الأحد، 29 ربيع الثاني 1448| 2026/10/11
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کے خلاف حزب التحریر کے احتجاجی مظاہرے امریکی صلیبی جنگ کے لئے مزید ایندھن بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی


حزب التحریر ولایہ پاکستان نے ملک بھر میں وادی تیراہ میں فوجی آپریشن اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سیکڑوں فوجیوں اور قبائلی مسلمانوں کی اموات کی خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ پاکستان کی قیادت میں موجود غداروں نے یہ فوجی آپریشن 5اپریل بروز جمعہ 2013کو بغیر کسی پیشگی اعلان کے شروع کیا ۔ان فوجی آپریشنز کا مقصدیہ ہے کہ افواج پاکستان کو استعمال کرکے اٖفغانستان پر قابض بزدل امریکی افواج کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود قبائلی مسلمانوں کی جانب سے مسلح مزاحمت سے بچایا جائے۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر''تیراہ میں آپریشن :پاک فوج کو امریکی صلیبی جنگ کا ایندھن نہ بناؤ ‘‘اور''تیراہ میں آپریشن،امریکہ سے وفاداری اور امت سے غداری‘‘تحریر تھا۔ مظاہرین قبائلی علاقوں میں امریکی صلیبی جنگ کے لیے پاکستان کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی کے خاتمے کا مطالبہ کررہے تھے۔


وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کے ذریعے جنرل کیانی نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہی پاکستان کا اصل حکمران ہے جبکہ نگران جمہوری حکومت اسلام آباد میں اس معاملے سے لاتعلق بیٹھی ہے۔ایک طرف جب پورا ملک بجلی کے بدترین بحران کا شکار ہے اور کڑوڑوں لوگ گرمی دور کرنے کے لیے پنکھا تک چلانے سے محروم ہیں جنرل کیانی اور پاکستان کی قیادت میں موجود چھوٹے سے غداروں کے ٹولے کو صرف اس بات کی فکر ہے کہ کسی طرح امریکی مفادات کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ بجائے اس کے کہ ان غداروں کو اسلامی احکامات کے صریح خلاف ورزی اور امت کے مفادات سے چشم پوشی پر ان کا احتساب کیا جاتا ،جمہوریت اور آمریت ان کے غدارانہ اور حرام اعمال کو ''قانونی چھتری‘‘ فراہم کرتیں ہیں کیونکہ یہ دونوں انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ہیں جواللہ سبحانہ وتعالی کے اوامر و نواہی کو معطل کردیتے ہیں۔

حزب التحریر افواج پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس سرزمین پر خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ فراہم کریں۔ یقیناً حزب التحریر خلافت کے قیام میں ہماری قیادت کرنے اور امریکی قبضے کے بھیانک دنوں کے خاتمے کے لیے ہمارے درمیان میں موجود ہے۔ حزب التحریر نے 191دفعات پر مشتمل آئین تیار کیا ہے جس کی ہر دفعہ کے لیے حزب نے قرآن و سنت سے تفصیلی دلائل بھی بیان کیے ہیں۔ حزب نے ایسی کتابوں کا ایک پورا ذخیرہ ترتیب دیا ہے جو زندگی میں درپیش مختلف مشکلات اور معاملات کے اسلام سے حل ،اس کی تفصیلات اور اس کے نفاذکے تفصیلی طریقہ کار کو بیان کرتیں ہیں۔ اس کے علاوہ حزب التحریر نے کثیر تعداد میں ایسے قابل، باخبر،باشعور اور جاں نثارمرد اور خواتین تیار کیے ہیں جو خلافت کے قیام کے بعد خلیفہ کو اسلام کی بنیاد پر حکمرانی میں معاونت فراہم کریں گے اور اسلام کے مکمل اور بھرپورنفاذکے لیے خلیفہ کا سخت احتساب بھی کریں گے۔ حزب التحریر دنیا کی سب سے بڑی جماعت ہے جو پوری مسلم دنیا میں تمام مسلم ریاستوں کو ایک ریاست خلافت کے تحت وحدت بخشنے کے لیے کام کررہی ہے۔اور حزب ایسے زبردست قابل سیاست دانوں اور فقہا سے بھری پڑی ہے جیسے اس کے امیر شیخ عطا ابو رشتہ ہیں جن میں یہ صلاحیت،ذہانت اور تجربہ ہے کہ وہ اس امت کی قیادت کرسکیں۔ آخر میں مظاہرین خلافت کے قیام کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔


پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

تصویر کے لیے: یہاں کلک کریں

Read more...

