الأربعاء، 10 جمادى الأولى 1448| 2026/10/21
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

امریکہ اور چین: کشمکش کا انتظام یا کھلی محاذ آرائی؟

 

تحریر: استاد نبیل عبد الکریم

(ترجمہ)

 

 

واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات اب محض کسی تجارتی تنازع یا معاشی مقابلے تک محدود نہیں رہے۔ بلکہ یہ ٹیکنالوجی، سپلائی چینز، منڈیوں، اثر و رسوخ، اتحادوں، عسکری صلاحیت اور مستقبل کے بین الاقوامی نظام کے خدوخال پر برپا ہونے والی ایک ہمہ جہت کشمکش ہے۔ تاہم حیرت انگیز تضاد یہ ہے کہ یہ کشمکش ایسی دو بڑی طاقتوں کے مابین جاری ہے جو ایک دوسرے سے اپنے تعلقات مکمل طور پر منقطع (decouple) بھی نہیں کر سکتیں۔ اور تنازعات کے انتظام (conflict management) کا اصل نکتہ بھی یہی ہے کہ یہ نہ تو روایتی معنوں میں کوئی نئی سرد جنگ ہے، اور نہ ہی مکمل معاشی امن کی کوئی حالت۔

 

امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی چن پنگ کے درمیان ستمبر 2026ء کی ملاقات نے موجودہ مرحلے کی ایک واضح تصویر پیش کی۔ دونوں فریقوں نے رابطے کے راستے کھلے رکھے اور تجارتی کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی، اگرچہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ ان کے بنیادی اختلافات حل ہو چکے ہیں۔ بلکہ اس پیش رفت نے یہ ثابت کیا کہ خود مذاکرات بھی کشمکش کو سنبھالنے اور اس کے انتظام کا ایک حصہ ہو سکتے ہیں۔ اس دورے کے بعد تجارت سے متعلق چند اقدامات اور مصنوعی ذہانت پر بات چیت کے آغاز کا اعلان کیا گیا، جبکہ تائیوان اور ٹیکنالوجی جیسے معاملات بدستور شدید نزاع کا باعث بنے رہے۔

 

واشنگٹن ٹیکنالوجی، تجارت اور سلامتی کے محاذوں پر بیجنگ پر دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ چین امریکی وسائل اور ذرائع پر انحصار کم کر کے اپنی اسٹریٹجک خود مختاری کی صلاحیت بڑھانے کی بھرپور کوشش میں مصروف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، دونوں معیشتیں ایک دوسرے سے گہرے روابط میں جڑی ہوئی ہیں۔ یہ مساوات بظاہر متضاد دکھائی دیتی ہے، لیکن درحقیقت یہ جدید دور کی بڑی طاقتوں کے مابین رقابت کی عکاس ہے، جہاں ایک طرف شدید مقابلہ ہے تو دوسری جانب رابطے کے ایسے پُل بھی قائم ہیں جو تعلقات کے مکمل بگاڑ اور کٹاؤ کو روکتے ہیں۔

 

گزشتہ دہائیوں کے دوران چین نے ایسی معاشی، صنعتی اور ٹیکنالوجیکل طاقت حاصل کر لی ہے جس نے اسے امریکہ کے مدمقابل ایک حقیقی اسٹریٹجک حریف بنا کھڑا کیا ہے۔ تاہم، طاقت کا مالک ہونا لازمی طور پر اس بات کی علامت نہیں کہ اسے براہِ راست جنگ میں استعمال کرنے کی خواہش بھی موجود ہے۔

 

چین کے حساب کتاب کا گہرا تعلق وقت کے عنصر سے ہو سکتا ہے۔ اگر وہ اپنی پیداوار بڑھانے، اپنی ٹیکنالوجیز کو ترقی دینے، بیرونی انحصار کم کرنے، اپنے تجارتی نیٹ ورکس کو وسعت دینے اور اپنی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو گزرتے ہوئے ہر سال کے ساتھ مذاکرات میں اس کا موقف مضبوط تر ہوتا جائے گا۔ کیا چین وقت حاصل کر کے (playing for time) اس طویل المدتی کشمکش میں کامیابی سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ امریکہ چین سے یہی وقت چھین کر فتح کا خواہاں ہے؟ اگر یہ بات درست ہے تو اس مقابلے کا اصل مدار صرف موجودہ اقدامات پر ہی نہیں، بلکہ اس خوف پر بھی ہے کہ آنے والی ایک دہائی میں دوسرا فریق کیا صورت اختیار کر جائے گا۔ یوں وقت بذاتِ خود کشمکش کا ایک بنیادی میدان بن چکا ہے۔

 

طاقت کا مطلب ہمیشہ حریف پر فوری وار کرنا نہیں ہوتا؛ بلکہ بعض اوقات اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ آنے والے سال آپ کے حق میں بہتر نتائج لائیں۔ یہ نکتہ چین کے طرزِ عمل کے ایک اہم پہلو کی وضاحت کرتا ہے: اسے ہر معرکے میں حتمی فتح کی ضرورت نہیں ، بلکہ بعض اوقات اپنے حریف کے مقاصد کو ناکام بنانا اور ساتھ ہی ساتھ بتدریج اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے رہنا ہی اس کے لیے کافی  ہے۔

 

امریکہ کے لیے یہ چیلنج بالکل مختلف نوعیت کا ہے: وقت جتنا طویل ہوتا جائے گا اور چین کی ٹیکنالوجیکل، صنعتی اور عسکری ترقی جس قدر جاری رہے گی، اہم شعبوں میں دونوں کے درمیان فاصلہ اتنا ہی سمٹتا چلا جائے گا۔ یہی وہ محرک ہے جو امریکہ کی بیشتر پالیسیوں کی بنیاد فراہم کرتا ہے،جن کا مقصد چین کے ابھار کی رفتار کو سست کرنا ہے، بالخصوص ان ٹیکنالوجیز کے میدان میں جنہیں اسٹریٹجک اعتبار سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔

 

یوں وقت ایک غیر جانبدار عنصر کے بجائے ایک اسٹریٹجک وسیلے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ چین زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرنے کے درپے ہے، جبکہ امریکہ کا مقصد چین کو اس وقت کے بلا روک ٹوک استعمال سے روکنا ہے۔ چنانچہ یہ مقابلہ اس بات کا بن گیا ہے کہ کون مؤثر انداز میں وقت "خرید" سکتا ہے اور کون اپنے حریف کو اس سے محروم کر سکتا ہے۔

 

اگر یہ تعلق محض ایک تجارتی تنازع ہوتا تو اس پر قابو پانا آسان ہوتا۔ لیکن معاشی رقابت کی تہہ میں ایک تیز رفتار عسکری اور اسٹریٹجک دوڑ پوشیدہ ہے، جس میں تائیوان سب سے حساس اور سلگتا ہوا نقطہ بنا ہوا ہے۔ تائیوان سے متعلق کوئی بھی بحران اس جزیرے کی حدود سے تیزی سے باہر نکل سکتا ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور چین کے مابین ایک ایسا تصادم جنم لے سکتا ہے جس کے عالمی معاشی اور عسکری اثرات مرتب ہوں گے۔

 

تاہم، عسکری قوت کا حامل ہونا خود بخود اس کے استعمال پر آمادگی کی دلیل نہیں ہوتا۔ ڈیٹرنس (خوف و بازداری) ایک مختلف اصول پر کام کرتی ہے: یعنی اپنے حریف کو عملی طور پر جنگ لڑے بغیر ہی اس بات کا یقین دلانا کہ آپ مقابلے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں طاقتیں دو متوازی پٹریوں پر آگے بڑھ رہی ہیں: ایک طرف اپنی قوت کو مجتمع کرنا اور دوسری طرف رابطے کے ذرائع کو بحال رکھنا۔

 

واشنگٹن کا مقصد اپنی ٹیکنالوجیکل اور عسکری برتری کو برقرار رکھنا، اپنے اتحادی نیٹ ورک کو مضبوط بنانا اور چین کو ایشیا میں علاقائی تسلط قائم کرنے سے روکنا ہے۔ تاہم، چین کے ساتھ براہِ راست جنگ کوئی آسان یا سیدھا فیصلہ نہیں ہے۔ چین کو اتنی آسانی سے تنہا نہیں کیا جا سکتا، اور امریکی و چینی معیشتیں پیچیدہ تجارتی، صنعتی اور مالیاتی روابط کے ذریعے باہم جڑی ہوئی ہیں۔ مزید برآں، دو ایٹمی طاقتوں کے مابین کسی بھی عسکری تصادم کے خطرات ان کے دوطرفہ تنازع کی حدود سے کہیں آگے تک پھیل سکتے ہیں۔

 

دونوں فریق اپنی کمزوریوں کو کم سے کم کرنے اور دباؤ ڈالنے کی اپنی صلاحیتوں (لیوریج) کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی تگ و دو میں ہیں۔ امریکہ کو جدید ٹیکنالوجی، مالیات، عالمی منڈیوں تک رسائی اور اپنے اتحادی نظام میں نمایاں برتری حاصل ہے۔ جبکہ چین ایک وسیع صنعتی بنیاد، پھیلی ہوئی سپلائی چینز، عالمی تجارت میں نمایاں مقام اور روز افزوں ٹیکنالوجیکل و دفاعی صلاحیتوں کا حامل ہے۔

 

چین مؤثر انداز میں یہ موقف اختیار کر سکتا ہے کہ: کسی جلدی کی ضرورت نہیں؛ ہم اپنی صنعت کو مستحکم کریں گے، ٹیکنالوجی کو ترقی دیں گے، منڈیوں کو وسعت دیں گے اور اپنی صلاحیتوں کو مضبوط کریں گے، اور پھر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔ دوسری جانب، امریکہ کو ایک مختلف سوال کا سامنا ہے: وہ کس حد تک چین کو ایسے مرحلے پر پہنچنے کی اجازت دے سکتا ہے جہاں اسے قابو میں رکھنے (containment) کی قیمت ناقابلِ برداشت ہو جائے؟

یہی منطق ٹیکنالوجی پر پابندیوں، سپلائی چینز میں تنوع لانے، اتحادوں کو تقویت دینے اور ایشیا میں مستقل عسکری موجودگی برقرار رکھنے جیسی پالیسیوں کو تقویت دیتی ہے۔ لہٰذا یہ معرکہ نہ صرف موجودہ توازن کا ہے، بلکہ اب سے ایک یا دو دہائیوں بعد کی عالمی طاقت کے ڈھانچے کے خدوخال کا بھی ہے۔

 

کشمکش کا انتظام چلانے کا مطلب تصادم کی عدم موجودگی نہیں ہے؛ بلکہ اس کا مطلب اس کے وقت، دائرہ کار اور اس کے نقصانات و اخراجات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ نتیجتاً، ہم مزید ٹیرف، ٹیکنالوجی پر کنٹرول، فوجی مشقوں اور اتحاد سازی کے ساتھ ساتھ مزید سربراہی اجلاس، مذاکرات، تجارتی معاہدے اور بات چیت کے سلسلے جاری رہتے دیکھ سکتے ہیں۔ اگر چین وقت سے فائدہ اٹھا کر ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل کرنے اور اپنے معاشی و سیکیورٹی تعلقات کو وسعت دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو وقت اس کا حلیف بن جائے گا۔ اور اگر امریکہ اپنی ٹیکنالوجیکل برتری برقرار رکھنے، اپنے اتحادوں کو یکجا رکھنے اور اپنے نظام کے مقابلے میں کسی مکمل اسٹریٹجک متبادل کے ابھار کو روکنے میں کامیاب رہتا ہے، تو وہ وقت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر چکا ہوگا۔

