السبت، 19 محرّم 1448| 2026/07/04
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سوال کا جواب

 

ایران کی موجودہ صورتحال اور اس کے اور امریکہ کے درمیان حملوں کی تجدید

 

 

سوال:

 

امریکہ اور ایران کے درمیان دو دنوں میں دوسری بار حملوں کے تبادلے کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ "امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی، 18 جون کو ٹرمپ اور مسعود پیزشکیان کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کی پہلی شق کی خلاف ورزی ہے"۔ دوسری طرف، ٹرمپ نے دوبارہ جنگ کی طرف شًلوٹنے کا اشارہ دیتے ہوئے آج اپنے پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر ایک پوسٹ میں لکھا: "ایسا وقت آ سکتا ہے جب ہم مزید سمجھداری سے کام لینے کے قابل نہ رہیں، اور ہمیں اس مشن کو عسکری طور پر مکمل کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا جسے ہم نے بڑی کامیابی کے ساتھ شروع کیا تھا..."۔ امریکی فوج نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات جزیرہ قشم میں مختلف مقامات پر فضائی حملوں کا اعلان کیا تھا، جو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹے بعد کیے گئے۔ (العربیہ نیٹ، 28/06/2026)۔ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی نیتن یاہو کے ساتھ مل کر 28 فروری 2026 کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس میں رہبرِ اعلیٰ اور تقریباً چالیس اعلیٰ حکام جاں بحق ہوئے اور بڑے پیمانے پر تباہی مچی۔ اس کے باوجود، ایران نے 18 جون 2026 کو ٹرمپ کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیے، گویا وہ خون جو بہایا گیا اور وہ تنصیبات جو تباہ کی گئیں، ان کی کوئی اہمیت ہی نہ تھی!! جہاں تک باقی مسلمانوں کا تعلق ہے، خواہ وہ ایران کے قریب ہوں یا دور، وہ ان واقعات کو اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے وہ ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی غیر جانبدار فریق ہوں، بلکہ وہ امریکہ کے زیادہ قریب نظر آتے ہیں! آخر کب تک مسلمان یوں ہی بکھرے ہوئے استعماری کافروں کی آندھیوں کی زد میں رہیں گے، جبکہ وہ ایک دور میں دنیا کے حکمران اور نور و انصاف کے علمبردار تھے؟

 

میں آپ سے ایک ایسا جواب چاہتا ہوں جو واقعات کی حقیقت کو واضح کرے، اور یہ بتائے کہ یہ امت دوبارہ کیسے زندہ اور معزز ہو سکتی ہے؟ شکریہ۔

 

جواب:

 

مذکورہ بالا سوالات کے جواب کے لیے ہم واقعات کی اصل صورتحال اور امت کی عظمتِ رفتہ کی واپسی کا جائزہ لیتے ہیں، اور اللہ ہی مددگار ہے۔

 

اول: واقعات کی حقیقت:

 

1- امریکی ایجنسی بلومبرگ نے 17 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکات پر مشتمل مفاہمت کی یادداشت کا مسودہ شائع کیا، جو مضمون کے لحاظ سے ان خبروں سے مطابقت رکھتا تھا جو ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مہر' نے 14 جون 2026 کو ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع سے نقل کی تھیں۔ اس کے بعد، 18 جون 2026 کو جی سیون (G7) سربراہی اجلاس کے موقع پر، فرانس کے پیلس آف ورسائی (قصر فرساي) میں موجود ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور ان کے امریکی ہم منصب ٹرمپ کے درمیان اس پر اچانک اور غیر متوقع دستخط ہوئے۔ اگرچہ دستخط سوئٹزرلینڈ میں ہونا طے پائے تھے، لیکن سرکش ٹرمپ مسلمانوں کو جنگ عظیم اول کے بعد ہونے والے 'معاہدہ ورسائی' کی یاد دلانا چاہتا تھا، جس نے مسلمانوں کی ریاست، خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کا نقشہ کھینچا اور ان کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا تھا۔ گویا پیلس آف ورسائی کے انتخاب کے ذریعے، جس نے پہلے خلافت کے خاتمے سے تاریخ کا رخ موڑ دیا تھا، ٹرمپ خود کو ایک ایسے لیڈر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اپنے پیشروؤں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تاریخ رقم کرتا ہے! اس طرح، پیلس آف ورسائی میں فریقین کے درمیان ثالث، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی نگرانی میں الیکٹرانک طور پر اس یادداشت پر دستخط کیے گئے، اور اس کے ساتھ ہی اس کے باضابطہ نفاذ کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ سب امریکہ اور ایران کے درمیان اس وقت ہوا جب امریکہ نے اپنے "قریبی ساتھی" نیتن یاہو کے ساتھ مل کر گزشتہ فروری کے آخر میں ایک اچانک فوجی آپریشن کیا تھا، جس میں ایرانی نظام کے اعلیٰ سیاسی و فوجی قائدین، خصوصاً  حتمی فیصلے کے مالک 'رہبر' کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ امریکہ نے اس جنگ کی مدت چار دن مقرر کی تھی لیکن یہ چالیس دن تک جاری رہی، اور وہ موجودہ نظام کو گرانے یا اپنے وفادار قائدین لانے کا ہدف حاصل نہ کر سکا جس سے وہ ایران کو امریکہ کے 'مدار' میں گھومنے والی ریاست کی سطح سے نکال کر ایک مکمل 'تابع ریاست' بنا نا چاہتا تھا۔ ایران کا 47 سال تک امریکہ کے مدار میں رہنا ، امریکہ کو اس بات کا لالچی بنا چکا تھا کہ وہ اسے ایک مستقل غلام ریاست بنا لے، خاص طور پر جب امریکہ نے اسے ان علاقوں سے نکالنا شروع کیا جہاں اسے اپنے مفادات کے لیے کام کرنے کی اجازت دی تھی، جیسے شام، عراق، لبنان اور یمن۔ لیکن اس صورتحال نے ایران میں ایسے لوگ پیدا کر دیے جو اب امریکہ سے مکمل آزادی کے بارے میں سوچنے لگے، اور اس میں پاسدارانِ انقلاب کا بڑا کردار تھا۔ ہم نے 3 جون 2026 کو جاری کردہ سوال کے جواب میں اس معاملے کی تفصیل بیان کی تھی، جس میں ہم نے کہا تھا: "...جیسا کہ وینزویلا میں ہوا جب امریکی افواج نے اس کے صدر کو اغوا کر لیا تو اس کی نائب صدر اور دیگر ساتھیوں نے امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، لیکن ایران میں ایسا نہیں ہوا۔ اپنے رہبر علی خامنہ ای اور نظام کے بعض دیگر قائدین کے قتل کے بعد بھی پاسدارانِ انقلاب ثابت قدم رہے اور انہوں نے اس جارحیت کا مقابلہ کرنے اور دشمنوں پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا... وہ امریکہ سے آزادی چاہتے ہیں، اس سیاسی دھڑے کے برعکس جو امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے اور کم از کم ایک مدار میں گھومنے والی ریاست کے طور پر اس کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے، نہ کہ تابع ریاست کے طور پر..."۔ پاسدارانِ انقلاب کی ثابت قدمی، طاقت اور اثر و رسوخ کی وجہ نئے رہبر 'مجتبیٰ' کے انتخاب میں ان کی پہل تھی، چنانچہ وہ ان کی حمایت کرتے تھے اور اپنی حکومت کے تحفظ کے لیے ان پر تکیہ کرتے تھے؛ وہ اپنے والد (سابق رہبر) اور متعدد حکام کے قتل کے بعد امریکہ کے ساتھ کسی مفاہمت یا امن پر راضی نہیں تھے۔

 

2- لیکن یہ صورتحال اس وقت بدل گئی جب ایران کے سیاسی حلقے (صدرِ جمہوریہ، اسپیکر پارلیمنٹ اور وزیر خارجہ) رہبر کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گئے کہ یہ مفاہمت ایران کے مفاد میں ہے، اور اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ نے غیر معمولی کوششیں کیں۔ چنانچہ رہبر کی تحریری منظوری سامنے آئی جو 18 جون 2026 کو 'ایکس' (ٹویٹر) اور دیگر پلیٹ فارمز پر شائع ہوئی، جس میں انہوں نے کہا: "اگرچہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ان کا موقف مختلف تھا، لیکن انہوں نے اس مفاہمت کی یادداشت پر اس وقت اتفاق کیا جب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور دیگر حکام نے یہ عہد کیا کہ وہ ایرانی قوم کے حقوق اور مزاحمتی محاذ کے تحفظ کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں"۔ گویا وہ اس معاہدے کے نتیجے میں ایران کو پہنچنے والے کسی بھی منفی اثر کی ذمہ داری صدر اور دیگر حکام پر ڈال رہے ہیں۔ اس طرح یادداشت پر دستخط ہوئے اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے دستخط کے بعد 18 جون 2026 کو 'ایکس' پر بیان دیا کہ: "یہ ایک تاریخی دستاویز اور طاقتور ایران کا پیغام ہے؛ امن باہمی احترام کے سائے میں حاصل ہوگا، اور ایران وقار، آزادی، ترقی اور علاقائی تعاون کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیشہ بین الاقوامی امن کا پابند ہے؛ جو کچھ حاصل ہوا وہ قومی استقامت اور سیاسی و سفارتی نظریات کی ذمہ داری کا ثمر ہے"۔ اس کے بعد، رہبر کی اطاعت میں پاسدارانِ انقلاب کی آواز دب گئی۔ ایرانی مجلس شوریٰ کے رکن محمد منان رئیسی نے اپنے حامیوں کے ایک اجتماع میں رہبر کے موقف سے پردہ اٹھاتے ہوئے اس یادداشت کی مخالفت کا اظہار کیا اور کہا: "رہبر مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ارکان سے کہا تھا کہ وہ (مفاہمت کی یادداشت سے متعلق) ان سوالات کا الگ الگ جواب دیں، اور غیر معمولی طور پر اس کی منظوری کے لیے 75 فیصد ارکان کی رضامندی شرط رکھی تھی۔ کونسل کے صرف ایک رکن نے اس کی مخالفت کی جبکہ باقی تمام نے حق میں ووٹ دیا... یہ نہیں کہا جا سکتا کہ رہبر نے اس معاہدے کو مکمل دلی خوشی سے قبول کیا ہے، لیکن انہیں اس کا مخالف بھی قرار نہیں دیا جا سکتا..." (ایران انٹرنیشنل، 18/06/2026)۔ ایک کے سوا تمام ارکان کا مفاہمت پر اتفاق اور امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدے کی تیاری ظاہر کرتی ہے کہ یہ 'مدار میں گھومنے والی ریاست' کی طعف  ان کی ریاست کی واپسی کی راہ ہموار کر رہا ہے، نہ کہ پاسدارانِ انقلاب کی اس سوچ کے مطابق جو پہلے مکمل آزادی کی کوشش کر رہے تھے!

 

3- اس طرح سیاسی ونگ کا پلہ بھاری ہو گیا جس کی انتہا یہ ہے کہ ایران دوبارہ امریکہ کے مدار میں گھومنا شروع کر دے، یعنی ترکی کی طرح (ایک خود مختار لیکن زیرِ اثر ریاست)، نہ کہ مصر اور شام جیسے خطے کے دیگر ممالک کی طرح اس کا ایک ایجنٹ اور تابع بن کر رہ جائے۔ چنانچہ سیاسی ونگ معاملات اور مذاکرات میں پیش پیش رہا اور پاسدارانِ انقلاب تھوڑا پیچھے ہٹ گئے۔ میں نے "تھوڑا" اس لیے کہا کیونکہ پاسدارانِ انقلاب کا جذبہ ابھی مکمل سرد نہیں ہوا، کیونکہ ان کا سیاسی دھڑے کے ساتھ اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ قبل ازیں ایرانی ٹیلی ویژن نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ ایک رابطہ لائن قائم کی گئی ہے (العربیہ، 26/06/2026)، لیکن پاسدارانِ انقلاب نے فوراً اس کی تردید کر دی۔ (پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے جمعہ کی شام ان دعوؤں کو مسترد کر دیا جنہیں انہوں نے امریکی حکام کا دعویٰ قرار دیا کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہاٹ لائن قائم کی گئی ہے، اور زور دے کر کہا کہ یہ محض جھوٹ ہے... جبکہ ایرانی پریس ٹی وی نے بھی جمعہ کو رابطہ لائن کے قیام کی خبر دی تھی... العربی الجدید، 26/06/2026)۔ اسی طرح پاسدارانِ انقلاب نے ایران کے مشرقی ساحلوں پر امریکی حملوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیا... (سپاہ نیوز ویب سائٹ نے پاسدارانِ انقلاب کا ایک بیان شائع کیا جس میں کہا گیا: امریکہ نے ایرانی ساحلوں پر حملہ کیا جس کی وجہ سے اسے جواب دینا پڑا، جہاں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر گولہ باری کی، اور بیان میں واشنگٹن پر دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا... الجزیرہ، 26/06/2026

 

4- مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا واضح مطلب یہ تھا کہ ایران نے اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کے ساتھ مستقل جنگ بندی قبول کر لی ہے اور ان سے نہ لڑنے کا عہد کیا ہے۔ یادداشت کی پہلی شق کے مطابق: ( فوری اور مستقل جنگ بندی میں  لبنان سمیت تمام محاذشامل ہیں۔ امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی نہ کرنے، اور طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنے کا عہد کرتے ہیں...)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران نے اس امریکہ کے خلاف مزاحمت ترک کر دی ہے جس نے اس پر حملہ کیا، اس کے جلیل القدر قائدین کو قتل کیا اور اس کے ایٹمی و حیاتیاتی ری ایکٹرز کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا... اگرچہ دوسری شق اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی بات کرتی ہے، لیکن معاہدے کی دیگر شقیں خود ہی اس کی نفی کرتی ہیں! مثال کے طور پر، آٹھویں شق کے تحت: [ایران نے دوبارہ اس بات کی تصدیق کی کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، اور دونوں فریقوں نے ذخیرہ شدہ افزودہ مواد کے معاملے کو ایک باہمی طے شدہ طریقہ کار کے تحت حل کرنے پر اتفاق کیا ہے... الشرق، 18/06/2026]۔ اسکائی نیوز نے 24 جون 2026 کو شائع کیا کہ [امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اور اشارہ کیا کہ اپنی فوج اور صلاحیتوں کی تباہی کے بعد ایران اب مذاکرات کے لیے مضبوط پوزیشن میں نہیں ہے... ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایٹمی انسپکٹرز جلد ہی ایران کی سرزمین پر موجود ہوں گے...]۔ محض اس قسم کی شرائط کا ہونا ہی واضح مداخلت ہے۔

 

اسی طرح، چھٹی شق امریکہ کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا چور دروازہ فراہم کرتی ہے، جہاں یہ درج ہے کہ (امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی بحالی اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کا عہد کرتا ہے، جس میں کم از کم 300 بلین ڈالر کی فراہمی کی ضمانت ہو گی۔ اس منصوبے پر عمل درآمد، حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر، 60 دنوں کے اندر طے کیا جائے گا)۔ یہ صریح مداخلت کا راستہ ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کچھ!

 

5- ان تمام باتوں کے باوجود، اس معاہدے میں الفاظ کا گورکھ دھندا ہے۔ ایک پہلو سے اسے ایران کے مفادات کا حصول ظاہر کیا گیا ہے، تو دوسرے رخ سے یہ خالصتاً امریکی مفادات کی تکمیل ہے۔ گویا یہ معاہدہ بارودی سرنگوں سے بھرا ہوا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ان بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے 60 دن بھی کافی نہ ہوں اور مدت میں توسیع کرنی پڑ جائے! مثال کے طور پر محاصرے کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کا کھولا جانا وغیرہ...

 

[ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے حوالے سے "مبہم انتظامات" پر متنبہ کیا ہے، کیونکہ وہ اس آبنائے کا ساحلی ملک ہے... اسکائی نیوز، 26/06/2026]۔ یہ ابہام آج ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جھڑپوں سے ثابت ہو گیا ہے: (پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ "امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی مفاہمت کی پہلی شق کی خلاف ورزی ہے، جس سے مذاکراتی عمل مکمل طور پر رک جائے گا؛ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 18 جون کی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہے۔ العربیہ نیٹ، 28/06/2026)... مزید یہ کہ یادداشت میں یہ بھی درج ہے کہ (امریکہ حتمی معاہدے کے 30 دنوں کے اندر ایران کے گرد و نواح سے اپنی افواج نکالنے کا عہد کرتا ہے)۔ واضح رہے کہ ایران پہلے پورے خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کرتا تھا... ادھر امریکہ ایران کے منجمد کردہ 12 ارب ڈالر اس شرط پر واپس کر رہا ہے کہ ان سے امریکی زرعی اور غذائی اجناس ہی خریدی جائیں گی! ٹرمپ کے نائب جے ڈی وینس نے پیر کو ایک کانفرنس میں بتایا کہ ("ایران کے رہا کیے جانے والے اثاثے" صرف "امریکی سویابین، مکئی اور گندم کی خریداری" کے لیے مخصوص ہوں گے... العربیہ، 25/06/2026) لیکن ایران نے اس کی تردید کی ہے... قالیباف نے جمعرات کو تصدیق کی کہ (امریکہ کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ تہران ان اثاثوں سے صرف امریکی مصنوعات خریدے گا... العربیہ، 25/06/2026)۔ پھر حتمی معاہدے کی سلامتی کونسل سے منظوری کی شرط! ایک فریق اسے ایران کی پابندی یقینی بنانے کا ذریعہ سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا اسے امریکہ کو پابند کرنے کی ضمانت قرار دیتا ہے، گویا یہ اس کے مفاد کے خلاف ہو! پھر رائٹرز نے 18 جون 2026 کو ایک باخبر ذریعے سے نقل کیا کہ یادداشت میں 'تعمیرِ نو اور ترقیاتی فنڈ' کا ایک منصوبہ ہے اور بتایا کہ (اس فنڈ کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے ایک اقتصادی لالچ پیدا کرنا ہے اور یہ فنڈ صرف حتمی دستخط کی صورت میں ہی قائم کیا جائے گا)۔ لہٰذا یہ ایک سجا ہوا جال (بارودی سرنگ) ہے تاکہ ایران کو حتمی دستخط تک مذاکرات کی زنجیر میں جکڑے رکھا جائے، ایک ایسے فنڈ کے انتظار میں جس کا نقصان اس کے فائدے سے کہیں زیادہ ہے! یہ تمام شقیں مبہم اور خطرناک بارودی سرنگوں کی طرح ہیں!

 

6-ٹرامپ یہ بات بھانپ چکا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے فوجی کارروائیوں میں ناکام رہا ہے، اور وہ اپنے اس جارحانہ رویے کے خلاف پاسدارانِ انقلاب کی مزاحمت دیکھ کر ششدر رہ گیا ہے۔ اب زمینی حقائق ہی ٹرامپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں، جس نے اس جنگ میں بہت کچھ کھو دیا ہے۔  عالمی سطح پر، یہاں تک کہ امریکہ کے اندر اور خود اپنی ہی پارٹی اور حامیوں میں اس کا وقار گر چکا ہے اور اس پر اعتماد متزلزل ہو گیا ہے۔ بلا شبہ یہ صورتحال نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات اور پھر دو سال بعد کے عام انتخابات پر اثر انداز ہوگی۔ مفاہمت کی یادداشت کی چوتھی اور پانچویں دفعات، جو "آبنائے ہرمز" سے متعلق ہیں، بالواسطہ طور پر امریکہ میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے جڑی ہوئی ہیں۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکہ کی جانب سے اس کے بحری محاصرے نے — جو کہ عالمی تیل اور مائع گیس کے کل حجم کے پانچویں حصے کی گزرگاہ ہے — بحری نقل و حمل کو مفلوج کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں ایندھن اور گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور اس کے بعد اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی اسی قدر اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال خود بخود وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ٹرامپ نے ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے میں گہری دلچسپی دکھائی تاکہ آبنائے میں آمد و رفت کا تسلسل دوبارہ بحال ہو سکے، کیونکہ آبنائے ہرمز کے کھلنے سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں تیزی سے گر جائیں گی۔ یوں ٹرامپ کو مذاکرات اور مفاہمت کی یادداشت میں وہ راستہ مل گیا جس کے ذریعے وہ اپنی اس "کامیابی" کا ڈھونگ رچا سکے جو وہ فوجی طاقت سے حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا!۔ جب پاسدارانِ انقلاب اپنی بہادری کے ساتھ اس کے سامنے ڈٹ گئے، تو اس نے نظام کے سیاسی پہلو (صدر، اسپیکرِ پارلیمنٹ اور وزیر خارجہ) میں جائے پناہ تلاش کی، اور انہی لوگوں نے سپریم لیڈر کو مذاکرات اور مفاہمت کی یادداشت پر قائل کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کی آواز دبا دی گئی۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ معاہدے کی تڑپ کی تصدیق تیسری شق سے ہوتی ہے جس کا متن ہے: "ایران اور امریکہ زیادہ سے زیادہ 60 دنوں کے اندر، جو باہمی اتفاق سے قابلِ توسیع ہے، مذاکرات کرنے اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کا عہد کرتے ہیں"۔ یعنی چاہے اس کے لیے مدت ہی کیوں نہ بڑھانی پڑے!۔ جب امریکہ، نظام کی تبدیلی اور اسے ایک تابع ریاست بنانے کے لیے فوجی آپشن میں ناکام ہو گیا، تو اس نے مذاکرات اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے شدید بے تابی دکھائی اور ایران کو دوبارہ ایک ایسی "مدار میں گھومنے والی ریاست" (Satellite State) کے طور پر قبول کر لیا جو اسی کے زیرِ اثر رہے جیسا کہ وہ پہلے تھی۔ اور یہ اس وقت ہوا جب ایران میں خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکہ سے مکمل آزادی کی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ ٹرامپ نے اسے اپنی فتح قرار دیا اور سیاسی ونگ، بالخصوص صدر نے اس کے لیے یہ راستہ صاف کیا!۔ چنانچہ ایران کا مذاکرات کے لیے آمادہ ہونا اور پھر حتمی معاہدے پر دستخط کرنا، جبکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ امریکہ جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا، اس کا مطلب ایران کا دوبارہ اسی نقطہ آغاز پر واپس آنا ہے جہاں وہ امریکہ کے زیرِ اثر ایک ریاست تھی۔

 

7-اس کے بعد، معاہدے پر دستخط ہوتے ہی، ٹرامپ نے ایران بلکہ عام مسلمانوں کے ساتھ ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کی۔ ایک طرف ٹرامپ نے 19 جون 2026 کو امریکی ویب سائٹ 'ایکسیس' (Axios) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "بدقسمتی سے میں نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو تکلیف پہنچائی"۔ یہ بیان سپریم لیڈر کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت کی منظوری کے بعد سامنے آیا، گویا وہ ان کا شکریہ ادا کر رہا ہو۔ دوسری طرف، وہ یہودی وجود (اسرائیل) پر دباؤ ڈالنے کا ناٹک کر رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی جنگ اور امن، دونوں میں اسی (امریکہ) کے حکم کے پابند ہیں!۔ چنانچہ ٹرامپ نے نیتن یاہو کی سرِعام سرزنش کی اور 16 جون 2026 کو فرانس میں جی سیون (G7) سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں کہا: "اس نے اسرائیل کو بتا دیا ہے کہ بیروت پر اس کا حملہ اسے پسند نہیں آیا، اور اب نیتن یاہو کو لبنان کے حوالے سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے... میرے بغیر اسرائیل کا وجود ہی نہ ہوتا..." (الجزیرہ، 16/6/2026)۔ اس کے نائب صدر وینس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: "میں اسرائیلی حکومت کے ان ارکان سے کہتا ہوں جو ٹرامپ کے ناقد ہیں کہ پچھلے تین مہینوں کے دوران اسرائیل کی حفاظت کرنے والے دو تہائی ہتھیار امریکہ کے بنے ہوئے تھے اور امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے خریدے گئے تھے... اگر میں اسرائیلی حکومت کا رکن ہوتا تو میں دنیا میں اپنے واحد باقی رہ جانے والے طاقتور اتحادی پر حملہ نہ کرتا" (نیویارک ٹائمز، 18/6/2026)۔ ٹرامپ اور اس کے نائب کی بات اس صورت میں درست ہوتی اگر وہ سچے ہوتے، لیکن یہ کیسے ممکن ہے جبکہ یہودی وجود فلسطین، لبنان اور ہر مقام پر اپنی جارحیت میں صرف امریکہ کے سہارے ہی حرکت کرتا ہے؟!۔ یہودی وجود کی حیثیت اس سے کہیں کم ہے کہ اسے تنہا کوئی اہمیت دی جائے، اس کا حال تو ویسا ہی ہے جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔

 

﴿لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ

 

"یہ تمھیں تھوڑی بہت تکلیف پہنچانے کے سوا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اور اگر یہ تم سے لڑیں گے تو پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں گے، پھر انھیں کہیں سے مدد نہیں ملے گی۔" (سورۃ آل عمران، آیت 111

 

چنانچہ یہودی وجود کی اپنی کوئی ذاتی قوت نہیں ہے سوائے اللہ کی رسی اور لوگوں کی رسی (سہارے) کے؛ اور اللہ کی رسی کو تو وہ اپنے انبیاء کے دور سے ہی کاٹ چکے ہیں، اب ان کے پاس صرف لوگوں کا سہارا ہی باقی رہ گیا ہے!۔ پس امریکہ لبنان پر ان کی جارحیت اور جسے وہ بفر زون کہتے ہیں، اس میں ان کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ لہٰذا ٹرامپ ہی ان کی جارحیت اور ان کے وجود کی بقا کا اصل ذمہ دار ہے جیسا کہ اس کے ان بیانات سے ظاہر ہے جو اوپر ذکر کیے گئے۔ اللہ انھیں غارت کرے، یہ کہاں بہکے پھر رہے ہیں!۔ وہ اب بھی لبنان کے حصوں پر قابض ہیں اور امریکی ہتھیاروں اور "دفاعِ خود اختیاری" کے امریکی جواز کے سائے میں لبنانی علاقوں پر بمباری کر رہے ہیں۔

 

8-مختصر یہ کہ واقعات کی حقیقت یہی ہے، اور لازم تو یہ تھا کہ ٹرامپ کو مذاکرات کی میز پر وہ کچھ نہ دیا جاتا جو وہ میدانِ جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا، خاص طور پر جب کہ ایران کوئی چھوٹی یا کمزور ریاست نہیں ہے۔ اس کے پاس اتنی طاقت موجود ہے کہ وہ ایک طویل جنگ میں ثابت قدم رہ کر امریکہ کو شکست دے سکے اور اسے اس خطے سے اسی طرح ذلیل و خوار کر کے نکال دے جیسے وہ 2021 میں افغانستان سے نکلا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنی پالیسیوں میں مکمل طور پر آزاد ہو جائے تاکہ نہ تو وہ دوبارہ کسی کے زیرِ اثر ریاست بنے اور نہ ہی ایک تابع ملک کے درجے تک گرے۔ ایران کے پاس 1.6 ملین مربع کلومیٹر کا وسیع رقبہ ہے اور پہاڑوں، صحراؤں، وادیوں اور سمندری ساحل پر مشتمل متنوع جغرافیائی خدوخال موجود ہیں، اس کی آبادی تقریباً 90 ملین ہے اور اس کے پاس ایک اسٹریٹجک گہرائی اور کئی ممالک کے ساتھ سرحدیں ہیں جو کسی بھی محاصرے کے خلاف اس کے لیے راستوں کا کام دیتی ہیں۔ اس کے پاس تیل اور گیس جیسے توانائی کے وسائل اور دیگر قدرتی ذرائع بھی وافر مقدار میں ہیں، اور اس میں غذائی اشیاء کے حوالے سے خود کفیل ہونے کی پوری صلاحیت موجود ہے کیونکہ اس کے پاس زراعت کے لیے کافی زمین ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس کے پاس ایسی جنگی صنعتیں ہیں جو دفاع کے لیے ہتھیار تیار کر سکتی ہیں، جیسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی صنعت، اور ان تمام چیزوں کو مزید ترقی دی جا سکتی ہے، ساتھ ہی شہری صنعتوں کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ جوہری صنعت کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں، چنانچہ جب ٹرامپ 2018 میں 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہوا، تو ایران تقریباً 440 کلوگرام تک 60 فیصد یورینیم افزودہ کرنے میں کامیاب رہا، جبکہ 2015 کے معاہدے میں یہ شرح 3.67 فیصد سے زیادہ نہیں تھی!۔

 

یہی وجہ ہے کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنا اور پھر ان نکات پر حتمی دستخط کے لیے مذاکرات کا آغاز کرنا ایک بہت بڑی پسپائی ہے!۔ یہ اس امریکہ کے لیے زندگی کی نوید ہے جو ایران کے ساتھ معرکے میں ہار چکا تھا اور اس جنگ میں بری طرح پھنس گیا تھا جس نے اسے 4 ماہ سے زیادہ عرصے تک الجھائے رکھا۔ لیکن ایرانی سیاسی قیادت کی سچی مرضی اور اصولی پختگی کمزور پڑ گئی، یہاں تک کہ وہ پاسدارانِ انقلاب کے سامنے بھی آڑے آ گئے جب اس نے امریکی اثر و رسوخ سے آزادی پانے اور امریکی جارحیت اور اس کے ساتھ جڑے یہودی وجود کو پسپا کرنے کے لیے قربانی دینے کی کوشش کی۔ اس کے برعکس، صدرِ مملکت نے اس یادداشت پر دستخط کر دیے اور ٹرامپ کو وہ کامیابی تھما دی جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل کرنے سے قاصر رہا تھا!۔

 

دوم: رہا یہ سوال کہ امتِ مسلمہ اس ذلت کے بعد جس میں وہ اس وقت جی رہی ہے، دوبارہ کس طرح زندہ اور معزز ہوگی، تو یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے بلکہ اللہ قوی و عزیز کی کتاب اور اس کے سچے اور امین رسول ﷺ کی سنت میں واضح درج ہے، یعنی مسلمانوں کی ایک ایسی خلافت جو ان پر اس قانون کے مطابق حکومت کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے:

 

﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيراً مِنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ

 

"اور یہ کہ (اے نبی!) آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اور ان سے بچ کر رہیں کہ کہیں یہ آپ کو اللہ کے نازل کردہ کسی حکم سے بہکا نہ دیں۔ پھر اگر یہ منہ موڑیں تو جان لیں کہ اللہ ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے انھیں مصیبت میں ڈالنا چاہتا ہے، اور یقیناً لوگوں میں سے اکثر نافرمان ہیں۔" (سورۃ المائدہ: آیت 49

 

اور ایک ایسا خلیفہ جس کی قیادت میں مسلمان اللہ کی راہ میں جہاد کریں، جیسا کہ امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» "امام (خلیفہ)  ایک ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر لڑا جاتا ہے اور جس کے ذریعے (دشمن سے) بچاؤ کیا جاتا ہے"۔ پھر وہ طویل صدیاں جو اسلامی ریاست، خلافتِ راشدہ کی عظمت اور مسلمانوں کی عزت و عدل کی گواہی دیتی ہیں... انھوں نے اللہ کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکومت کر کے اللہ کے دین کی نصرت کی تو اللہ نے ان کی مدد فرمائی۔ پھر جب استعماری کفار نے مسلم ممالک میں موجود اپنے ایجنٹوں کے ساتھ مل کر سازشوں کے ذریعے اس ریاست کو ڈھایا، تو مسلمان ذلت، رسوائی اور معاشی تنگی کا شکار ہو گئے۔

 

﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً

 

"اور جس نے میرے ذکر (ہدایت) سے منہ موڑا تو اس کے لیے معیشت (زندگی) تنگ ہوگی۔" (سورۃ طہ: آیت 124

 

لیکن اللہ کے حکم سے یہ صورتحال طویل نہیں ہوگی، کیونکہ خلافت اللہ کے سچے وعدے کے مطابق واپس آنے والی ہے:

 

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾

 

"تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور خلافت (اقتدار) عطا فرمائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو عطا فرمائی تھی، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو مستحکم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے خوف کی حالت کو امن میں بدل دے گا۔ وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور جو اس کے بعد کفر کرے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔" (سورۃ النور: آیت 55

 

اور اس "جبر کی حکمرانی"  کے بعد جس میں ہم جی رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی خوشخبری موجود ہے، امام احمد نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «... ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ۔ثُمَّ سَكَتَ» "...پھرجبر کی حکمرانی ہوگی اور جب تک اللہ چاہے گا رہے گی، پھر جب اللہ اسے اٹھانا چاہے گا تو اٹھا لے گا، پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت قائم ہوگی۔پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے"۔ پس خلافت اللہ کے حکم سے واپس آنے والی ہے اور اللہ کا اپنے دین کی نصرت کرنے والوں کی مدد کرنا ایک پکا وعدہ ہے:

 

﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

 

"اور اللہ ضرور اس کی مدد فرمائے گا جو اس کے (دین) کی مدد کرے گا۔ بے شک اللہ بہت قوت والا اور غالب ہے۔" (سورۃ الحج: آیت 40

 

مگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ نصرت ہم پر آسمان سے یوں نازل نہیں ہوگی کہ فرشتے اسے ہمارے پاس لے کر آئیں اور جب ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوں تو وہ ہمارے لیے خلافت قائم کر دیں۔ بلکہ ہمیں عمل کرنا ہوگا، محنت اور جدوجہد کرنی ہوگی، اور اپنے عمل میں سچائی اور اخلاص کو تلاش کرنا ہوگا، اور اللہ کے اس وعدے پر کامل یقین رکھنا ہوگا کہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے انھیں خلافت عطا کی جائے گی۔ پس یہ دونوں چیزیں ناگزیر ہیں: ایمان اور عملِ صالح۔

 

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ...

 

"تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور خلافت عطا فرمائے گا..." (سورۃ النور: آیت 55

 

اور یہ سب کچھ رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں پوری طرح واضح ہے کہ آپ ﷺ نے کیسے کام کیا اور کیسی تکلیفیں برداشت کیں... یہاں تک کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نصرت آپ ﷺ کے پاس آئی۔ آپ ﷺ نے اللہ کے دین کی نصرت کی تو اللہ نے آپ ﷺ کی مدد فرمائی، اور یہی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سنت ہے:

 

﴿سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلاً﴾

 

"اللہ کی یہی سنت ان لوگوں میں بھی رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں، اور تم اللہ کی سنت میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔" (سورۃ الفتح: آیت 23

 

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے عمل کیا، اور اسی طرح آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ﷺ کی اتباع کی، اور ہمیں بھی ویسا ہی ہونا چاہیے، تو اللہ کی نصرت بلا شبہ آئے گی، اس کے حکم سے، اور امید ہے کہ وہ قریب ہی ہو۔

 

یہی وہ راستہ ہے جو امت کو نجات دلائے گا، اسے اس کی کھوئی ہوئی عزت واپس دلائے گا، اس کی قوت و شوکت کو بحال کرے گا اور اس کے دشمنوں کو اس پر جارحیت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور کر دے گا۔ یہ صرف اور صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ اس کی خلافت دوبارہ قائم ہو اور زمین اس کی خیر و برکت اور عدل و انصاف سے منور ہو جائے؛ اور جس طرح خلافت نے ماضی میں قیصر و کسریٰ کے تکبر کو خاک میں ملایا تھا، اسی طرح وہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے دورِ حاضر کے متکبرین جیسے ظالم ٹرامپ اور اس جیسے دیگر استعماری کفار کا بھی خاتمہ کرے گی۔

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

 

"اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔ اللہ کی نصرت سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے اور وہ نہایت غالب اور رحم فرمانے والا ہے۔" (سورۃ الروم: آیات 4-5

 

﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ

 

"بے شک اس میں اس شخص کے لیے نصیحت ہے جس کے پاس (بیدار) دل ہو یا وہ پوری توجہ سے بات سنے اور وہ حاضرِ دماغ ہو۔" (سورۃ ق: آیت 37

 

13 محرم الحرام 1448ھ

 

28 جون 2026ء

 

 

 

 

Last modified onجمعہ, 03 جولائی 2026 13:52

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک