الجمعة، 17 صَفر 1448| 2026/07/31
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اداریہ

 

لبنان کس سمت جا رہا ہے؟

 

تحریر: انجینئر مجدی علی

(ترجمہ)

 

 

یہ واضح ہو چکا ہے کہ سرکاری لبنان، جس کی نمائندگی صدرِ مملکت جوزف عون، وزیرِ اعظم نواف سلام اور اسپیکر پارلیمنٹ نبہی بری کر رہے ہیں، یہودی وجود کے ساتھ امن عمل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ عون نے امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اس کا اظہار ان الفاظ میں کیا: "حتمی ہدف لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی حالت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے"۔ اسی طرح وہ اسپیکر پارلیمنٹ کے حوالے سے کہتے ہیں: "لبنان کے اسپیکر پارلیمنٹ کا تعلق جنوب سے ہے، وہ معاندانہ کارروائیوں کے خاتمے کے حامی ہیں اور اس سلسلے میں بڑی کوشش کر رہے ہیں"۔ جبکہ خود اسپیکر پارلیمنٹ نے غاصب یہودی وجود کے ساتھ امن کی سمت میں صدر اور وزیرِ اعظم کے نمایاں کردار کے باوجود ان کے ساتھ اپنے تعلقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: "صدر عون کے ساتھ میرے تعلقات بہترین ہیں اور صدر سلام کے ساتھ میرا تعلق مستقل ہے!"۔

 

جبکہ ٹرمپ نے عون سے ملاقات کے دوران بیان دیا کہ "ابراہیمی معاہدے بہت کامیاب رہے ہیں، اور بعد میں کئی ممالک ان میں شامل ہوں گے"۔ قرینِ قیاس یہی ہے کہ یہ لبنان اور شام دونوں کی طرف اشارہ ہے!

 

جہاں تک جنوبی لبنان میں زمین پر عسکری صورتحال کا تعلق ہے، تو وہ یہودی وجود کی جانب سے جارحیت کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ لبنان میں ایران کی پارٹی، جس نے کئی بار یہ بیان دیا تھا کہ وہ ان حملوں کا جواب دے گی اور نومبر 2024کے اس معاہدے کی طرف واپس نہیں جائے گی جو اسے جنگ بندی کا پابند کرتا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس پارٹی نے خود کو "اسلام آباد معاہدے" (امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی دستاویز کے حوالے سے) کا جو پابند بنا رکھا ہے، اور لبنانی اتھارٹی اور یہودی وجود کے درمیان فریم ورک معاہدے سے اس کی عدم وابستگی، یہی وہ چیز ہے جو اسے آج ان حملوں کا جواب دینے سے روک رہی ہے۔ یہ ایرانی وعدوں پر مبنی ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی اس حالیہ لہر میں داخل نہیں ہوگی جو تیرہ دن پہلے شروع ہوئی تھی اور جس میں اب ایک محتاط ٹھہراؤ پایا جاتا ہے۔ جبکہ حالیہ سیاسی پیش رفت کے خلاف لبنان میں ایران کی پارٹی کا موقف صرف علامتی احتجاج ریکارڈ کروانے کی حد تک محدود ہے!

 

پارٹی نے اپنے نائب فضل اللہ اور پارٹی کے دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کی زبان سے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلنے یا حکومت سے علیحدہ ہو کر اسے کمزور کرنے کا راستہ اختیار نہیں کریں گے۔

 

مزید برآں، امریکی سرپرستی میں نام نہاد "تجرباتی علاقوں" میں یہودی وجود اور لبنانی اتھارٹی کے درمیان زمین پر عسکری ہم آہنگی بھی جاری ہے۔

 

یہ تمام ماحول، خواہ سیاسی اتھارٹی کی جانب سے براہِ راست ہو یا سیاسی فریقوں کی جانب سے بالواسطہ، لبنان کے یہودی وجود کے ساتھ مستقل امن کی طرف تیز رفتار پیش قدمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جو امریکہ چاہتا ہے اور وہ بھرپور طریقے سے اس کی سرپرستی کر رہا ہے، چاہے اس کے لیے اسے ان لمحات میں یہودی وجود پر دباؤ ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے تاکہ وہ اپنی ان جارحانہ کارروائیوں کو کم کرے جو لبنان کے اندر سیاسی اتھارٹی اور دیگر سیاسی فریقوں کے لیے سبکی کا باعث بنتی ہیں۔

 

امریکہ نے لبنان کے یہودی وجود کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے آغاز کے عمل کو پختہ کرنے کے لیے ہر ممکن وسیلہ استعمال کیا ہے۔ اس کا آغاز لبنان میں مسلح تنظیموں کے عسکری وجود کو ختم کرنے کی کوشش سے ہوا، جس کا بہانہ اسلحہ کو صرف ریاست کے ہاتھ میں محدود کرنا تھا، پھر یہود کے مجرمانہ حملوں کے ذریعے، اور پھر لبنان کے معاملے کو ایران سے جوڑ کر اور یہ ظاہر کر کے کہ امریکہ لبنان کی خودمختاری چاہتا ہے، لہٰذا وہ اس کے لیے ایران سے ہٹ کر ایک براہِ راست دروازہ کھولتا ہے۔ اس سب کا مجموعہ یہ ہے کہ لبنان یہودی وجود کے ساتھ امن عمل میں کھلے عام اور براہِ راست آگے بڑھے، اسے پڑوس کا حق دے، مبارک سرزمین فلسطین پر قبضے کا حق تسلیم کرے، اور ایک ایسے مستقل امن کا حق دے جس کا یہ کیان اس وقت تک حقدار نہیں ہے جب تک وہ مسلمانوں کی زمین کے ایک انچ پر بھی قابض ہے۔

 

موجودہ حقیقت بظاہر یہ کہتی ہے کہ لبنان ابراہیمی معاہدوں کی طرف یا کسی بھی دوسرے نام کے تحت بڑھ رہا ہے، لیکن کیا واقعی یہی کچھ ہونے والا ہے؟!

 

بے شک اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کا یہود سے لڑنے، انہیں مسلمانوں کے ممالک سے نکال باہر کرنے، اور بلادِ شام کے دوبارہ مسلمانوں کے گھر کا مرکز  بننے کا وعدہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہو کر رہے گی، اور اس کے آثار کثیر ہیں۔ اس بات کے ثبوت یہ ہےکہ عام طور پر مسلمانوں کو یہود سے لڑنے کے لیے بہت زیادہ مادی وسائل کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ غزہ میں "طوفانِ اقصیٰ" کے بعد سے ہوا، بلکہ امریکہ کے مقابلے میں بھی نہیں، جیسا کہ ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک گروہ نے کیا اور اب تک کر رہے ہیں اور امریکہ کی اس عظیم عسکری طاقت کا سامنا کیا (اگرچہ اپنے مفادات کے لیے ہی سہی)۔ نیز یہ حقیقت کہ امت ایسی جغرافیائی پوزیشن پر رہتی ہے جہاں سے وہ اپنے دشمنوں کا گلا گھونٹ سکتی ہے، جس کی واضح ترین مثال آبنائے ہرمز ہے۔ تو ذرا تصور کریں اگر جبل الطارق، ملاکا، باسفورس، دردانیال، باب المندب اور نہر سویز کی آبناؤں کی جنگ اس وقت ہو جب یہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور مسلمانوں کے لیے مخلص ایک ہی قیادت کے ہاتھ میں ہوں، یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر قائم دوسری خلافتِ راشدہ کے ہاتھ میں ہوں، جو ایک ایسی امت کی قیادت کرے گی جو عزت اور غلبے کی تڑپ رکھتی ہے؟ یہ سب اور اس کے علاوہ دیگر باتیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں، اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ تمام معاہدے جو کیے جا رہے ہیں، جلد ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا میں اڑ جائیں گے، اور انجامِ کار پرہیزگاروں کے لیے ہی ہو گا، ان شاء اللہ تبارک و تعالیٰ۔

 

Last modified onجمعہ, 31 جولائی 2026 15:37

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک