بسم الله الرحمن الرحيم
یمن اور خطے کے حالات سے اس کا متاثر ہونا
تحریر: استاد عبداللہ القاضی – ولایہ یمن
(ترجمہ)
یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے گزشتہ بدھ کو کہا ہے کہ ملکی حکومت کسی نئی عارضی جنگ بندی یا مستقل جنگ بندی کے معاہدے کی حامی نہیں ہے، کیونکہ پائیدار امن صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ریاست کے پاس ہتھیار اور اقتدار پر مکمل اجارہ داری ہو اور ملک میں ریاست سے باہر کوئی ملیشیا وجود نہ رکھتی ہو۔ انہوں نے یہ بات سرکاری اور مقامی یمنی میڈیا کے اداروں کے نمائندوں اور قیادت کے ساتھ ایک وسیع ملاقات کے دوران کہی۔ العلیمی نے حوثی گروپ کو ایک آخری پیغام بھی دیتے ہوئے کہا کہ "ابھی بھی ہتھیار ڈالنے، ایک سیاسی جماعت میں تبدیل ہونے اور دیگر تمام یمنیوں کے برابر بیلٹ باکس کے ذریعے مقابلہ کرنے کا موقع موجود ہے۔"
العلیمی کی اس گفتگو سے، اور خاص طور پر اس وقت، یہ اشارہ ملتا ہے کہ سیاسی اور عسکری موقف بدل چکا ہے۔ کیونکہ سیاسی گفتگو کے لہجے میں اب پہلے سے زیادہ سختی ہے اور عسکری ردِعمل میں پہلے سے کہیں زیادہ طاقت دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے، رویک، المخا، مأرب اور حتیٰ کہ آلِ سعود کی سلطنت کے جنوبی علاقوں پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں سعودی عرب کی حمایت بلکہ اس کی ہدایات کے تحت تمام محاذ ایک ساتھ متحرک نہیں ہوئے تھے۔
امریکی پالیسی کا تقاضا رہا ہے کہ خطے میں ایسا عسکری توازن پیدا کیا جائے جو کسی ایک یا زائد ممالک کو اس پر غالب آنے سے روکے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی وقت اس عسکری توازن کو برقرار رکھنے اور اس کے دائرے کو محدود کرنے کے لیے امریکہ کو ایسی کوششیں کرنی پڑتی ہیں جن کی وہ خواہش نہیں رکھتا تھا؛ جیسا کہ وہ آج ایران کو محدود کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ امریکہ کی بار بار ناکام ہونے والی پالیسیوں کے نتیجے میں ایران کا خطے پر براہِ راست اثر و رسوخ قائم ہو گیا، جس کی وجہ سے پے در پے آنے والی امریکی انتظامیہ کو افغانستان، عراق، لبنان، شام اور یمن میں ایران سے مدد مانگنی پڑی۔ اس کے بعد ایران خطے میں امریکی منصوبوں اور مفادات کی راہ میں رکاوٹ بن گیا، اور اسی طرح یہودی وجود کو بھی امریکہ خود سے جدا نہیں دیکھتا بلکہ اسے ایک ایسا آلہ بنائے رکھنا چاہتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے مفادات حاصل کر سکے، اسی لیے امریکہ نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعِ مشترکہ کا مکہ معاہدہ طے کروایا۔
امریکہ نے صرف مکہ معاہدے پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس نے سعودی عرب اور پاکستان کی قیادت میں 39 ممالک پر مشتمل ایک اور اتحاد بھی قائم کیا، جس کا مقصد ایرانی سرپرستی میں کام کرنے والے حوثی بحری خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک ادارہ جاتی دفاعی فریم ورک تشکیل دینا تھا۔ اس کا مقصد بحری سیکیورٹی کو مضبوط بنانا اور جہاز رانی کی آزادی کی حفاظت کرنا ہے، نیز بین الاقوامی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا اور آبنائے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں توانائی کی فراہمی کے راستوں اور مشترکہ بحری مفادات کی حفاظت کرنا ہے، جیسا کہ بنیادی طور پر امریکی مفادات کا تقاضا ہے۔ امریکہ بحیرہ احمر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے اور وہ گزشتہ صدی کی ستر کی دہائی سے "بحیرہ احمر کی سیکیورٹی" کے نام پر اس پر اپنا نفوذ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جہاں تک ایران کا تعلق ہے، تو افغانستان، عراق، شام اور دیگر مقامات پر امریکہ کے لیے اس کی انجام دی جانے والی خدمات بھی اس کے کام نہ آئیں، کیونکہ امریکہ نے ایران، سعودی عرب، لبنان، شام اور یمن میں متصادم فرقہ وارانہ مراکز قائم کر کے پورے خطے کو بارود کا ڈھیر بنا دیا، جنہیں اس نے اسلام کے خلاف اپنی جنگ میں بطور ہتھیار استعمال کیا۔
چنانچہ شام میں امریکہ کے طے کردہ منصوبے کے مطابق ایران کا کردار ختم ہو گیا، تو امریکہ نے اس سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا، اور واقعی ایران نے شام سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا اور اپنی افواج کو واپس بلا لیا۔ پھر امریکہ نے اپنے مجرم کارندے بشار، جو اس کا علاقائی اثر و رسوخ تھا، کی جگہ ترکی کے ذریعے ایک اور کارندہ مقرر کر دیا۔ اسی طرح جنوبی لبنان میں، جب امریکہ نے یہودی وجود کو ایران نواز پارٹی کی قیادت کو قتل کرنے اور اس کی افواج اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا ہرا اشارہ دیا، اس کے علاوہ لبنان پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس کے ہتھیاروں کو غیر مسلح کرنے اور اسے ایک سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے کے لیے کام کرے، جس کے بدلے میں تعمیرِ نو، پناہ گزینوں کی واپسی کی اجازت، اور بالآخر ایک مستقل امن معاہدے پر دستخط شامل ہیں۔
اور عراق میں امریکہ نے ایران نواز نوری المالکی کو وزیر اعظم نامزد کرنے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دی اور اس کی جگہ علی الزیدی کو لے آیا، جس نے ایران کے اتحادیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کرپشن کے معاملے کو ایک سخت ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، نیز ہتھیاروں کو صرف ریاست کے ہاتھ میں محدود کیا اور تمام عسکری دھڑوں سے سیاسی جماعتوں میں تبدیل ہونے کا مطالبہ کیا۔
جبکہ یمن میں امریکہ نے سعودی عرب کے ذریعے رشاد العلیمی پر دباؤ ڈالا کہ وہ اماراتی افواج کو نکال باہر کرے، جس کے بعد انہوں نے العلیمی کو اپنی طرف مائل کیا تاکہ وہ حوثیوں کے خلاف حالیہ عسکری کارروائیوں میں لاجسٹک مدد حاصل کر سکیں، بالخصوص ان کارروائیوں میں بغیر پائلٹ کے طیاروں (ڈرون) کا استعمال شامل تھا۔ یہ سب خطے میں ایران کے بازوؤں کو کاٹنے کے لیے کیا گیا تاکہ امریکہ اپنا یہ ہدف حاصل کر سکے کہ ایران اس کے تابع ایک ملک بن جائے، نہ کہ ایسا ملک جو صرف اس کے مدار میں گھومتا رہے۔
اور یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ امریکہ اس خطے کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی میں موجود اپنے مہروں کے سپرد کر دے گا، کیونکہ ان کی پالیسیاں امریکہ سے وابستہ ہیں، خواہ وہ اس کی پیروی کرتے ہوں یا اس کے مدار میں گھومتے ہوں۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنے ممالک کو آپس میں ضم کر کے ایک عظیم متحدہ ریاست تشکیل دیں، جو اپنی اسلامی شناخت کو بحال کرے، اسلامی طرزِ زندگی کا دوبارہ آغاز کرے، اور اپنی افرادی قوت، عسکری طاقت، قدرتی وسائل، جغرافیائی وسعت اور زمین کے خطرناک ترین بحری راستوں (آبناؤں) پر اپنے تسلط کے بلبوتے پر دنیا کے تمام ممالک پر برتری حاصل کر لے۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ امریکہ کے تابع ان حکمرانوں میں ایک مشترک قدر پائی جاتی ہے جن کے ممالک میں ایران کے بازو (اثر و رسوخ) موجود تھے یا اب بھی ہیں؛ اور وہ مشترک قدر ان ممالک کے حکمرانوں کی طرف سے پیش کیے جانے والے مطالبات ہیں جنہیں عسکری دھڑوں یا ان کے باقی ماندہ عناصر پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان مطالبات میں ہتھیاروں کی حوالگی اور انہیں صرف ریاست کے ہاتھ میں رکھنا، نیز ان عسکری دھڑوں کا سیاسی جماعتوں میں تبدیل ہونا اور بیلٹ باکس کے ذریعے سیاسی مقابلہ کرنا شامل ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان تمام مطالبات کا سرچشمہ ایک ہی جگہ ہے اور وہ امریکہ ہے، جس کی وجہ سے ان ممالک میں ان دھڑوں کا انجام ایک جیسا ہی ہونے والا ہے، بشمول یمن کے، جس میں صرف وقت کا ایک معمولی فرق پایا جاتا ہے۔
خطے کی صورتحال کچھ یوں نظر آتی ہے؛ امریکہ اور غاصب وجود کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتلِ عام جاری ہے اور رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ فلسطین، لبنان، عراق، شام، ایران اور یمن میں بمباری اور تباہی عروج پر ہے اور پورے خطے کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح تباہ کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ مسلم ممالک میں کفر اور اس کے علمبرداروں کے منصوبوں کی خدمت کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو خیر اور عدل کے اس پیغام سے دور رکھا جائے جس کا ان کے رب نے انہیں مکلف کیا ہے۔ یہ وہ پیغام ہے جس نے انہیں اور ان سے پہلے کے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا، ذلت کے بعد انہیں عزت بخشی، اور کمزوری کے بعد انہیں طاقت عطا کیا۔ اور یہ پیغام ان شاء اللہ یقیناً نافذ ہو کر رہے گا اور قائم ہو گا، اور یہ ان لوگوں کے شعور، عزم اور قربانی کے ذریعے ہو گا جنہوں نے خود کو اللہ کے دین اور اس کے آخری پیغام کے لیے وقف کر دیا ہے، یعنی دشمنانِ اسلام اور ان کے حواریوں کی خواہشات کے برعکس نبوت کے نقشِ قدم پر قائم دوسری خلافتِ راشدہ، تاکہ زمین عدل و انصاف سے بھر جائے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی تھی، اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے۔
﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاء وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾
اور اس دن مومن خوش ہو جائیں گے، اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، اور وہ نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا ہے۔ (سورۃ الروم: 4-5)




