بسم الله الرحمن الرحيم
ٹونی بلیر کا دورہ ازبکستان: وسطی ایشیا میں جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) کشمکش کے ایک نئے مرحلے کا آغاز
تحریر:استاد اسلام ابو خلیل – ازبکستان
(ترجمہ)
سیاست میں ریاستیں جذبات کی بنیاد پر عمل نہیں کرتیں، بلکہ مفادات کے تابع ہوتی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں، "مشترکہ مفادات" کا مقولہ "دوست ملک" کے تصور پر مقدم رہتا ہے۔ اسی بنیاد پر، ٹونی بلیئر کے دورۂ تاشقند کو محض ایک سرسری پروٹوکولی ملاقات قرار دینا غلط ہوگا۔
سوال کو ایک مختلف انداز میں اٹھایا جانا چاہیے: آخر آج ہی کیوں؟ اور ازبکستان ہی کیوں؟ اور بالخصوص ٹونی بلیئر ہی کیوں؟ ان سوالات کے جوابات تلاش کیے بغیر، اس ملاقات کے حقیقی مقصد اور اصل جوہر کو سمجھنا ناممکن ہوگا۔
وسطی ایشیا ایک بار پھر بین الاقوامی نظام کی توجہ کا مرکز کیوں بن گیا ہے؟
ماضی قریب میں وسطی ایشیا کو محض علاقائی اہمیت کا حامل خطہ سمجھا جاتا تھا، لیکن آج صورتحال بدل چکی ہے۔
یوکرین کی جنگ نے خطے میں روس کے اثر و رسوخ اور اس کی صلاحیتوں کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ دوسری جانب، چین اپنی اقتصادی راہداریوں اور خطیر سرمایہ کاری کے ذریعے مسلسل اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ جہاں تک امریکہ اور یورپ کا تعلق ہے، وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ اس خطے میں روس اور چین کا اثر و رسوخ ایک مطلق غلبے کی صورت اختیار کر جائے۔
اب وسطی ایشیا محض پانچ ممالک پر مشتمل ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسے جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) مرکز میں بدل چکا ہے جو یورپ کو ایشیا سے ملانے والی نقل و حمل کی راہداریوں، توانائی کے ذرائع، خام مال کے ذخائر اور سیکورٹی کے پہلوؤں کے پیشِ نظر انتہائی غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
انہی حالات کے پیشِ نظر، ہر بڑی طاقت خطے میں اپنے وجود کو مستحکم کرنے کی تگ و دو کر رہی ہے۔
مگر بالخصوص برطانیہ ہی کیوں؟
بہت سے لوگ برطانیہ کو محض ایک یورپی ملک کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، لیکن تاریخ کی زبان کچھ اور ہی کہتی ہے۔ برطانیہ ایک ایسی ریاست ہے جس نے صدیوں کے دوران اثر و رسوخ اور غلبے کے فن کو پروان چڑھایا ہے، اور یہ کامیابی محض فوجی طاقت سے نہیں بلکہ سفارت کاری، معیشت، تعلیم اور مشاورتی مہارتوں کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔ آج کے دور میں بھی، وہ کئی ممالک پر براہِ راست حکومت نہیں کرتا، بلکہ اپنے مشیروں، مشاورتی اداروں، سرمایہ کاری، اور انتظامی و حکومتی اصلاحات کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھتا ہے۔ یہاں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اسے اب بھی ایک استعماری ریاست کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
ٹونی بلیئر اس پالیسی کے اہم ترین اور نمایاں نمائندوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی ہر نصیحت کو اس نظر سے دیکھنا کہ وہ لازمی طور پر ازبکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی، ایک قسم کی طفلانہ سادگی ہے۔ کیونکہ بین الاقوامی سیاست کا یہ سادہ سا اصول یاد رکھنا ضروری ہے کہ بڑے مدبرین عام طور پر ایسی پالیسیاں اختیار نہیں کرتے جو ان کے اپنے ممالک کے طویل مدتی اسٹریٹجک مفادات کے خلاف ہوں۔ اسی بنیاد پر، کسی بھی بیرونی مشورے کو اس کے ممکنہ نتائج کے تناظر میں جانچنا چاہیے۔
جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) نقطہ نظر سے: ٹونی بلیئر (صدر) میرزیوئیف کو کیا مشورے دے سکتے ہیں؟
چونکہ اس سرکاری ملاقات کی مکمل تفصیلات عام نہیں کی گئیں، اس لیے ہمیں قطعیت کے ساتھ معلوم نہیں کہ اس میں کیا گفتگو ہوئی۔ تاہم، موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے پیشِ نظر، ہم ممکنہ رجحانات اور اہم نکات کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔
آج وسطی ایشیا دنیا کے اہم ترین مسابقتی میدانوں میں سے ایک بنتا جا رہا ہے، جہاں کئی طاقتیں بیک وقت اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں:
- روس: جو سیکورٹی اور معیشت کے شعبوں میں اپنا روایتی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
- چین: جو تجارت، نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی ترقی کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ پھیلا رہا ہے۔
- امریکہ اور برطانیہ: جو اس پھیلاؤ کو روکنے اور روسی و چینی اثر و رسوخ کے سامنے توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹونی بلیئر اپنے یہ دورے ایک سیاسی لیڈر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی سیاسی مشیر کے طور پر کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان کی سربراہی میں کام کرنے والا ادارہ کئی ممالک کو طرزِ حکمرانی (گورننس)، معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کی فراہمی جیسے شعبوں میں مشاورت فراہم کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر، یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس ملاقات کو وسطی ایشیا کے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی برطانوی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جائے۔
ازبکستان روس، چین، امریکہ، یورپ اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان حالات میں، اس بات کا قوی امکان ہے کہ بیرونی ماہرین درج ذیل طرزِ عمل اپنانے کی سفارشات پیش کریں:
- خارجہ پالیسی میں کثیر الجہتی توازن برقرار رکھنا۔
- بڑے پیمانے پر مغربی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کو مزید راغب کرنا۔
- ریاستی نظامِ حکومت اور عوامی انتظامیہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا۔
- ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبوں میں اصلاحات کی رفتار تیز کرنا۔
- اس بات پر قائل کرنا کہ زیادہ سے زیادہ قدرتی وسائل کا رخ چین کے بجائے خاص طور پر برطانیہ کی طرف موڑنا ہی بہتر ہے۔
ایسی نصائح ازبکستان کے کچھ مفادات کے حق میں بھی ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ کہا جا سکتا ہے کہ یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی حمایت نہ کرنے کا ازبکستان کا فیصلہ برطانوی مشورے کا نتیجہ تھا۔ اس کے باوجود، یہ فطری بات ہے کہ یہ موقف برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے ان اہداف کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں جن کا مقصد خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ اور بین الاقوامی سیاست میں، یہ دونوں باتیں بیک وقت موجود ہو سکتی ہیں۔
خودمختاری کی ابتدا کہاں سے ہوتی ہے؟
آزادی محض پرچم، قومی ترانے اور سرحدوں کی موجودگی سے حاصل نہیں ہوتی۔ اگر کسی ریاست کے اسٹریٹجک فیصلے، ترقیاتی ماڈل اور انتظامی فلسفہ ہمیشہ بیرونی مراکز میں تیار کیا جائے، تو یہ حقیقی خودمختاری پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
بیرونی تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن انہیں آنکھیں بند کر کے اپنا لینا بالکل الگ بات ہے۔ کوئی بھی قوم حقیقی آزادی اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے مفادات کا تعین کرنے اور اپنی داخلی و خارجی پالیسیوں کو خود اپنی آزاد مرضی سے مرتب کرنے کی اہل نہ ہو جائے۔
اسلامی سیاسی فکر کے نقطہ نظر سے مسلم معاشرے کو کس ماخذ پر انحصار کرنا چاہیے؟
مسلمانوں کے لیے ارتقاء اور ترقی کا اصل اور بنیادی ماخذ سب سے پہلے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت ہے۔ اسلامی سیاسی فکر میں بنیادی معیار اشخاص نہیں، بلکہ اصل اہمیت ماخذ اور حکمِ الٰہی کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتابِ عزیز میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِين﴾
"اے ایمان والو! تم یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو کوئی ان کو اپنا دوست بنائے گا تو وہ انہی میں سے (شمار) ہوگا، بے شک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا"۔ (سورۃ المائدہ:آیت 51)