حکومتی ایجنسیوں نے حزب التحریرکے مزید دواراکین کو اغوا کرلیا اغوا نہ تو جمہوریت کے ٹمٹماتے چراغ کو بجھنے سے بچا سکتا ہے اور نہ ہی خلافت کے قیام کو روک سکتا ہے


اغوا نہ تو جمہوریت کے ٹمٹماتے چراغ کو بجھنے سے بچا سکتا ہے اور نہ ہی خلافت کے قیام کو روک سکتا ہے
حزب التحریر ولایہ پاکستان اپنے دو ارکین کی حکومتی ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا کی شدید مذمت کرتی ہے۔ عامر جگرانوی اور انجینئر فروخ کو 12اپریل2013کو نماز جمعہ کے فوراً بعد،تین گاڑیوں میں سوار،سادہ لباس میں ملبوس خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اغوا کیا۔حزب کے یہ دونوں اراکین اب تک لاپتہ ہیں۔ یہ واقع اس وقت پیش آیا ہے جب پاکستان میں حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ کے اغوا کے واقع کو 11مئی 2013کو ایک سال ہونے والا ہے۔

اغوا کی یہ تازہ واردات حزب التحریر ولایہ پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے پمفلٹ کی تقسیم کے فوراً بعد رونما ہوئی جس کا عنوان رسول اللہ ﷺ کی یہ بابرکت حدیث ہے کہ((لایلدغ المؤمن من جحر واحد مرتین))''مؤمن ایک سوراخ سے دومرتبہ نہیں ڈسا جاتا‘‘۔اس پمفلٹ میں اس بات کو بے نقاب کیا گیا ہے کہ جمہوریت کفریہ نظام ہے جو اسلام کے نفاذ کو روکتا ہے۔ اس میں مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ 11مئی 2013کوہونے والے انتخابات کے ذریعے جمہوریت کے ہاتھوں ایک بار پھر ڈسے جانے سے ہوشیار رہیں۔ اس پمفلٹ میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ حزب التحریر ہی وہ سیاسی جماعت ہے جو پاکستان میں خلافت کے قیام کی جدوجہد کررہی ہے اور جو اسلام کوفوراً اور مکمل طور پر نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جمہوریت کے خاتمے اور خلافت کے قیام کی مہم نے پاکستان کی قیادت میں موجود غداروں اور واشنگٹن میں موجود ان کے آقاوں کو بہت تکلیف پہنچائی ہے ۔ اس بات کے باوجود کہ ایک طرف یہ غدار ''مذاکرات اور بحث و مباحثے ‘‘ کی دعوت دیتے ہیں لیکن یہ دیکھنے کے بعد کہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو اپنانے کی ان کی دعوت کوامت مسترد کررہی ہے ،یہ غدار ''ظلم و جبر‘‘پر اتر آئے ہیں۔امت کے شعور اور آگہی میں روز برروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔امت اس بات سے باخبر ہوتی جارہی ہے کہ جمہوریت انسانوں کا بنایا ہوا نظام ہے جو ہمارے عقیدے، وسائل اور زمینوں کو دشمن کفار کے حوالے کردیتا ہے۔ یقیناً ہر گزرتے دن کے ساتھ جمہوریت کی موت اور خلافت کا قیام قریب تر ہوتا جارہا ہے انشأ اللہ۔

حزب التحریر ان غداروں کو بتا دینا چاہتی ہے کہ یہ مت سمجھنا کہ امت خلافت کی دعوت کے خلاف تمھاری سازشوں اور خباثتوں سے باخبر نہیں۔ امت اچھی طرح جانتی ہے کہ تمھارا ظلم اس بات کا ثبوت ہے کہ تمھارا موقف کمزور ہے اور اس وجہ سے امت اور مضبوطی سے حزب کے ساتھُ جڑ جاتی ہے ۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ یہ مت سمجھنا کہ اللہ سبحانہ و تعالی بے خبر ہیں اور بہت جلد تم اپنے گناہوں کا بہت ہی برا بدلہ پانے والے ہو۔


وَلاَ تَحْسَبَنَّ اللّہَ غَافِلاً عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الأَبْصَار
ظالموں کے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھو وہ تو انھیں اس دن تک کی مہلت دیے ہوئے ہے کہ جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی(ابراھیم:42)

پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

تصویر کے لیے: یہاں کلک کریں

Read more...

حقیقی تبدیلی نظام کی تبدیلی ہے نہ کہ چہروں کی تبدیلی پاکستان کو ''صادق‘‘ و ''امین‘‘ نظام کی ضرورت ہے ،صرف ''صادق‘‘و''امین‘‘ چہروں کی نہیں

برٹش کونسل نے ایک نیا سروے جاری کیا ہے جس کے مطابق پاکستان کے نوجوانوں کی اکثریت اسلامی ریاست کے قیام کی حمائت اور جمہوریت کی نفی کرتی ہے۔ پاکستان کی حکومتی اشرافیہ، جس کو عدلیہ کی بھی حمائت حاصل ہے، آئین کی دفعات 62اور63کو استعمال کر کے قومی و صوبائی اسمبلی کے کئی متوقع امیدواروں کو اس لیے ناہل قرار دے رہی ہے تاکہ اس مردہ اور دھتکارے ہوئے جمہوری نظام کو ایک بار پھر لوگوں کی امیدوں کا مرکز بنایا جاسکے۔ پریشانی کی حالت میں اٹھائے گئے اس انتہائی قدم کی وجہ نوجوانوں کی و ہ سوچ ہے جس کا انکشاف برٹش کونسل کے جاری کردہ سروے میں کیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان کے نوجوانوں کی 94فیصد تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ملک غلط سمت میں گامزن ہے اوروہ پاکستان میں حقیقی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔عرب بہار میں جس طرح مسلم نوجوانوں نے کئی دہائیوں پرپھیلے سیاسی کرداروں کا خاتمہ کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی حکمران اشرافیہ پاکستان کے نوجوانوں میں موجود جمہوری نظام کے خلاف نفرت کو محض چند چہروں سے نفرت کی جانب موڑنا چاہتی ہے۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے چند امیداروں کو کرپشن اور نااہلی کی بنیاد پرانتخابات کے کھیل سے باہر نکال کر حکمران عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کرپشن اور بدعنوانی چند افراد میں ہے ناکہ اس جمہوری نظام میں جس کے تحت یہ حکمرانی کرتے ہیں۔ لیکن اس مسئلے کی حقیقت یہ ہے کہ کرپشن اور بدعنوانی اس جمہوری نظام کے خمیر میں ہے،وہ نظام جس کو پاکستان نے برطانوی استعمار سے وراثت میں حاصل کیا تھا اور اسی نظام نے استعماری طاقتوں اور سیاسی و فوجی قیادت میں موجود ان کے ایجنٹوں کے مفادات کو پورا کیا۔ صرف اللہ سبحانہ و تعالی ہی قانون ساز ہیں اور انھوں نے قرآن میں حکمرانوں کے چننے کے معیار کو بیان کردیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں:


(وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْفَاسِقُون)
''اور جو اللہ کی اتاری ہوئی وحی(قرآن) کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تو وہ فاسق ہیں‘‘(المائدہ:47)۔


صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ ان لوگوں کو چن لیا جائے جو نیک ہیں اور جن کا ماضی داغدار نہیں اور پھر وہ اس قانون کے مطابق حکمرانی کریں جو اللہ سبحانہ و تعالی کا نازل کردہ نہیں ہے بلکہ اسلام نے ایسے نظام کا حصہ بننے کو ہی حرام قرار دیا ہے جس میں ہم نیک اور پارسا لوگوں کو چنیں تا کہ وہ ہم پرکفر قوانین کی بنیاد پر حکمرانی کریں۔ جمہوریت انسانوں کو قانون ساز قرار دیتی ہے جہاں اکثریت اپنی خواہشات کی بنیاد پر قانون سازی کرتی ہے۔ اسلام مسلمانوں کو اللہ کے دی ہوئی شریعت کے سوا کسی بھی دوسرے قانون یا شریعت کی بنیاد پر حکمرانی کو حرام قرار دیتا ہے اور اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہر قانون صرف اور صرف قرآن و سنت سے ہی لیا جائے۔ اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں:


( فَاحْکُم بَیْْنَہُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاء ہُمْ عَمَّا جَاءَ کَ مِنَ الْحَقّ)
''ان کے درمیان اللہ کی اتاری ہوئی وحی کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ایسا نہ ہو کہ یہ اس حق سے آپ کو موڑ دیں جوآپ کے پاس آچکا ہے‘‘(المائدہ:48)۔


پاکستان میں حقیقی تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی سے نہیں آئے گی چاہے وہ ''صادق‘‘ و'' امین‘‘ ہی کیوں نہ ہوں۔ پاکستان میں حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب ''صادق‘‘ و'' امین‘‘ نظام قائم ہوگا۔ ہم پاکستان کے عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ محض چہروں کی تبدیلی کے اس تماشے کو مسترد کردیں اور کرپٹ جمہوری نظام کو اکھاڑ پھینکنے اور خلافت کے قیام کے ذریعے اسلام کے مکمل اور جامع نفاذکا مطالبہ کریں۔

پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

 

Read more...

''ہفتۂ نوید بٹ رہا کرو‘‘ 11مئی 2013 تا 17 مئی 2013

 

11مئی 2012 کو پاکستان میں حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ کو کیانی - زرداری حکومت کے غنڈوں نے اغواء کیا۔ اس مکروہ اغواء کے واقعے کو ایک سال ہو جانے پرحزب التحریر ولایہ پاکستان ''ہفتۂ نوید بٹ رہا کرو‘‘ کا اعلان کرتی ہے۔ ہم ، تمام مسلمانوں کودعوت دیتے ہیں کہ وہ 11مئی 2013تا 17 مئی2013 کے دوران ، پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں بالخصوص ملٹری انٹیلی جنس(MI) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI)، میں موجوداپنے رشتہ داروں، سابقہ ہم جماعتوں( class fellows) اوردوستوں سے رابطہ کریں اور ایجنسیوں کے افسران اور دیگر سٹاف تک ذیل میں درج پیغام، تحریری یا زبانی طور پرپہنچائیں۔


انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران اور دیگر سٹاف کے نام
اسلام و علیکم! 11 مئی 2012 کو پاکستان میں حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ کو پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت میں موجود غدّاروں کے حکم پر اغواء کر لیا گیا۔ ان غدّاروں کا آقا امریکہ ہماری اسلامی سر زمینوں پر خلافت کی واپسی سے خوفزدہ ہے، وہ خلافت جو ان زمینوں سے امریکی وجود کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دے گی۔ پس اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے قہر کو دعوت دیتے ہوئے کہ وہ انہیں آ لے ، ان غدّاروں نے خلافت کے داعیوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر کے اپنے بہت سے اور گناہوں میں مزید اضافہ ہی کیا ۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے حدیث قدسی میں فرمایا:

((قَالَ رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُُ عَلَےْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ قالَ مَنْ عادَی لِي وَلِیًّا فقدْآدئتُہُ بالحَرْبِ))

''رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا'جس نے بھی میرے ولی کواذیت پہنچائی میں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کروں گا ‘‘‘۔


پس غدّاروں کا یہ ٹولہ، آپ کی توجہ، امریکی راج کو درپیش '' اندرونی خطرے‘‘ کی طرف مبذول کرانے میں مصروف ہے ۔ دراصل امریکی راج کو درپیش خطرہ ، بہادر اور قابل ترین بیٹوں کی قیادت میں یہ پوری مسلم امت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نوید بٹ جیسے سولین کے اغواء اور بریگیڈئر علی خان جیسے عسکری افسران کے کورٹ ماشل کے احکامات جاری کئے۔ وہ آپ کے اداروں کو اپنی ذات کیخاطر ایسے غلیظ کاموں کا حکم دیتے ہیں جن کے نتیجے میں آپ لامحالہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی طرف سے سزا اور ان مسلمانوں کے رشتہ داروں کی بد دعاؤں کے حقدار بنتے ہیں جن کو آپ امریکہ کو خوش کرنے کے لئے اذئیت دیتے ہیں، اغواء کرتے ہیں اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔
جہاں تک آپ کا تعلق ہے، تو جان لیں کہ امریکی اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ جب خلافت قائم ہو جائے گی جو کہ انشاء اللہ عنقریب ہے،توآپ کے ادارے،یہ انٹیلی جنس ایجنسیاں، ایسے ہونگی کہ جیسا اسلام تقاضا کرتا ہے یعنی دشمن کے لئے باعث خوف اور اسلام کی برتری کا ا یک عملی ذریعہ۔اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے فرمایا:

(وَلَن یَجْعَلَ اللّہُ لِلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلا)

''اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر راہ (اتھارٹی) نہیں دیتا‘‘

یہ خلافت ہی ہوگی جو آپ کواللہ سبحانہٗ و تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا مقرب بنا دے گی تاکہ آپ عزت اور وقار کے ساتھ سر اٹھا کر چل سکیں۔

اس صورت حال میں آپ پر فرض ہے کہ آپ خلافت کے قیام کے لئے حزب التحریر کو نصرۃ دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہی وہ خلافت ہے جو ہمارے مالک، اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دی گئی ہے اور جس کی بشارت ہمارے آقا، سیدنا محمد ﷺ نے دی :

((ثم تکون ملکاً جبرےۃ فتکونُ ما شاء اللّٰہ ان تکون ثم یر فعُھا اذا شاءَ ان ےَرْ فعَھا ثم تکونُ خلافۃ علی مِنْھاج النبوۃ، ثم سکت))

''پھر تم پر جبری حکومت کا دور شروع ہوگا،تو جب تک اللہ چاہے گا یہ دور تم میں قائم رہے گا پھر جب اللہ چاہے گا اسے ختم کر دے گا۔ پھرتم میں نبوت کے طرز پر خلافت قائم ہوگی اور پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے‘‘۔

 

تاہم، اگر اس دنیا کی محبت اور موت کا خوف آپ کے آڑے آ رہا ہے اور اس فریضہ کی ادایئگی میں آپ کوسستی کا شکار کر رہا ہے تو کم از کم آپ نوید بٹ کی بازیابی کو یقینی بنائیں، وہ شخص جو اسلام کی خاطر موت سے محبت کرتا ہے جیسے کچھ اورلوگ اس زندگی سے محبت کرتے ہیں جو مختصر اورعارضی لذتوں والی ہے۔ اور جہاں تک نوید بٹ کی بازیابی کے لئے بہانے تلاش کرنے کی بات ہے توفقط اسی بات پر غور کر لیں کہ روزِ جزا آپ ا اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے سامنے کیا بہانہ پیش کریں گے جب نوید بٹ آپ کے خلاف گواہی دیں گے۔

Read more...

کرزئی اور کیانی اپنی عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں پاک افغان کشیدگی خطے میں امریکی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لئے ہے

حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی اور فوجی کشیدگی میں اضافہ درحقیقت افغانستان میں2014کے بعد بھی امریکی فوجی اڈوں اور امریکی افواج کو برقرار رکھنے کے لیے ماحول سازگار بنانے کے لیے ہے۔ کرزئی حکومت افغانستان میں امن کے قیام میں ناکامی اور اس کے مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو ٹہرا رہی ہے جبکہ پاکستان کرزئی انتظامیہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کی پشت پناہی کا ذمہ دار ٹہرارہی ہے۔کرزئی اور کیانی پاکستان اور افغانستان میں بم دھماکوں اور قتل غارت گری کے اصل مجرم امریکہ کے گھناونے کردار پر پردہ ڈالنے اور خطے میں امریکی راج کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک دوسرے پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ دراصل امریکہ افغانستان میں 2014کے بعد بھی اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے انخلأ کے منصوبے کی آڑ میں مستقل فوجی اڈے قائم کرنا چاہتا ہے لیکن اس مقصد کے حصول میں امریکہ کو افغانستان میں سخت عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ کرزئی حکومت کی جانب سے اپنے اندرونی مسائل کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا مقصد افغان عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ ان کے تحفظ اور پاکستان کی مداخلت روکنے کے لیے 2014کے بعد بھی افغانستان میں محدود امریکی افواج کی موجودگی ضروری ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں امریکی راج کو مستحکم کرنے کے بعد جنرل کیانی افغانستان میں امریکی راج کے تسلسل کو جاری اور مستحکم کرنے کے لئے امریکہ کو بھر پور معاونت فراہم کررہا ہے۔ جنرل کیانی کا حالیہ دورہ اردن کے دوران امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری سے ملاقات بھی اسی مقصد کے حصول کے لیے تھی۔


