بسم الله الرحمن الرحيم
حزب التحريرکے امیر، جلیل القدر عالم، عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کی طرف سے
اپنے صفحات کے معزز زائرین کے نام
شہر اس بہترین امت کی جانب جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے… اس امتِ مسلمہ کی جانب جسے اللہ سبحانہٗ نے اپنی اطاعت کا شرف بخشا…
(ترجمہ)
دعوت کے معزز حاملین کی جانب، جنہیں نہ تجارت اور نہ خرید و فروخت، العزیز اور الحکیم اللہ کے ذکر سے غافل کرتی ہے…
صفحے کے معزز زائرین کی جانب، جو اس خیر کی طرف متوجہ ہیں جسے یہ اپنے ساتھ لاتا ہے…
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
تمام تعریفیں للہ کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو اللہ کے رسولﷺ پر، اور ان کی آل اور صحابہ پر، اور ان سب پر جنہوں نے ان کا ساتھ دیا۔ اس کے بعد:
میں اللہ سبحانہٗ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کے روزے اور قیام کو قبول فرمائے اور ہم سب کے پچھلے گناہوں کو بخش دے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا، جسے بخاری اور مسلم نے ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، إِيمَاناً وَاحْتِسَاباً، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» "جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے"
اور ایک اور روایت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَاناً وَاحْتِسَاباً، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» "جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے"
معزز بھائیو: اللہ سبحانہٗ نے ہجرت کے دوسرے سال شعبان کے مہینے میں رمضان کے روزے فرض کیے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ نے قرآن نازل فرمایا:
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ﴾
"رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے والی واضح نشانیاں رکھتا ہے" (سورۃ البقرۃ: آیت 185)
یہ وہ مہینہ بھی ہے جس میں اللہ نے امت کو نصرت اور فتحِ مبین سے سرفراز کیا۔ چنانچہ سترہ رمضان کو غزوۂ بدرِ کبریٰ پیش آیا جس میں مکہ کے مشرکین کو بڑی شکست ہوئی… پھر اس مبارک مہینے میں دیگر فیصلہ کن معرکے بھی ہوئے، جن کا آغاز آٹھ ہجری کے بیس رمضان کو فتحِ مکہ سے ہوا، پھر معرکہ بویب "جو موجودہ شہر کوفہ کے قریب ہے" جو فارس کا یرموک تھا، جس میں مسلمانوں نے مثنیٰ کی قیادت میں بارہ رمضان تیرہ ہجری کو فتح حاصل کی، پھر دو سو تیئیس ہجری کے سترہ رمضان کو معتصم کی قیادت میں فتحِ عموریہ ہوئی، اور چھ سو اٹھاون ہجری کے پچیس رمضان کو معرکہ عین جالوت ہوا جس میں مسلمانوں نے تاتاریوں کو شکست دی… اور اس مبارک مہینے میں دیگر کئی فتوحات بھی ہوئیں…
یوں روزہ قرآنِ کریم کے ساتھ جڑا ہوا ہے، وہ قرآن جس کے پاس نہ آگے سے باطل آ سکتا ہے اور نہ پیچھے سے… روزہ فتح اور نصرت کے ساتھ جڑا ہوا ہے… روزہ جہاد کے ساتھ جڑا ہوا ہے… روزہ اللہ کے احکام کے نفاذ کے ساتھ جڑا ہوا ہے… اور ہر صاحبِ نظر و بصیرت نے جان لیا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکام ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے، چاہے وہ عبادات ہوں یا جہاد، معاملات ہوں یا اخلاق و سلوک، یا حدود و جرائم… سب ایک ہی سرچشمے سے نکلتے ہیں۔ جو شخص کتابِ کریم کی آیات اور احادیثِ مبارکہ کے نصوص میں غور کرے، اسے یہ بات واضح اور روشن نظر آتی ہے۔ اسلام ایک مکمل نظام ہے جو ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہوتا، اور اس کی دعوت ایک ہی ہے کہ اسے ریاست، زندگی اور معاشرے میں نافذ کیا جائے۔ پس جو اللہ کی آیات کے درمیان جدائی ڈالے، اور دین کو زندگی سے جدا کرے، یا دین کو سیاست سے الگ سمجھے، اس نے بہت بڑا گناہ اور سنگین جرم کیا، جو اسے دنیا کی رسوائی اور آخرت کے دردناک عذاب تک لے جاتا ہے۔
اے مسلمانو: میں تمہیں یہ سب کچھ ان دنوں میں یاد دلا رہا ہوں جب مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ غزہ پر یہود کا وحشیانہ ظلم جاری ہے، پھر یہود کی جارحیت لبنان اور شام تک پھیل گئی ہے… وہ مسلمانوں کی سرزمینوں میں دندناتے پھرتے ہیں اور انہیں کوئی روکنے والا نہیں۔ اور بجائے اس کے کہ حکمران مسلمانوں کی افواج کو حرکت میں لاتے تاکہ وہ یہود کے وجود سے لڑیں، ایسی جنگ کریں کہ اس کے پیچھے والوں کو بھی منتشر کر دیں اور اس مبارک سرزمین کو آزاد کرائیں… اس کے برعکس ہم انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ یہود کے ساتھ پے در پے معاہدے کرتے ہیں، بلکہ طاغی ٹرمپ انہیں جمع کر کے ذلیل کرتا ہے اور وہ اللہ، اس کے رسول اور مؤمنین سے بھی حیا نہیں کرتے!
اے مسلمانو: یہود سے جنگ، ان کا قتل اور ان کے وجود کا خاتمہ، اس جبر کی بادشاہت اور ایجنٹ حکمرانوں کے دور کے بعد ایک راشد اور مجاہد خلیفہ کی قیادت میں لازماً ہو کر رہے گا۔ پس رسول اللہ ﷺ کی بشارت اپنے وقت پر ان شاء اللہ ضرور پوری ہو گی، جیسا کہ احمد نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا: «ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ. ثُمَّ سَكَتَ» "پھر جبر کی بادشاہت ہو گی، وہ رہے گی جب تک اللہ چاہے گا، پھر وہ اسے اٹھا لے گا جب چاہے گا، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی۔ پھر آپ خاموش ہو گئے۔"
اور اسی طرح اس حدیث کے مطابق جسے مسلم نے روایت کیا: «لَتُقَاتِلُنَّ الْيَهُودَ فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ...» "تم ضرور یہود سے قتال کرو گے اور انہیں قتل کرو گے…"
اور آخر میں، جس طرح ہمیں روزہ رکھنے کی حرص ہونی چاہیے تاکہ اللہ ہم سے راضی ہو اور ہمارے پچھلے گناہ بخش دے، اسی طرح ہمیں اسلامی زندگی کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے خلافتِ راشدہ کے قیام کی جدوجہد پر بھی حریص ہونا چاہیے، تاکہ ہم دنیا میں اللہ کے احکام کے نفاذ کے ذریعے کامیاب ہونے والوں میں شامل ہوں، رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے، رایۃِ عقاب، لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے جھنڈے کے سائے تلے رہنے والے ہوں۔ اور آخرت میں بھی اللہ کے سائے تلے، اللہ کے اذن سے کامیاب ہوں، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا، پس ہم دونوں جہانوں میں کامیابی پائیں، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
والسّلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
یکم رمضان 1447ھ بمطابق 18/02/2026ء
آپ کا بھائی
عطاء بن خلیل ابو الرشتہ
#امیر_حزب_التحریر
Latest from
- وہ احادیث جن میں رایہ عَلَم (جھنڈا) اور لواء کا ذکر آیا ہے!
- حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کا رمضان المبارک 1447 ہجری کے بابرکت مہینے کی آمد کے موقع پر شعبہ خواتین کا پیغام
- سال 1447 ہجری کے بابرکت مہینے رمضان المبارک کے نئے چاند کی تحقیق کے نتائج کا اعلان
- الرایہ اخبار: شمارہ 586 کی نمایاں سرخیاں
- آخری زمانے کی نشانیاں اور عیسیٰ علیہ السلام کا نزول




