بسم الله الرحمن الرحيم
پریس ریلیز
امریکی ایماء پر قبائلی علاقوں میں مزید فوجی آپریشنوں کے لئے خیبر پختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ حالات کو مزید تباہی کی جانب دھکیل دے گا، کیونکہ 'ہارڈ اسٹیٹ اپروچ' سے پاکستان کے مسلمانوں کو امریکی راج کے سامنے نہیں جھکایا جا سکتا
11 اکتوبر کو وفاقی حکومت کی ایڈوائس پر صدر زرداری نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کے نوٹیفیکیشن پر دستخط کر دئیے۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ بیان کے مطابق، گورنر راج اور ایمرجنسی، صوبائی حکومت کی جانب سے "دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لا تعلقی" کی بنا پر لگائی گئی ہے۔ 2002 سے جاری اس غیر مقبول امریکی جنگ میں کئی درجن چھوٹے اور بڑے فوجی آپریشن کیے جا چکے ہیں، جبکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ فوجی و سویلین حکمران درجنوں بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں، تاہم نہ تو عسکریت پسندوں کی طرف سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں کمی آ رہی ہے اور نہ ہی فوجی آپریشنوں کی شدت میں۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کے 'فیورٹ فیلڈ مارشل' عاصم منیر کی طرف سے 'ہارڈ اسٹیٹ اپروچ' کے بعد اس انتہائی غیر مقبول جنگ میں مزید شدت آ چکی ہے۔
منیر-شہباز حکومت، پاکستان اور اس خطے میں امریکی راج کی محافظ ہے۔ امریکہ نے پاکستان کے حکمرانوں کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ افغان طالبان حکومت کو دباؤ کے ذریعے کنٹرول کریں اور افغانستان کو واشنگٹن کی جانب سے دی گئی پالیسی کے مطابق عالمی آرڈر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں۔ اس پالیسی کے عملی نفاذ کے لیے پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے قبائلی علاقوں کی طرف ایک سخت گیر پالیسی اختیار کر رکھی ہے جس کا مقصد قبائلی علاقوں میں جنگ کے شعلے بھڑکا کر رکھنا، افغانسان پر معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے بارڈر کو بند رکھنا، افغانستان کے سرحدی علاقوں پر بمباری کرنا اور افغان مہاجرین کو ملک سے بے دخل کرنا شامل ہے۔ امریکہ کی طرف سے دی گئی ہدایات کے نفاذ کے لیے پاکستان کی حکومت دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے بیانیے کا سہارا لے رہی ہے جبکہ حقیقت میں حکومت کا اصل مقصد قبائلی علاقوں اور بارڈر ایریا میں جنگ کو طول دینا ہے تاکہ افغانستان کی طالبان حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ پاکستانی حکومت کی یہ پالیسی 2021 کے افغانستان کے امریکی انخلاء کے بعد نافذ کی گئی، جبکہ اس سے پہلے پاکستان دعویٰ کرتا تھا کہ وہ افغانستان میں بھارت نواز حکومت کے خلاف ہے اور وہاں افغان طالبان کی شکل میں ایک دوست حکومت قائم کرنے کیلئے سرکردہ ہے۔ صرف چند سالوں میں، امریکہ کے حکم اور اس کی ڈکٹیشن پر، پاکستان کے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے پاکستان کی مغربی سرحد پر قائم ہونے والی ایک دوست حکومت کو دشمن ڈکلیئر کر دیا ہے، جبکہ بارڈر کے دونوں طرف کلمہ گو مسلمان بستے ہیں اور بارڈر کے دونوں طرف مسلم سر زمین ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کی امریکہ نواز پالیسی کا اصل خمیازہ ہماری افواج، بارڈر علاقوں اور ان کے آس پاس بسنے والے مسلمان اور ہماری پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھگت رہے ہیں۔
اے افواج پاکستان! پاک افغان سرحدی علاقوں میں جنگ کی فضا اور مسلمانوں کی آپس میں لڑائی اسلام کی رو سے حرام ہے۔ مسلمان کا خون دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے۔ مسلمانوں کی آپس کی جنگ مسلمانوں کی طاقت کو کمزور کرتی ہے اور کافر ریاستوں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ مسلم علاقوں میں اپنا اثرورسوخ قائم کریں۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا:
﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ﴾
"اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔" (سورۃ الانفال:47)۔
کیا ہم براہ راست اس بات کا مشاہدہ نہیں کر رہے کہ ہماری طاقت آپس کی لڑائی سے کمزور ہو رہی ہے؟
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾
"اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، تو اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اللہ اس پر غضب ناک ہوا، اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔" (سورۃ النساء:93)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ»
"ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت حرام ہے۔" (صحیح مسلم)
قبائل، افواج اور امت سب پر لازم ہے کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائی کو روکیں اور اس کے اصل ذمہ داروں کو سبکدوش کریں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا»
، اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، صحابہ نے عرض کیا، مظلوم کی مدد تو سمجھ میں آتی ہے، ظالم کی مدد کیسے کریں؟ آپﷺ نے فرمایا: «تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ»، ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روک دو۔ (صحیح بخآری)
موجودہ حکمران، پرویز مشرف، کیانی، راحیل شریف اور باجوہ کی طرح امریکہ کی غلامی کے راستے پر گامزن ہیں، جنہیں جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت ہے۔ امریکی راج پوری دنیا میں لڑکھڑا چکا ہے، امریکہ کی فوجی شکست کا تماشا پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے۔ تو کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ امریکی استعمار سے چھٹکارا حاصل کیا جائے؟ حزب التحریر آپ کو اسلام کے مکمل نفاذ، مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور اخوت اور خلافت کے دوبارہ قیام کے شرعی فریضہ کی طرف بلاتی ہے، جس کا آغاز پاکستان سے ہو گا اور جو جلد مراکش سے لے کر انڈونیشیا کو اپنے اندر ضم کر لے گی۔ ہم مکمل تیاری کے ساتھ آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ خلافت کے قیام کیلئے حزب التحریر کو نصرۃ دیں۔ حزب التحریر امت مسلمہ کا سب سے بڑا سیاسی ڈھانچہ ہے، جو 73 سال سے امت کی رہنمائی کر رہی ہے۔ امریکی راج کو مسترد کرو، منیر-شہباز حکومت کو مسترد کرو اور خلافت کے قیام کیلئے آگے بڑھو۔
ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس
ہجری تاریخ :4 من جمادى الأولى 1448هـ
عیسوی تاریخ : منگل, 20 اکتوبر 2026م
حزب التحرير
ولایہ پاکستان