پاکستان اور افغانستان کے مسائل کی بنیادی وجہ خطے میں امریکی موجودگی ، اس کے ناپاک عزائم اور سرمایہ دارنہ نظام ہے۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی جنگ کے نام پر امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے پاکستان اور افغانستان کے مسلمانوں کا مقدس خون،پاکستان اور افغانستان کے غدار حکمرانوں نے پانی کی طرح بہایا گیا ہے۔ اس بدترین صورتحال سے نکلنے کی واحد صورت پاکستان اور افغانستان سے غدار حکمرانوں ، سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اورخلافت کے قیام میں ہے۔خلافت پاکستان اور افغانستان کی قوت کو ایک خلیفہ کی قیادت میں یکجا کردے گی اور خلافت کی افواج اور مخلص مجاہدین کی مشترکہ قوت امریکہ کو پاکستان اور افغانستان سے دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کردے گی۔
حزب التحریر افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران کو ان کی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتی ہے کہ وہ اپنی قیادت میں موجود غداروں کو ایک اور امریکی منصوبے کو کامیاب بنانے سے روکیں جو پہلے ہی 50ہزار پاکستان کے مسلمان شہریوں اور فوجیوں کو امریکی جنگ کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں۔ خطے میں امریکی موجودگی کا مطب یہ ہے کہ امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے مزید ہزاروں مسلمان شہریوں اور فوجیوں کا مقدس خون بہایا جائے گا جبکہ بزدل امریکی افواج اپنے ائرکنڈیشن کمروں میںآرام سے بیٹھے رہیں گی۔آگے بڑھیں اور خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ فراہم کریں اور پاکستان اور افغانستان کے مسلمانوں،افواج اور ان کے وسائل کو یکجا کرکے دنیا کے طاقتور ترین ریاست خلافت کی بنیاد ڈالیں اور کافر امریکی افواج کو خطے سے ذلیل رسو کر کے نکال باہر کریں ۔

پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان
شہزاد شیخ

Read more...

خلافت میں میڈیا کے کردار کے حوالے سے حزب التحریر نے پالیسی کا اعلان کردیا خلافت کا میڈیا سچ اور حق کی عالمی پکار ہوگی

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے ریاست خلافت میں ریاستی اور نجی ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے کردارکے حوالے سے مندرجہ ذیل پالیسی دستاویز "Publicized Policy Position" جاری کی ہے۔اس پالیسی میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کس طرح ریاست خلافت ایک متحرک میڈیا کی سرپرستی اور نگرانی کرے گی تا کہ وہ استعماری طاقتوں کے ناپاک منصوبوں کو بے نقاب کرنے،حکمرانوں کا احتساب کرنے اور دین اسلام کی دنیا بھر میں ترویج کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کرسکے۔


موجودہ دور کو ''ابلاغ کا دور‘‘ کہا جاتا ہے۔ ریاستی اور نجی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نہ صرف عوام کے خیالات اور رائے میں تبدیلی لانے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو ایسی سابقہ معلومات بھی فراہم کرتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ مختلف مسائل پر اپنی رائے یا نقطہ نظر بناتے ہیں۔ لیکن چند ایسے معاملات بھی ہیں جن میں نجی میڈیا ریاست کی معاونت پر انحصار کرتا ہے جیسا کہ سیکیوریٹی کے معاملات اور استعماری ریاستوں کے عزائم اور ان کے منصوبوں کو بے نقاب کرنا وغیرہ۔ ریاست کو میڈیا کی بھر پور معاونت کرنی چاہیے اور یقیناً ریاست خلافت شہریوں کے حقوق اور معاملات کی دیکھ بحال اور اسلام کی دعوت کو پوری انسانیت تک پہنچانے کے لیے میڈیا کو بھر پورمعاونت فراہم کرے گی تا کہ وہ اپنے اس کردار کو احسن طریقے سے ادا کرسکے۔ اسلام کی دعوت اور ریاست کے لیے معلومات چند اہم معاملات میں سے ایک ہے۔ لہذا میڈیا کی سرپرستی اور نگرانی خلیفہ براہ راست ایک آزاد ادارے کے ذریعے کرے گا جیسا کہ عدلیہ یا مجلس امت کے ادارے ریاست خلافت میں اسلام کے نفاذ اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے براہ راست خلیفہ کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔


لہذا ریاست خلافت میں میڈیا کے ریاستی اور نجی ادارے نہ صرف ریاست خلافت کے شہریوں کی نظر میں قابل بھروسہ معلومات کے حصول کے اداروں کے طور پر جانے جائیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی شناخت حق اور سچ کی عالمی پکار کے طور پر ہوگی۔

 

نوٹ: اس پالیسی کی تفصیلات اور قرآن و سنت سے تفصیلی دلائل جاننے کے لیے اس ویب سائٹ لنک کو دیکھیں۔

http://htmediapak.page.tl/policy-matters.htm

 

پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

 

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک