المكتب الإعــلامي
فلسطين
| ہجری تاریخ | 23 من ربيع الثاني 1448هـ | شمارہ نمبر: B/S - 1448 / 07 |
| عیسوی تاریخ | پیر, 05 اکتوبر 2026 م |
پریس ریلیز
سیلاب اقصیٰ کے تین سال بعد
7 اکتوبر 2023ء، تین سال قبل کا ایک ایسا دن، جو امتِ مسلمہ کی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔ وہ صبح دشمن کی کمزوری کو بے نقاب اور اس نام نہاد ”ناقابلِ تسخیر وجود“ کے افسانے کو چکنا چور کر گئی۔ اس دن ان حکومتوں کا اصل چہرہ بھی سامنے آ گیا جو ایک عرصے سے اس عذر کے پیچھے فلسطین سے غداری کرتے آئے تھے کہ وہ اس دشمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ وہ دن تھا جب مجاہدین کے ایک چھوٹے سے گروہ نے ثابت کر دیا کہ آزادی کا حصول ممکن ہے؛ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ جن لوگوں کے پاس فیصلہ کن اقدام کرنے کی طاقت موجود ہے، وہ اخلاص کے ساتھ اس معاملے کو حتمی طور پر حل کرنے کا پختہ ارادہ کر لیں۔
امتِ مسلمہ کبھی فراموش نہیں کرے گی کہ 7 اکتوبر 2023ء نے اس کے اندر عزت، قوت اور جہاد کی روح کو پھر سے زندہ کر دیا۔ وہ اس دو بدو لڑائی (Zero-Range Combat) کو نہیں بھولے گی، نہ ان مجاہدین کو جو دشمن کے ٹینکوں پر سوار ہو گئے، اور نہ اس شہید کو جو سجدے کی حالت میں پایا گیا۔ امت ان عظیم الشان کارناموں کو بھی نہیں بھولے گی، جو محمد ﷺ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دور کی یاد تازہ کراتے ہیں۔
امت یہ حقیقت بھی نہیں بھولے گی کہ اس کا دشمن قتل عام کرنے میں تو ماہر ثابت ہوا، لیکن حقیقی میدانِ جنگ میں مردوں کے طرح مقابلہ کرنے میں ناکام رہا؛ کہ حقیقی جنگ ہتھیار نہیں، بلکہ بہادر اور ثابت قدم انسان لڑتے ہیں؛ اور جن کے پاس ایسے باہمت اور ثابت قدم افراد موجود ہوں، وہ دنیا کے طاقتور ترین ہتھیاروں کے سامنے بھی سرِ تسلیم خم نہیں کرتے۔
امتِ مسلمہ کبھی فراموش نہیں کرے گی کہ غزہ کو یہودی وجود نے ان ہتھیاروں کے ذریعے لہولہان کیا جو بڑی طاقتوں نے اسے فراہم کیے، جن میں سب سے نمایاں امریکہ تھا۔ وہ ان سپلائی لائنز کو بھی نہیں بھولے گی جو مسلم سرزمینوں میں موجود بعض حکمرانوں نے اس ریاست کے لیے فراہم کیں؛ یہ راستے اس کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتے تھے اور امت کے جسم اور سرزمین کو چیرتے ہوئے گزرتے رہے۔
امت یہ بھی نہیں بھولے گی کہ ان مسلم حکومتوں نے غزہ کا محاصرہ ہر سمت سے مزید سخت کر دیا، دوا، پانی اور خوراک کی فراہمی روک دی، اور یوں عملاً غزہ کے خلاف جاری جنگ میں فریق ثانی بن گئے۔
یقیناً، امتِ مسلمہ یہ بھی فراموش نہیں کرے گی کہ غزہ اس وقت بھی ثابت قدم رہا جب پوری دنیا، اور بالخصوص وہ حکمران جنہوں نے اپنی تقدیر مغرب کے ساتھ باندھ رکھی تھی اور اپنی بقا کو اس وجود کی بقا سے وابستہ کر لیا تھا، جو اس کے خلاف جنگ میں شریک تھے۔ امت ان مظاہروں، اپنے غم و غصے کے اظہار اور ان پُرزور مطالبات کو بھی نہیں بھولے گی جن میں غزہ کی حمایت اور فلسطین کی آزادی کے لیے فوجیں بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا۔ کبھی ان تحریکوں کا راستہ روکنے اور کبھی انہیں دبانے کی کوشش کی گئی، کیونکہ حکمرانوں کو یہ خوف لاحق تھا کہ امت کے اندر بھڑکنے والا یہ غصہ، یہودی وجود تک پہنچنے سے پہلے خود ان حکمرانوں کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔
امت یہ بھی نہیں بھولے گی کہ غزہ کے لیے پوری دنیا میں آواز بلند ہوئی اور عالمی رائے عامہ نے یہودی وجود کے ظلم و بربریت کو پہچاننا شروع کر دیا—بلکہ ان حکمرانوں کے کردار کو بھی، جنہوں نے اس یہودی وجود کو قائم کیا اور اسے برقرار رکھنے میں معاونت کی۔ یہاں تک کہ غزہ پوری دنیا کے لیے ایک علامت بن گیا اور عالمی نظام کی مجموعی کیفیت کو تبدیل کرنے والی ایک مؤثر قوت بن کر ابھرا۔
امتِ مسلمہ یہ بھی نہیں بھولے گی کہ کس طرح حکمرانوں نے ٹرمپ کی بات مانی اور ایک “بورڈ آف پیس” قائم کیا، گویا وہ امت اور پوری دنیا میں بھڑکتے ہوئے شعلوں کو بجھانے کے لیے آگ بجھانے والا آلہ ہاتھ میں لیے کھڑے ہوں۔ امت یہ بھی نہیں بھولے گی کہ یہودی وجود اپنی تمام تر فوجی طاقت، ہتھیاروں اور قوت کے باوجود اپنے قیدیوں کو رہا نہ کرا سکی، یہاں تک کہ ٹرمپ کی قیادت میں بعض حکمرانوں نے جنگ بندی کے پردے میں انہیں رہا کروا لیا—یعنی جس کام کو یہ وجود اپنی فوجی طاقت کے ذریعے حاصل نہ کرسکی، وہ دھوکے اور فریب کے ذریعے حاصل کر لیا گیا۔ پھر انہوں نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا اور منہ پھیر لیا، اور غزہ کو ایسے دشمن کے حوالے کر دیا جو قتل کرتا ہے، بھوکا رکھتا ہے اور محاصرہ کیے ہوئے ہے۔ یوں انہوں نے عملاً غزہ کو ٹرمپ اور نیتن یاہو کے حوالے ایسے کردیا جیسے اسے قربانی کے لیے پیش کیا جا رہا ہو؛ گویا وائٹ ہاؤس کی دہلیز پر اسے ذبح کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہو۔
اور بالآخر، امتِ مسلمہ یہ حقیقت بھی کبھی فراموش نہیں کرے گی کہ ایک امت کی حقیقی تصویر سے گرد و غبار چھٹ چکا ہے: اس کی فتح ایک ہے، اس کی جنگ ایک ہے، اس کا امن ایک ہے، اور اس کا غصہ و اطمینان بھی ایک ہی جسم کے مانند ہے۔ امت اب یہ پہچان چکی ہے کہ اس کے درمیان قائم سرحدیں اور رکاوٹیں محض استعمار کی چھوڑی ہوئی میراث ہیں؛ وہ پرانی لکیریں ہیں جو بہت پہلے کھینچ دی گئی تھیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان نشانات کو بھی مٹا دیا جائے اور ان حکمرانوں کو بھی ختم کیا جائے جو انہی مصنوعی سرحدوں کے سہارے قائم ہیں۔ سیلابِ اقصیٰ (Aqsa flood) کے تین سال گزر چکے ہیں۔ غزہ میں دسیوں ہزار شہداء ہو چکے ہیں اور لاکھوں زخمی ہوئے ہیں، جبکہ بھوک، پیاس، شدید موسمی حالات، غربت اور تنگ دستی وہاں کے حالات کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب یہودی وجود کی اس شبیہ کو توڑ دینے کی سزا ہے جسے وہ ناقابلِ شکست ثابت کرنا چاہتی تھی، اور اس کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی ایک بے سود کوشش ہے۔ ساتھ ہی یہ اس احساس کو دفن کرنے کی کوشش بھی ہے کہ امتِ مسلمہ ایک وحدت ہے، جو غزہ کے درد کو محسوس کرتی ہے اور اپنی وحدت کو یاد رکھتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی دشمن خواہش رکھتے ہیں، لیکن ان کی امیدیں خاک میں مل چکی ہیں۔ اب یہ قافلہ پیچھے نہیں لوٹ سکتا، کیونکہ امت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سے ماضی کی طرف واپسی ممکن نہیں رہی۔
رہی بات امتِ مسلمہ کی، تو اسے اپنی یادداشت تازہ کرنا ہوگی اور اپنی روحِ جہاد کو دوبارہ بیدار کرنا ہوگا۔ اسے یاد رکھنا ہوگا کہ اللہ ﷻ اہلِ ایمان کا دفاع فرماتا ہے اور وہی اس امت کا مددگار ہے۔ امت کو سیلابِ اقصیٰ کی اس کارروائی کو ایک کہیں زیادہ بڑے سیلاب کی چنگاری میں تبدیل کرنا ہوگا—ایسا سیلاب جو محض اہلِ غزہ کی مدد، مسجدِ اقصیٰ اور سرزمینِ مبارک کی آزادی، یا حکمرانوں کے خاتمے تک محدود نہ ہو؛ نہ ہی ایسا ہو کہ امت کچھ عرصے کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے کسی ایک قائد کی قیادت میں متحد ہو اور پھر اس کا سفر رک جائے۔ بلکہ امت کو فتح کے بعد فتح کی جانب مسلسل آگے بڑھنا ہوگا، یہاں تک کہ اس کے ہاتھوں کفر کی کمزور ہوتی ہوئی طاقتیں پاش پاش ہوجائیں۔ اسے روئے زمین پر پھیلنا ہوگا، اللہ ﷻ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنا ہوگا اور علاقوں کو فتح کرنا ہوگا، یہاں تک کہ امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ جائے جس کی پیش گوئی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی: «إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَسَيَبْلُغُ مُلْكُ أُمَّتِي مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا»”بے شک اللہ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ کر اس کے مشرق و مغرب میرے سامنے کردیے، اور میری امت کی بادشاہت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک میرے لیے زمین سمیٹی گئی ہے۔“ پس ہاں، امت اٹھ کھڑی ہو—ثابت قدم اور بے خوف ہوکر— یہاں تک کہ وہ غزہ اور اہلِ غزہ کی مدد کرے اور ان کی نصرت میں ناکامی کے گناہ سے خود کو بری کرے؛ یہاں تک کہ وہ مسجدِ اقصیٰ کو آزاد کرے—وہ مسجد جو اپنے ان فاتحین کی نمازوں کی منتظر ہے جو اسے آزاد کرائیں گے—اور بیت المقدس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور صلاح الدین رحمہ اللہ کی آوازیں، نیز حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دوبارہ بلند کرے۔ اور یہاں تک کہ القدس کو خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کا دارالحکومت قرار دے۔
﴿وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ وَإِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ﴾
”اور یقیناً ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے بارے میں ہمارا فیصلہ پہلے ہی صادر ہو چکا ہے کہ بے شک وہی مدد یافتہ ہوں گے، اور یقیناً ہمارا لشکر ہی غالب ہوکر رہے گا“ [سورۃ الصافات: 171–173]۔
ارض مقدس فلسطین میں حزب التحریر کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير فلسطين |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: www.pal-tahrir.info |
E-Mail: info@pal-tahrir.info |




