بسم الله الرحمن الرحيم
سوال و جواب
موجودہ دور کے مسلمان حکمرانوں سے نصرۃ (عسکری مدد) طلب کرنا!
(عربی سے ترجمہ)
سعدی ذیب عوض کے لئے
سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہمارے معزز شیخ! آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں اور اللہ آپ کو برکت عطا فرمائے۔ اللہ سے دعا ہے کہ آپ خیر و عافیت سے رہیں اور میرا یہ پیغام آپ کو صحت و تندرستی کی حالت میں ملے۔ محترم شیخ ! میرا سوال یہ ہے کہ :
صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے مستند اسناد کے ساتھ مروی ہے، جس کے الفاظ ہیں: «وَإِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ» ”بے شک اللہ اس دین کی مدد ایک فاجر (گنہگار) شخص کے ذریعے بھی فرما دیتا ہے“۔
چونکہ ہمارے حکمران بھی فاسق و فاجر ہیں، تو پھر انہیں طلبِ نصرۃ (عسکری مدد) سے کیوں علیحدہ رکھا جاتا ہے، جبکہ حدیث کے مطابق وہ اس دین کی مدد کر سکتے ہیں؟
اگرچہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ آج کے دور میں افواج ہی عسکری طاقت اور تحفظ کا اصل ذریعہ ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ حکمران سے براہِ راست مخاطب ہونا اور اس سے حمایت حاصل کرنا آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ ان ماتحت افواج کو مخاطب کیا جائے جو کہ اسی حکمران کے تابع ہوتی ہیں اور قتل، خونریزی اور لوگوں کی تباہی میں اسی حکمران کے احکامات کی بجاآوری کرتی رہتی ہیں۔ اور یہی کچھ ہو رہا ہے جو کچھ ہم اپنے اردگرد دیکھ رہے ہیں، وہ اس بات کی واضح دلیل ہے۔
قبیلہ اوس اور خزرج سے نصرۃ (عسکری مدد) کس طرح حاصل ہوئی تھی؟ کیا یہ نصرۃ ان قبیلوں کے انفرادی اشخاص اور سرداروں کی طرف سے تھی یا ان قبیلوں کی حکمران قیادت کی طرف سے تھی؟
براہِ کرم اگر ممکن ہو تو متعلقہ شرعی دلائل کے ساتھ وضاحت فرما دیں۔
اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ پر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں اور اللہ آپ کو برکت عطا فرمائے۔
1- جس حدیث کا آپ نے حوالہ دیا ہے، تو اس کا تعلق ریاست کے قیام کے لئے نصرۃ (عسکری مدد) حاصل کرنے سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اس امر کے جائز ہونے سے ہے کہ ریاستِ خلافت میں رہنے والا کوئی ذمی (أهل الذمة-غیر مسلم شہری) یا کوئی معاهد (وہ شخص جس کی قوم کے ساتھ معاہدہ ہو)، وہ مسلمانوں کی فوج میں ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے دشمنوں کے خلاف لڑ سکتا ہے۔ اس بات کو آپ کے سامنے واضح کرنے کے لئے میں اس موضوع سے متعلق چند نصوص پیش کرتا ہوں:
آپ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے، «ثُمَّ أَمَرَ بِلَالاً فَنَادَى بِالنَّاسِ إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ» ”پھر آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے لوگوں میں منادی کی کہ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوگا، اور یقیناً اللہ اس دین کی مدد (و نصرت) ایک فاجر شخص کے ذریعے بھی کروا لیتا ہے“۔ یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی ریاست میں رہنے والے کسی غیر مسلم یا گناہ گار، جیسے کہ ذمی کے لئے اسلامی فوج میں شامل ہو کر لڑنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ جنگی فنون کا ماہر ہو۔ اس کی دلیل میں درج ذیل امور شامل ہیں:
الف- کتاب "الشخصية الإسلامية" کی دوسری جلد میں، جنگ میں غیر مسلموں سے عسکری مدد (استعانة) حاصل کرنے کے موضوع پر بیان کیا گیا ہے کہ:
(يجوز أن يُستعان بالكفار بوصفهم أفراداً، وبشرط أن يكونوا تحت الراية الإسلامية، بغض النظر عن كونهم ذميين أو غير ذميين، أي سواء أكانوا من رعايا الدولة الإسلامية، أم لم يكونوا. أما الاستعانة بهم كطائفة معينة لها كيان مستقل عن الدولة الإسلامية فلا يجوز مطلقاً، فيحرم أن يستعان بهم بوصفهم دولة مستقلة. والدليل على جواز الاستعانة بالكفار في القتال أفراداً: «أن قزمان خرج مع أصحاب رسول الله ﷺ يوم أحد وهو مشرك، فقتل ثلاثة من بني عبد الدار حملة لواء المشركين، حتى قال ﷺ: إن الله ليأزر هذا الدين بالرجل الفاجر» رواه الطبري في تاريخه...)
”غیر مسلموں سے انفرادی طور پر عسکری مدد حاصل کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ اسلام کے پرچم تلے ہوں، خواہ وہ ذمی ہوں یا غیر ذمی، یعنی خواہ وہ اسلامی ریاست کے شہری ہوں یا نہ ہوں۔ تاہم، ایسے غیر مسلموں سے جو اسلامی ریاست سے الگ ایک مخصوص گروہ کی حیثیت سے آزاد وجود رکھتےہوں تو ان سے مدد طلب کرنا قطعاً حرام ہے۔ کسی آزاد ریاست کے طور پر ان سے عسکری مدد مانگنے کو منع کیا گیا ہے۔ انفرادی طور پر جنگ میں غیر مسلموں سے مدد لینے کے جواز کی دلیل درج ذیل واقعے سے ملتی ہے، ”قزمان غزوۂ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے ساتھ (جنگ کے لئے) نکلا جبکہ وہ مشرک تھا، اور اس نے مشرکین کا پرچم اٹھانے والے بنو عبد الدار کے تین آدمیوں کو قتل کیا، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یقیناً اللہ اس دین کی مدد (و نصرۃ) ایک فاجر شخص کے ذریعے بھی کروا لیتا ہے“۔ (اسے طبری نے اپنی تصنیف ”تاریخ“ میں روایت کیا ہے)...“
ب- اسی طرح الشوکانیؒ کی تصنیف "نيل الأوطار" میں، مشرکین سے مدد حاصل کرنے کے باب میں بیان کیا گیا ہے، (وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ الِاسْتِعَانَةِ بِالْمُشْرِكِينَ «أَنَّ قَزْمَانَ خَرَجَ مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ مُشْرِكٌ فَقَتَلَ ثَلَاثَةً مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ حَمَلَةَ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى قَالَ ﷺ: إنَّ اللَّهَ لَيَأْزُرُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ» كَمَا ثَبَتَ ذَلِكَ عِنْدَ أَهْل السِّيَرِ.] ”مشرکین سے مدد حاصل کرنے کے جواز کی دلیلوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قزمان غزوۂ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے ساتھ (جنگ کےلئے) نکلا جبکہ وہ مشرک تھا، اور اس نے مشرکین کا پرچم اٹھانے والے بنو عبد الدار کے تین آدمیوں کو قتل کیا، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'یقیناً اللہ اس دین کی حمایت (و نصرۃ) ایک فاجر شخص کے ذریعے بھی کروا لیتا ہے'، جیسا کہ سیرت نگاروں کے ہاں یہ بات ثابت ہے“۔
جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ کسی ایسے شخص کے لئے جو ذمی (غیر مسلم شہری) ہو یا معاہد ہو، مسلمانوں کے ساتھ مل کر ان کی فوج میں ان کے دشمنوں کے خلاف لڑنا جائز ہے۔ اس کا خلافت کے قیام کے لئے نصرۃ (عسکری مدد) حاصل کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
2- جہاں تک آپ کے اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا موجودہ دور کے مسلم حکمرانوں سے نصرۃ (عسکری مدد) طلب کرنا جائز ہے؟ تو یہ معاملہ نصرۃ طلب کرنے کے شعبے میں کام کرنے والے شباب کے لئے ہمارے نجی پیغامات میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن میں ان میں سے وہ حصہ اقتباس کے طور پر پیش کرتا ہوں جس کا تعلق موجودہ دور کے اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے نصرۃ طلب کرنے کے بارے میں آپ کے سوال سے ہے:
• ”اگر کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں لوگوں کے امور پر ایک ایسی حکومت قائم ہو جو اپنے ارد گرد کے علاقوں کے اعتبار سے ایک منظم اور علیحٰدہ وجود کی حیثیت رکھتی ہو، خواہ وہ کوئی قبیلہ ہو یا کوئی ریاست، اور وہ ان لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال کرتی ہو اور ان کے امور کا انتظام چلاتی ہو، اور وہاں کے لوگوں میں سے اچھا کام کرنے والے کو صلہ اور برا کام کرنے والے کو سزا دیتی ہو، وغیرہ۔۔۔ اور اگر وہ حکومت اپنے اردگرد کے دیگر علاقوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے کی طاقت اور صلاحیت رکھتی ہو ... تو یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس سے نصرۃ طلب کرنے کا اطلاق ہوتا ہے ...
• نصرۃ طلب کرنے کا طریقۂ کار دو صورتوں میں ہوتا ہے:
پہلا طریقہ: اس علاقہ یا ریاست کے سربراہ سے نصرۃ طلب کرنا، خواہ وہ قبیلے کا سردار ہو یا ریاست کا سربراہ …
دوسرا طریقہ: اس علاقہ یا ریاست کے اندر اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کے ایک گروہ (اہلِ قوت) سے نصرۃ طلب کرنا …
دونوں صورتوں میں اس طریقے کا اطلاق ان علاقوں (یا ریاستوں) کی نوعیت پر منحصر ہے، خواہ وہ ریاستیں ہوں یا قبیلے:
اگر وہ علاقہ یا ریاست اپنے معاملات میں آزاد اور خود مختار ہو، تو اوپر بیان کردہ طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے نصرۃ طلب کرنا جائز ہے: یعنی یا تو اس کی قیادت سے یا پھر اس کے اندر موجود اثر و رسوخ رکھنے والی (اہلِ قوت) شخصیات کے ایک گروہ سے۔
اگر وہ علاقہ یا ریاست کسی بیرونی طاقت سے جڑا ہوا ہو اور وہ اس تعلق کو ختم کرنا نہ چاہتا ہو، اور ہم اس بات سے واقف بھی ہوں، تو ہم اس کی نصرۃ اس وقت تک قبول نہیں کریں گے جب تک کہ وہ اس بیرونی طاقت سے اپنا تعلق منقطع نہ کر لے۔ اس صورت میں، ہم صرف دوسرے طریقے کی طرف رجوع کریں گے، یعنی اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کے ایک گروہ (اہلِ قوت) سے رابطہ کریں گے۔
• رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ اور اس پر غور و فکر کرنے سے یہ امور بالکل واضح ہو جاتے ہیں: …
ہم نے نصرۃ طلب کرنے والے شباب کے لئے ان امور کو نصوص اور ان کے شرعی دلائل کے ساتھ تفصیل سے بیان کیا ہے ... تاہم، میں آپ کے سوال سے متعلق ایک نکتہ یہاں ذکر کرتا ہوں:
]جہاں تک ان قبیلوں کا تعلق ہے جن کے بیرونی طاقتوں سے روابط ہیں، اور ساتھ ہی ان ریاستوں کا جن کے بیرونی طاقتوں کے ساتھ تعلقات ہیں، تو اگر ہمیں ان کے ان بیرونی روابط کا علم ہو تو ہم ان سے نصرۃ طلب نہیں کرتے۔ اور نہ ہی ہم ان کی نصرۃ کو اس طرح قبول کرتے ہیں کہ وہ کسی ایک معاملے میں تو مدد کریں اور کسی دوسرے معاملے میں اس بیرونی ریاست کو خوش کرنے کے لئے ہاتھ روک لیں جس کی وہ حمایت کرتے ہیں۔ اس کے بجائے، اگر ضروری ہو، تو دوسری صورت والا طریقہ کار ہی اختیار کیا جاتا ہے، یعنی ان کے درمیان سے ایسے افراد سے، جو اہلِ قوت میں سے ہوں، ان سے نصرۃ طلب کی جائے جو مل کر ایک ایسی طاقت تشکیل دیں جو تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یہی وہ معاملہ ہے جو قبیلہ بنو شیبان بن ثعلبہ کے ساتھ پیش آیا تھا، جیسا کہ ابن سید الناس کی تصنیف 'عیون الاثر' (1/202) میں ذکر کیا گیا ہے:
”اور قاسم بن ثابت نے — جیسا کہ میں نے ان سے دیکھا — عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، جس میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس مقصد (نصرۃ کی طلب) کے لئے نکلنے کا ذکر ہے۔ ابوبکر صدیقؓ عرب کے قبیلوں کے شجرۂ نسب ، ان کی تاریخ، ان کی طاقت اور ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو بہت بہتر جاننے والے تھے۔ اس لئے وہ آگے آگے چل رہے تھے تاکہ قبیلوں کی پہچان کر سکیں اور بات چیت کا راستہ ہموار کریں۔علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمیشہ بھلائی کے کاموں میں پیش پیش رہتے تھے“۔ انہوں نے پوچھا: 'یہ کون لوگ ہیں؟' انہوں نے کہا: ”یہ بنو شیبان بن ثعلبہ سے ہیں“۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! یہ اپنی قوم کے معزز اور ممتاز لوگ ہیں، جن میں مفروق بن عمرو، هاني بن قبيصہ ، المثنى بن حارثہ اور النعمان بن شريک شامل تھے۔ مفروق بن عمرو وجاحت و جمال اور فصاحت و بلاغت میں ان سب سے بڑھ کر تھا …“
مفروق نے کہا: ”لگتا ہے آپ قریش کے بھائی ہیں؟ ابوبکرؓ نے کہا: اگر آپ کو بتایا جائے کہ قریش کے پاس اللہ کے رسول ہیں اور وہ یہ ہیں؟ مفروق نے کہا: یہ خبر ہم تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے بعد وہ رسول اللہﷺ کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: ”اے قریش کے بھائی ! آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں؟“ رسول اللہ ﷺ پھر آگے بڑھے اور بیٹھ گئے ، ابوبکرؓ کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ پر اپنے کپڑوں سے سایہ کردیا۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: »أَدْعُوكُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنْ تؤوونى وَتَنْصُرُونِي حَتَّى أُؤَدِّيَ عَنِ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَنِي بِهِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ تَظَاهَرَتْ عَلَى أَمْرِ اللَّهِ، وَكَذَّبَتْ رَسُولَهُ،وَاسْتَغْنَتْ بِالْبَاطِلِ عَنِ الْحَقِّ، وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ« ”میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ گواہی دو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور گواہی دو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ میں یہ بھی طلب کر رہا ہوں کہ آپ مجھے تحفظ اور مدد فراہم کریں تاکہ میں وہ پیغام پہنچا سکوں جس کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے ، کیونکہ قریش نےاللہ کے دین کے خلاف لشکر میں شمولیت اختیار کر لی ہے؛ انہوں نے اس (اللہ)کے رسول کو جھٹلادیا ہے ، اور اپنے آپ کو سچ کے بجائے باطل سے مطمئن کر لیا ہے۔ لیکن اللہ بے نیاز ہے ، تمام تعریفوں کے لائق ہے“۔
پھر مفروق نے کہا، ”اللہ کی قسم، اے قریش کے بھائی! آپ نے ہمیں بہترین اخلاق اور نیک اعمال کی دعوت دی ہے۔ یقیناً وہ لوگ جھوٹے ہیں جنہوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کے خلاف سازشیں کیں … “
اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ مثنیٰ بن حارثہ کو بھی اس گفتگو میں شامل کرنا چاہتا تھا، چنانچہ اس نے کہا ... : ”یہ مثنىٰ بن حارثہ ہیں۔ یہ ہمارے بزرگ ہیں اور ہمارے فوجی معاملات کے انچارج ہیں“۔ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے مثنىٰ نے کہا: ”ہم اپنے آپ کو دو ممالک کی سرحدوں کے درمیان پاتے ہیں“۔ ایک یامامہ اور دوسرا سماوہ۔
رسول اللہﷺ نے اس سے پوچھا،«وما هذان الصريان؟» ”آپ کن دو ممالک کی سرحدوں پر واقع ہیں؟“ اس نے جواب دیا، ”ایک طرف ہمارے پاس زمین ہے ، عرب کی اونچی پہاڑیاں اور پہاڑ ہیں جبکہ دوسری طرف ہمارے پاس فارسیوں کی زمین اور کسریٰ کی ندیاں ہیں۔ کسریٰ نے ہمیں اس شرط پر رہنے کی اجازت دی ہے کہ ہم کوئی نئی چیز شروع نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی ایسے شخص کی حمایت کریں گے جو نئی تحریک شروع کرتا ہے۔ اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ فارسی بادشاہ اس کو پسند نہیں کریں گے جس کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں، جبکہ عربوں کی سرزمین میں یہ رواج ہے کہ غلطی کرنے والوں کو معاف کرنا اور ان کا عذر قبول کرنا، اور فارسیوں کی سرزمین کا رواج ہے کہ جو لوگ غلطیاں کرتے ہیں انہیں معاف نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان کے عذر قبول کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا، اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو اپنی سرزمین پر لے جائیں اور عربوں کے خلاف آپ کی مدد کریں تو ہم اس ذمہ داری کو قبول کر سکتے ہیں (تاہم ہم فارسیوں کی مخالفت کی ذمہ داری برداشت نہیں کر سکتے)“۔یہ سن کر رسول اللہﷺ نے اُن سے کہا: »ما أسأتم الرد إذ أفصحتم بالصدق، إنه لا يقوم بدين الله إلا من حاطه من جميع جوانبه «”آپ کا جواب برا نہیں رہا کیونکہ آپ نے کھل کر بات کی ہے۔ تاہم ، صرف وہی لوگ اللہ کے دین کو قائم کر سکتے ہیں جو اس کی ہر زاویے سے حفاظت کریں“… [اقتباس ختم]
چنانچہ، رسول اللہ ﷺ یہ جان گئے کہ بنو شیبان کا اہلِ فارس کے ساتھ ایک معاہدہ تھا، اور اگرچہ وہ عربوں کے خلاف تو نبی کریم ﷺ کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کرنے پر راضی ہو گئے تھے، لیکن انہوں نے یہ شرط عائد کی تھی کہ اس نصرۃ کو فارسیوں کے خلاف کسی اقدام سے الگ رکھا جائے۔ تاہم، رسول اللہ ﷺ نے اس شرط کو قبول نہیں فرمایا، باوجود اس کے کہ وہ قریش اور عربوں کے خلاف آپ ﷺ کو نصرۃ دینے پر راضی ہو چکے تھے۔ انہوں نے فارسیوں کے ساتھ اپنے معاہدے کی وجہ سے ہی یہ شرط رکھی تھی کہ اس نصرۃ کو فارسیوں سے الگ رکھا جائے۔ اگرچہ نبی کریم ﷺ کو قریش کے خلاف نصرۃ کی ضرورت تھی، لیکن آپ ﷺ نے صرف اسی نصرۃ کو منظور کیا اور اسے قبول فرمایا جو تمام کفار کے خلاف ہو اور غیر مشروط ہو۔
مختصر یہ کہ، رسول اللہ ﷺ کے مبارک دور میں نصرۃ (عسکری مدد) اسی طرح طلب کی گئی تھی۔ یہ وہی طریقہ کار ہے جس پر ہم اللہ کی مدد سے کاربند ہیں، اور ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں نبوت کے طریقے پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلامی طرزِ زندگی کو دوبارہ بحال کرنے میں کامیابی عطا فرمائے ...
مجھے امید ہے کہ یہ وضاحت کافی ہو گی، اور اللہ ہی بہتر جاننے والاہے اور نہایت حکمت والا ہے۔
آپ کا بھائی،
عطاء بن خلیل ابو الرشتہ
27 ذوالقعدۃ 1447 ہجری
بمطابق 14مئی، 2026 عیسوی
امیرِ حزب التحریر