 

لہٰذا، سب سے زیادہ خطرناک صورتِ حال لازمی طور پر کسی بھی فریق کی جانب سے جنگ کا دانستہ فیصلہ نہیں، بلکہ ان میں سے کسی ایک کا اس نتیجے پر پہنچ جانا ہے کہ وقت اس کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ اس موڑ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، خطرات کئی گنا ہو جاتے ہیں اور تدبیر کی گنجائش سمٹ جاتی ہے۔

 

چنانچہ، امریکہ اور چین کے تعلقات کے مستقبل کا فیصلہ شاید محض طیارہ بردار بحری جہازوں کی گنتی، جی ڈی پی کے حجم یا سیمی کنڈکٹرز کی پیداوار سے نہ ہو، بلکہ دونوں فریقوں کی اس صلاحیت پر ہوگا کہ وہ کس حد تک اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں، اپنی طاقت بڑھاتے ہیں، اتحادوں کو برقرار رکھتے ہیں اور قوت کی پوزیشن سے بات چیت کرتے ہیں—اور ساتھ ہی ساتھ کشمکش کے رخ کو اپنے قابو سے باہر نہیں جانے دیتے۔

 

مستقبلِ قریب میں امریکہ اور چین تلوار کی دھار پر اپنا سفر جاری رکھیں گے: تعلقات توڑے بغیر دباؤ ڈالنا، جنگ چھیڑے بغیر مقابلہ کرنا، اور مذاکرات کی ناکامی کے امکانات سے نمٹنے کی تیاری کے ساتھ ساتھ بات چیت جاری رکھنا۔ یہ لازمی طور پر کسی گرم جنگ کا پیش خیمہ نہیں ہے؛ بلکہ خود ایک نئی طرز کی سرد جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے—یعنی دو ایسی طاقتوں کے درمیان ایک منظم کشمکش جو بخوبی جانتی ہیں کہ براہِ راست تصادم تباہ کن ہوگا اور مکمل پسپائی اس سے بھی زیادہ مہنگی پڑے گی۔

 

امریکہ اور چین امن کا انتظام نہیں چلا رہے، بلکہ وہ کشمکش کا انتظام کر رہے ہیں، جہاں دونوں ہی مستقبل کو اپنے حق میں موڑنے کے لیے کوشاں ہیں۔ مگر اس رقابت سے پرے ایک بڑا اور اہم سوال یہ ہے جو ان دونوں سے بالاتر ہے: انسانیت کس قسم کا عالمی نظام چاہتی ہے؟ آج دنیا کو ایک ایسے نظام کی اشد ضرورت ہے جو حقِ زندگی کا احترام کرے، امن کا خواہاں ہو، جنگوں اور تنازعات کو کم کرے، اور انسان، اس کے وقار اور اس کے مستقبل کو اپنی اولین ترجیح بنائے—بجائے اس کے کہ طاقت، دولت اور اثر و رسوخ کو ہی اصل مقصود بنا لیا جائے۔

 

مستقبل کو بڑی طاقتوں کی کشمکش کا یرغمال بن کر نہیں رہنا چاہیے۔ انسانیت کو حقیقی خوشحالی اور سکون سے ہمکنار ہونے کے لیے حکمرانی، معاشرت اور بین الاقوامی تعلقات میں اسلام کے اصولوں اور نظاموں کی ضرورت ہے،جہاں انسانی مسرت کا اصل مفہوم اسلامی اصولوں اور عدل پر مبنی زندگی قائم کر کے اپنے خالق، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔

 

 

Last modified onمنگل, 20 اکتوبر 2026 14:38

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک