الإثنين، 04 ربيع الأول 1448| 2026/08/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

ترکیہ، پاکستان اور سعودیہ کا اتحاد

  

خبر:

  

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان 7 اگست کو شہرِ مکہ میں سہ فریقی فوجی اتحاد پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کی اہم شقوں کے مطابق کسی بھی رکن ملک کے خلاف جارحیت کو پورے اتحاد اور اس میں شامل ہر ایک ملک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ مزید برآں، معاہدے میں اس اتحاد کو ایک دفاعی اتحاد قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں ہے۔

  

تبصرہ:

 

 بلاشبہ، یہ اتحاد اس نئی سیکیورٹی اور فوجی حکمتِ عملی کا ثمر ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ نے رواں سال کے اوائل میں نہایت سوچ سمجھ کر ترتیب دیا تھا۔ یہ حکمتِ عملی ’’امریکہ کے اتحادیوں اور شراکت داروں کی ذمہ داریوں میں حصہ داری بڑھانے‘‘ کے اصول کے تحت کام کرتی ہے۔ یہ نئی امریکی پالیسی اپنے شراکت داروں اور اتحادی ریاستوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنی علاقائی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالیں۔ یہ امریکی خارجہ پالیسی میں ایک نئے ماڈل کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں امریکہ علاقائی طاقتوں کے ایک ایسے نیٹ ورک کی قیادت کرتا ہے جو امریکی نگرانی میں اپنے اپنے علاقوں کی سلامتی کو یقینی بناتا ہے۔ اس طریقۂ کار سے امریکہ کو براہِ راست فوجی دستے تعینات کرنے یا مالی وسائل خرچ کرنے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ وہ تعاون کرنے والی یا اتحادی ریاستوں کا حقیقی قائد اور نگران برقرار رہتا ہے۔ یہ "ذمہ داریوں میں حصہ داری"(burden sharing) اور strategic deterrence جیسی نئی اصطلاحات اور اصولوں کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔

 

 چنانچہ، ایسے اتحاد تشکیل دے کر امریکہ مجموعی حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی و انٹیلی جنس کے معاملات پر کنٹرول برقرار رکھتا ہے، جبکہ علاقائی ریاستیں سکیوریٹی گشت، علاقائی deterrence اور—اگر ضرورت پیش آئے—سرحدی علاقوں اور بحری گزرگاہوں کے تحفظ کے لیے مقامی سطح پر باہمی جنگوں کا بڑا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ امریکی نقطۂ نظر سے، اس نوعیت کا اتحاد علاقائی استحکام کو فروغ دیتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن قائم رہتا ہے، اور کشیدہ و غیر مستحکم علاقوں میں تناؤ کم کرنے میں مدد دیتا ہے—یوں کم سے کم لاگت میں امریکی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔

 

 پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا اتحاد مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں امریکہ کی اس نئی خارجہ پالیسی کا ایک اسٹینڈرڈ نمونہ - بلکہ ایک عملی مظہر - ہے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیتوں، ترکیہ کی فوجی پیداوار کی استعداد اور سعودی عرب کی تیل سے حاصل ہونے والی دولت کو یکجا کرکے یہ اتحاد علاقائی سلامتی برقرار رکھنے، یہودی ریاست جیسے توسیع پسند طاقتوں کا توازن قائم کرنے، اور ایران جیسی ان قوتوں کو باز رکھنے کے لیے تشکیل دیا جا رہا ہے جو امریکی دائرۂ اثر سے باہر کام کرتی ہیں۔

 

 مزید برآں، یہ اتحاد ایک اور اہم فائدہ بھی فراہم کرتا ہے: چین کے خلاف ایک مضبوط دفاعی حصار قائم کرنا، تاکہ اس کی مغرب کی جانب توسیع کو روکا جا سکے، جبکہ پاکستان کو چین کے ساتھ تعلقات سے دور کرتے ہوئے امریکہ پر مکمل انحصار کی طرف لے جایا جا سکے۔

 

 اس نئے اتحاد کو ممکنہ طور پر مستقبل میں بننے والے ایسے دیگر اتحادوں کے ذریعے مقابلہ اور بیلنس کیا جا سکتا ہے، جن پر یہودی ریاست نے پہلے ہی بات چیت شروع کر دی ہے۔ ان میں ایک ممکنہ اتحاد یہودی وجود، بھارت اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل ہو سکتا ہے، یا اس وجود کو یونان اور قبرص کے ساتھ متحد کر کے ہو سکتا ہے۔

 

 امریکہ کی اس نئی حکمتِ عملی کے مطابق، ان مخالف علاقائی اتحادوں کا مقصد استحکام پیدا کرنا اور ریاستوں کو ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے سے روکنا ہے، اور اس سے امریکہ یہ صلاحیت بھی برقرار رکھتا ہے کہ اگر یہ ریاستیں مقررہ پلان سے ہٹیں تو انہیں قابو میں رکھا جا سکے۔ اس نوعیت کے اتحاد مخالف علاقائی طاقتوں کو بڑی جنگیں شروع کرنے سے باز رکھتا ہے،  اور انھیں علاقائی نظام میں خلل ڈالنے سے باز رکھتا ہے - خصوصاً اس وقت جب اس نظام کی سرپرستی ایک بالادست عالمی طاقت کر رہی ہو۔ اس سہ فریقی اتحاد کا نسبتاً آسانی سے قائم ہو جانا اس حقیقت سے منسوب کیا جاتا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کی قیادتیں امریکہ کے تابع ہیں؛ چنانچہ امریکی نقطۂ نظر سے یہ زیادہ موزوں سمجھا گیا کہ ایسا اتحاد قائم کیا جائے، بجائے اس کے کہ ان دیگر ریاستوں کو شامل کیا جائے جو زیادہ بڑے عزائم اور بلند تر مقاصد رکھتی ہیں۔

 

 مسلمانوں کو اس اتحاد کو مسترد کرنا چاہیے، کیونکہ یہ امریکہ کی تابعداری کی ایک نئی شکل کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے بجائے، انہیں خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، ایک ایسی ریاست جو مسلمانوں کو ایک ریاست کی واحد قیادت کے تحت متحد کرے اور کسی کے احکامات کی پابند نہ ہو۔ یہ قیادت نظریاتی سیاست کی بنیاد پر تمام مسلم اقوام کی رہنمائی کرے گی، اور ایک عظیم اسلامی ریاست کی سربراہی میں امریکہ اور تمام نوآبادیاتی طاقتوں کو عالمی غلبے کی پوزیشن سے مستقل طور پر ہٹا دے گی۔

 

 

 

شیخ احمد الخطوانی نے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لئے لکھا

 

 

Last modified onپیر, 17 اگست 2026 18:39

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک