السبت، 14 ربيع الثاني 1448| 2026/09/26
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    11 من ربيع الثاني 1448هـ شمارہ نمبر: 1448/10
عیسوی تاریخ     بدھ, 23 ستمبر 2026 م

پریس ریلیز

 

پاکستانی افواج کو مشرقِ وسطیٰ سے امریکی موجودگی کا جڑ سے خاتمہ کرنا چاہیے اور یمن میں مسلمانوں کے درمیان فتنے کی جنگ کا حصہ ہرگز نہیں بننا چاہیے

 

 

مکہ معاہدے کی حقیقت ایک مہینے کے اندر ہی سامنے آ گئی کہ یہ معاہدہ دراصل اس خطے میں امریکہ کے ڈولتے اقتدار کو بچانے اور امریکہ کے دفاعی بوجھ کو بانٹنے (Burden Sharing) کے لیے کیا گیا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 7 اگست 2026 کو معاہدے کے فوراً بعد وضاحت کی: "یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔" وزیراعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں کہا: "یہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، یہ کسی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی کسی تصادم یا تقسیم پیدا کرنے کے لیے ہے۔" افواجِ پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: "مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور جارحیت کو روکنے کے لیے ہے۔" انہوں نے مزید وضاحت کی کہ: "اس معاہدے میں جارحیت یا مداخلت کا کوئی عنصر شامل نہیں۔" تاہم سعودی عرب میں ایک ڈرون حملے کے فوراً بعد اس کا الزام یمن کے حوثی گروہ پر لگا کر یمن کے خلاف جارحیت کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، اور اس میں پاکستان کی افواج کے استعمال کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ 9 ستمبر 2026 کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا: "اگر سعودی عرب کے خلاف بلااشتعال جارحیت ہوتی ہے، یا یمن میں جاری تنازع سعودی عرب کے اندر پھیلتا ہے، تو مکہ معاہدہ یقیناً فعال ہو جائے گا۔" 17 ستمبر کو ان کا لہجہ مزید واضح تھا۔ انہوں نے کہا: "مکہ معاہدہ ہم پر لاگو ہوتا ہے اور ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔”"انہوں نے مزید کہا: "مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے کسی رسمی معاہدے کی ضرورت نہیں۔" پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سعودی اخبار Arab News کو بتایا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ سفارتی اور عملی طور پر کھڑا ہے۔ ان کے الفاظ میں: "میں یہاں 'عملی طور پر' (physically) کے لفظ پر زور دینا چاہتا ہوں۔ ہم کسی بھی حد تک جائیں گے۔" یوں امریکی کی ڈکٹیشن پر کیے گئے اس معاہدے کے مقاصد کھل کر سامنے آ گئے، جس معاہدے پر ٹرمپ نے "انتہائی خوشی" کا اظہار کیا تھا۔

 

امریکہ ایران جنگ میں بدترین فوجی شکست کے بعد، امریکہ اور اس کے ایجنٹ مکر و فریب پر مبنی شیطانی بیانیے کے ذریعے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے اور یمن میں فتنے کی جنگ بھڑکانے میں سرگرم ہو چکے ہیں، تاکہ امریکہ دور سے اس کا تماشا دیکھتا رہے، جبکہ مسلمان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن کر ایک دوسرے کی جان، مال، عزت و آبرو کی حرمتوں کو پامال کر سکیں۔ یوں امریکہ کو ایک بار پھر موقع مل سکے کہ وہ خطے میں اپنا کنٹرول برقرار رکھ پائے۔

 

اے افواجِ پاکستان کے افسران اور جوانو! تمہاری قیادت تمہیں غزہ، کشمیر یا برما میں مسلمانوں کی حفاظت کی خاطر کفار سے لڑنے کے لیے سوچنے کی بھی روادار نہیں، لیکن جب مسلمانوں کے درمیان جنگ کا معاملہ ہو تو خطرناک جنگی اسلحے سے لیس کر کے تمہیں دنوں میں روانہ کر دیتی ہے۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ کے باقی ماندہ فوجی ڈھانچے کو ایک ہی بار میں اس خطے سے مسمار کر دیا جائے، جس میں سب سے اہم اور بڑا فوجی اڈا یہودی وجود بذاتِ خود ہے۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے احکامات کے مطابق کفار سے جہاد کرنے کے بجائے، تمہاری قیادت ٹرمپ کے بیٹوں کی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرنے میں مصروف ہے، تاکہ واشنگٹن میں موجود اپنے آقا کو راضی کیا جا سکے۔ بجائے اس کے کہ یہ قیادت حجاز کی مقدس سرزمین کو خائن آل سعود کی نجاست سے پاک کرتی، یہ لوگ تمہیں ان غدار ایجنٹوں کے تختوں کی حفاظت کے لیے قربان کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ بجائے اس کے کہ یہ حکمران تمہیں ایران کے ساتھ مل کر امریکہ اور یہودی وجود کے خلاف جہاد کے لیے استعمال کرتے، الٹا یہ حکمران مسلمانوں کے درمیان موجود فتنے کی جنگ پر تیل چھڑکنے میں مصروف ہیں۔ تمہیں پہلے ہی قبائلی علاقوں میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی دلدل میں الجھایا گیا ہے۔ اسی طرح بلوچستان کے سیاسی قضیے کو بھی محض فوجی طاقت سے حل کرنے کی ناکام کوششوں میں تمہارا خون بہایا جا رہا ہے۔ اور اب خائن آل سعود کے راج کی حفاظت کیلئے تمہارا خون قربان کیا جا رہا ہے۔ تو کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ اس ایجنٹ قیادت کو اتار پھینکا جائے، اور حزب التحریر کی شکل میں موجود مخلص اور باشعور قیادت کو خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ فراہم کی جائے، وہ قیادت جو مشرق میں انڈونیشیا کے جزائر سے لے کر مغرب میں مراکش اور ان کے درمیان موجود سمندروں سے امریکہ کے سارے اثر کو اکھاڑ پھینکے گی، امت مسلمہ کو ایک وحدت میں ضم کر دے گی اور امریکی ورلڈ آرڈر کا خاتمہ کرے گی۔ تو کون ہے جو اس عظیم اعزاز کا شرف حاصل کرنا چاہتا ہے؟

 

﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾

اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف تیزی سے بڑھو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ (سورۃ آل عمران: 133)

 

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

 

 

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
https://bit.ly/3hNz70q
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک