المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان
| ہجری تاریخ | 21 من ربيع الاول 1448هـ | شمارہ نمبر: 1448/08 |
| عیسوی تاریخ | جمعرات, 03 ستمبر 2026 م |
پریس ریلیز
پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت ٹرمپ کے لئے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ بچانے میں مدد فراہم کر رہی ہے! اے اہل قوت! اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کو اسلام کی سربلندی کے لیے استعمال کرو اور ان حکمرانوں کو امریکہ کی چاکری سے روکو!
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز کے حالیہ دورۂ ایران سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا، "میں اس بات کو بھی اجاگر کرنا چاہوں گا کہ بعض حلقوں کی جانب سے کیے جانے والے یہ دعوے گمراہ کن اور حقیقت کے منافی ہیں کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے صدر ٹرمپ یا امریکہ کے نمائندے کے طور پر ایران کا دورہ کیا۔ کیونکہ ان کا یہ دورہ خالصتاً ثالث کے طور پر پاکستان کے کردار کے تناظر اور پس منظر میں کیا گیا تھا۔" اسی پریس کانفرنس کے دوران ترجمان نے اس دورے کے مقصد کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ "علاقائی کشیدگی کو کم کرنے، ملٹری ڈیڈ لاک کو توڑنے اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا تھا۔" ترجمان اس واضح حقیقت کو مسترد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ: اولاً مسلم علاقوں میں کشیدگی، عسکری تعطل اور عدم استحکام کی بنیادی وجہ اس خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کا موجود ہونا ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ نے ایک مسلم سرزمین یعنی ایران پر جارحیت کی ہے۔ ثانیاً، یہ محض اتفاق نہیں کہ یہ دورہ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے 24 اگست 2026ء کو "آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ" (جسے 'اکنامک ڈی ڈے' کا نام دیا گیا) کے اعلان کے ساتھ ہوا جو ایران کی عالمی مالیاتی شہ رگوں کو کاٹنے کے لیے پابندیوں کی ایک مہم ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی ناکام عسکری مہم جوئی کے بعد، امریکہ کی فوجی صلاحیت کا پول کھل چکا ہے۔ اس کے فوجی اڈے تباہ ہو چکے ہیں اور ایران کی رضامندی کے بغیر ان کی دوبارہ تعمیر ممکن نہیں۔ اب امریکہ کے پاس اپنے حربوں میں صرف ایک آخری ہتھیار بچا ہے، اور وہ ہے بین الاقوامی معاشی نظام، جس کی کامیابی بھی دیگر ممالک کے تعاون سے مشروط ہے۔ 2015 میں ایران کے ساتھ ڈیل کے بعد، سابق امریکی صدر براک اوباما نے پشیمانی کے ساتھ اس واضح حقیقت کا اعتراف کیا تھا کہ اس قسم کی بینکنگ پابندیاں خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا: "[ایران کو واقعی نقصان پہنچانے کے لیے]۔۔۔ ہمیں چین جیسے ممالک کو امریکی مالیاتی نظام سے الگ کرنا پڑے گا، [لیکن] چونکہ وہ ہمارے قرضوں کے بڑے خریدار ہیں، اس لیے ایسے اقدامات ہماری اپنی معیشت میں شدید افراتفری کا باعث بن سکتے ہیں اور۔۔۔ بین الاقوامی سطح پر عالمی ریزرو کرنسی کے طور پر ڈالر کے کردار پر سوالات کھڑے کر سکتے ہیں۔" دس سال بعد اسی حربے کو دوبارہ آزمانا وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب امریکی معیشت 40 ٹریلین ڈالر (400 کھرب ڈالر) کی مقروض ہے، اس کی فوج کو اہم ہتھیاروں کی کمی کا سامنا ہے، اور وہاں کی عوام کو اس جنگ کی منطق سمجھ نہیں آ رہی، یہ سب کوئی دانشمندی نہیں بلکہ صرف ایک خام خیالی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جنرل عاصم منیر نے ٹرمپ کے لیے ایک انتہائی قابلِ اعتماد اور بااثر نمائندے کا کردار ادا کیا ہے۔ 38 دنوں تک بے دریغ جانی و مالی تباہی کے بعد جب ٹرمپ ایران میں اعلان کردہ جنگی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا تو عاصم منیر نے پہلی جنگ بندی کروائی، پھر اس میں توسیع دلوانے میں مدد کی، اور پھر معاہدے کی یاداشت پر دستخط کروانے میں پیش پیش رہا۔ اور اب ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اسی اعتماد کے حامل شخص کا سہارا لیا ہے تاکہ وہ انہیں اس مصیبت سے نکال سکیں جسے خود امریکی اقتدار کے راہداریوں میں ایک دلدل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی بالادستی کے نظام کا زوال چاہے سیاسی میدان میں ہو یا عسکری اور معاشی میدان میں، ہر خاص و عام کے لیے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے۔ لیکن یہ مسلم حکمران ہی ہیں جو اس بالادستی کو بار بار نئی زندگی فراہم کر رہے ہیں۔ وہ مصر، ترکیہ اور قطر کی مسلم حکومتیں ہی تھیں جنہوں نے غاصب صیہونی ریاست کی بچاؤ کی تدبیر کی، اور اس کے بعد پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کے گروہ نے آگے بڑھ کر صیہونی حکومت اور اس کے سرگرم سہولت کار امریکہ کے جرائم کو قانونی اور اخلاقی تحفظ فراہم کیا۔ اسی طرح صیہونی ریاست اور امریکہ کی جانب سے مسلم سرزمینِ ایران پر حملے کی ناکامی کے بعد، جنرل عاصم منیر امریکہ کی مدد کو پہنچے اور انہیں 'پسندیدہ فیلڈ مارشل' قرار دیا گیا۔ غرض جو کچھ امریکہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود حاصل نہ کر سکا، اب وہ اسے مسلم حکمرانوں کی ملی بھگت کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اے تمام مخلوقات میں سب سے بہترین، ہمارے آقا و مولا محمد مصطفیٰ ﷺ کی باوقار اور محترم امت!
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایٹمی قوت کی صلاحیت سے نوازا ہے۔ ہماری افواج جنگی صنعتوں سے لیس، طاقتور اور مضبوط قوت ہیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا کیلئے شہادت حاصل کرنے کے جذبے سے سرشار ہیں۔ پاکستان اس بات کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ امت کے وسائل اور سرزمینوں کو ایک خلیفہ کے تحت متحد کرنے کی شرعی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے ایک مرکز اور بنیادی پلیٹ فارم بن سکے۔ بلاشبہ، انصار اور مہاجرین رضی اللہ عنہم نے دوسرے خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امت کو تین دن اور تین راتوں سے زائد، بغیر خلیفہ کے رہنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اور اس امت کے لیے دو امیر رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے، کجا یہ کہ ان کے 56 قائدین ہو۔
«عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الآخَرَ مِنْهُمَا»
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب دو خلفاء کے لیے بیعت لے لی جائے تو اس کو قتل کر دو جس کے لیے بعد میں بیعت لی گئی ہو۔" [صحیح مسلم]
اے مسلح افواج کے بہادر اور باوقار افسران!
دنیا اور آخرت کی عزت اور کامیابی اسی میں ہے جس سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ راضی ہو، یعنی شریعتِ اسلامیہ کا نفاذ۔ ہمیں طاغوت کو مسترد کرنے اور اس کے انکار کا حکم دیا گیا ہے۔
﴿قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّـٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾
"ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے۔ پس جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے یقیناً ایک ایسا مضبوط اور نہ ٹوٹنے والا سہارا تھام لیا جسے کبھی زوال نہیں۔ اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔" [سورۃ البقرہ: 256]
تم وہ لوگ ہو جنہوں نے جنت کی نعمتوں اور آسائشوں کے بدلے خود کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ سودے میں بیچ دیا ہے
﴿إِنَّ ٱللَّهَ ٱشْتَرَىٰ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلْجَنَّةَ ۚ يُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّۭا فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ وَٱلْقُرْءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِ ۚ فَٱسْتَبْشِرُوا۟ بِبَيْعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعْتُم بِهِۦ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ﴾
"بلاشبہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنّت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، پس وہ مارتے ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں۔ یہ اللہ کے ذمہ تورات، انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ اور اللہ سے زیادہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ پس تم اپنے اس سودے پر خوشیاں مناؤ جو تم نے اس سے کیا ہے۔ اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ [سورۃ التوبہ: 111]
مسلمانوں اور بالعموم تمام انسانیت کے لیے امید اور نجات کا واحد راستہ صرف اسلام ہی ہے، جسے ریاستِ خلافت کے ذریعہ نافذ کیا جاتا ہے۔ قیامِ خلافت ایک شرعی فریضہ ہے جس کے لیے اہل ایمان کو جدوجہد کرنی چاہیے اور مدینہ کے انصار رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے اجر کے حصول کیلئے دن رات ایک کرنا چاہیے۔
ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ پاکستان |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: |





