السبت، 19 محرّم 1448| 2026/07/04
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

متفرقات الرایہ – شمارہ 606

 

 

صفحہ اول کی سرخی:

 

امتِ مسلمہ تب علیل ہو ئی  جب وہ اپنے مشن سے دور اور اپنی ذمہ داری سے غافل ہو گئی، لیکن وہ جلد ہی اپنی صحت یابی حاصل کر لے گی جب اسے مغربی تہذیب کے جبر و تنگی سے نجات کی راہ سجھائی دے گی تاکہ وہ دوبارہ وہ 'بہترین امت' بن جائے جو لوگوں (کی ہدایت) کے لیے برپا کی گئی ہے، پھر وہ عظمت کی بلندیوں پر فائز ہو جائے گی اور حیاتِ نو پائے گی۔ یہ وہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس سے خلافت، تمکین اور امن کے متعلق کر رکھا ہے

 

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً...

 

"اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے، یہ وعدہ فرما رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین میں یقیناً اسی طرح خلافت (اقتدار) عطا فرمائے گا جس طرح اس نے ان لوگوں کو عطا فرمائی تھی جو ان سے پہلے تھے، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، پائیداری اور غلبہ عطا فرمائے گا، اور ان کے خوف کی حالت کے بعد اسے ان کے لیے امن سے بدل دے گا..." [سورۃ النور: 55]

===

 

صفحہ اول کے لیے:

 

افغانستان کو بین الاقوامی نظام میں ضم کرنے کا امریکی پھندا

 

 

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی نمائندے نے ایک بار پھر تکبر کے ساتھ یہ بیان دیا کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بحالی کی جانب اٹھنے والا ہر قدم مکمل طور پر افغانستان کے حکمرانوں کے افعال اور ان کے طرزِ عمل میں تبدیلی پر منحصر ہے، بالخصوص خواتین کے حقوق اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے وعدوں کے حوالے سے۔

 

اس پر حزب التحریر ولایہ افغانستان کے میڈیا آفس نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں درج ذیل نکات پر زور دیا گیا ہے:

 

1- مغرب "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے جھنڈے تلے جو کچھ پیش کر تا ہے، وہ درحقیقت سیاسی اسلام کے خلاف اس کی جاری کشمکش اور ایک متحدہ ریاستِ خلافت کی واپسی کو روکنے کی کوششوں پر پڑا ایک لبادہ ہے۔ وہ خلافت جس کا مقصد استعماری قومی سرحدوں کو مٹا کر امتِ مسلمہ کو متحد کرنا ہے۔ بین الاقوامی نظام میں امریکہ کی منظوری اور تسلیمیت حاصل کرنے کی کوشش ایک ایسی راہ ہے جو اسلام کے ادھورے نفاذ، اسلامی اقدار سے پسپائی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب سے دوری کی طرف لے جاتی ہے۔ انجام کار، یہ راستہ مغربی اقدار اور معیارات میں مدغم ہونے کی راہ ہموار کرتا ہے۔

 

2- استعماری طاقتیں دباؤ کے مختلف نرم اور سخت حربوں، اور ترغیب و تحریص اور دھونس و دھمکی کی پالیسیوں کے ذریعے، افغانستان کے حکمرانوں کے سیاسی ارادے کو بتدریج کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ شریعت کا مکمل نفاذ نہ ہو سکے۔ یا دوسری صورت میں، وہ انہیں یہ باور کرانے کی تگ و دو میں ہیں کہ بین الاقوامی نظام کو قبول کرنا، بین الاقوامی تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنا، استعماری طاقتوں کے ساتھ لین دین کرنا اور اسلام کے مکمل نفاذ سے دستبردار ہونا ہی عالمی قانونی حیثیت حاصل کرنے، اپنی بقا کی ضمانت لینے اور اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کا واحد ممکنہ راستہ ہے۔

 

3- امریکہ نے مسلم ممالک کے حکمرانوں کے لیے "سیاست اور سیاسی بصیرت" کی ایک نئی تعریف متعارف کرائی ہے۔ اس تعریف کے مطابق، حکمرانوں کی ذہانت اور کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ وہ امتِ مسلمہ اور اس کی اقدار کا کتنا دفاع کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ مغربی مفادات کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر، پاکستان کے وہ حکمران جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امریکہ کی خدمت گزاری اور افغانستان میں اپنے مسلمان بھائیوں کی سرکوبی کر کے ایک کامیاب سیاست کر رہے ہیں، یا خلیجی ریاستوں اور ترکی کے وہ حکمران جو مغربی مفادات کا پہرا دے رہے ہیں، انہیں حقیقت پسند اور سیاسی بصیرت کی مثالوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ امریکہ افغانستان کے حکمرانوں سے بھی اسی قسم کی سیاسی بصیرت اور حقیقت پسندی کی توقع رکھتا ہے، تاکہ وہ بین الاقوامی نظام کے تقاضوں اور مغربی طاقتوں کے مطالبات کو شریعت پر مبنی سیاست پر فوقیت دیں۔ دریں اثنا، غزہ جیسے مسلم خطے مغربی جرائم کی آگ میں جھلس رہے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی (ذہین) حکمران مسلمانوں کی خلاصی میں کوئی حقیقی دلچسپی نہیں دکھاتا۔

 

4- متکبر امریکی عالمی نظام کا مقابلہ کرنے کے لیے شریعت پر مبنی حل مادی اعتبارات، تدریجی عمل، قومی ریاست کی بقا یا محض معیشت کے گرد گھومنے والی پالیسیوں کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام اور امتِ مسلمہ کے مشن کی تکمیل فرعون، نمرود اور قارون کے عالمی کارواں میں شامل ہو کر ممکن نہیں۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے اپنے دور کے رائج عالمی نظام ، جس پر اس وقت کی دو بڑی طاقتوں رومیوں اور فارسیوں کا غلبہ تھا،سے مکمل آزاد ایک اسلامی نظام قائم کیا تھا، بالکل اسی طرح آج ہم سے یہ مطالبہ ہے کہ ہم شریعت کے معیارات اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر مبنی ایک عالمی اسلامی نظام کی بنیاد رکھیں۔ یہ ہدف صرف  نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت راشدہ کے قیام سے ہی حاصل ہو سکتا ہے، اور یہ وہ وعدہ ہے جو صرف ان مومنین کے ہاتھوں پورا ہو گا جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نصرت پر کامل یقین رکھتے ہیں، جو اس کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی تگ و دو کرتے ہیں اور جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس کٹھن راہ پر گامزن ہیں۔

===

 

مرکزی مضمون کے تحت:

 

حزب التحریر/ ولایہ شام کے میڈیا آفس میں تبدیلیاں

 

 

تحریری، بصری اور سمعی ابلاغی اداروں اور معزز صحافی حضرات کے نام

 

 

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ہم آپ کو مطلع کرتے ہیں کہ حزب التحریر/ ولایہ شام کے میڈیا آفس کے سربراہ یکم محرم الحرام 1448ھ بمطابق 16 جون 2026ء سے جناب علی مصطفیٰ البکری مقرر ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی ہم جناب احمد عبد الوہاب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے برسوں تک میڈیا آفس کی سربراہی کے دوران اپنی بھرپور کوششیں اور لگن صرف کی۔

 

ہم آپ کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ میڈیا آفس اور اس کے نئے سربراہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس درج ذیل ہیں:

سربراہ میڈیا آفس کا ای میل: This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

سربراہ میڈیا آفس کا فیس بک پیج: https://www.facebook.com/people/علي-مصطفى-البكري/61590454397210/

میڈیا آفس کا ای میل: This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

حزب التحریر ولایہ شام کے میڈیا آفس کا آفیشل فیس بک پیج: www.facebook.com/tahrir.s2025

 

چنانچہ کسی بھی معاملے میں حزب سے رابطے کے لیے، مثلاً حزب کے کسی موقف کے بارے میں دریافت کرنا، موجودہ حالات پر اس کی سیاسی رائے جاننا، یا میڈیا انٹرویوز وغیرہ کے لیے آپ مذکورہ بالا پتوں پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

 

ہمیں امید ہے کہ آپ حزب سے متعلق معلومات کسی دوسرے میڈیا ذرائع کے بجائے براہِ راست ہمارے میڈیا آفس سے ہی حاصل کریں گے۔

===

 

کرغز حکومت کا شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے قبل حزب التحریر کے نوجوانوں پر ظلم و ستم

 

 

اس سال 31 اگست کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک کے سربراہان کا 25واں اجلاس منعقد ہونے والا ہے، جسے دہشت گردی، انتہا پسندی، علیحدگی پسندی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ کے بہانے قائم کیا گیا تھا۔ اپنی تاسیس کے ابتدائی برسوں سے ہی یہ تنظیم دہشت گردی اور انتہا پسندی کی بیخ کنی کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بناتی آ رہی ہے۔ جبکہ علیحدگی پسندی کے خلاف جنگ کے بہانے چین میں ایغور اور دیگر مسلمانوں کو بدترین ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 

واقعات شاہد ہیں کہ کرغز حکام نے، آئندہ سربراہی اجلاس کے میزبان ہونے کے ناطے، اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا آغاز وقت سے پہلے ہی کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے داعیانِ حق کی گرفتاریوں، چھاپوں اور سیکورٹی کے نمائشی اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ سرکاری سطح پر اعلان کیا گیا کہ اوش اور باتکین کے علاقوں میں ایک خصوصی کارروائی کی گئی جس کے دوران دہشت گردی کے الزامات کے تحت 31 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

 

اسی طرح بشکیک شہر میں دعوت پہنچانے والے متعدد نوجوانوں اور ہماری مسلمان بہنوں کے گھروں پر بلاجواز چھاپے مارے گئے اور تلاشی لی گئی۔ لینن ڈسٹرکٹ ڈائریکٹوریٹ کے اہلکاروں نے ایک داعی کے گھر کی کھڑکی توڑ کر وہاں دھاوا بولا، اور گھر کے مالک کی عدم موجودگی کے باوجود تلاشی کے نام پر اس کی اہلیہ اور بیٹیوں کے ساتھ سخت ناروا سلوک اور ظلم و زیادتی کی۔ جب انہیں گھر سے کچھ نہ ملا تو انہوں نے اس کی 16 سالہ بیٹی کی ٹانگ پر زور دار ٹھوکر ماری، اس کا بازو مروڑا اور اسے دیوار کی طرف دھکا دے دیا، جس کے نتیجے میں اس کے دماغ میں چوٹ آئی۔

 

مزید برآں، دعوت کے متعدد نوجوانوں کو تفتیش کے لیے طلب کیا گیا، اور یہ انکشاف ہوا کہ ان میں سے بعض کے خلاف "انتہا پسندی" کے الزامات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ جیسا کہ سیکورٹی اداروں کی جانب سے کی جانے والی ان بلاجواز اور ضرورت سے زیادہ تلاشیوں سے عیاں ہوتا ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے قبل روسی اور چینی قیادت کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں ملک کی اندرونی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، دن بدن بڑھتی ہوئی گرانی اور دیگر بے شمار مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہیں۔

===

 

 

مغربی حکمران اپنے دلوں کا کینہ اور بغض ظاہر کرنے سے باز نہیں آتے

 

 

چنانچہ جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے یہودی وجود پر یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران فرانس نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ وہ ایران پر عائد کردہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں اس وقت تک ختم کرنے پر راضی نہیں ہوگا، جب تک اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی بھی حتمی معاہدے میں اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کا مسئلہ شامل نہ کر لیا جائے۔

 

مغربی حکمران مسلسل اپنے سینوں کی خباثت اور دلوں کا کینہ نکال رہے ہیں۔ وہ ایک طرف فلسطین، لبنان اور ایران میں مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کے وحشیانہ جرائم دیکھ رہے ہیں اور اقدار، روایات یا معاہدوں کی پرواہ کیے بغیر زمین پر ان کا تکبر اور فساد بھی ملاحظہ کر رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح بچوں، عورتوں اور نہتے لوگوں کو قتل اور ہر چیز کو خاکستر کیا جا رہا ہے، اس کے باوجود جرمن چانسلر یہودی وجود  پر پابندیاں لگانے کی مخالفت کر رہے ہیں، حالانکہ یہ پابندیاں محض علامتی ہی کیوں نہ ہوں جن کا میدانِ جنگ میں کوئی خاص اثر نہ ہو۔ لیکن وہ اس خیال ہی کو سرے سے مسترد کرتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نشانہ بننے والے مظلوم مسلمان اور ان کے علاقے ہیں۔ اسی طرح فرانس، ایران پر سے اس وقت تک پابندیاں اٹھانے سے انکاری ہے جب تک وہ ایسی شرائط اور معاہدوں پر دستخط نہ کر دے جس سے یہ ضمانت مل جائے کہ وہ دوبارہ کبھی سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے گا اور یہودی وجود  کے لیے خطرہ نہیں بنے گا۔

 

یہ منظر اس دشمنی کی عکاسی کرتا ہے جو ان کے اندر اسلام اور مسلمانوں سے جڑی ہر چیز کے خلاف کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ وہ اس بغض کو دبانے کی تاب نہیں رکھتے، چنانچہ یہ ظاہر ہو کر انہیں رسوا کر رہا ہے اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف ان کی اصل دشمنی اور غاصب یہودی وجود کے ساتھ ان کی محبت و وفاداری کو بے نقاب کر رہا ہے، چاہے وہ یہودی وجود ایسی برائیاں اور قتلِ عام ہی کیوں نہ کریں جن سے جنگل کے درندے بھی پناہ مانگیں۔

 

یہی کافر مغرب کی حقیقت ہے، اور جو اس کے سوا کچھ اور گمان کرتا ہے وہ محض وہم کا شکار ہے۔ اللہ کے بعد مسلمانوں کا کوئی مددگار اور حامی نہیں سوائے ان کے اپنے، اور ان کے ممالک کو ذلت اور استعمار سے ان کی افواج کے بیٹے ہی نکالیں گے، لہٰذا اے افواج! نصرت فراہم کرو، نصرت فراہم کرو۔

===

عرب لیگ کو کسی گہری کھائی میں دفن کر دینا چاہیے

 

 

مصر کے صدر سیسی نے مشترکہ عرب عمل کے نظام کو مضبوط بنانے اور عرب لیگ کے کردار کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسے "ریاستوں کے دفاع اور عرب عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنیادی چھتری اور جامع فریم ورک" قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ باتیں سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار نبيل فہمی اور موجودہ سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط سے ملاقات کے دوران کہیں، جن کی مدتِ ملازمت رواں ماہ کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔

الرايہ اخبار کا تبصرہ ہے کہ: سیسی کی عرب لیگ کے کردار کو فعال کرنے اور اسے زندہ رکھنے کی تڑپ دراصل امت کو کمزور، ٹکڑوں میں تقسیم اور استعماری کافر کے تابع رکھنے کی خواہش کا شاخسانہ ہے۔ عرب لیگ کی بنیاد ہی عرب خطے کے مسلمان ممالک کے درمیان تفریق کو مستقل کرنے پر رکھی گئی ہے، جس کے لیے "ریاستوں کی آزادی کے احترام" کا بہانہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ریاست کی سرحدیں، جھنڈا اور دستور دوسرے سے الگ ہو، اور اس حقیقت کو بدلنے کی کوئی بھی کوشش نام نہاد ملکی خودمختاری پر حملہ اور عرب لیگ کے چارٹر کے منافی قرار دی جاتی ہے۔

امت پر واجب ہے کہ وہ عرب لیگ جیسی تنظیم کو کسی گہری کھائی میں دفن کر دے، نہ کہ اسے فعال کرنے یا اس کی تجدید کی کوشش کرے۔ یہ تنظیم ہمیشہ سے امت کے سینے میں پیوست ایک خنجر، اسے تقسیم کرنے کا آلہ اور امریکہ و مغرب کے لیے ان کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اور ہمارے ممالک پر ان کی نوآبادیات کو برقرار رکھنے کا وسیلہ رہی ہے۔ امت کو چاہیے کہ اس تنظیم اور مسلم ممالک میں موجود تمام ضرر رساں نظاموں کے بجائے نبوت کے طریقے پر خلافتِ راشدہ قائم کرے، جو اسے متحد کرے اور فتح و نصرت کی منزل تک پہنچائے۔

===

 

مغربی نظام سے ناتا توڑنا ممکن ہے

 

ایرانی جوہری معاملے میں بنیادی گرہ اب تکنیکی نہیں رہی۔ دہائیوں کی سرمایہ کاری، ترقی، پابندیوں اور دباؤ کے بعد، اب بحث زیادہ تر سیاسی ارادے اور سٹریٹیجک حساب کتاب کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس طرح اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ: کیا ایران جوہری صلاحیت کے قریب پہنچ سکتا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ: کیا اس کے پاس وہ سیاسی ارادہ ہے جو اسے ایک "دہلیز پر کھڑی ریاست" اور ایک "اعلان شدہ جوہری ریاست" کے درمیان حائل لکیر پار کرنے کے قابل بنا سکے؟

 

درحقیقت، ایرانی جوہری معاملہ اکیسویں صدی کے ان معاملات میں سے ایک ہے جو قانون، طاقت اور خودمختاری کے باہمی ٹکراؤ، یا یوں کہیں کہ آج کی دنیا پر مسلط "جنگل کے قانون" کی منطق کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ بین الاقوامی نظام صرف تحریروں اور معاہدوں کے مطابق کام نہیں کرتا، بلکہ طاقت کے توازن اور بدلتے ہوئے مفادات کے تابع چلتا ہے۔ یہ ایک ایسا سوال بھی اٹھاتا ہے جو اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک ایران اپنی جدید جوہری صلاحیتیں برقرار رکھتا ہے: کیا صورتحال صرف ممکنہ دفاعی صلاحیت تک محدود رہے گی، یا خطہ اور دنیا کسی دن ایک نئی جوہری طاقت کا ظہور ملاحظہ کریں گے؟ ایرانی تجربے سے حاصل ہونے والا سبق یہ ہے کہ مغربی نظام سے ناتا توڑنا ممکن ہے۔

===

 

اے اسلام کے نوجوانو اور اے مسلمانوں کی افواج!

 

بیدار ہو جاؤ اور ہمارے ساتھ مل کر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے کام کرو

 

 

اے امتِ مسلمہ کے بیٹو! ہم تمہیں مغرب کے ان ہاتھوں کو روکنے کی دعوت دیتے ہیں جو ہمارے ممالک اور ہماری دولت سے کھیل رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے تقدیر ساز مسائل کی حفاظت کریں اور انہیں عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد کریں، جن میں سب سے اہم خلافت کا قیام ہے۔ اسی ریاست کے ذریعے ہم مغرب کا مقابلہ کر سکتے ہیں، اسے اپنے ممالک سے نکال باہر کر سکتے ہیں اور اپنی دولت کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔ غدار حکمرانوں، انسانوں کے بنائے ہوئے دساتیر اور ان حکومتوں سے وابستگی بہت ہو چکی جو ہماری نمائندگی نہیں کرتیں (چاہے وہ جمہوری ہوں، سیکولر ہوں یا کسی بھی قسم کی ہوں)۔ اب ہمیں اس حکم کی طرف لوٹنا ہے جسے اللہ عزوجل نے نافذ کرنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ اسی میں ہماری اور پوری دنیا کی بھلائی ہے۔

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ

 

"اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اس (وحی) کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل فرمائی ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔" (سورۃ المائدہ: 49)

 

اے اسلام کے نوجوانو اور اے مسلمانوں کی افواج! بیدار ہو جاؤ اور ہمارے ساتھ مل کر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے کام کرو جس کا وعدہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ ہمارے لیے اس وقت تک کوئی نجات نہیں جب تک ہم اپنے دین کی طرف نہیں لوٹتے اور "عروہ وثقیٰ" (مضبوط کڑے) کو مضبوطی سے نہیں تھام لیتے۔

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 

 

"دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر الگ ہو چکی ہے، سو جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے یقیناً ایک ایسا مضبوط کڑا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔" (سورۃ البقرہ: 256)

===

 

اب وقت آگیا ہے کہ ہماری امت اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کے ان عوامل کو سمجھے جو اس کے پاس موجود ہیں

 

 

امت کے لوگوں کے لیے اب یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ اپنی قوت اور اثر و رسوخ کی قدر پہچانیں اور اس محتاجی کی کیفیت سے آزاد ہو جائیں جس نے ان کی تقدیر کو بڑی طاقتوں کے فیصلوں اور ان کی باہمی کشمکش کا رہینِ منت بنا رکھا ہے۔

 

ہمارے ممالک محض وہ میدان نہیں ہیں جہاں ریاستیں آپس میں مقابلہ کریں، بلکہ یہ دنیا کا دھڑکتا ہوا دل، بین الاقوامی تجارت کا سنگم اور وہ بحری گزرگاہیں ہیں جہاں سے قوموں کی دولت اور معیشت کا گزر ہوتا ہے۔

 

وہ امت جو ان سٹریٹیجک آبناؤں، سمندروں اور گزرگاہوں کو کنٹرول کرتی ہے جہاں سے دنیا کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، اسے محض تماشائی بن کر نہیں رہنا چاہیے جبکہ دوسرے اس کے مستقبل کے نقشے بنائیں اور اس کی تقدیر کے فیصلے کریں۔ طاقت ہمیشہ صرف اسلحے کے انبار میں نہیں ہوتی، بلکہ ارادہ اور خودمختاری رکھنے اور اپنے محلِ وقوع، دولت اور وسائل کو بہترین طریقے سے بروئے کار لانے میں ہوتی ہے۔

 

لہٰذا، آزادانہ فیصلے کی واپسی اور معاشی و سیاسی طاقت کی تعمیر اب کوئی محض فکری عیاشی یا جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ یہ ممالک کی حفاظت اور عزت و وقار کی بحالی کے لیے ایک وجودی ضرورت بن چکا ہے۔ اگر عظیم طاقتیں ہمارے ممالک میں اثر و رسوخ کے لیے اس کی سٹریٹیجک اہمیت کی وجہ سے مقابلہ کر رہی ہیں، تو ہمارے بیٹوں کے لیے یہ زیادہ موزوں ہے کہ وہ اپنی اس تہذیبی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنے کی تگ و دو کریں جس میں ان کی اصل عزت اور وقار ہے۔

 

تب ہم دوسروں کی مساواتوں میں محض ایک ہندسہ نہیں ہوں گے، بلکہ ایک ایسی فیصلہ کن قوت بن کر ابھریں گے جو واقعات کو جنم دیتی ہے اور دنیا کے توازن پر اثر انداز ہوتی ہے، جیسا کہ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں جب یہ امت اپنے معاملات کی باگ ڈور خود سنبھالتی تھی اور اپنے ہاتھوں میں موجود ان وسائل اور مقامات کی قدر جانتی تھی جن کا روئے زمین پر کوئی ثانی نہیں۔

===

 

بخاری اور ترمذی کی سرزمین پر فحاشی اور بے حیائی کے میلے!

 

 

تاشقند شہر کے قلب میں 5 سے 7 جون 2026 تک بیئر فیسٹیول (شراب کا میلہ) منعقد کیا گیا، اور اس موقع پر تاراس شیوچینکو اور سید برکتہ گلیوں کے کچھ حصوں کو کئی دنوں کے لیے بند کر دیا گیا۔ اشتہار کے مطابق اس میلے میں موسیقی کے لائیو پروگرام، ڈی جے پرفارمنس، کھانے پینے کے اسٹالز، شراب کی فراہمی اور مختلف تفریحی سرگرمیاں شامل تھیں۔ یہ میلہ روزانہ شام چار بجے سے رات گیارہ بجے تک جاری رہا۔

 

اس میلے میں دسیوں ہزار نوجوانوں اور غیر ملکی سیاحوں نے شرکت کی، اور بیئر کی بڑی مقدار مفت تقسیم کی گئی، یہاں تک کہ اسے بیرلوں میں پیش کیا گیا اور کچھ شرکاء اسے ایک دوسرے پر چھڑک کر کھیل کود میں مصروف رہے۔ چند دنوں بعد یہ میلہ سمرقند شہر میں بھی منعقد کیا گیا۔

 

الرايہ اخبار کا تبصرہ ہے کہ: اس برائی کے خلاف بہت سے مسلمانوں اور عام لوگوں، خاص طور پر اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکرمند والدین نے شدید ناراضگی اور سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔ اس کے باوجود مساجد کے ائمہ، مذہبی عہدیداروں، علماء یا مفتی کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، بلکہ ایسا لگا جیسے انہوں نے کچھ دیکھا اور سنا ہی نہ ہو، اور ان کی طرف سے اس بارے میں ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا گیا!

 

اے امتِ اسلام! اے بخاری، ترمذی اور مرغینانی کے بیٹو! تمہارے حکمران تمہیں کس راستے پر لے جا رہے ہیں؟ اور تمہارے علماء تمہیں کس راہ کی دعوت دے رہے ہیں؟ کیا اب بھی تمہارے بیدار ہونے کا وقت نہیں آیا؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم اپنے حکمران اور اپنے عالم کو پہچانو؟ تم کس کی پیروی کر رہے ہو؟ کس کی بات سن رہے ہو؟ اور اپنے معاملات کی باگ ڈور کس کے حوالے کر رہے ہو؟

===

 

Last modified onجمعہ, 03 جولائی 2026 14:40

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک