بسم الله الرحمن الرحيم
مقاصدیّت (المقاصدية ’’نظریۂ مقاصد‘‘) : کیا یہ ایک نئی شریعت کوتشکیل دینے کا طریقہ ہے؟
(عربی سے ترجمہ)
https://www.al-waie.org/archives/article/20433
الوعي میگزین –شمارہ نمبر481
صفر 1448ھ بمطابق جولائی 2026ء
تحریر : أحمد القصاص
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہیں، اور لاکھوں درود وسلام ہوں اللہ کے رسول اور ہمارے آقا سیدنا محمد ﷺ پر، آپ ﷺکی آل، آپ ﷺ کے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اور ان تمام لوگوں پر جو آپ ﷺکی پیروی کرتے ہیں۔ اما بعد :
دورِ حاضر میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو شریعت کے ان تفصیلی احکام اور دلائل سے آزاد کرا دینا چاہتے ہیں جواللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنتِ مبارکہ میں صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، اور وہ احکام و دلائل بھی جو اجماع اور قیاس سے بھی ثابت ہیں، اور جن کی طرف قرآن و سنت نے رہنمائی کی ہے، اور ایسے لوگ نئی قانون سازی وضع کرنے کے خواہاں ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے لوگ ان لوگوں سے احکام وقوانین مستعار لینے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ خود انسان کے بنائے ہوئے قوانین کو تشکیل دیتے ہیں، خصوصاً مغرب سے اخذکردہ قوانین اپنا رہے ہیں، اور پھر انہیں اسلامی لبادہ پہنا دیتے ہیں۔ چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے جھوٹ اور فریب کے ساتھ ’’مقاصدِ شریعت‘‘ (مقاصد الشريعة) کا جھنڈا بلند کیا ہے، اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے احکام شریعت کے مقاصد کے مطابق مرتب کرتے ہیں، اور یہ کہ یوں اس بنا پر ان لوگوں کے یہ احکام بھی خود شرعی احکام ہی قرار پاتے ہیں۔ لیکن جو کوئی بھی اس رجحان کا بغور جائزہ لے گا، تو وہ جان لے گا کہ ہمارے زمانے میں جو لوگ گمراہ کن فتاویٰ دینے، اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے شرعی قوانین میں انحراف کرنے، اور انسان کے بنائے گئے قوانین و تشریعات کو قبول کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، ان میں سے اکثر وہی لوگ ہیں جنہوں نے ’’مقاصدِ شریعت‘‘ کا پرچم بلند کیا اور اسے اپنے لئے نقطۂ آغاز بنایا۔ یوں انہوں نے مقاصدِ شریعت کے بارے میں کھلم کھلا ایک بہتان تراشا ہے۔ لہٰذا یہ نہایت ضروری ہے کہ مقاصدِ شریعت کا جائزہ لیا جائے اور ان کی اہمیت، تاریخی نوعیت اور عملی کردار کے اعتبار سے ان پر روشنی ڈالی جائے۔
امت کے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شریعت انسان کی بھلائی (مصلحة) کے لئے ہی نازل کی گئی ہے
علمائے امت اس بات پر متفق ہیں کہ اسلامی شریعت اللہ کے بندوں کی بھلائی (مصالح) کے حصول کے لئے نازل کی گئی ہے۔ مسلمانوں کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ جب اسلامی شریعت کو صحیح طور پر سمجھا جائے، اس پر پوری طرح سے عمل کیا جائے اور اسے درست طریقے سے نافذ کیا جائے تو وہ نہ صرف اس دنیا میں بندوں کی بھلائی کو یقینی بناتی ہے، بلکہ ان لوگوں کے لئے آخرت میں بھی کامیابی ہے جو اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے شرعی قوانین کی پیروی کرتے ہیں۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ﴾’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘ [سورۃ الانبیاء؛ 21:107]۔ رحمت کا مفہوم اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ یہ شریعت دنیاوی زندگی میں بندے کے لئے خیر وبھلائی کا باعث نہ بنے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ مزید فرماتے ہیں ، ﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارٗا﴾ ’’اور ہم قرآن میں سے وہ کچھ نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے، جبکہ ظالموں کے لئےیہ نقصان کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا‘‘ [سورۃ الاسراء؛ 17:82]۔ قرآن کی یہ آیات اور اس کے علاوہ بہت سی دیگر آیاتِ قرآنی اور رسول اللہ ﷺ سے مروی احادیث اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے شرعی قانون کی پابندی اور اس کا نفاذ دنیا اور آخرت، دونوں میں بندوں کے لئے خیر وبھلائی کا باعث ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص اللہ کے شرعی قانون سے منہ موڑ کر کسی اور چیز کو اختیار کرے گا، وہ بالآخر بدبختی اور مصیبت سے دوچار ہوگا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَنۡ أَعۡرَضَ عَن ذِكۡرِي فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةٗ ضَنكٗا وَنَحۡشُرُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ أَعۡمَىٰ﴾’’اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا،تو بے شک اس کے لئے معیشت (گزران) تنگ ہوگی، اور ہم قیامت کے دن اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے‘‘ [سورۃ طٰہٰ؛ 20:124]۔
شریعت کے احکام اخذ کرنے میں سلفِ صالحین کا طریقۂ کار :
مسلمانوں کی اولین نسلیں—یعنی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، پھر ان کے بعدتابعین اور اس کے بعد تبع تابعین—اس بات پر یقین رکھتی تھیں کہ اگر وہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے شرعی قوانین کی پابندی کریں گے تو یہ دنیا میں بھی ان کے لئے رحمت کا باعث ہوگا، اور آخرت میں بھی انہیں کامیابی حاصل ہوگی۔ بہرحال جب ہم اسلام کے ابتدائی دور کی طرف رجوع کرتے ہیں—یعنی پہلی صدی ہجری سے لے کر دوسری اور تیسری صدی، بلکہ چوتھی اور پانچویں صدی تک—تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ علماء، خصوصاً وہ اہلِ علم اور فقہاء جنہوں نے شریعت کے احکام کو واضح کرنے کی ذمہ داری اٹھائی تاکہ لوگ ان پر عمل کر سکیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کر سکیں، انہوں نے اس مصمم یقین کے باوجود کہ شریعت اللہ کے بندوں کی خیروبھلائی کے لئے ہی نازل ہوئی ہے، انہوں نے اس بھلائی کو تلاش کرنے، ان کی فہرست مرتب کرنے، ان کا سراغ لگانے، ان کی تفصیل بیان کرنے، انہیں مرتب کرنے یا انہیں درجہ بندیوں میں تقسیم کرنے کی طرف اپنا وقت نہیں دیا۔ بلکہ ان کی تمام تر توجہ شرع کے مصادر متعین کرنے پر مرکوز تھی۔ چنانچہ ان کا اس بات پر اتفاق تھا کہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ شریعت کے دو بنیادی مصادر ہیں۔ اسی طرح جمہور علماء اس بات پر متفق تھے کہ اجماعِ صحابہؓ شرعی احکام پر دلیل ہے۔ یہ اس اعتبار سے نہیں کہ صحابہؓ خود شریعت سازی کرتے تھے، بلکہ اس اعتبار سے کہ ان کا اجماع کسی ایسی شرعی دلیل کو ظاہر کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی سنت میں موجود تھی مگر ہم سے مخفی رہ گئی۔ اسی طرح جمہور علماء نے قیاس سے استدلال کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ تاہم قیاس کوئی ایسی دلیل نہیں جو کتاب و سنت کے مخالف ہو، بلکہ یہ بھی دراصل اس وحی کو واضح کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت میں موجود ہے۔ لہٰذا قیاس کوئی عقلی قیاس نہیں، بلکہ یہ ایک شرعی قیاس ہے، جو اس شرعی علت کے گرد گھومتا ہے جس کی نشاندہی کتاب و سنت اور اجماعِ صحابہؓ میں موجود شرعی دلائل نے کی ہے۔ چنانچہ صحابہؓ کے اجماع اور قیاس پر اعتماد کرنا بالآخر قرآن و سنت ہی پر اعتماد کرنا ہے۔ لہٰذا قرآن و سنت ہی شریعت کے بنیادی اور اصل مصادر رہتے ہیں۔ اور حتیٰ کہ اگر ہم یہ کہیں کہ شریعت کے دلائل قرآن مجید، سنتِ رسول ﷺ، اجماعِ صحابہؓ اور قیاس ہیں، بلکہ ان کے علاوہ ان دیگر دلائل کو بھی شامل کر لیں جن پر علماء کے اختلاف کے باوجود، بعض علماء نے انہیں شریعت کے دلائل کے طور پر اختیار کیا ہے، تب بھی ان اضافی دلائل کو اختیار کرنے والے علماء نے بھی بالآخر ان سب کے لئے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت کی طرف ہی رجوع کیا ہے۔ خواہ وہ استصلاح (معتبر مصلحتوں کو فقہی اعتبار سے ملحوظ رکھنا) کے قائل ہوں، یا استحسان (قوی دلیل کی بنیاد پر عام قاعدے سے استثناء)کے، یا(شرع من قبلنا ما لم يرد له ناسخ في شريعتنا)یعنی سابقہ شریعتوں کے اس حکم کو ماننے کے قائل ہوں جس کے ہماری شریعت میں منسوخ ہونے کی کوئی دلیل وارد نہ ہوئی ہو، یا اہلِ مدینہ کے اجماع کے قائل ہوں، یا استصحاب (کسی سابقہ حکم کا تب تک برقرار رہنا جب تک اس کے خلاف نئی دلیل نہ مل جائے) کو دلیل مانتے ہوں، یا اس کے علاوہ کسی اور دلیل کے قائل ہوں۔ اگر ہم مختلف علماء کی طرف سے پیش کیے گئے ان دلائل کا بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ان کے باہمی اختلاف کے باوجود بہرحال یہ تمام دلائل کسی نہ کسی طریقے سے بالآخر کتاب و سنت سے استدلال کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں۔ چنانچہ ان علماء کی بنیادی توجہ شرعی دلائل کی جانچ اور ان قواعد کی تحقیق پر مرکوز تھی جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے رسول ﷺ کی سنت اور ان دونوں کی رہنمائی سے شرعی احکام اخذ کیے جا سکتے تھے۔ لہٰذا ان کے لئے اصل اہمیت اس بات کی تھی کہ وہ ان احکام کو شرعی دلائل سے اخذ کریں، تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور ان کے ذریعے اسلامی زندگی وجود میں آئے۔
مقاصد کا اثبات ان کے نتائج سے حاصل ہوتا ہے نہ کہ پہلے سے متعین ارادے کے ذریعے :
جب ہم فقہ کے ان بڑے اسلامی مکاتبِ فکر کا جائزہ لیتے ہیں جو دوسری اور تیسری صدی ہجری کے دوران وجود میں آئے اور جن میں سے نمایاں مکاتب آج تک معتبر اور قابلِ اتباع سمجھے جاتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے ابتدائی تشکیل کے دور میں اور اس کے بعد تقریباً تین صدیوں تک انہوں نے ’’مقاصدِ شریعت‘‘ نام کی کسی چیز پر قطعاً توجہ نہیں دی۔ انہوں نے نہ تو ان مقاصد کا تجزیہ کیا، نہ انہیں باقاعدہ درجہ بندی کی صورت میں مرتب کیا، اور نہ ہی انہیں مستقل موضوعِ بحث بنایا۔ تاہم عملی طور پر جب ان فقہاء نے قرآن و سنت سے شرعی احکام کو احسن طریقے سے اخذ کیا اور مسلمانوں نے اپنی زندگیوں اور باہمی معاملات میں ان شرعی احکام کی پابندی کی، تو ان فقہاء کی عظیم علمی کاوش کے نتیجے میں اسلامی طرزِ زندگی وجود میں آیا۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں اسلامی معاشرے کے اندر مقاصدِ شریعت خود بخود متحقق ہو گئے، خواہ لوگ ان مقاصد سے واقف تھے یا نہیں، خواہ انہوں نے شعوری طور پر انہیں حاصل کرنے کا ارادہ کیا تھا یا نہیں، اور خواہ وہ ان کے تحقق کی نگرانی کرتے تھے یا نہیں۔ محض اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے شرعی احکام کا نفاذکرنے، اپنے معاملات کو ان کے مطابق انجام دینے اور اپنی زندگیوں کو ان احکام کے ذریعے تشکیل دینے سے مسلمانوں کے درمیان اسلامی شریعت کے مقاصد حاصل ہوتے رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقاصدِ شریعت، اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے شرعی قانون کی پیروی کے نتیجے میں خود وجود میں آتے ہیں۔
اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ مقاصدِ شریعت، شرعی احکام کے مصادر نہیں ہیں، اور نہ ہی وہ ایسی اساس یا وہ دلائل ہیں جن پر شرعی احکام کی بنیاد ہے۔ بلکہ شرعی احکام کے دلائل وہ تفصیلی وقطعی نصوص ہیں جو اللہ سبحانہْ و تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنتِ مبارکہ میں موجود ہیں۔ وہ پاکیزہ سرچشمہ جس سے شرعی احکام پھوٹتے ہیں، وہ قرآن اور سنت کے سوا کچھ نہیں۔ اسی وجہ سے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے اسلامی قانون کو ’’شریعت‘‘ کا نام دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ثُمَّ جَعَلۡنَٰكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ ٱلۡأَمۡرِ فَٱتَّبِعۡهَا وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ﴾’’پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک واضح راستے (شریعت) پر کر دیا، سو آپ اسی کی پیروی کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو علم نہیں رکھتے‘‘ [سورة الجاثية؛ 45:18]
لفظ شریعت اپنے اصل لغوی مفہوم میں ایسی شۓ کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کھلی ہوئی ہو اور آگے تک پھیلی ہوئی ہو۔ یہ لفظ پانی کے اس چشمے یا گھاٹ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جہاں لوگ پانی پینے کے لئے آتے ہیں۔ اسی استعمال سے دین کے حوالے سے شِرْعَة اور شَرِيعَة کی اصطلاحات وجود میں آئیں۔ عربوں کے ہاں کسی پانی کو شریعت اس وقت تک نہیں کہا جاتا تھا جب تک وہ بہتا ہوا اور مسلسل جاری نہ ہو۔ لفظ شریعت کا اطلاق سیدھے راستے (راہِ مستقیم) کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ اپنے اصل لغوی مفہوم میں شریعت، پینے اور استعمال کے لئے پانی کا ایسا سرچشمہ ہے جو کہ جاری ہو، جبکہ الشرع (الشَّرع)اس سرچشمے تک پہنچنے والے راستے کو کہا جاتا ہے۔ ابن الاعرابی اور الازہری نے بیان کیا ہے کہ شَرَعَ کا معنی کسی چیز کو ظاہر، واضح اور نمایاں کرنا ہے۔ اسی طرح طبری، قرطبی اور ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ لغت میں شریعت سے مراد کشادہ اور وسیع راستہ ہے۔ لہٰذا جو کوئی کسی معاملے کا ایک طریقہ مقرر کرکے اسے واضح اور بیان کر دے، وہ درحقیقت اس کے لئے ایک راستہ یا طریقہ متعین کر دیتا ہے۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ فقہی علمی کاوش کی بلند ترین سطح، یعنی اسلامی تشریع کی وہ شاندار اور عظیم الشان علمی عمارت، دوسری اور تیسری صدی ہجری کے درمیان وجود میں آئی تھی۔ اگرچہ اس کے بعد بھی وقت گزرنے کے ساتھ یہ فقہی ذخیرہ بڑھتا رہا، کیونکہ نئے مسائل پیش آتے رہے اور نت نئے واقعات یکے بعد دیگرے رونما ہوتے رہے۔ چنانچہ قابل اور ماہر فقہاء ان نئے معاملات کے لئے شرعی احکام اخذ کرتے رہے، یا پہلے سے اخذ کیے گئے احکام کو ان معاملات پر اس وقت منطبق کرتے، جب وہ احکام ان کے شرعی حالات پر درست طور پر منطبق ہوتے تھے۔ یوں نئے واقعات اور مسائل سامنے آتے رہنے کے ساتھ، جن کے لئے شرعی حکم درکار ہوتا ہے، اسلامی فقہ کا دائرہ فطری طور پر وسیع ہوتا رہتا ہے۔ لیکن اسلامی فقہ کا وسیع ہونا ایک الگ معاملہ ہے، جبکہ فقہ میں جس چیز کو آج ’’ارتقاء‘‘، ’’لچک‘‘ یا ’’تبدیلی‘‘ کہا جاتا ہے، وہ ایک بالکل الگ معاملہ ہے۔ اسلامی فقہ اپنی فطرت کے اعتبار سے وسیع ضرور ہے، لیکن یہ انسان کے وضع کردہ قوانین کی طرح متغیر یا ارتقاء پذیر نہیں ہے، جیسا کہ آج فقہ میں غیر متعلق طور پر دخل دینے والے بہت سے لوگ دعویٰ کرتے ہیں۔ اسی لئے اسلامی فقہ کا وہ سب سے عظیم، ابتدائی، شاندار اور مثالی علمی ڈھانچہ وہی فقہ ہے جسے فقہی مذاہب کے بانی علماء، مثلاً امام شافعی، امام مالک، امام ابو حنیفہ اور دیگر ائمہ کرام نے مرتب اور نمایاں کیا۔ ان میں ایسے علماء بھی شامل ہیں جن کے فقہی مذاہب ہمیں مکمل صورت میں منتقل نہیں ہوئے، مثلاً امام الأوزاعي والثورياور اس زمانے کے بہت سے دوسرے علماء۔ بعد کی صدیوں میں جن لوگوں نے فقہ اور اصولِ فقہ کو وسعت دی، انہوں نے بھی بنیادی طور پر انہی علماء کے منہج اور طریقے کی پیروی کی۔ انہی علماء کے دور میں اسلامی فقہ اور اصولِ فقہ کی وہ عظیم اور بلند و بالا عمارت قائم ہوئی جو آج ہمارے سامنے موجود ہے۔ لیکن اس پوری عظیم عمارت میں مقاصدِ شریعت کے نام سے کوئی مستقل باب مختص نہیں تھا۔بہرحال اس بات سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں بطور مصنفِ مضمون، اجتہاد کا دروازہ بند کرنے کی اس سنگین غلطی سے متفق ہوں جسے بعد میں بہت سے فقہائے مذاہب نے اختیار کر لیا تھا۔
مقاصدِ شریعت کے باب کی ابتدا اور اس کے مراحل
اسلامی اصولِ فقہ کی کتابوں میں ’’مقاصدِ شریعت-(مقاصد الشريعة)‘‘ کی اصطلاح ظاہر ہونے سے قبل کئی صدیاں گزر چکی تھیں۔ پہلی بار یہ اصطلاح پانچویں صدی ہجری میں امام الحرمین ابو المعالی الجوینیؒ کے ذریعے سامنے آئی۔ اس موضوع کے حوالے سے ان کی نمایاں ترین تصنیف ان کی کتاب "البرہان فی اصول الفقہ" ہے۔ چنانچہ امام الجوینیؒ ہی اس باب کے بانی اور اس اصطلاح کا آغاز کرنے والے پہلے شخص ہیں۔ پھر ان کے شاگرد ابو حامد الغزالیؒ نے اس موضوع کو مزید تفصیل، ترتیب اور تنظیم کے ساتھ پیش کیا۔ ان کے بعد جو علماء اسی اصولی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے بھی اسی نقطۂ نظر کو آگے بڑھایا۔ اصولِ فقہ میں یہ مکتبِ فکر ’’متکلمین کے منہج‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ تاہم اس نئے باب کے اضافے سے اس اصولی منہج پر کوئی قابلِ ذکر اثر مرتب نہیں ہوا جسے امام شافعیؒ نے علمِ اصول کے لئے قائم کیا تھا۔ چنانچہ امام الحرمین الجوینیؒ، ابو حامد الغزالیؒ اور ان کے بعد آنے والے وہ علماء جو ان کے منہج پر چلے، جب انہوں نے مقاصدِ شریعت کا باب قائم کیا تو انہوں نے اصولِ فقہ کے منہج میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی۔ اور اصولِ فقہ میں مقاصدِ شریعت کی بحث کے داخل ہونے سے اس کے بنیادی منہج میں کوئی اہم ترمیم بھی پیدا نہیں ہوئی۔
مقاصدِ شریعت کی وضاحت، ان کی درجہ بندی اور پانچ بنیادی ضروریات:
مقاصدِ شریعت کے عنوان کے تحت کیا چیز زیرِ بحث لائی گئی؟
علماء نے بیان کیا کہ شریعت اس لئے نازل کی گئی ہے کہ دنیا اور آخرت میں لوگوں کے لئے خیر وبھلائی کو یقینی بنایا جائے۔ جہاں تک اس خیر و بھلائی کا تعلق ہے جنہیں شریعت نے دنیا میں حاصل کرنا مقصود بنایا، علماء نے ان کی اہمیت کے اعتبار سے انہیں تین درجات میں تقسیم کیا۔ سب سے بلند درجہ ضروری مصالح (المصالح الضروریۃ) کا ہے، اس کے بعد حاجاتی مصالح (المصالح الحاجیۃ) اور پھر تحسینی مصالح (المصالح التحسینیۃ) آتے ہیں۔ اس تقسیم کے بعد علماء نے ضروری مصالح کا تعین کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ شریعت کے احکام کا مجموعی جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ تمام احکام باہم مل کر پانچ بنیادی اور ضروری مصالح کے حصول کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ پانچ ضروریات یہ ہیں: دین کی حفاظت، جان کی حفاظت، نسل یا نسب کی حفاظت، مال کی حفاظت اور عقل کی حفاظت۔ چنانچہ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شریعت کے تمام احکام مجموعی طور پر ان پانچ ضروریات کی حفاظت اور بقا کو یقینی بناتے ہیں۔ ان مقاصد کے حصول میں بعض احکام ضروریہ کے درجے میں آتے ہیں، جبکہ بعض حاجات کے درجے میں، اور بعض تحسینی امور کے درجے میں آتے ہیں۔ بعدالذکر کی دونوں قسمیں، یعنی حاجیات اور تحسینیات بھی ان پانچ مقاصد کے حصول میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ان کا کردار ایسی قطعی اور بنیادی ضرورت کے درجے کا نہیں ہوتا جس کے بغیر ان مقاصد کا وجود ہی برقرار نہ رہ سکے۔
فطری طور پر، علماء ان نتائج تک شریعت کے جامع اور مجموعی جائزے کے ذریعے سے ہی پہنچے تھے، نہ کہ کسی مخصوص شرعی دلیل پر انحصار کرتے ہوئے۔ بالفاظِ دیگر، اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت میں براہِ راست ان پانچ مقاصد کی فہرست بیان نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں متعین کیا گیا ہے۔ بلکہ علماء نے پوری شریعت کا مجموعی جائزہ لے کر یہ اخذ کیا کہ شریعت بالآخر ان پانچ مقاصد کو یقینی بناتی ہے۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ شرعی سزائیں، خواہ مقررہ حدود ہوں یا قصاص، وہ بھی انہی پانچ بنیادی مقاصد کے تحفظ کے لئے مقرر کی گئیں، جو ان مقاصد کی انتہائی اہمیت اور سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ چنانچہ عقل کی حفاظت کے لئےاس شخص کے لئے حد، یعنی کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی جو شراب یا دیگر نشہ آور اشیاء استعمال کرے۔ دین کی حفاظت کے لئے ارتداد کی حد مقرر کی گئی۔ نسل و نسب کی حفاظت کے لئے زنا کی حد مقرر کی گئی۔ مال کی حفاظت کے لئے چوری ڈاکہ (سرقہ) کی حد مقرر کی گئی۔ اور جان کی حفاظت کے لئے قصاص یعنی ’’جان کے بدلے جان‘‘ کی حد مقرر کی گئی۔ لہٰذا علماء نے ان سزاؤں کو بھی اس بات کی مزید نشانیاں اور قرائن قرار دیا کہ یہ پانچ امور شریعت کے بنیادی اور ضروری مقاصد میں شامل ہیں۔
بنیادی ضروریات کو پانچ تک محدود کرنے کے بارے میں اختلافِ رائے :
ضروری مصلحتوں کو مذکورہ پانچ امور تک محدود کرنا نہ تو قطعی طور پر طے شدہ تھا اور نہ ہی تمام علماء نے اس پر اتفاق کیا تھا۔ بعض علماء نے ان پانچ کے علاوہ ایک چھٹی ضرورت کا بھی اضافہ کیا، یعنی عزت کی حفاظت، جس سے مراد انسانی وقار اور آبرو کی حفاظت ہے۔ یہی موقف امام ابن السبکیؒ نے اختیار کیا۔ انہوں نے اپنی کتاب "جمع الجوامع" میں بیان کیا کہ، «والضروريّ: كحفظ الدين، فالنفس، فالعقل، فالنسب، فالمال، والعرض» ’’ضروری امور میں دین کی حفاظت، پھر جان، عقل، نسب، مال اور عزت کی حفاظت شامل ہے‘‘۔ امام شوکانیؒ نے اپنی کتاب "إرشاد الفحول" میں اس اضافے کی تائید کی۔ وہ لکھتے ہیں: "الضروريّ: وهو المتضمّن لحفظ مقصود من المقاصد الخمسة التي لم تختلف فيها الشرائع، بل هي مُطبِقة على حفظها، وهي خمسة، أحدها: حفظ النفس.. ثانيها: حفظ المال.. ثالثها: حفظ النسل.. رابعها: حفظ الدين.. خامسها: حفظ العقل..، وقد زاد بعض المتأخّرين سادسًا، وهو حفظ الأعراض، فإنّ عادة العقلاء بذل نفوسهم وأموالهم دون أعراضهم، وما فُدي بالضروري فهو بالضروري أولى، وقد شُرع في الجناية عليه بالقذف الحدُّ، وهو أحقّ بالحفظ من غيره، فإنّ الإنسان قد يتجاوز عمّن جنى على نفسه أو ماله، ولا يكاد أحد يتجاوز عمّن جنى على عرضه. ولهذا يقول قائلهم:يَهُونُ عَلَيْنَا أَنْ تُصَابَ جُسُومُنَا وَتَسْلَمَ أَعْرَاضٌ لَنَا وَعُقُولُ"’’ضروری سے مراد وہ امر ہے جس کے ذریعے ان پانچ مقاصد میں سے کسی ایک کا تحفظ حاصل ہو جن کے بارے میں تمام نازل کردہ شریعتوں میں اختلاف نہیں ہوا، بلکہ سب نے ان کے تحفظ پر اتفاق کیا ہے۔ اور وہ پانچ یہ ہیں: اول، جان کی حفاظت؛ دوم، مال کی حفاظت؛ سوئم، نسل کی حفاظت؛ چہارم، دین کی حفاظت؛ پنجم ، عقل کی حفاظت۔ اور بعد کے بعض علماء نے ان میں چھٹی چیز کا اضافہ کیا، اور وہ ہے عزت و آبرو کی حفاظت۔ کیونکہ عقل مند لوگوں کا رواج وطریقہ ہے کہ وہ اپنی عزت و آبرو کے دفاع کے لئے اپنی جان اور مال تک قربان کر دیتے ہیں۔ لہٰذا جس چیز کی حفاظت کے لئے ضروری چیزیں قربان کر دی جائیں، وہ بدرجہ اولیٰ خود اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اسے بھی ضروری قرار دیا جائے۔ عزت و آبرو پر حملے کی صورت میں بہتان اور تہمت کی سزا مقرر کی گئی ہے، یعنی اس جرم پر حد جاری کی گئی ہے۔ لہٰذا عزت دوسری چیزوں کی نسبت زیادہ حفاظت کی مستحق ہے، کیونکہ انسان ممکن ہے کہ اپنی جان یا مال کو نقصان پہنچانے والے شخص کو معاف کر دے، لیکن شاید کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنی عزت و آبرو پر حملہ کرنے والے کو معاف کرے۔ اسی لئے کسی شاعر نے کہا تھا کہ ، "يَهُونُ عَلَيْنَا أَنْ تُصَابَ جُسُومُنَا- ہمارے لئے یہ بات کم تکلیف دہ ہے کہ ہمارے جسموں کو گزند پہنچے ... وَتَسْلَمَ أَعْرَاضٌ لَنَا وَعُقُولُ-بشرطیکہ ہماری عزتیں اور ہماری عقلیں محفوظ رہیں‘‘۔
بعض علماء کا یہ بھی ماننا تھا کہ سلامتی اور امن و امان کے تحفظ کو بھی ان مقاصد میں شامل کیا جا سکتا ہے، جو کہ اسلامی معاشرے کے تحفظ کے لئے اعلیٰ ترین مقاصد میں سے ایک ہے۔ اس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے حرابہ (مسلح ڈاکہ زنی اور راہزنی) کی حد مقرر فرمائی— جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ثابت ہے: ﴿إِنَّمَا جَزَٰٓؤُا۟ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَسْعَوْنَ فِى ٱلْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓا۟ أَوْ يُصَلَّبُوٓا۟ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَٰفٍ أَوْ يُنفَوْا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ﴾”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سزا بس یہی ہے کہ وہ قتل کیے جائیں، یا سولی چڑھائے جائیں، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دئیے جائیں، یا انہیں ملک سے جلاوطن کر دیا جائے‘‘ [سورۃ المائدۃ؛ 5:33]۔ اسی طرح ریاست کے تحفظ کو بھی اسلام میں بذاتِ خود ایک مقصد قرار دیا جا سکتا ہے۔ ریاست کے وجود، بقا اور وحدت کے لئے ایسے احکامات صادر کیے گئے ہیں جن میں سے بعض میں زندگی اور موت جیسے سخت اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا» ”جب دو خلفاء کے لئے بیعت کی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کردو“۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: «مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ، يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ، فَاقْتُلُوهُ»”جب تمہارے معاملات ایک شخص پر مجتمع ہوں،اور کوئی شخص تمہارے پاس آکر تمہاری وحدت کو توڑنے یا تمہاری جماعت میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرے،تو اُسے قتل کر دو“۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ، فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ» ”اورجوشخص امام(خلیفہ) کی بیعت کرے تو اسے اپنے ہاتھ کا معاملہ اور دل کا پھل دے دے (یعنی سب کچھ اس کے حوالہ کردے)،پھر اسے چاہیے کہ وہ حسبِ استطاعت اس کی اطاعت بھی کرے۔اگر کوئی دوسراشخص آئے اور پہلے خلیفہ سے تنازع کرے تو دوسرے کی گردن اڑا دو“۔
الإمام تقيّ الدين النبهاني رحمه الله اپنی تصنیف "الشخصية الإسلامية" جلد سوئم میں، جسے انہوں نے اصولِ فقہ کے موضوع کے لئے مختص کیا ہے، فرماتے ہیں: «المقاصد الخمسة التي يقولون إنّها لم تخلُ من رعايتها ملّة من الملل، ولا شريعة من الشرائع وهي حفظ الدين، والنفس، والعقل، والنسل، والمال، ليست كلّ ما هو ضروري للمجتمع من حيث هو مجتمع، فإنّ حفظ الدولة وحفظ الأمن وحفظ الكرامة الإنسانية هي أيضًا من ضرورات المجتمع، فالضروريات إذن في واقعها ليست خمسة وإنّما هي ثمانية»”وہ پانچ مقاصد جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی ملت اور کوئی بھی شریعت ان کی رعایت سے خالی نہیں رہی، یعنی دین، جان، عقل، نسل اور مال کی حفاظت؛ یہ مقاصد ان تمام چیزوں کو شامل نہیں کرتے جو بحیثیت معاشرہ، ایک معاشرے کے لئے ضروری ہیں۔ کیونکہ ریاست کا تحفظ، امن و سلامتی کا تحفظ اور انسانی عزت و حرمت کا تحفظ بھی معاشرے کی ضروریات میں شامل ہیں۔ لہٰذا حقیقت میں ضروریات پانچ نہیں بلکہ آٹھ ہیں“۔
بہرحال، یہ بنیادی مقاصد پانچ ہوں، چھ ہوں یا آٹھ، اصل مسئلہ ان کی تعداد گننے میں نہیں ہے۔ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ شریعت انسان کے مصالح اور بھلائی کے حصول و تحفظ کے لئے ہی نازل کی گئی ہے، خواہ ان مصالح کو کسی بھی انداز سے تقسیم یا درجہ بند کیا جائے۔
امام جوینیؒ اور امام غزالیؒ کے زمانے کے تقریباً تین صدیوں بعد ایک عالم نے مقاصدِ شریعت کے موضوع کو مزید وسعت دی اور اسے اصولِ فقہ میں ایک اہم مقام دیا۔ یہ عالم امام ابو اسحاق الشاطبی رحمہ اللہ تھے، جن کا انتقال 790 ہجری میں ہوا۔ انہوں نے اپنی کتاب الموافقات کی دوسری جلد کو مقاصدِ شریعت کے موضوع کے لئے مخصوص کیا اور فقہی اصول وعلوم میں مقاصدِ شریعت کو نہایت وسیع اہمیت دی۔ تاہم، امام شاطبی اور اسلامی تاریخ میں ان کے بعد آنے والے بہت سے علماء نے اگرچہ اصولِ فقہ کے اندر مقاصدِ شریعت کے موضوع پر بہت تفصیل سے بحث کی، لیکن ان کی یہ توسیع بھی کبھی اس نہج تک نہیں پہنچ سکی جہاں دورِ حاضر کے بہت سے "المقاصديين" جا پہنچے ہیں۔ یعنی انہوں نے مقاصدِ شریعت کے مطالعے کو اس طرح سے تبدیل نہیں کر دیا کہ وہ قرآنِ کریم اور رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ کے تفصیلی دلائل کے بجائے شریعت کے احکام اخذ کرنے کا ایک اضافی ماخذ بن جائے۔ دوسرے الفاظ میں، ان لوگوں کی کوشش یہ ہے کہ قرآن و سنت کو ایک طرف رکھ دیا جائے اور ان کی جگہ مقاصدِ شریعت کو قانون سازی کا ایک مستقل ماخذ بنا دیا جائے۔
موجودہ دور کا مقاصدی انحراف :
جدید مفکرین کا ایک گروہ، جو شریعت کو مسخ کرنے بلکہ اسے اس کی حقیقی روح سے خالی کرنے کے بعد عملاً اس کی جگہ ایک نئی چیز رائج کرنے کے راستے پر گامزن ہے، یہ گروہ اس دعوے پر انحصار کرتا ہے کہ چونکہ شریعت ان مقاصد کے حصول کے لئے نازل ہوئی ہے، اس لئے اب ہم ایک ایسا نیا طریقہ اختیار کر سکتے ہیں جو اس روایتی اصولِ فقہ کی جگہ لے لے جس پر مسلمان علماء صدیوں سے عمل کرتے چلے آئے ہیں۔ چنانچہ ان کے نزدیک اب اس ضرورت کے بجائے کہ ہم قرآنی آیات و احادیثِ نبوی سے تفصیلی دلائل تلاش کرنے میں گہرائی سے تحقیق کریں، پھر ان دلائل سے احکام اخذ کریں، بعض دلائل کو بعض پر ترجیح دیں، نصوص کے عموم و خصوص، مطلق و مقید، ناسخ و منسوخ، مجمل و مبین، نص کے مفہوم اور اس کی دلالت وغیرہ جیسے اصولوں کا کا مطالعہ کریں اور باریک بینی سے غور کریں، ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اس پورے علمی عمل سے بے نیاز ہو سکتے ہیں اور اس کی بجائے مقاصدِ شریعت کو ایسے بنیادی اصول کے طور پر اختیار کر سکتے ہیں جن پر ایک نیا فقہی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے! یہی اس معاملے کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔ ہمارے دور میں جس چیز کو ”مقاصد پر مبنی طریقہ“ کہا جا رہا ہے، اس طریقہ پر انحصار نے ایسے ایسے فتووں کو جنم دیا ہے جن کی دلیل اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی نازل کردہ کسی شریعت سے نہیں ملتی۔ اسی طریقۂ کارکے ذریعے کفار ممالک کے قانون سازوں کے بنائے ہوئے بہت سے وضعی قوانین کو بھی جواز دے کر جائز قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح مسلم دنیا کو الگ الگ علاقائی قومی ریاستوں میں تقسیم کرنے کو بھی جائز قرار دے دیا گیا ہے۔ اور مغربی طرزِ زندگی سے وابستہ نام نہاد عوامی آزادیوں کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح انٹرنیشنل آرڈر اور اقوامِ متحدہ کے قوانین کو اختیار کرنے، اور مسلمانوں کی ان میں شرکت کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ بہت سے گناہوں اور سنگین شرعی خلاف ورزیوں کا بھی اس بہانے دفاع کیا گیا ہے کہ بالآخر یہ سب اسلامی شریعت کے مقاصد کو حاصل کرتے ہیں۔ یہ تمام آراء ایسے لوگوں کی طرف سے پیش کی گئی ہیں جنہوں نے ”مقاصد پر مبنی طریقۂ کار“، ”مقاصد پر مبنی فکر“ اور اسی نوعیت کے دیگر عنوانات کو اپنا شعار بنا رکھا ہے۔
اصطلاحات کی وضاحت؛ مؤثر شرعی علت، اس کا مقصد اور حکمت :
اصولِ فقہ کے بعض محققین ایسے تذبذب کی صورتحال میں بھی رہے کہ جس کی سمجھ کے لئے ضروری ہے کہ ہم چند اہم تصورات اور اصطلاحات کی درست اور دقیق وضاحت کی طرف دوبارہ رجوع کریں۔ یہ بات کہ مقاصدِ شریعت وہ عمومی اغراض اور اعلیٰ ترین مقصد ہیں جن کے لئے شرعی احکام مقرر کیے گئے ہیں، تو اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مقاصدِ شریعت اس مؤثر شرعی علت کی جگہ لے لیں کہ جب وہ علت موجود ہو تو کوئی شرعی حکم لاگو ہوتا ہے اور جب شرعی علت نہ ہو تو وہ حکم بھی لاگو نہیں ہوتا۔ اسی طرح اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ مقاصدِ شریعت ایسے دلائل بن سکتے ہیں جن کی بنیاد پر فوری طور پر شرعی احکام اخذ کیے جا سکیں۔ ان دونوں باتوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ جو شخص اس موضوع میں مزید تفصیل اور باریکیوں کا مطالعہ کرنا چاہے، اسے امام آمدی رحمہ اللہ (وفات 631ھ) کی کتاب "الإحكام في أصول الأحكام" کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس کتاب میں، اور اسی علم کی دیگر بنیادی اور معتبر کتب میں، سبب، علت اور حکمت کی اصطلاحات کے درمیان امتیاز کو نہایت مضبوط اور تفصیلی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہاں حکمت سے مراد وہ مقصد ہے جسے شارعِ حکیم نے پیشِ نظر رکھا ہے۔
کلی مقاصد سے جزوی مقاصد تک :
اگر اصولِ فقہ اور مقاصد کے علماء نے یہ بات طے کر دی ہے کہ شریعت کی کلی ضروریات—خواہ وہ پانچ ہوں، چھ ہوں یا آٹھ—تشریع کے عمومی مقاصد ہیں، تو یہ اعلیٰ مقاصد تمام انفرادی و جزوی احکام کے مخصوص مقاصد کی تکمیل کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اور انہی کو علماء کسی حکم کی ”حکمت“ کہتے ہیں۔ قرآنی نصوص اور احادیثِ نبویہ میں بارہا بہت سے انفرادی شرعی احکام کے اندر موجود مطلوبہ حکمتوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر درج ذیل احکام دیکھے جا سکتے ہیں:
شراب اور جوئے کی ممانعت: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ فِى ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِرِ﴾”شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے“ [سورۃ المائدۃ؛ 5:91]۔ یہ آیت اس ممانعت کے پیچھے اصل مقصد اور حکمت کو واضح کرتی ہے، یعنی باہمی یگانگت کا تحفظ اور بغض و عداوت کے اسباب کا خاتمہ۔
نماز کی مشروعیت: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾”بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے“ [سورۃ العنکبوت؛ 29:45]۔ چنانچہ یہ نص واضح کرتی ہے کہ نماز کے مقاصد اور اغراض میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگوں کو بے حیائی اور برے کاموں سے روکے۔
روزے (صیام) کی فرضیت: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾”تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو“ [سورۃ البقرۃ؛ 2:183]۔ لہٰذا یہ آیت تقویٰ کو اس عبادت کا ایک مقصد قرار دیتی ہے۔
اور اگر ہم بہت سے شرعی احکام کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ شارعِ حکیم نے مختلف مقامات پر ان احکام کی حکمتوں اور غایات کی طرف خود رہنمائی فرمائی ہے۔ یہی حکمتیں دراصل احکامِ شرعیہ کے مقاصد ہیں۔
شرعی علت اور مقصد یا ”حکمت“ کے درمیان فرق:
انفرادی احکام کے جزوی مقاصد کو اعلیٰ کلی ضروریات کے ساتھ مربوط کرنا ایک مسلمہ اور طے شدہ امر ہے۔ تاہم، اصولِ فقہ سے وابستہ بہت سے افراد جس غلطی کا شکار ہوئے ہیں، وہ مقصد—التشريع یعنی شرع سے متعلق امور کے اندر چھپی حکمت—کو ”علت“ کے ساتھ خلط ملط کرنا اور دونوں کو ایک ہی چیز سمجھنا ہے، حالانکہ وہ دونوں بنیادی طور پر ہی متعدد پہلوؤں سے باہم مختلف ہیں۔
اصولِ فقہ کی اصطلاح میں علت سے مراد ایسا واضح اور متعین وصف ہے جس کے ساتھ شریعت نے کسی حکم کو وابستہ کیا ہو، اور جس کے موجود ہونے پر وہ شرعی حکم بھی لاگو ہوتا ہو اور جس کے نہ ہونے پر وہ حکم بھی نہ لاگو ہوتا ہو۔ قیاس کی بنیاد بھی اسی علت پر قائم ہوتی ہے۔ چنانچہ درج ذیل بات کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے:
علت کسی حکم کے لئے محض عقلی بنیاد نہیں ہوتی۔ بعض شرعی احکام علت پر مبنی ہوتے ہیں، جبکہ دیگر احکام علت پر مبنی نہیں ہوتے (یعنی غیر معلل ہوتے ہیں)۔ ہر شرعی حکم کے لئے محض عقل کی بنیاد پر کوئی علت گھڑ لینا جائز نہیں ہے۔ علت اسی وقت معتبر ہوگی جب قرآن یا سنت کی شرعی نص اس کو ثابت کرتی ہو اور علت کے تعین کے معروف اور معتبر اصولوں کے مطابق صحیح طریقۂ استنباط کے ذریعے اس علت تک پہنچا جائے۔ جب شارع نے کسی حکم کو کسی علت کے ساتھ منسلک کیا ہو تو علماء اس حکم کے بارے میں شرعی سبب (تعلیل) اور قیاس کے اصولوں کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جہاں شارع نے کسی حکم کو علت پر مبنی نہ کیا ہو، خواہ وہ انفرادی عبادات سے متعلق ہو یا معاملات اور معاشرتی امور سے، تو وہاں شرعی حکم کو صرف نص کے شرعی دلائل تک محدود رکھنا ضروری ہے اور عقل کی بنیاد پر اس کے لئے کوئی علت خود سے گھڑنا جائز نہیں۔ لہٰذا ایسے احکام کو اصل بنا کر ان پر دوسرے نئے مسائل کا قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا، خواہ وہ احکام عبادات کے دائرے سے تعلق رکھتے ہوں یا معاملات کے دائرے سے۔
احکامِ شرعیہ کو علت پر مبنی (معلَّل) یا نص سے متعین کردہ (توقیفی) قرار دینے کے حوالے سے یہ بات درست ہے کہ عبادات سے متعلق احکام کی بڑی تعداد ایسی ہے جو کسی متعین علت پر مبنی نہیں ہیں، جبکہ زیادہ تر مؤثر علتیں معاملات سے متعلق احکام میں پائی جاتی ہیں۔ تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ معاملات کے دائرے میں آنے والا ہر شرعی حکم لازماً علت پر مبنی ہو۔ اصولِ فقہ کے کسی عالم کو یہ حق نہیں کہ وہ محض اس بنیاد پر معاملات سے متعلق ہر انفرادی حکم کواس بنیاد پر علت پر مبنی (معلَّل) قرار دے دے کہ وہ حکم معاملات کے باب میں شامل ہے۔ فقہ میں معاملات سے متعلق بہت سے شرعی احکام ایسے بھی ہیں جن کے لئے کوئی علت متعین یا ثابت نہیں ہے۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ احکامِ شرعیہ کو عبادات، معاملات، اخلاق، حدود و سزاؤں اور دیگر مختلف ابواب میں تقسیم کرنا کوئی ایسی توقیفی تقسیم نہیں جو کسی مخصوص شرعی دلیل سے ثابت ہو۔ بلکہ یہ ایک اصطلاحی اور تنظیمی تقسیم ہے جسے فقہاء اورأصوليوننے شرعی احکام کو مختلف اقسام میں مرتب کرنے اور فقہی کتب کے مطالعے اور مراجعت کو آسان بنانے کے لئے اختیار کیا ہے۔ اور یقیناً یہ ایک درست اور ضروری تقسیم ہے، جو فقہی تجزیے میں مدد دیتی ہے۔ اس روایتی ترتیب کو ملحوظ رکھے بغیر فقہ کے مختلف ابواب کا جائزہ لینا اور ان سے متعلق متعدد سوالوں کے لئے احکام اخذ کرنا خاصا مشکل ہو جائے گا۔ تاہم، اس تنظیمی تقسیم کا یہ مطلب نہیں کہ ایسے شرعی احکام موجود نہیں جو دو مختلف ابواب کے درمیان مشترک نوعیت رکھتے ہوں، یعنی جو بیک وقت عبادات اور معاملات دونوں سے مشابہت رکھتے ہوں۔ مثلاً زکوٰۃ کو عام طور پر عبادات کے باب میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن جب ہم زکوٰۃ ادا نہ کرنے کے حوالے سے نتائج اور اس سے متعلق احکام کی تفصیلات پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ اسلام کے اقتصادی اور مالیاتی نظام کا ایک بنیادی ستون ہے، اور اسلام کا مالیاتی نظام معاملات کو منظم کرنے کے حوالے سے بدن میں موجود دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح بعض فقہاء نے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی راہ میں جہاد سے متعلق احکام کو عبادات کے ضمن میں شمار کیا ہے۔ لیکن حقیقت میں جہاد شریعت کے نظامِ حکمرانی، نظامِ حکومت اور اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی جزو ہے۔ اس اعتبار سے جہاد کا تعلق بھی معاملات اور اجتماعی معاشرتی امور کے دائرے سے ہے۔
چنانچہ، یہ درجہ بندی اس انداز میں توقیفی نہیں ہے کہ اس سے استنباط (شرعی احکام اخذ کرنے) کے الگ الگ طریقے لازم آتے ہوں۔ شریعت میں احکام کے استنباط کرنے کا طریقہ ایک ہی ہے، اور دلائل کے شرعی قواعد اور علت کو جانچنے کے معتبر طریقے تمام احکام پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ اصل معاملہ محض اتنا ہے کہ اصولِ فقہ میں استقراء (شرعی احکام کے استدلال) سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عبادات سے متعلق شرعی احکام عام طور پر علتوں پر مبنی نہیں ہوتے، جبکہ علت پر مبنی احکام کی اکثریت معاملات کے معاملے میں پائی جاتی ہے۔
علت اور شرعی مقصد (حکمت) کے درمیان گہرا فرق :
علت کی حقیقی نوعیت کو واضح کرنے اور اسے شرعی مقصد کے ساتھ خلط ملط ہونے سے روکنے کے لئے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اصولِ فقہ کی اصطلاح میں علت اور مقصد بالکل الگ اور دو مختلف معاملات ہیں۔
علت سے مراد ایسا واضح اور متعین وصف ہے جسے شارع نے کسی شرعی حکم کے ساتھ منسلک کیا ہو اور اسے اس حکم کی تشریع کا بنیادی محرک اور اس کے نفاذ کا باعث قرار دیا ہو۔ چنانچہ جب علت موجود ہو تو شرعی حکم عملاً نافذ ہوتا ہے اور جب وہ علت موجود نہ ہو تو حکم بھی نافذ نہیں ہوتا۔ یعنی علت کے پائے جانے سے حکم ثابت اور لاگو ہوتا ہے اور علت کے نہ ہونے سے حکم بھی ساقط ہو جاتا ہے۔ علت کے ثابت ہونے کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ علت قیاس (شرعی سبب) کا بنیادی جزو بن جاتی ہے۔ قیاس سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسے نئے مسئلے پر، جس کے بارے میں براہِ راست کوئی شرعی نص موجود نہ ہو، کسی ایسے اصل مسئلے کا حکم جاری کیا جائے جس کا حکم نص سے ثابت ہو، کیونکہ دونوں مسائل میں ایک ہی علت مشترک ہے۔ لہٰذا علت شرعی حکم کی بنیاد ہے۔ دوسرے الفاظ میں، حکم علت سے پیدا ہوتا ہے اور اس پر مرتب ہوتا ہے۔ قیاس کے ذریعے کسی فرعی مسئلے کا حکم وجود میں آنے کے اعتبار سے علت اس حکم سے پہلے ہی موجود ہوتی ہے : یعنی پہلے علت پائی جاتی ہے، پھر اس کی بنیاد پر فرعی مسئلے کا حکم سامنے آتا ہے۔
اس کے برعکس، مقصد یا حکمت وہ نتیجہ یا غایت ہے جو کسی شرعی حکم کی تشریع کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ شرعی حکم اپنی ابتدا ہی سے اس مقصد کی بنیاد پر قائم نہیں ہوتا، بلکہ مقصد خود اس شرعی حکم کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اثر ہے اور اسی کے بعد مرتب ہوتا ہے۔ چنانچہ علت پر مبنی حکم اپنی علت سے وجود میں آتا ہے، جبکہ مقصد حکم کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے اور اس کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ اور یہی ان دونوں اوامر کے درمیان بنیادی فرق ہے جو ان کی موجودگی اور شرعی کردار کے اعتبار سے ہے۔
اس بات کی عملی دلیل کہ مقاصد کا حصول کبھی رک بھی سکتا ہے جبکہ علتیں مستقل طور پر لاگو رہتی ہیں :
اس فرق کو واضح کرنے کے لئے ہم درج ذیل شرعی مثالیں پیش کرتے ہیں:
نماز کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں، ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾”بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے“ [سورۃ العنکبوت؛ 29:45]۔ تو نماز کا یہ اثر، یعنی بے حیائی اور برائی سے رک جانا، اس شرعی حکم کا مقصد، غرض اور مطلوبہ نتیجہ ہے۔ اصولِ فقہ کے نقطہ نظر سے، کیا یہ درست ہوگا کہ اس مقصد کو ایسی ”علت“ بنا دیا جائے جس کے وجود یا عدم ہونے پر نماز کی فرضیت کا دارومدار ہو؟ تو یقیناً اس کا جواب قطعی طور پر نفی میں ہے۔ کیونکہ اگر اسے علت مان لیا جائے، تو جس شخص کی نماز اسے برائی سے نہ روکتی ہو، تو اس پر نماز کی فرضیت ہی ختم ہو جائے گی، چنانچہ یہ بات علماء کے اجماع کے مطابق باطل ہے۔ لہٰذا حکم سے وابستہ شرعی مقصد بعض مخصوص صورتوں میں اور مخصوص افراد کے معاملے میں حاصل ہونے سے رہ بھی سکتا ہے، لیکن شرعی حکم پھر بھی نافذ رہتا ہے کیونکہ اس حکم کو واجب کرنے والا حکم مستقل لاگو ہے اور وجوب کا سبب بدستور موجود ہے—یعنی نماز کا وقت شروع ہونا اور وہ عمومی شرعی خطاب جس میں نماز فرض کی گئی ہے۔
روزے (صیام) کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں، ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو“ [سورۃ البقرۃ؛ 2:183]۔ یہاں اس حکم کی حکمت ( مقصد) تقویٰ حاصل ہونا ہے۔ تاہم، کسی بھی صورت میں ”حصولِ تقویٰ“ کو روزے کی فرضیت کی ایسی علت نہیں بنایا جا سکتا کہ تقویٰ حاصل ہونے پر روزہ واجب ہو اور تقوٰی حاصل نہ ہونے پر روزہ کا حکم ساقط ہو جائے۔ اور اس بات پر تمام اسلامی فقہی مکاتبِ فکر کے فقہاء کا متفقہ اجماع ہے۔ کیونکہ جو شخص روزے کے ذریعے تقویٰ کے اس درجے کو حاصل نہ کر سکے، تو اس پر سے بھی روزے کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی۔
عورتوں کے لباس کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ﴾”اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں (جلباب) لٹکا لیا کریں۔ یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے“ [سورۃ الاحزاب؛ 33:59]۔ آیت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حکمت اور مقصد یہ تھا کہ آزاد عورتوں کو لونڈیوں سے ممتاز کیا جائے تاکہ انہیں ستائے جانے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ آزاد عورت اور لونڈی کے درمیان امتیاز ہی اس حکم کی علت ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ موجودہ دور میں، چونکہ لونڈیاں موجود نہیں ہیں، اس لئے جلباب پہننے کی شرعی پابندی بھی ختم ہو گئی ہے۔ تو یہ موقف ہی باطل ہے اور کسی مسلم فقیہ نے اسے اختیار نہیں کیا۔ اصولِ فقہ کے علماء کے نزدیک علت کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ علت شرعی طور پر مؤثر ہو اور اس کا اطلاق مستقل طریقے سے ہو۔ لہٰذا اس معاملے میں آزاد عورت اور لونڈی کے درمیان امتیاز ایک مقصد اور حکمت ہے، نہ کہ ایسی علت جس کے موجود ہونے یا عدم موجودگی پر جلباب کی فرضیت کا انحصار ہو۔
شراب اور جوئے کی ممانعت کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا، ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ فِى ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِرِ﴾”شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے“ [سورۃ المائدۃ؛ 5:91]۔ یہ آیت اس ممانعت کے اندر چھپی حکمت اور مقصد کو صراحت سے بیان کرتی ہے: یعنی دشمنی اور بغض کو روکنا۔ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ یہ مقصد ہی علت ہے، تو وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ ”میں تھوڑی سی مقدار پیوں گا جس سے نشہ نہیں ہوگا اور یوں نہ دشمنی پیدا ہوگی نہ بغض“۔ تو شرعی اعتبار سے ایسا نتیجہ قطعی باطل ہے۔
اس کے برعکس، مستقل طور پر لاگو ہونے والی (مطرد) علت کی مثال کے طور پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےفرمایا، ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نُودِىَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوْمِ ٱلْجُمُعَةِ فَٱسْعَوْا۟ إِلَىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِ وَذَرُوا۟ ٱلْبَيْعَ﴾”اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو“ [سورۃ الجمعہ؛ 62:9]۔ اس صورت میں خرید و فروخت کی ممانعت کی علت ”ایسی مشغولیت ہے جو فرض نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بنتی ہو“۔ چونکہ یہ ایک معتبر شرعی علت ہے جس کی موجودگی یا عدم موجودگی پر نماز کا حکم منحصر ہے، اس لئے یہ ممانعت ان لوگوں پر لاگو نہیں ہوتی جن پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے، جیسے کہ عورتیں، مسافر اور بیمار، کیونکہ ان کے معاملے میں یہ علت موجود نہیں۔ چونکہ یہ ایک شرعی علت ہے، اس لئے یہ قیاس کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔ چنانچہ ہر وہ مشغولیت—خواہ وہ زراعت ہو، صنعت و حرفت، تجارت یا تدریس—قیاس کے ذریعے تجارت کے حکم میں شامل ہو جائے گی کیونکہ اذان کے وقت فرض نمازِ جمعہ سے غافل کرنے کی علت ان سب میں مشترک ہے۔
اس موقف کی تردید کہ ”ہر شرعی حکم بذاتِ خود ایک مستقل مصلحت پر مشتمل ہوتا ہے“
کوئی بھی اعتراض کرنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ شارع کی طرف سے احکام کو ان علتوں کے ساتھ وابستہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ شارع نے ان احکام کی بنیاد مصالح پر رکھی ہے، لہٰذا علت کو بھی مصلحت کہا جا سکتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر علت کو یہ درجہ دینا محض اصطلاحی معاملہ ہے، اس اعتقاد کی بنیاد پر کہ پوری شریعت مجموعی طور پر مصلحت ہی پر مشتمل ہے، تو پھر تو اصطلاح کے اختلاف میں کوئی حرج ہی نہیں۔ لیکن اگر ہم یہ اصطلاح قبول بھی کر لیں — حالانکہ ہم اسے قبول نہیں کرتے — تب بھی اس اصطلاح سے اصولِ فقہ میں استنباط کرنے اور احکام اخذ کرنے کے طریقے کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اصولِ فقہ کا صحیح اور مضبوط اطلاق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم علتوں کو مبہم اور غیر متعین مصالح نہ سمجھیں، بلکہ انہیں ایسے واضح اور متعین معانی کے طور پر دیکھیں جنہیں شارع نے اپنے احکام کی بنیاد اور ان کی تشریع کا موجب قرار دیا ہے۔ لہٰذا یہ علتیں شرعی دلائل ہیں جو شارع کے خطاب سے، یعنی قرآن و سنت سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ بنیادی قاعدہ یہ ہے کہ شرعی حکم کی تعریف یہ ہے: «خطابُ الشارعِ المتعلّقُ بأفعال العباد»”بنی آدم کے افعال سے متعلق شارع کا خطاب“۔ لہٰذا شرعی احکام کے لئے ہماری پابندی اور التزام کا تعلق اللہ تعالیٰ کے شرعی خطاب اور نازل کردہ نص کے ساتھ ہونا چاہیے، نہ کہ کسی ایسی اصطلاح کے ساتھ جس کا کوئی واضح اور متعین مفہوم نہ ہو۔
مزید یہ کہ یہ دعویٰ کہ ہر انفرادی شرعی حکم کو الگ اور مستقل طور پر دیکھا جائے تو لازماً اس کے اندر ایک مستقل مصلحت موجود ہوتی ہے، تو یہ ایک بنا کسی جواز کے بے قاعدہ اور ناقص دعویٰ ہے، جس کی تائید کسی شرعی دلیل سے نہیں ہوتی۔ جو بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت اپنی مجموعی حیثیت میں، اور اپنے تمام شرعی احکام کے باہمی مربوط اور یکجا عمل کے ذریعے، دنیا اور آخرت میں انسانی مصالح کو یقینی بناتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شریعت کا ہر انفرادی حکم، جب اسے دوسرے احکام سے الگ اور تنہا دیکھا جائے، تو وہ لازماً اپنے طور پر کوئی مستقل مصالح پیدا کرتا ہے۔
عبادات کی فقہ سے مثال : عبادات کے احکام پر غور کریں۔ اگر نماز کے ہر تفصیلی حکم کو، مثلاً رکوع، سجدہ، قرأت اور نماز کی مقررہ ترکیب و طریقے کو دوسرے تمام احکام سے علیحٰدہ کر کے الگ الگ طور پر دیکھا جائے، تو ضروری نہیں کہ اس میں موجود کوئی مستقل مصالح واضح طور پر سامنے آئے۔ لیکن جب یہ تمام احکام باہم مربوط اور یکجا ہوتے ہیں تو وہ مل کر ایک ایسی عبادت تشکیل دیتے ہیں جو اپنے مطلوبہ شرعی مقصد تک پہنچاتی ہے۔
اقتصادی نظام کی مثال: اگر اسلام کے بعض مالی احکام کو پورے معاشی نظام سےعلیحٰدہ کر کے الگ الگ نافذ کیا جائے تو اس کے نتیجے میں کسی فوری مصالح کا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن جب یہ تمام احکام باہم مربوط اور یکجا ہوتے ہیں تو وہ مل کر مطلوبہ ایسا نظام تشکیل دیتے ہیں جو انسانی مصالح کو محفوظ بناتا ہے۔
ہمارے موجودہ دور کی صورتِ حال میں، جہاں اسلامی معاشی نظام سِرے سے موجود ہی نہیں ہے، اگر کوئی شخص تجارتی انشورنس کے معاہدوں سے اجتناب کرتا ہو یا سودی معاملات سے بچتا ہو تو اسے بسا اوقات انفرادی طور پر کسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود وہ ان عوامل سے اس لئے اجتناب کرتا ہے کہ یہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کی اطاعت کرنا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی تصدیق کرنا ہے، «يأتي على الناس زمان الصابر فيهم على دينه كالقابض على الجمر» ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر ثابت قدم رہنے والا شخص ایسا ہوگا جیسے کوئی شخص جلتے ہوئے انگارے کو ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہو“۔
حاصل کلام :
مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں یہ دعویٰ کہ ہر شرعی حکم بذاتِ خود ایک مستقل مصالح پر مشتمل ہے، اور یہ کہ شرعی احکام اور ان کی علتوں کی بنیاد مجرد مصالح اور مقصد پر قائم کی جائے، تو یہ دینِ اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے اصولِ فقہ کے درست طریقہ سے انحراف ہے۔
صحیح اور مستند طریقہ یہ ہے کہ شرعی احکام کو ایک لازم الاتباع الہامی خطاب سمجھ کر ان کی پابندی کی جائے، جو کہ انسانی افعال کو منظم کرتے ہیں۔ لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس الہامی خطاب کی پیروی کریں اور اپنے امور، اپنی زندگی اور اپنے باہمی لین دین کو اس شریعت کے احکام و نواہی کے مطابق پابند کریں۔
جب امت مجموعی اور مستقل طور پر اس خطابِ الٰہی کی پابندی کرے گی تو اس کے نتیجے میں ہونے والا عملی نفاذ لازماً — اس شارع الحکیم کے وعدہ کے مطابق — مقاصدِ شریعت کو حاصل کرے گا اور انسانی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے گا۔
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے بندے پر نہ تو یہ لازم ہے اور نہ اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وحی کی نصوص کے راستے سے ہٹ کر مقاصدِ شریعت کے حصول کے لئے انسان کے بنائے ہوئے ذرائع تلاش کرے۔ اگر انسان محض اپنی عقل کے ذریعے، شریعت کی وساطت کے بغیر، اپنی مصالح اور ضروریات کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوتے تو رسولوں کو بھیجنے، آسمانی شریعتیں نازل کرنے اور ایسے تفصیلی دلائل فراہم کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہ ہوتی جو عملی شرعی احکام تک رہنمائی کرتے ہیں۔
لہٰذا اسلام کے اصولی نظام کی بنیاد اتباع، التزام اور دلیل پر ہے۔ یعنی کتاب و سنت میں موجود شارع کے خطاب کے مفہوم کو لغوی اور شرعی قواعد کی روشنی میں سمجھا جائے، شارع کی مراد معلوم کی جائے اور پھر اس خطاب کو عملی طور پر نافذ کیا جائے۔ یہی اطاعت دراصل مصالح کو بطورِ نتیجہ اپنے ساتھ لے کر آتی ہے؛ بالکل اسی طرح جیسے امت کی تاریخ کی ابتدائی صدیوں میں عملاً ثابت ہوا، جب شریعت کے تفصیلی احکام کو نافذ کرنے کے نتیجے میں نظامِ زندگی درست ہوا اور نئے علاقے کھلتے چلے گئے، اور یہ سب ان ”مقاصدِ شریعت“ کے مباحثہ جات کے باقاعدہ طور پر مرتب کئے جانے سے کئی عرصہ پہلے ہی ہو گیا تھا۔




