- |
- Written by Rizwan
- سب سے پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں
- فونٹ سائز فونٹ سائز گھٹائیں increase font size
بسم الله الرحمن الرحيم
عالمگیریت سے حمائیت پسندی تک
عالمی معیشت کا نامعلوم منزل کی جانب سفر
تحریر: استاد نبیل عبد الکریم
(ترجمہ)
گزشتہ تین دہائیوں کے دوران یہ یقین راسخ ہو چکا تھا کہ عالمگیریت (Globalization) عالمی معیشت کے ارتقاء کا حتمی مرحلہ ہے، اور یہ کہ تجارت کی آزادی اور سرمایہ، اشیاء اور ٹیکنالوجی کی نقل و حرکت کے لیے سرحدوں کے کھلنے سے دنیا بے مثال معاشی یگانگت اور پائیدار خوشحالی کے دور میں داخل ہو جائے گی۔ اس عرصے میں کمپنیاں بین البراعظمی اداروں میں تبدیل ہو گئیں اور پیداواری زنجیریں (Production Chains) مشرقی ایشیا سے لے کر یورپ اور امریکہ تک پھیل گئیں، جبکہ عالمی منڈیوں کی طاقت کے سامنے قومی ریاست کا اثر و رسوخ ماند پڑتا دکھائی دینے لگا۔
لیکن 2008 کے عالمی مالیاتی بحران سے لے کر کورونا وبا، روس یوکرین جنگ، امریکہ چین کشیدگی، مشرق وسطیٰ کی بدامنی، ایران کے خلاف امریکی جنگ، اور پھر معاشی قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحانات جیسے واقعات نے عالمی معاشی نظام کے اندر موجود گہرے شگافوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ وہ عالمگیریت جس نے استحکام اور خوشحالی کا وعدہ کیا تھا، اب بہت سے ممالک کی نظر میں خطرات، محکومی اور سٹریٹیجک کمزوری کا باعث بن چکی ہے۔ آج ایسا لگتا ہے کہ دنیا بتدریج کھلی عالمگیریت کے دور سے نکل کر معاشی حمائیت پسندی (Protectionism) کے دور کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں تجارتی سرحدیں اور بھاری کسٹم ڈیوٹی دوبارہ لوٹ رہی ہے، اور سپلائی چینز کو معاشی کفایت کے بجائے قومی سلامتی کے تحفظات کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہے۔ تاہم، یہ تبدیلی محض تجارتی پالیسیوں کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسے مبہم عبوری مرحلے کا آغاز ہو سکتی ہے جو اپنے اندر انتہائی گہرے معاشی اضطراب کے امکانات چھپائے ہوئے ہے اور پورے بین الاقوامی نظام کو ازسرنو تشکیل دے سکتا ہے۔
تو کیا عالمی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے؟ وہ حقیقی اسباب کیا ہیں جو اسے اس نہج تک لے جا سکتے ہیں؟ اور اس 'نامعلوم' کی حقیقت کیا ہے جو دنیا کا منتظر ہے؟
پہلا حصہ: عالمگیریت کیوں پیچھے ہٹ رہی ہے؟
1- 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کا جھٹکا: اس مالیاتی بحران نے واضح کر دیا کہ عالمی باہمی ربط نہ صرف ترقی بلکہ بحرانوں کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے۔ مالیاتی انفیکشن امریکہ سے دنیا کی بیشتر معیشتوں تک پھیل گیا، جس نے حد سے زیادہ باہمی انحصار کے فوائد پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے۔ آج کے دور میں ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہے؛ جیسے ہی امریکی مارکیٹ میں کوئی مالیاتی بحران پیدا ہوتا ہے، خاص طور پر دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں تبدیلی، تو اس کے اثرات چند دنوں بلکہ چند گھنٹوں میں دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔
2- کورونا وبا اور سپلائی چین کی تباہی: جب چینی کارخانے بند ہوئے اور عالمی بندرگاہیں جزوی طور پر معطل ہوئیں، تو صنعتی ممالک کو احساس ہوا کہ بیرونی پیداوار پر ان کا انحصار ایک سٹریٹیجک کمزوری ہے۔ اسی لیے امریکہ اور دیگر ممالک نے اپنی اہم صنعتوں کو واپس ملک کے اندر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جسے 'صنعت کی وطن واپسی' (Reshoring) کی پالیسی کہا جاتا ہے۔
3- امریکہ چین کشمکش: دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان مقابلہ اب ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز، توانائی اور سپلائی چین کی جنگ بن چکا ہے، جس نے دونوں فریقوں کو ایک دوسرے پر تجارتی اور سرمایہ کاری کی پابندیاں لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جو عالمگیریت کی بساط لپیٹنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
4- روس یوکرین جنگ: اس جنگ نے ثابت کر دیا کہ معاشی انحصار کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر توانائی، خوراک اور سٹریٹیجک معدنیات کے شعبوں میں۔
5- ایران اور مشرق وسطیٰ کی جنگ: یہ جنگ وہ تاریخی موڑ ثابت ہو سکتی ہے جو ایک نئے مرحلے کی طرف منتقلی کو تیز کر دے گی؛ کیونکہ جب لاگت بڑھ جائے گی تو عالمگیریت اپنا سب سے اہم فائدہ کھو دے گی، اور وہ فائدہ ہے 'سستی پیداوار'۔ نقل و حمل اور توانائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے ساتھ، عالمگیریت کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
دوسرا حصہ: عالمی معاشی زوال کے حقیقی اسباب
1- عالمی قرضوں کا دھماکہ: عالمی قرضے 300 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر کے ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ سود (ربا) کی شرح میں اضافے سے ان قرضوں کی واپسی (Debt Servicing) مزید مہنگی ہو جاتی ہے، جس سے حکومتوں اور کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے یا مالیاتی ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
2- سپلائی چین کا بکھرنا: عالمگیریت کی بنیاد پیداوار کو عالمی سطح پر تقسیم کر کے اخراجات کم کرنے پر تھی، جبکہ حمائیت پسندی پیداوار کو مہنگا ہونے کے باوجود واپس ملک کے اندر منتقل کرنے پر زور دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، افراط زر کی بلند شرح اور عالمی معیشت کی کارکردگی میں کمی واقع ہوتی ہے۔
3- توانائی کا بحران: متبادل توانائی کی طرف منتقلی کے باوجود، عالمی معیشت اب بھی بڑے پیمانے پر تیل اور گیس پر منحصر ہے۔ کوئی بھی بڑا جغرافیائی سیاسی (Geopolitical) بگاڑ پیداوار اور نقل و حمل کے اخراجات کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے، جو عالمی مالیاتی نظام کے معاشی بحرانوں کو مزید مہمیز دیتا ہے۔
اور اس کے علاوہ بھی بہت سے اسباب ہیں جن کا یہاں احاطہ نہیں کیا جا رہا۔
تیسرا حصہ: عالمی معیشت کا مستقبل اور وہ 'نامعلوم' کیا ہے؟
دنیا مسابقتی معاشی بلاکس (امریکی بلاک، چینی بلاک، یورپی بلاک، ایشیائی بلاک اور دیگر علاقائی بلاکس) میں تقسیم ہو سکتی ہے، اور آزاد تجارت کی کمی کے نتیجے میں پیداوار کم موثر اور زیادہ مہنگی ہو جائے گی۔ اس طرح دنیا پیداوار، توانائی اور خام مال کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے طویل کساد بازاری (Recession) اور مہنگائی (Inflation) کے دور میں پھنس جائے گی، اور کشمکش کے اوزار معاشی پابندیاں، تجارتی ناکہ بندی اور ٹیکنالوجی پر تسلط ہوں گے۔
آنے والی تباہی شاید روایتی مالیاتی آفات کی طرح اچانک نہ ہو، بلکہ یہ اس موجودہ معاشی نظام کا بتدریج بکھرنا ہو گا جس نے عشروں تک دنیا پر لالچ، مفاد پرستی، اجارہ داری اور سود (ربا) کی بنیاد پر حکمرانی کی ہے۔
یہ ایک ایسے نظام کی نئی پیدائش بھی ہو سکتی ہے جو زیادہ منقسم، کم کارآمد اور تنازعات کا شکار ہو گا۔ یہ ایک ایسی دنیا سے منتقلی ہے جو چند مخصوص طبقات کے مفاد میں مضبوط معاشی ربط پر قائم تھی، ایک ایسی دنیا کی طرف جس پر وسائل، ٹیکنالوجی اور اثر و رسوخ کا مقابلہ حاوی ہو گا۔ یہ ایک مختصر اور تاحال مبہم مرحلہ ہے، لیکن یہ ایک ایسے نئے عالمی نظام کے ظہور کے لیے زرخیز زمین تیار کرے گا جو موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کو اس کے تمام تر آلات سمیت جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا اور بین الاقوامی منظر نامے پر خود کو محض طاقت کے بل پر نہیں، بلکہ اپنے بے داغ اجالے اور انسانی مسائل کو جڑ سے ختم کرنے اور ناانصافی مٹانے کی بہترین شفافیت کے ذریعے منوائے گا، اور وہ 'ربانی اسلامی نظام' ہے، جو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیے اپنی شرائط اور اپنا نظام نافذ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی واحد آیڈیالوجی (مبدأ) ہے۔
درحقیقت، اسلامی معاشی نظام کی بنیاد ہی اس اصول پر ہے کہ اس میں مسائل سرے سے پیدا ہی نہ ہوں، اور اگر پیدا ہوں تو ان کا ایسا قطعی حل موجود ہے جو انہیں دوبارہ سر اٹھانے نہیں دیتا۔ یہ نظام تین ستونوں پر قائم ہے: ملکیت، ملکیت میں تصرف، اور دولت کی تقسیم؛ اور اس کی بنیاد اس قاعدے پر ہے کہ مال کا اصل مالک اللہ عزوجل ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَأَنفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ﴾
ترجمہ: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تم کو (اپنا) نائب بنایا ہے، تو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے خرچ کیا، ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ (سورۃ الحدید: آیت 7)
لیکن روئے زمین پر اسلامی معاشی نظام نافذ کرنے سے پہلے ہمیں اسلامی آئیڈیالوجی (مبدأ) کو نافذ کرنا ہوگا؛ کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں۔ اور اسلامی آئیڈیالوجی کے نفاذ کے لیے ہمیں ان مخلص لوگوں کے ساتھ مل کر جدوجہد تیز کرنی ہو گی جو اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز اور رسول اللہ ﷺ کی اس بشارت کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں کہ: "پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی"۔
آج جو واقعات رونما ہو رہے ہیں، وہ اس کربناک مرحلے کے سوا کچھ نہیں جس سے ہمیں گزرنا ہے، اور ہم اسلام کے اس 'مردِ آہن' (دیو) کو بیدار کرنے کے لیے کام کریں گے جسے پوری دنیا سلا کر رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن دشمنوں نے اس کی بیداری کی آہٹ محسوس کر لی ہے، اسی لیے انہوں نے ان ذرائع کو مسمار کرنا شروع کر دیا ہے جن کا وہ سہارا لے سکتا ہے، چنانچہ انہوں نے اسلامی ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو جتنا ہو سکے تباہ کیا اور انہیں ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔
مغرب ہمارے ساتھ الگ الگ ریاستوں کے طور پر معاملہ نہیں کرتا، بلکہ وہ ہمیں ایک 'امت' کی حیثیت سے اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم اس وحشیانہ حملے کا مقابلہ ایک وسیع اور جامع امت کے تصور کے بجائے محدود قومی ریاستوں کی منطق سے کر رہے ہیں!
اے مسلمانو، ہوش میں آؤ، اپنے اصل کی طرف لوٹو، اور اپنے درمیان سے دشمن کو نکال باہر کرنے کے لیے متحد ہو جاؤ، جس کا آغاز ان حکمرانوں سے ہوتا ہے اور اختتام اس متکبر سرمایہ دارانہ نظریے پر۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ﴾
ترجمہ: انہوں نے کہا کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذائیں دی گئیں اور آپ کے آنے کے بعد بھی، (موسیٰ علیہ السلام نے) فرمایا: 'قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین میں خلیفہ (حاکم) بنا دے، پھر وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو'۔ (سورۃ الاعراف: آیت 129)