بسم الله الرحمن الرحيم
اداریہ
اوسلو اور وادی عربہ کی تپش میں پیاس!
تحریر: ڈاکٹر مؤمن عبد اللہ
(ترجمہ)
جیسے ہی موسمِ گرما قریب آتا ہے، ایک ایسے مستقل بحران کے بارے میں گفتگو تیز ہو جاتی ہے جو پورا سال ہی جاری رہتا ہے، لیکن گرمیوں کی تپش اور سورج کی حدت کے ساتھ اس کی شدت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے اثرات پھوٹ پڑتے ہیں اور ان کا دائرہ کار کسان اور کھیت کے مالک سے بھی آگے نکل جاتا ہے، جہاں ایسے ملک میں فصلیں خشک ہو جاتی ہیں اور زمین بنجر پڑ جاتی ہے جہاں بارشیں بکثرت ہوتی ہیں اور پانی وافر مقدار میں موجود ہے! تو کیا یہ کوئی پہیلی ہے؟ یا پھر ان سیاسی معاہدوں کا المیہ ہے جن پر ان سیاست دانوں کے قلم سے دستخط ہوئے جنہوں نے خود پر خود مختاری اور قیادت کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا؟ یہ سب کیسے ہوا؟ اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ حکام اس بحران سے کیسے نمٹ رہے ہیں؟ اور اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
مغربی کنارے کے عوام ہر سال بالخصوص موسمِ گرما میں پانی کی قلت کا شکار ہوتے ہیں، اور جب اس بحران کی معروضی تشخیص کے لیے پانی کی اس کمی کے اسباب تلاش کیے جاتے ہیں، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس قلت کے پیچھے وہ سیاسی معاہدے ہیں، بالخصوص "اوسلو معاہدہ"، جس نے پانی کو بھی اسی طرح نقصان پہنچایا اور یہودیوں کے حق میں ضائع کیا جیسے یہاں کی مٹی اور ہوا کو پہنچایا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودی وجود نے پانی کے مسئلے کو کبھی بھی ایک معمولی بات نہیں سمجھا جسے نظر انداز کر کے اس پر بعد میں بحث کی جا سکے، بلکہ اسے زمین پر قبضے اور وہاں کے باشندوں کو نکال باہر کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک مسئلے کے طور پر دیکھا۔ اس نے اسے ایک ایسی "بنیادی جغرافیائی ضرورت" قرار دیا جو خطے میں اس کی توسیع پسندی کے لیے ناگزیر ہے۔ صہیونی تحریک کے سربراہ "حییم ویزمین" نے 1920ء میں ڈیوڈ جارج کے نام ایک خط میں اسی بات کا اظہار کیا تھا، جس میں اس نے اشارہ کیا کہ دریائے اردن اور دریائے یرموک کا پانی "یہودی ریاست" کی ضروریات کے لیے کافی نہیں ہے، اور دریائے لیطانی اس کمی کو پورا کر سکتا ہے۔ اسی طرح کے وہ منصوبے بھی تھے جن میں دریائے نیل کے پانی کا رخ سینا اور پھر وہاں سے "نقب" کی طرف موڑنے کے امکانات پر غور کیا جا رہا تھا، اور یہ سب کچھ 1948ء میں اس وجود کے قیام کے اعلان سے بھی بہت پہلے کی بات ہے۔
یہ کہنا کوئی سیاسی زیادتی نہیں ہوگی کہ آج کل انسانوں، درختوں اور زمین کی پیاس کا اصل سبب وہ سیاسی ماحول ہے جس کا آغاز اوسلو معاہدے سے ہوا اور جو آج تک جاری ہے، اور اس کی ذمہ دار تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) ہے۔ اس دوران یہودی وجود اور اس کے قیام سے پہلے کے ان زہریلے منصوبوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جن کا مقصد فلسطین اور اس کے گرد و نواح کے پانی پر قبضہ کرنا تھا۔ اگرچہ اس وجود نے اوسلو سے کئی دہائیاں قبل ہی پانی پر قبضے کی کوششیں شروع کر دی تھیں، لیکن اوسلو معاہدے نے اسے اس کا پورا موقع فراہم کیا اور اس کے تسلط کو مضبوط بنا دیا۔ اس معاہدے کے تحت پانی کے معاملے کو "حتمی حل" کے ان تنازعات میں شامل کر دیا گیا جنہیں پانچ سال کے اندر طے پانا تھا، اور پانی کے ذخائر کا انتظام ایک ایسی مشترکہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا جس میں اصل اختیار یہودی وجود ہی کے پاس تھا۔ اس طرح، پانی کے وسائل اور ان تک رسائی کا مکمل کنٹرول اس وقت تک کے لیے اسی کے ہاتھ میں رہا جب تک کہ پانچ سالہ مدت میں کوئی مستقل حل نہ نکل آئے۔ چنانچہ "اوسلو دوم" کا معاہدہ ،اپنی شق نمبر 40 کے ساتھ جس کا تعلق پانی سے تھا، اور یہ پانچ سالہ مفروضہ، وہ کنجی ثابت ہوئے جس نے یہودی وجود کو پانی پر مکمل اختیار دے دیا،جس کے نتیجے میں اس نے پانی کے دھارے اپنے آباد کاروں کی طرف موڑ دیے اور اہلِ فلسطین کے لیے اسے بند کر دیا۔
اس مختصر سیاسی جھلک کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ یہ بحران محض آبادی میں اضافے، شہری پھیلاؤ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نہیں ہے۔ اگرچہ یہ سب متاثر کن عوامل ضرور ہیں، لیکن یہ ایسے فطری عوامل ہیں جن کے اپنے مخصوص تکنیکی اور انتظامی حل اس ریاست کے پاس ہوتے ہیں جو اپنے پانی اور مٹی پر مکمل خود مختاری رکھتی ہو۔ لیکن اصل المیہ ان انتظامی حلول کو مغربی کنارے کے بحران کی تلخ حقیقت پر زبردستی تھوپنا ہے، جیسا کہ (فلسطینی) اتھارٹی کر رہی ہے۔ وہ ایسے حل اور قوانین کی تشہیر کر رہی ہے جن میں سے حالیہ ترین اقدام "کنوؤں کے لائسنس، کھدائی، بحالی اور زیرِ زمین پانی نکالنے" کے نام نہاد نظام کو فعال کرنا ہے۔ اسے ایک ایسے انتظامی نظام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس کا عنوان زیرِ زمین پانی کے بے جا استعمال کو روکنا، کنوؤں کے پھیلاؤ پر قابو پانا، پانی کی زیادہ منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا اور آلودگی سے بچاؤ بتایا گیا ہے!
اور اس طرح وہ (اتھارٹی) گویا زہر کے ذریعے بیماری کا علاج کر رہی ہے۔ وہ خسارہ جو زرعی، صنعتی اور رہائشی تمام شعبوں میں ملا کر تقریباً 100 ملین کیوبک میٹر تک جا پہنچا ہے، اس کا علاج ان کنوؤں کے پیچھے پڑ کر کیسے کیا جا سکتا ہے جو اب انسانوں، درختوں اور زمین کے لیے اپنے ارد گرد پھیلی پیاس سے بچنے کی واحد پناہ گاہ بن چکے ہیں؟ اور اس کا حل ان تمام کنوؤں کی کھوج لگانے، انہیں بے نقاب کرنے اور ان کا اندراج کرنے میں کیسے ہو سکتا ہے جن میں سے اکثر، بالخصوص علاقہ "سی" (Area C) میں واقع کنوؤں کو، یہودی وجود کے قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، وہی وجود جو انتظامی فائلوں اور معاملات میں اتھارٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتا ہے؟ چنانچہ، اتھارٹی کی جانب سے ان کنوؤں کی نشاندہی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہودی وجود ان میں سے بہت سے کنوؤں کو ابھی، یا مستقبل میں ان تمام کو بند کر دے گا، اور یہ سب کچھ ان تیز رفتار اور بے لگام آباد کاری کے منصوبوں کے تناظر میں ہوگا جن کا مقصد لوگوں کو بے دخل کرنا ہے! اور ہزاروں دینار کے بل ان کسانوں پر کیسے لادے جا سکتے ہیں جو اپنی محنت اور وقت منافع کمانے کے لیے نہیں بلکہ محض لقمہِ تر کے حصول کے لیے صرف کر رہے ہیں، اور جن میں سے بعض تو صرف اس لیے جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ ان زمینوں پر اپنا گھر بچا سکیں اور اپنے درختوں کی ہریالی اور کھیتوں کی شادابی برقرار رکھ سکیں جہاں آباد کار انہیں ہتھیانے اور اصل باشندوں کو نکال باہر کرنے کے لیے دن رات گھات لگائے بیٹھے ہیں؟! اور آپ لوگوں کو پانی کی تلاش پر کس طرح سزا دے سکتے ہیں جبکہ آپ خود انہیں پانی مہیا نہیں کر رہے؟! آخر اس کا خمیازہ کسے بھگتنا چاہیے؟ کیا اسے جس نے مذاکرات کی کرسی پر بیٹھ کر حماقت اور مجرمانہ غفلت کا ثبوت دیا؟ یا اسے جو اپنی زمین اور اپنے پانی پر مضبوطی سے جما ہوا ہے؟!
آخری بات یہ کہ یہ حقیقت ہے کہ پانی کا مسئلہ بھی بالکل قدس، حیفہ، یافا، دریائے اردن اور طبریہ کی طرح ہے۔ یہ تب تک حل نہیں ہو سکتا جب تک ایک ایسی اصولی سوچ نہ اپنائی جائے جو ویزمین اور اس کے جانشینوں کی استعماری ذہنیت کا مقابلہ کرے، اور جب تک ایک ایسی عسکری قوت کا استعمال نہ کیا جائے جو دریائے نیل، اردن یا طبریہ (کی حدود) سے آگے نکل کر اس یہودی وجود کا خاتمہ کر دے اور اہل فلسطین اور امتِ مسلمہ کی پیاس بجھائے۔ یہ بات بالکل درست ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس معاملے کے حوالے سے اتھارٹی کی ان سرگرمیوں سے بھی غافل نہیں رہا جا سکتا جو اہل فلسطین کے لیے خطرات کا باعث ہیں، اور یہ ضروری ہے کہ ان کا تدارک اس سے پہلے کیا جائے کہ یہ پیاس ایک شدید تشنہ لبی میں بدل جائے، جہاں کسان کو اپنی اس زمین کو سیراب کرنے کے لیے بھاری بل ادا کرنے پڑیں جس پر آباد کار گھات لگائے بیٹھے ہیں، اور پانی کا ٹینکر لوگوں کی سب سے بڑی فکر بن جائے اور پانی ڈالر کے عوض بکنے لگے! اب پانی صرف "مکوروت" (Mekorot) کمپنی کے پائپوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جس سے اتھارٹی اس وقت مجموعی طور پر دستیاب 220 ملین کیوبک میٹر میں سے سالانہ تقریباً 80 ملین کیوبک میٹر خرید رہی ہے۔ البتہ یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ ہر سال ایک ایسا خسارہ ہوتا ہے جو پورا نہیں ہو پا رہا، جو 2018 میں 58 ملین کیوبک میٹر تک پہنچ گیا تھا، اور اب کے حساب کتاب کے مطابق یہ 100 ملین کیوبک میٹر تک جا پہنچا ہے۔
نوٹ: میں نے عنوان میں "وادیِ عربہ" معاہدے کا ذکر اس لیے کیا ہے کیونکہ یہ یہودیوں کو پانی، بالخصوص دریائے اردن کے پانی پر قدرت و تسلط دینے کے حوالے سے اوسلو معاہدے سے مشابہت رکھتا ہے۔ جس طرح تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) نے اوسلو معاہدے میں پانی کے حقوق کے معاملے میں مجرمانہ غفلت برتی، بالکل وہی طرزِ عمل اردنی حکومت نے وادیِ عربہ معاہدے میں اختیار کیا۔ اور جس طرح فلسطینی اتھارٹی (یہودیوں سے) پانی خریدتی ہے، اردن بھی اسی طرح خرید رہا ہے۔ ایسی بہت سی تفصیلات ہیں جن کی اس مختصر مضمون میں گنجائش نہیں تھی، اس لیے ہم نے انہیں آپ قارئین کی فہم و تحقیق پر چھوڑ دیا ہے یا پھر کسی اگلے مضمون کے لیے اٹھا رکھا ہے جس میں ان کی تفصیل بیان کی جائے گی۔
Latest from
- متفرقات الرایہ – شمارہ 607
- امریکہ-مراکش دفاعی روڈ میپ 2026-2036
- ٹونی بلیر کا دورہ ازبکستان: وسطی ایشیا میں جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) کشمکش کے ایک نئے مرحلے کا آغاز
- کرپشن کے خاتمے کے لیے 'صولة الفجر' (فجر کی یلغار) مہم وہم اور حقیقت کے درمیان
- برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کا استعفیٰ برطانوی مسئلہ یا تہذیبی بحران؟





