کی عددی قدر (86 ہزار سے 2 لاکھ 25 ہزار) برقرار رہنے کے باوجود عالمی مارکیٹ میں ان کی قیمت محض 17 سے 84 ڈالر رہ گئی ہے۔

 

سوڈان کے معاشی بحران کی بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام کا نفاذ ہے، جس میں ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی اور اجارہ داری جیسے روایتی اوزار استعمال کیے جاتے ہیں۔ اشیاء کی قیمتوں میں ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کا تناسب اب تقریباً 70 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ کسٹم ڈالر کی شرح 2025 کے آغاز سے 2000 سے بڑھا کر 3222 پاؤنڈ کر دی گئی ہے، جو کہ 61 فیصد کا خطیر اضافہ ہے۔ جب مخصوص گروہوں کے مفاد میں بعض اشیاء کی درآمد پر اجارہ داری قائم کر دی جاتی ہے اور وہ ان کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے لگتے ہیں، تو اس کا منطقی نتیجہ مہنگائی میں اضافے اور عوامی تکالیف کی وسعت کی صورت میں نکلتا ہے۔

 

جہاں تک کرنسی کی تباہی کا تعلق ہے، تو اس کی تین بڑی وجوہات ہیں: پہلی وجہ تجارتی توازن میں مستقل خسارہ ہے، جہاں سوڈان کی برآمدات تقریباً 2.6 بلین ڈالر ہیں جبکہ درآمدات 6.5 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، یعنی تقریباً 3.9 بلین ڈالر کا خسارہ پایا جاتا ہے۔ اصول یہ ہے کہ جب بھی درآمدات برآمدات سے زیادہ ہوتی ہیں، تو درآمدات کی مالی معاونت کے لیے غیر ملکی کرنسی کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈالر مہنگا اور مقامی کرنسی سستی ہو جاتی ہے۔

 

یہ ایک المیہ ہے کہ سوڈان وسائل کے لحاظ سے کوئی غریب ملک نہیں ہے کہ اسے اس قدر شدید خسارے کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ افریقہ میں سونا پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے، اور دنیا کی بیشتر 'گوند ملاوٹ' (Gum ) پیدا کرتا ہے، اس کے علاوہ یہاں زراعت، لائیو اسٹاک اور معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ لیکن بدعنوانی اور حکومت کی پیداوار دشمن پالیسیوں نے سوڈان کو ان نعمتوں سے حقیقی فائدہ اٹھانے سے محروم کر رکھا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال سونے کا معاملہ ہے؛ وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ 2025 کے دوران سوڈان کی سونے کی پیداوار تقریباً 70 ٹن رہی، جبکہ سرکاری طور پر صرف 20 ٹن برآمد کیا گیا۔ سونے کی پیداوار پر حکومت کی نگرانی کے باوجود، محض کچھ حصہ برآمد کیا گیا جبکہ باقی ماندہ حصہ حکام کی جیبوں کی نذر ہو گیا۔ اگر صرف اسی 70 ٹن سونے کو کسی اور اضافی پیداوار کے بغیر برآمد کیا جاتا، تو سوڈان کی برآمدات کی مالیت 9 بلین ڈالر تک پہنچ جاتی، جس کا مطلب ہے کہ تجارتی توازن میں 2.5 بلین ڈالر کا منافع ہوتا۔ اسی طرح ٹیکسوں اور جبری وصولیوں کی پالیسیاں وہ تیشہ ثابت ہوئیں جس سے حکومت نے پیداواری ڈھانچے کو ہی تباہ کر دیا؛ متعدد ٹیکسوں اور فیسوں نے زراعت اور صنعت میں پیداواری صلاحیت کو ختم کر دیا ہے۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ جنگ نے بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے، لیکن یہ اس کا اصل سبب نہیں ہے، کیونکہ پاؤنڈ کی گراوٹ اور مہنگائی کا آغاز جنگ سے کئی سال پہلے ہی ہو چکا تھا۔ تاہم جنگ کے حالات نے حکومت کو 'تخلیقی افراتفری' جیسا موقع فراہم کر دیا ہے تاکہ وہ ایسے سنگین معاشی اقدامات لاگو کر سکے جو عام حالات میں ناممکن ہوتے، جیسے کہ کرنسی کی قدر میں دانستہ کمی کرنا۔

 

پاؤنڈ کی قدر گرنے کی دوسری بڑی وجہ خود نقدی نظام (مانیٹری سسٹم) کی نوعیت ہے، کیونکہ یہ کرنسی محض لازمی کاغذی نوٹوں پر مشتمل ہے جن کی پشت پناہی کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے۔ ریاست جب چاہتی ہے اسے بغیر کسی سونے کی ضمانت (کور) کے چھاپ دیتی ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ کرنسی کی مقدار میں بے تحاشہ اضافہ افراطِ زر کا باعث بنتا ہے، جو کرنسی کی قدر کو گرا دیتا ہے اور اس طرح لوگوں کی محنت اور جمع پونجی لوٹ لی جاتی ہے۔

 

تیسری وجہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ان معیشت کش شرائط پر عمل درآمد ہے جن میں کرنسی کی قدر میں کمی کرنا شامل ہے۔ آئی ایم ایف ریاست پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی کی قدر کم کرے، اور یہ سب استعماری مقاصد کے تحت کیا جاتا ہے تاکہ ان کے وسائل پر قبضہ کیا جا سکے۔

 

جہاں تک حکومت کی جانب سے پیش کردہ حل کا تعلق ہے، تو وہ اسباب کے بجائے محض علامات اور نتائج کے علاج تک محدود ہیں۔ حکومت نے قیمتوں میں اضافے کی تمام تر ذمہ داری ایندھن درآمد کرنے والوں پر ڈال دی اور اعلان کیا کہ وہ اپنی وزارتوں کے ذریعے خود درآمدات کا انتظام سنبھالے گی۔ لیکن دو دن بعد ہی وہ درآمد کنندگان پر پابندی کے فیصلے سے دستبردار ہو گئی اور ان سے درآمدی اجازت نامے حاصل کرنے کے لیے 200 کلو گرام سونا جمع کروانے کا مطالبہ کر دیا، جو کہ حکومتی اقدامات میں بوکھلاہٹ کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

 

قابلِ غور بات یہ ہے کہ ریاست ایندھن کی مارکیٹ سے الگ نہیں ہے، کیونکہ 4 سرکاری کمپنیاں درآمدی مقدار کا تقریباً 50 فیصد خود درآمد کرتی ہیں، جبکہ باقی نصف 38 نجی کمپنیوں کے درمیان تقسیم ہے۔

 

مزید برآں، ریاست ایک لیٹر پیٹرول پر 31 فیصد ٹیکس اور ریاستوں کے درمیان نقل و حمل پر 500 پاؤنڈ فی لیٹر تک کے صوبائی ٹیکس وصول کرتی ہے۔ لہٰذا، سرمایہ دارانہ نظام کی جبری ٹیکس پالیسیوں کے ساتھ ریاست ہی عوامی تکالیف میں اضافے اور ایندھن کی قیمتیں بڑھانے کی اصل ذمہ دار ہے۔

 

پاؤنڈ کی قدر کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے کہ اسے ایک مستقل اور ٹھوس بنیاد پر استوار کیا جائے، اور وہ بنیاد 'سونا' ہے؛ یعنی سونے کی مکمل ضمانت کے بغیر کوئی نوٹ نہیں چھاپا جائے گا۔ سونے کے معیار (گولڈ اسٹینڈرڈ) کی بدولت کرنسی کی اپنی ذاتی قدر ہوگی، اور لوگوں کو اپنی بچتوں کی قدر گرنے کے خوف سے انہیں ڈالر یا کسی اور غیر ملکی کرنسی میں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

 

سوڈان کے معاشی مسائل کا اصل اور جڑ سے علاج ایک ایسے معاشی نظام کے نفاذ میں پنہاں ہے جو اسلام کے احکامات پر مبنی ہو، جو کہ حکمت والے اور باخبر (اللہ) کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو سوڈان کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے اور لوگوں کو پیداوار، صنعت اور تجارت کے ذریعے ان سے نفع حاصل کرنے کے قابل بنانے پر توجہ دیتا ہے۔ یہ نظام آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے سودی اداروں کے مداخلت کار ہاتھوں کو کاٹ دیتا ہے تاکہ وہ معاشی پالیسیوں پر اثر انداز نہ ہو سکیں اور ہماری کرنسی کی قدر نہ گرا سکیں۔ یہ نظام ہمارے ملک پر ڈالر کے استعماری غلبے کا خاتمہ کرتا ہے، اور اس میں کرنسی کی بنیاد ایک ٹھوس اثاثہ یعنی سونے کا معیار ہوتی ہے۔

 

سونا ہزاروں سالوں سے نقدی کی مستحکم بنیاد رہا ہے، اور اسلام نے اسی بنیاد کو تسلیم کرتے ہوئے کئی شرعی احکامات کو سونے کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ یہ ایک غیر متزلزل بنیاد ہے، کیونکہ سونا ایک قیمتی دھات ہونے کی وجہ سے اپنی قدر برقرار رکھتا ہے۔ اس نظام کے قیام کے لیے 'ریاستِ خلافت' کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ کٹھ پتلی نظام اسے نافذ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

 

ولایہ سوڈان  میں حزب التحریر کے رکن

 

Last modified onجمعہ, 03 جولائی 2026 14:29

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک