الثلاثاء، 17 ربيع الثاني 1448| 2026/09/29
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

عالمی اثرات اور اسلامی نظام کے متبادلات کے مابین افراطِ زر اور مانیٹری نظام کی تبدیلیاں


(عربی سے ترجمہ)

 

https://alwaie.org/archives/article/20532

 

 

الوعي میگزین – شمارہ نمبر،483

اکتالیسواں سال، ربیع الثانی 1448ھ

بمطابق، ستمبر 2026ء

تحریر : خالد الخير

 

 

معاشی افراطِ زر (Inflation) ان مظاہر میں سے ایک ہے جو پالیسی سازوں اور معاشروں، دونوں کی سب سے زیادہ توجہ کا مرکز ہے۔ اکنامک افراطِ زر محض اعداد وشمار کے ڈیٹا کا ایک عدد نہیں جو خبروں میں اعلان کر دیا جائے، بلکہ ایک ایسی مخفی قوت ہے جو مال و دولت کو نئے سرے سے مرتب و تشکیل دیتی ہے، افراد کی قوتِ خرید کو متاثر کرتی ہے، اور براہِ راست معاشرتی استحکام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس تحقیقی مضمون میں ہم افراطِ زر کا گہرائی سے تجزیہ کریں گے تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ افراطِ زر حقیقت میں کیا ہے، اس کے اسباب کیا ہیں، اور وہ کون سے بین الاقوامی مالیاتی طریقۂ کار ہیں جو اسے کنٹرول کرتے ہیں۔اور آخرکار ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ موجودہ مانیٹری سسٹم افراطِ زر پر کیا اثر ڈالتا ہے اور اسلامی معاشی نظام اس مسئلے کے لئے کون سے بنیادی حل پیش کرتا ہے؟

 

اول: افراطِ زر کا تصور اور اس کے بنیادی اسباب

 

اقتصادی نظام کا  تعارف :

افراطِ زر (مہنگائی-Inflation) سے مراد وقت گزرنے کے ساتھ کرنسی کی قوتِ خرید میں مسلسل اور نمایاں کمی ہے، جس کا نتیجہ اشیاء اور خدمات کی عمومی اور مسلسل قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ افراطِ زر کے ماحول میں اشیاء کی اپنی حقیقی قدر میں اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ دراصل نقدی اپنی قدر اور نسبتاً قیمت کھو دیتی ہے۔

 

افراطِ زر پیدا ہونے کی بنیادی وجوہات:

 

اسباب کی بنیاد پر افراطِ زر کو تین بڑے طریقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

 

طلب میں اضافے سے ہونے والا (Demand-Pull) افراطِ زر:

 

یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگوں کی قوتِ خرید اور مجموعی طلب، اشیاء اور خدمات کی دستیاب مقدار سے بڑھ جائے، یعنی ”مال زیادہ ہو اور اشیاء کم ہوں“۔

 

لاگت میں اضافے سے پیدا ہونے والا (Cost-Push) افراطِ زر:

یہ پیداواری لاگت کے عوامل میں اضافے کا نتیجہ ہوتا ہے، جیسے کہ توانائی، تیل و گیس، خام مال کی قیمتیں، یا مزدوروں کی اجرت؛ اور ان عوامل میں ہونے والا یہ اضافہ پیداوار کے حامل مالکان اور اداروں کو اپنے منافع کی شرح برقرار رکھنے کے لئے حتمی قیمتیں بڑھانے پر مجبور کر دیتا ہے۔

 

لا محالہ افراطِ زر (Built-In Inflation):

اس کا تعلق مستقبل کی توقعات سے ہوتا ہے، جہاں ملازمین و مزدور روزمرہ گزران کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ تنخواہوں کا مطالبہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں آجر ان اضافہ شدہ اجرتوں کو پورا کرنے کے لئے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں، اور یوں معیشت ”اجرت اور قیمتوں کے چکر“ (wage-price spiral) میں پھنس جاتی ہے۔

 

دوئم: مہنگائی (افراطِ زر) کے پیمانے اور اس کے درجات

 

 

جانچ و پیمانے کے طریقے :

صارفین کے لئے قیمتوں کا اعشاریہ(CPI): یہ پیمانہ ایک اوسط خاندان کی روزمرہ کی بنیادی اشیاء اور خدمات کی ایک فرضی ”ٹوکری“ (basket) کے مجموعی اخراجات میں ہونے والی تبدیلی کو ناپتا ہے۔ اس ٹوکری میں خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹ اور صحت کی سہولیات وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔

 

پیداواری قیمتوں کا اعشاریہ(PPI):یہ پیمانہ پیداوار کے ابتدائی مراحل میں خام مال اور نیم تیار اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو ریکارڈ کرتا ہے۔ اس طرح یہ پیمانہ صارف تک پہنچنے سے پہلے ہی مہنگائی کے ابتدائی اعشاریے کے طور پر کام کرتا ہے۔  

 

 

افراطِ زر (مہنگائی) کے درجے :

افراطِ زر کی شرح ”معتدل یا سست رو“ سے شروع ہوتی ہے، جو سالانہ 1 سے 3 فیصد تک ہوتی ہے اور اسے معاشی ترقی کے لئے ایک خوش آئند محرک سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد ”تیز رفتار افراطِ زر“ آتی ہے، جس میں یہ شرح دو ہندسوں تک پہنچ جاتی ہے اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اور اس سے بھی آگے ”بے قابو افراطِ زر (Hyperinflation)“ ہوتی ہے، جس میں مہنگائی کی شرح ماہانہ 50 فیصد سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس مرحلے پر کرنسی کی قدر انتہائی تیزی سے گرتی ہے اور بالآخر کرنسی تبادلہ کی حیثیت سے اپنا کردار کھو دیتی ہے۔

 

سوئم: جیوپولیٹکس اور کرنسی۔ امریکی ڈالر: افراطِ زر کو دوبارہ پھیلانے اور دوسرے ممالک تک منتقل کرنے کا ایک ذریعہ

عالمی سطح پر غالب مانیٹری سسٹم کو سمجھے بغیر موجودہ دور کے افراطِ زر کو سمجھنا ممکن نہیں، اور اس عالمی نظام میں امریکی ڈالر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ عالمی تجارت، خصوصاً تیل اور اہم بنیادی اشیاء کی تجارت میں بنیادی ذخیرۂ زر اور ادائیگی کی کرنسی کے طور پر امریکی ڈالر ہی استعمال ہوتا ہے۔

 

”ڈالر چھاپنے“ اور اسے دنیا تک برآمد کرنے کا مسئلہ:

جب امریکی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) بڑی مقدار میں ڈالر جاری کرتا ہے، خواہ یہ مقداری آسانی (Quantitative Easing) کے پروگراموں کے ذریعے ہو یا بحران کے دوران معاشی امدادی پیکیجز کے ذریعے، تو دنیا میں گردش کرنے والی رقم کی مقدار حقیقی پیداوار میں اضافے کی رفتار سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ چونکہ دنیا بھر کی ریاستوں کو باہمی تجارت کرنے اور اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بنانے کے لئے ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے، اس لئے ڈالر کی قوتِ خرید میں کمی کا اثر عالمی منڈی میں ڈالر میں قیمت رکھنے والی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں براہِ راست ظاہر ہوتا ہے۔ معاشیات میں اس عمل کو ”افراطِ زر کو دوسرے ممالک تک منتقل کرنا“ (Exporting Inflation) کہا جاتا ہے، یعنی امریکہ کی توسیعی مالیاتی پالیسیوں کی قیمت دنیا کے دوسرے ممالک کی عوام کو مہنگی اشیاء اور کمزور قوتِ خرید کی صورت میں برداشت کرنا پڑتی ہے۔

 

سرمایہ دارانہ ریاستوں کا اثر و رسوخ اور درآمدی افراطِ زر: موجودہ عالمی منڈیوں کی صورتِ حال

سرمایہ دارانہ ریاستیں اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے ”شرحِ سود اور کرنسی کے عدم توازن“ کے طریقۂ کار کے ذریعے دوسرے ممالک میں افراطِ زر کی سطح کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ بات آج کی عالمی منڈیوں کی صورتِ حال میں واضح طور پر نظر آتی ہے، جہاں سٹے باز ڈالر کی مضبوطی یا کمزوری پر بہت بڑی رقوم داؤ پر لگاتے ہیں، جو حال ہی میں 34 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔ ان کے یہ اندازے اس بات سے وابستہ ہوتے ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) ملکی افراطِ زر پر قابو پانے کے لئے اپنی داخلی پالیسی کو کس حد تک منظم کرتا ہے۔

 

ڈالر کی یہ غیر معمولی مضبوطی دوسرے ممالک کی کرنسیوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بنتی ہے؛ مثال کے طور پر، شرحِ سود میں فرق کی وجہ سے جاپانی ین چالیس سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ امریکہ کے تجارتی پارٹنر ممالک کی کرنسیوں میں اس طرح کی شدید گراوٹ ان ممالک میں فوراً ”درآمدی افراطِ زر“ (imported inflation) کا باعث بنتی ہے، کیونکہ درآمدی اشیاء کو ڈالر میں خریدنے کی لاگت ان ممالک کی مقامی معیشتوں کے لئے انتہائی بوجھ بن جاتی ہے۔

 

کیا تیل پیدا کرنے والے ممالک افراطِ زر (مہنگائی) سے محفوظ ہیں؟

تو اس کا جواب 'نہیں' میں ہے۔ اگرچہ تیل کی بلند قیمتوں کی وجہ سے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اچھی اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے، لیکن پھر بھی وہ دو طریقوں سے افراطِ زر کا شکار ہو سکتے ہیں :

 

درآمدی افراطِ زر: چونکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک خوراک، ٹیکنالوجی سے متعلق مصنوعات اور سروسز کے لئے سرمایہ دار ممالک سے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس لیے جب یہ اشیاء ان تیل پیدا کرنے والے ممالک کی مارکیٹوں میں پہنچتی ہیں تو یہ اپنے ساتھ پہلے سے پیدا شدہ افراطِ زر بھی لئے ہوتی ہیں۔

 

ہالینڈ کا مرض (Dutch Disease): تیل کے شعبے سے ملک میں بڑی مقدار میں رقم آنے کی وجہ سے مقامی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے، خاص طور پر رئیل اسٹیٹ اور سروسز جیسے شعبوں میں، اور اس کے نتیجے میں ملک کے اندر قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگتی ہیں۔

 

چہارم: نکسن شاک — سونے کو  کرنسی سے غیر منسلک کیا جانا

عصرِ حاضر کی تاریخ میں مانیٹری پالیسیوں میں سب سے نمایاں تبدیلی1971ء میں واقع ہوئی، جب امریکی صدر رچرڈ نکسن نے ڈالر کو سونے سے منسلک ہونے کا نظام معطل کرنے کا اعلان کیا۔ یہ نظام 1944ء کے بریٹن ووڈز معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا، جس کے مطابق ایک اونس سونے کی قیمت 35 ڈالر مقرر تھی۔ تاریخ میں اس واقعے کو نکسن شاک (Nixon Shock) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

 

سونے اور کرنسی کے درمیان یہ تعلق کیوں ختم کیا گیا؟

امریکہ نے ویتنام جنگ اور اپنے اندرونی ترقیاتی منصوبوں کی مالی اعانت کے لئے بڑی مقدار میں ڈالر جاری کئے تھے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں گردش کرنے والے ڈالر کی مقدار امریکہ کے خزانے میں موجود سونے کے ذخائر سے کہیں زیادہ ہو گئی۔ جب فرانس جیسے ممالک نے اپنے پاس موجود ڈالر کو حقیقی سونے میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تو امریکہ کو اپنے سونے کے ذخائر ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا۔ چنانچہ امریکہ نے یک طرفہ طور پر ڈالر اور سونے کے درمیان قائم تعلق کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

 

افراطِ زر پر اثرات:

جب دنیا کاغذی کرنسی (Fiat Money) کے نظام کی طرف منتقل ہوئی، یعنی ایسی کرنسیاں جو اپنی قدر کسی حقیقی اثاثے کے بجائے سیاسی فیصلوں اور حکومتوں پر عوامی اعتماد کے کمزور رشتے سے طے کرتی ہیں، تو مرکزی بینکوں پر عائد تمام پابندیاں ختم ہو گئیں۔ نتیجتاً، ریاستوں کو کسی مادی یا حقیقی ذخائر کی موجودگی کے بغیر کرنسی چھاپنے کی کھلی چھوٹ مل گئی، جس سے افراطِ زر جدید عالمی معیشت کا ایک مستقل اور بنیادی خاصہ بن گیا، جبکہ سونے کے معیار (Gold Standard) کے دور میں افراطِ زر ایک مسئلہ اور غیر معمولی کیفیت سمجھا جاتا تھا، جو اپنے اسباب ختم ہونے کے ساتھ دوبارہ ختم ہو جاتا تھا۔

 

پنجم: انسان کے بنائے گئے اقتصادی نظریات اور اسلامی معیشت میں موجود اصلاحی طریقۂ کار

 

انسان کا وضع کردہ اصلاح کا طریقہ: اختصار پر مبنی مانیٹری پالیسی اور اس کی حدود:

جب افراطِ زر پھیلنے لگتا ہے تو تمام مرکزی بینک اختصار پر مبنی مانیٹری پالیسی (Contractionary Monetary Policy) اختیار کر لیتے ہیں، جس کا مقصد ”مارکیٹ میں موجود اضافی رقوم کو کم کرنا“ اور معاشی سرگرمیوں کی رفتار کو سست کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لئے وہ مختلف اقدامات کرتے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

شرحِ سود میں اضافہ: بچت کی حوصلہ افزائی کے لئے اور کھپت و سرمایہ کاری کے مقاصد کے لئے قرض لینے کے رجحان کو کم کرنے کے لئے شرح سود میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، جس سے مجموعی طلب کم ہو جاتی ہے اور قیمتوں میں اضافے کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔

 

ریزرو (Reserve)کی لازمی شرح میں اضافہ: اس کا مقصد کمرشل بینکوں کی جانب سے قرضے فراہم کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہوتا ہے۔

 

سرمایہ دارانہ نظام کے علاج کا مسئلہ :

جیسا کہ موجودہ عالمی مارکیٹ کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے، یہ اختصار پر مبنی پالیسی ایک انتہائی نازک صورتحال میں رہتی ہے۔ جیسے ہی کوئی مرکزی بینک شرحِ سود میں ضرورت سے زیادہ اضافہ کرتا ہے، روزگار کی شرح اور لیبر مارکیٹ کی سرگرمیاں سست پڑنے لگتی ہیں، جیسا کہ حالیہ امریکی روزگار کے اعداد و شمار میں دیکھا گیا اور اس صورتحال سے شدید معاشی کسادِ بازاری کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اس مرحلے پر مارکیٹیں ”زیادہ سہولت پر مبنی پالیسی“ کا مطالبہ کرتی ہیں، یعنی شرحِ سود کو کم کیا جائے یا اسے مزید بڑھنے سے روک دیا جائے اور اس کے نتیجے میں افراطِ زر دوبارہ تیز ہو جاتا ہے۔ یہ اتار چڑھاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسان کے وضع کردہ مانیٹری طریقے بنیادی اور اصل مرض کا علاج کرنے کے بجائے صرف اس کی علامات کا علاج کرتے ہیں۔

 

اسلامی معاشی نظام میں افراطِ زر کا علاج اور اس کی روک تھام :

اسلامی معیشت میں ایسا احتیاطی اور اصلاحی قانونی نظام موجود ہے جو ان بنیادی نقائص کو پیدا ہونے سے ہی روک دیتا ہے جو افراطِ زر کا باعث بنتے ہیں۔ اسلام کا یہ اقتصادی نظام جامع عدل کے اصولوں اور حقیقی معیشت کو فعال بنانے کی بنیاد پر قائم ہے:

 

حقیقی اور اصلی قدر رکھنے والے اثاثوں پر مبنی مانیٹری نظام: اسلام میں بنیادی اصول یہ ہے کہ کرنسی کو دو حقیقی اثاثوں، یعنی سونے اور چاندی سے منسلک رکھا جائے، جن کی بنیاد پر دینار اور درہم مقرر ہوتے ہیں۔

 

ربا (سود) کی ممانعت اور قرض کو سٹے بازی سے الگ کرنا: قرض کے بدلے قرض کی خرید و فروخت اور سٹے بازی پر مبنی تجارت کی ممانعت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہر مانیٹری لین دین کے مقابل حقیقی اشیاء یا خدمات کا تبادلہ موجود ہو۔ اس طرح قیمتوں میں مصنوعی بلبلے (price bubbles) پیدا ہونے سے روکے جا سکتے ہیں۔

 

اجارہ داری کا خاتمہ — رسد میں توازن: اسلام ہر قسم کی اجارہ داری کو ممنوع قرار دیتا ہے تاکہ اشیاء کی فطری رسد برقرار رہے اور تاجر مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھا کر ”لاگت میں اضافے سے پیدا ہونے والے افراطِ زر“ کو جنم نہ دے سکیں۔

 

مال جمع کرکے رکھنے کی ممانعت اور زکوٰۃ کا نفاذ: مال کو جمع کرکے روک رکھنے کی ممانعت اور اثاثوں پر زکوٰۃ (2.5 فیصد) کی پابندی مال و دولت رکھنے والوں کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے مال کو حقیقی سرمایہ کاری اور پیداواری شعبوں، یعنی صنعت، زراعت اور تجارت میں لگائیں۔ اس کا مقصد مال و دولت کو دیمک کی طرح کھا جانے سے روکنا ہے، جس کے نتیجے میں اشیاء اور خدمات کی رسد میں اضافہ ہوتا ہے اور یوں قیمتیں خود بخود کم ہونے لگتی ہیں۔

 

بیت المال کے فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور غربت کا خاتمہ :

یہاں اسلامی اقتصادی نظام کی بنیادی خوبی اس بات سے نمایاں ہوتی ہے کہ ریاستی خزانے یعنی بیت المال کے عوامی مال کو کس قدر اعلیٰ طریقے سے منظم اور تقسیم کیا جاتا ہے۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام غربت کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہے، کیونکہ وہ ”اوپر سے نیچے کی طرف معاشی فوائد“(Trickle-down Economics) کے طریقۂ کار پر انحصار کرتا ہے، جس کے نتیجے میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جاتی ہے اور افراطِ زر اور غربت میں بے تحاشا اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اسلام دولت کی تقسیم کے لئے ایک لازمی اور واضح نظام مقرر کرتا ہے، جس کی وضاحت قرآنِ کریم کی آیت میں صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے، ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴾ ”یقیناً، صدقات فقراء کے لئے ہیں اور مساکین اور کارکنان (جو زکوٰۃ پر مامور ہیں) اس پر اور جن کے دلوں کو جیتنا مطلوب ہے اور غلاموں کو آزاد کرانے کو اور قرضداروں  ( کے قرض ادا کرنے کو)  اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لئے۔ یہ اللہ کی طرف سے ضابطہ ہے اور اللہ سب جاننے والا حکمت والا ہے“ [سورۃ التوبۃ؛ 9:60]۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہ فرمان، ﴿مَّا أَفَاء اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنكُم﴾ ” بستی والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے، وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تا کہ تمہارے مال داروں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے“ [سورۃ الحشر؛ 59:7]۔

 

ان آٹھ مقررہ مستحقین میں مال کی یہ مخصوص تقسیم اس بات کو روکتی ہے کہ دولت صرف چند مالدار لوگوں تک محدود ہو کر رہ جائے۔ اس طرح اسلام کا نظام مختلف معاشی پہلوؤں سے غربت اور افراطِ زر کے مسئلے سے نمٹنے میں کردار ادا کرتا ہے:

 

رقم کی دوبارہ گردش اور مالی گردش کو متحرک کرنا: جب دولت مند لوگوں کے پاس بڑی مقدار میں رقم جمع ہو کر مالی جمود پیدا کرتی ہے تو افراطِ زر اور غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ زکوٰۃ اور ریاستی خزانے کے مال کو غریب اور ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کرنے سے سرمایہ اسے جمع کرکے روکے رکھنے والے طبقے سے ایسے طبقے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے اسے فوراً خرچ کرتا ہے۔ رقم کی یہ تیز رفتار گردش منڈیوں کو متحرک رکھتی ہے اور حقیقی طلب کو دوبارہ پیدا کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کارخانے اور زرعی شعبہ اس طلب کو پورا کرنے کے لئے اپنی پیداوار بڑھاتے ہیں، اور پیداوار میں اضافہ افراطِ زر کے خاتمے کا حقیقی علاج ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا، ﴿مَّا أَفَاء اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنكُم﴾ ”بستی والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے، وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تا کہ تمہارے مال داروں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے“ [سورۃ الحشر؛ 59:7]۔

 

خود کفالت، صرف گزارے کے لیے نہیں؛ غریبوں کو پیداواری افراد میں تبدیل کرنا: شرعی فقہِ تقسیم میں کسی غریب شخص کو محض اتنی رقم نہیں دی جاتی جس سے وہ ایک ہی دن کا گزارہ کر سکے، بلکہ اسے مکمل خود کفالت حاصل کرنے کے لئے خاطر خواہ وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی ہنر یا پیشے میں ماہر ہو تو اسے بیت المال سے آلات اور ضروری سامان خریدنے کے لئے فنڈ دیا جاتا ہے؛ اگر وہ کسان ہو تو اسے زمین اور بیج فراہم کیے جاتے ہیں؛ اور اگر وہ تاجر ہو تو اسے کاروبار شروع کرنے کے لئے سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس طریقۂ کار سے بے روزگار صارفین کو پیداواری افراد میں تبدیل کرکے غربت کی جڑ کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس سے اشیاء کی رسد میں اضافہ ہوتا ہے اور نتیجتاً قیمتوں کی سطح بتدریج کم ہونے لگتی ہے۔

 

قرض داروں کے قرضے ختم کرنا — مالی تباہی سے بچاؤ: اسلام نے قرض داروں (الغارمین) یعنی ایسے لوگوں کے لئے جو اپنے قرضے ادا کرنے سے قاصر ہوں، زکوٰۃ میں ایک مکمل حصہ مقرر کیا ہے۔ بیت المال کے ذریعے ان کے قرضے ادا کرنے سے انہیں مالی تباہی سے بچایا جاتا ہے اور دوبارہ سے انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل ہونے کا موقع ملتا ہے۔ مزید یہ کہ اس سے قرض دینے والے، یعنی کاروباری مالکان بھی اپنا سرمایہ ضائع ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس طرح کاروبار کا تسلسل برقرار رہتا ہے اور اشیاء کی رسد میں استحکام قائم رہتا ہے۔

 

معاشرے کے لئے تحفظ اور معاشی سلامتی کا نظام -- (ابن السبیل، الرقاب اور فی سبیل اللہ): ایسے مسافر کی مدد کرنا جو سفر کے دوران وسائل سے محروم ہوگیا ہو (ابن السبیل)، غلاموں کو آزادی دلانا (فی الرقاب) اور ریاست کی سرحدوں اور اس کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ کرنا (فی سبیل اللہ)، یہ سب اقدامات مل کر معاشرے میں امن، سلامتی اور استحکام پیدا کرتے ہیں۔ اور جب معاشرے میں استحکام اور امن ہو تو لوگ حقیقی کاروبار اور سرمایہ کاری میں زیادہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ لگاتے ہیں اور سرمایہ معاشی سرگرمیوں میں گردش کرتا رہتا ہے۔ یوں منڈی کے اچانک اتار چڑھاؤ اور سٹے بازی سے پیدا ہونے والے مالی بلبلوں سے معیشت محفوظ رہتی ہے، جو افراطِ زر کا سبب بنتے ہیں۔

 

حاصل کلام :

موجودہ دنیا میں افراطِ زر اور غربت محض اتفاقی مسائل نہیں ہیں، بلکہ یہ اس عالمی مانیٹری نظام کا فطری نتیجہ ہیں جو کاغذی کرنسی، مال و دولت جمع کر کے رکھنے اور قرضوں میں مسلسل اضافے پر قائم ہے۔ اس نظام کا اسلامی متبادل سے تقابلی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حقیقی اثاثوں سے منسلک عناصر  والی کرنسی کی طرف واپسی، اور اس کے ساتھ ریاستی خزانے کے مال کو شہریوں میں منصفانہ طور پر تقسیم کرنا، ایک جامع معاشی نظام تشکیل دیتا ہے۔ یہ متبادل صرف قیمتوں میں اچانک اضافے کو ایسے سخت گیر طریقوں سے روکنے کی کوشش نہیں کرتا جو غریب طبقے اور لیبر مارکیٹ کو نقصان پہنچاتے ہوں، جیسے سرمایہ دارانہ نظام میں شرحِ سود میں اضافہ، جس سے معاشی کسادِ بازاری کا خطرہ پیدا ہوتا ہے؛ بلکہ یہ اس بنیادی خرابی کا اصل علاج کرتا ہے اور غیر فعال انسانی محنت کو پیداواری قوت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں رقم کی رسد اور اشیاء و خدمات کی مقدار کے درمیان حقیقی اور پائیدار توازن قائم ہوتا ہے، جس سے معاشرے اپنی دولت اور لوگوں کی محنت کی قدر میں کمی سے محفوظ رہتے ہیں۔

 

 

 

Last modified onمنگل, 29 ستمبر 2026 15:45

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک