الخميس، 23 رمضان 1447| 2026/03/12
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر

ہجری تاریخ    22 من رمــضان المبارك 1447هـ شمارہ نمبر: 1447AH
عیسوی تاریخ     بدھ, 11 مارچ 2026 م

پریس ریلیز

 

ایران خلافت على منہاجِ نبوت کے ذریعے ہی امریکہ پر فتح حاصل کر سکتا ہے نہ کہ اِسی جمہوری نظام  کو نیا لبادہ پہنا کر !

 

(عربی سے ترجمہ)

 

ایران کی عبوری مجلسِ قیادت نے سپریم لیڈر علي خامنئي کے بیٹے، مجتبیٰ خامنئي کو، مجلسِ خبرگان (Council of Experts) کے ارکان کی اکثریت کے ووٹ سے ،نئے سپریم لیڈر کے طور پر مقرر کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا کہ جب مجتبیٰ خامنئي کے والد کو 28 فروری کو حملے میں ٹارگٹ کیاگیا۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب(Revolutionary Guards) اور مسلح افواج نے نئے لیڈر کے لئے اپنی اطاعت کا اعلان کیا، جبکہ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے انتخاب کو مسترد کر دیا اور امریکی مداخلت کی دھمکی دے دی۔ اپنے والد کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کے اگلے سپریم لیڈر بننے،کے امکان کو ناقابل قبول گردانتے ہوئے بروز جمعہ 06 مارچ کو ٹرمپ نے بیان دیا کہ وہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل میں بذات خود شامل ہونا چاہتا ہے۔

 

ایرانی نظام اس پر مُصر ہےکہ وہ جمہوری پارلیمانی نظام کی حفاظت کرے گا اور مذہبی مُلائیت کو برقرار رکھے گا ، لیکن اس کا یہ اصرار  ایران کو اس کے بحران سے نہیں نکال سکے گا اور نہ ہی ایران کو اس قابل کر سکے گا کہ وہ کفر کے سرغنہ، امریکہ پر فتح حاصل کر سکے۔ البتہ، اگر ایران 'خلافت علیٰ منہاجِ نبوت' کا انتخاب کرتا ہے، جوکہ ایک ایسا شرعی فریضہ ہے کہ جو دیگرشرعی احکامات کی حفاظت کرتا ہے،  تب ہی ایران اس قابل ہو سکے گا کہ وہ امریکہ پر فتح یاب ہو سکے۔ اس امر کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سے چند ذیل میں ہیں :

 

1-   اسلام میں حکمرانی کا نظام صرف خلافت کا نظام ہے۔ خلافت کے ذریعے ہی حکمرانی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق ہوتی ہے ۔ خلافت ایک ایسا شرعی فریضہ ہے جو دیگر شرعی فرائض کی حفاظت کرتا ہےاور یہ وہ شرعی نظام ہے کہ جس کے ذریعے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے دشمنوں پر مومنین کوفتح عطا فرماتا ہے۔ ابوحازم سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا، میں ابو ہریرہؓ کے ساتھ پانچ سال تک رہا، اور میں نے انہیں رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا، «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ» بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کا وصال ہو جاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا۔ جبکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، البتہ خلفاء ہوں گےاور وہ کثرت سے ہوں گے۔ تو صحابہؓ نے عرض کی، 'فَمَا تَأْمُرُنَا؟' آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟“، جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، «فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُم» تم یکے بعد دیگرے ان سے بیعت (اطاعت کا عہد) پوری کرو اور انہیں اُن کا حق دو، اور بے شک اللہ اُن سے ان پر عائد ذمہ داریوں کی پوچھ گچھ کرے گا (صحیح مسلم)۔

 

2-   جمہوری نظام شرعی نظام نہیں ہے، خواہ اس کی قیادت کوئی عالم، فقیہ یا حافظِ قرآن ہی کیوں نہ کر رہا ہو، اور خواہ اس جمہوری نظا م کو اسلامیہی کیوں نہ کہا جائے۔ کسی بھی نظام کی حقیقت کا اعتبار اس کے احکام، قوانین اور دستور کی بنیاد پرہوتا ہے۔ اگر یہ سب کتابُ اللہ اور سنتِ رسول ﷺ سے اخذ کردہ ہوں، تو یہ اسلامی نظام ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو تو حکمِ الٰہی سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور اس نظام کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ۔ جمہوری نظام دراصل سیکولر طرزِ حکمرانی کی ایک صورت ہے، جو دین کو ریاست سے جدا کرتا ہے۔ اس نظام کا بنیادی اصول یہ ہے:عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لئے، اور اس میں ریاستی اتھارٹی ،انتظامیہ(صدارت یا کابینہ)، مقنّنہ (پارلیمنٹ) اور عدلیہ میں تقسیم ہوتی ہے  اورآئین ہر اتھارٹی ،اس کی ذمہ داریوں اور مدتِ اقتدار کا تعین کرتا ہے 

 

3-   ایران، مصر، ترکی اور پاکستان کے سیکولر نظاموں میں بلاشبہ ایسے لوگ اقتدار کے منصب پر پہنچے جو حافظِ قرآن ہیں، داڑھی رکھے ہوئے ہیں اور عمامے پہنتے ہیں ۔ تاہم محض ایسے لوگوں کے اقتدار میں پہنچ جانے سے اسلام کو حکمرانی حاصل نہیں ہو جاتی ، اور نہ ہی یہ آیتِ مبارکہ پوری ہوتی ہے، ﴿وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ﴾ اور ہم نے آپ (ﷺ)کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کو منسوخ کرنے والی  ہے، پس آپ (ﷺ)ان کے آپس کے معاملات میں اللہ کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکمرانی کیجئے (المائدۃ؛ 5:48)۔ ترکی میں أردوغان اور اس سے قبل نجم الدين أربكان کے اقتدار میں آنے کے باوجود—جبکہ دونوں حافظِ قرآن ہیں اور أردوغان اپنی تلاوتِ قرآن کے حوالے سے بھی معروف ہے—ترکی کی ریاست کی حقیقت تبدیل نہ ہوئی، اور وہ بدستور ایک سیکولر،طورانیاورمصطفیٰ کمال کے افکار پر قائم جمہوری ریاست ہی رہا، اور عالمی صلیبی اتحاد نیٹو (NATO) کا ایک اہم رکن بھی ۔ اسی طرح شام میں الجولانی کے اقتدار میں آنے سے، جو کہ داڑھی رکھے ہوئے ہے اور قرآن کا قاری ہے، شام کے جمہوری ری پبلکن نظامِ حکومت میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ ریاست کے نام میں بھی کوئی تبدیلی نہ آئی؛ اور اسے محض نام کے لحاظ سے بھی ”جمہوری ریپبلک“ کی بجائے ”اسلامی“ریاست قرار نہیں دیا گیا۔ اور نہ ہی الجولانی نے العقاب کے جھنڈے اور نبی ﷺ کے پرچم (لِوَاء)کواختیار کیا کہ جنہیں وہ صدارتی محل تک پہنچنے سے پہلے استعمال کیا کرتا تھا ،جس محل پر اس سے قبل نُصَیری دین والے بشارُ الاسد کی حکمرانی تھی۔ اسی طرح مُرسی کا معاملہ ہے، جو حافظِ قرآن تھے، اور مصر میں اقتدار میں آئے، مگر ان کا پہلا اقدام یہ تھا کہ انہوں نے لاکھوں افراد کے سامنے باضابطہ حلف اٹھایا کہ وہ سیکولر جمہوری ری پبلک نظام اور 1973ء کے مصری آئین کی پاسداری کریں گے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے اسی حلف کو پوراکیا۔ چنانچہ قرآن کی تلاوت کرنے والا شخص تو اقتدار تک پہنچ گیا، لیکن قرآن کی حاکمیت اقتدار تک نہ پہنچ سکی۔ اور بعینہٖ یہی معاملہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی ہے، جو نیوکلئیر اسلحہ سے لیس مسلم دنیا کی طاقتور ترین فوج کا سربراہ ہے۔انہیں بھی 'حافظ'کا لقب دیا جاتا ہے، یعنی وہ قرآنِ کریم کے حافظ ہیں۔ تاہم ان کا قرآنِ مجید کا حافظ ہو نا بھی انہیں اس بات پر نہیں ابھارتاکہ وہ جہاد کے متعلق قرآن کریم کی کسی ایک آیت پر ہی عمل کر لیں۔ وہ نہ تو مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں اور نہ ہی اسلام کی حمایت کے لئے کوئی عملی اقدام اُٹھاتے ہیں۔ بلکہ عاصم منیر نے غزہ کےاُن مظلوم لوگوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا جو اُنہیں مدد کے لیے پکار رہے تھے، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بے سہارا چھوڑرکھا ہے، جس پر دہائیوں سے ہندوؤں نے قبضہ جما رکھا ہے۔ عاصم منیر نے امریکی احکامات کی بجاآوری کی اور مجاہدین کا تعاقب کیا  اور انہیں قتل کیا، خواہ وہ کہیں بھی ہوں  اور پناہ لیے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں۔

 

4-   ایران، امریکہ اور یہودی وجود کے درمیان جاری جنگ نے اس امر کو ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ – یہودی اتحاد درحقیقت اتنا مضبوط نہیں جتنا بہت سے لوگوں نے تصور کر رکھا تھا۔ یہ جنگ جسے امریکہ ابتدا میں محض ایک محدود فوجی کارروائی سمجھ رہا تھا ،کہ جس کے ذریعے موجودہ حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے اور اس کی جگہ ایک متبادل حکومت قائم کی جائے، جیسا کہ امریکہ نے وینزویلا میں کیا تھا، لیکن یہ ایک ایسی جنگ نکلی جس کے جلد خاتمے کے آثار دکھائی نہیں دیتے، اور نہ ہی معاملات اس کروٹ نظر آتے ہیں کہ جس طرح امریکہ نے منصوبہ بندی کی تھی یا جس کی اسے امید تھی۔ البتہ دوسری جانب سوال یہ ہے کہ ایرانی حکومت کے عزائم کی حد کیا ہے؟!  زیادہ سے زیادہ یہ کہ کسی طرح جنگ بندی ہو جائے اور معاملات دوبارہ اسی مقام پر واپس آ جائیں جہاں سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھا؛ یعنی ازسرِ نو مذاکرات کا آغاز ہو اور اس کے نتیجے میں ملک کی طاقت کو بتدریج محدود کر دیا جائے، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور اسٹریٹیجک ہتھیاروں کا خاتمہ کیا جائے ۔ امریکہ بدستور موقع کی تلاش میں لگا رہے گا اور اس حکومت کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کرتا رہے گا، یہاں تک کہ وہ مکمل اطاعت و تابعداری کے پھندے میں پھنس جائے۔ یوں امریکہ کو وہ مقصد جو وہ میدانِ جنگ میں حاصل نہ کرسکا، مذاکرات کی میز پر حاصل ہو جائے۔

 

5-     ایران میں قائم جمہوری ری پبلک نظام کو بدل کر خلافت کا نظام قائم کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ایران سمیت پوری امت، امریکہ کے مقابلے میں حقیقی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ خلافت اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکومت کرے گی، تمام مسلم ممالک کے ساتھ سرحدیں کھول دے گی، بالخصوص قریبی ممالک کے ساتھ اور ان سب کو ایک وحدت اختیار کرنے کی طرف بلائے گی، اور اس کے ساتھ ساتھ خلافت، امریکہ اور یہودی وجود کے خلاف جہاد فی سبیل اللہ کا عمومی اعلان کرے گی۔ امتِ مسلمہ اپنی خلافت کے قیام کے ذریعے ایک زبردست اور طاقتور قوت میں تبدیل ہو جائے گی جو بآسانی اس قابل ہو گی کہ امریکہ کے بحری بیڑوں کو ڈبو دے اور امریکہ کوسمندر پار تنہائی میں دھکیل دے، خصوصاً اس صورت حال میں کہ جب امریکہ کے مغربی صلیبی اتحاد میں موجود یورپی اتحادی اس سے لاتعلق ہو گئے ہیں۔ تب خلافت عالمی سطح پر ایک واحد عالمی قوت کے طور پر کھڑی ہو گی، جو اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق مسلم دنیا پر حکمرانی کرے گی اور پوری دنیا پر اپنی حقیقی برتری قائم کر لے گی۔ نظامِ خلافت کی اس راہ کو اختیار کئے بغیر، ایرانی حکومت کے لئے اس جنگ سے حقیقی فتح کے ساتھ نکلنا  ممکن نہیں، جبکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے کلمہ کی سربلندی کے لئے امتِ مسلمہ کا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو ایسی فتح کا ضامن ہے جو اہل ایمان کے دلوں کو تسکین عطا کرے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

 

﴿قَاتِلُوهُم يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ

”تم ان سے جنگ کرو، اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں ذلیل و رسوا کرے گا، تمہیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کر دے گا“ ]سورۃ التوبۃ؛ 9:14[

 

حزب التحریر کا مرکزی میڈیا آفس

 

 

 

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
مرکزی حزب التحریر
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon
تلفون:  009611307594 موبائل: 0096171724043
https://www.hizbut-tahrir.info
فاكس:  009611307594
E-Mail: E-Mail: media (at) hizbut-tahrir.info

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک