بسم الله الرحمن الرحيم
امریکہ اردن میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے اور عراق سے انخلا کا اعلان کر رہا ہے
خبر:
امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ عراق میں اپنی براہِ راست فوجی موجودگی کا باب بند کر رہا ہے، جبکہ اپنی بعض افواج کو اردن منتقل کر کے دوبارہ تعینات کر رہا ہے اور سفارتی مشنز کی حفاظت اور ضرورت پڑنے پر داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے محدود صلاحیتیں برقرار رکھ رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عراق میں سکیورٹی کی صورتِ حال کو ازسرِنو منظم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ (عرب 48، 30/9/2026ء)
تبصرہ:
وقتاً فوقتاً امریکہ اعلان کرتا رہتا ہے کہ اس نے عراق سے اپنی افواج واپس بلا لی ہیں، لیکن کچھ عرصے بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس کی افواج اب بھی عراق میں موجود ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ کے دوران اس نے عراق کے اندر ہیلی کاپٹر طیاروں کے ذریعے بہت سے حملے کیے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عراق میں اس کے فضائی اڈے موجود ہیں۔ اس کے باوجود عراق کے سیاست دان فخر سے کہتے ہیں کہ امریکہ اب عراق پر قابض نہیں رہا، اور پھر امریکہ ایک بار پھر اعلان کرتا ہے کہ اس نے عراق سے اپنی افواج واپس بلا لی ہیں
!
عراق کی حکومت نے مسلح عراقی گروہوں کے لیے ایک مقررہ مدت بھی طے کی تھی جو 30 ستمبر کو ختم ہو رہی تھی یعنی امریکہ کی جانب سے عراق سے فوجی انخلا کے اعلان کے دن۔ حکومت نے گروہوں اور جماعتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے ہتھیار حوالے کریں اور اپنے مسلح ونگز کو تحلیل کریں۔ یہ سب امریکہ کی اس پالیسی کے دائرے میں ہو رہا ہے جس کا مقصد عراق میں ایران کے کردار کو ختم کرنا ہے اور وہاں اس کے باقی ماندہ اثر و رسوخ کو نکال باہر کرنا ہے۔ دونوں واقعات کو ایک وقت میں جمع ہونا ایک مقصد کی طرف اشارہ کرتا ہے، گویا حکومت عراقی عوام سے کہنا چاہتی ہے کہ امریکہ اب عراق پر قابض نہیں رہا، لہٰذا تمہیں اپنے ہتھیار ڈال دینے چاہییں۔
لیکن اسی وقت امریکہ یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ اس نے بغداد میں اپنی کچھ افواج سفارت خانے کی حفاظت کے بہانے برقرار رکھی ہیں، جبکہ اربیل کے ہوائی اڈے سے سازوسامان اور پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کا ایک پلیٹ فارم منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عراق پر امریکہ کا قبضہ اب بھی برقرار ہے، اس کے باوجود کہ عراقی حکومت برسوں سے جھوٹے بیانات کے ذریعے یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ امریکہ کا قبضہ ختم ہو چکا ہے۔
اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ امریکہ جو کچھ اعلان کر رہا ہے اس کا مطلب امریکی افواج کو اردن منتقل کرنا اور وہاں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانا ہے۔ یعنی وہ ایک اسلامی ملک سے اپنی افواج دوسرے اسلامی ملک میں منتقل کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خطے میں اپنی افواج برقرار رکھنے پر پوری طرح مصر ہے، انہیں واپس نہیں بلا رہا، اور کسی بھی وقت اور کسی بھی بہانے انہیں دوبارہ عراق میں لا سکتا ہے۔ بلکہ وہ آج یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ اردن میں موجود اس کی افواج عراق میں ایسے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جنہیں وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی قرار دیتا ہے۔
یوں عراق کی حکومت وہی کچھ انجام دے رہی ہے جو امریکہ چاہتا ہے: مسلح گروہوں سے ہتھیار لینا اور عراق سے ایران کے اثر و رسوخ کو نکالنا، اس بہانے کو ختم کر کے جسے یہ گروہ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے، یعنی امریکی قبضے کی موجودگی۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اردن کی حکومت بھی امریکہ کو اردن کے وسائل اور معاملات سے کھیلنے کی اجازت دینے سے ذرا نہیں ہچکچاتی اور ملک کو اس کے اختیار میں دے رہی ہے۔ امریکہ اپنی بعض افواج کو عراق سے اردن ایسے منتقل کر رہا ہے جیسے وہ انہیں فلوریڈا سے ٹیکساس منتقل کرتا ہو، اور پھر اردن کی حکومت خودمختاری کی بات کرتی ہے!
حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے تحریر کردہ
بلال التمیمی
Latest from
- صرف خلافت ہی مسلح افواج کو، دریا سے سمندر تک، فلسطین کی آزادی کے لیے حرکت میں لائے گی!
- یمن میں عسکری پیش رفت کے پہلو!
- عالمی اثرات اور اسلامی نظام کے متبادلات کے مابین افراطِ زر اور مانیٹری نظام کی تبدیلیاں
- خون سے لت پت اُمت: فتنے اور جغرافیائی سیاسی استحصال کی داستان
- خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا) 28/09/2026




