السبت، 04 رمضان 1447| 2026/02/21
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

مرکزی کلمہ

 

حزب التحریر ایک آیڈیالوجیکل جماعت ہے جو صراطِ مستقیم پر استقامت کے ساتھ گامزن ہے

 

اس کے پاس نہ تو افکار کی کمی ہے اور نہ ہی یہ عملی جدوجہد سے تھکتی ہے

 

 

تحریر: انجینئر خلیل عبد الرحمن

 

(ترجمہ)

 

"کارکنوں پر قابو پانے کے لیے انہیں روزمرہ کے کاموں میں الجھائے رکھنا" کے عنوان سے کالم نگار عبداللہ الجدیع نے سعودی اخبار 'الوطن' اور 'العربیہ' ویب سائٹ وغیرہ پر ایک مضمون شائع کیا ہے، جس میں انہوں نے اس 'سازش' کا ذکر کیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے پیروکاروں کو فروعی معاملات، خود ساختہ افکار اور مبالغہ آمیز واقعات میں اس لیے الجھائے رکھتی ہیں تاکہ انہیں اپنے کنٹرول میں رکھ سکیں اور وہ اپنے اصل مقصد اور طریقہ کار (منہج) پر غور و فکر کرنے سے دور رہیں۔ انہوں نے اس کی مثال حزب التحریر سے دی ہے اور اسے ایک بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جماعت پر الزامات کی بوچھاڑ کی ہے، اس پر تنقید کی ہے اور اس پر حملے کیے ہیں، حالانکہ انہوں نے اپنے ان من گھڑت الزامات اور دعووں کے حق میں کوئی دلیل یا ثبوت پیش نہیں کیا۔ بلکہ ان کا واحد مقصد جماعت کی عیب جوئی کرنا ہی نظر آتا ہے، چاہے اس کے لیے انہیں عقلِ سلیم کے خلاف ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ مثال کے طور پر، انہوں نے جماعت کو "قدیم و مستحکم" (عَراقة) کہنے کے بجائے "بڑھاپے" (شیخوخة) کی اصطلاح سے نوازا ہے۔ "عَراقة" (قدامت و استقامت) کی اصطلاح تو ان گروہوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو دہائیوں یا صدیوں تک اپنا کام جاری رکھتے ہیں اور وسیع تجربہ حاصل کر کے ایک ایسی بڑی طاقت بن کر ابھرتے ہیں جسے نظر انداز کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جس کی بنا پر جماعتوں کی تعریف کی جاتی ہے نہ کہ برائی، لیکن کاتب نے "عراقت" کے بجائے "بڑھاپے" کا لفظ استعمال کیا گویا حزب التحریر کوئی ایک شخص یا چند افراد ہیں جو اب بوڑھے ہو چکے ہیں اور ان میں کچھ کرنے کی سکت باقی نہیں رہی! حالانکہ کھلے حقائق اس دعوے بلکہ اس بہتان کو جھٹلاتے اور مسترد کرتے ہیں، یہاں تک کہ امتِ مسلمہ کے دشمنوں اور ان کے معتبر تحقیقی اداروں نے بھی دنیا کے 40 سے زائد ممالک میں حزب التحریر کے پھیلاؤ اور توسیع کی تصدیق کی ہے اور اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کئی علاقوں میں یہ ایک کلیدی سیاسی قوت کے طور پر ابھری ہے۔

 

 

جہاں تک لوگوں کو الجھائے رکھنے یا مصروف رکھنے کے خیال کا تعلق ہے، تو ہم اس بات کی سنگینی پر کاتب سے اتفاق کرتے ہیں بشرطیکہ یہ عمل حزب التحریر یا کسی اور جماعت میں پایا جاتا ہو۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ حزب التحریر نے پہلے ہی اپنے لٹریچر میں اس بات سے خبردار کیا ہے کہ مسلم ممالک میں موجودہ نظاموں کے محض ظاہری اور جزوی معاملات کی مخالفت میں خود کو مصروف کر لیا جائے یا ایسے فروعی کاموں میں الجھ جایا جائے جو درحقیقت ان نظاموں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور امتِ مسلمہ کی توجہ اس بنیادی اور جڑ سے تبدیلی  سے ہٹا دیتے ہیں جس کی اسے اشد ضرورت ہے۔ حزب التحریر نے اپنی طویل جدوجہد میں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا ہے کہ اپنے ہر طریقے، ذریعے یا سرگرمی میں اپنے اصل مقصد کو اپنی نظروں کے سامنے رکھے۔ اس نے کبھی خود کو اس سمت میں نہیں جانے دیا جہاں ظالم حکمران اور استعماری کافر مغرب اسے لے جانا چاہتے ہیں، یعنی معمولی باتوں اور واقعات کی تفصیلات میں الجھنا، جنہیں اکثر غدار حکومتیں عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے خود پیدا کرتی ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو کم نظر لوگوں کے لیے جماعت پر تنقید کا بہانہ بنتی ہے، کیونکہ حزب التحریر اپنے نظریے اور طریقے کو نہیں چھوڑتی اور اپنی سرگرمیوں کو صرف انہی کاموں تک محدود رکھتی ہے جو براہِ راست اس کے مقصد کے حصول کا ذریعہ بنتے ہیں، یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے (اس ثابت قدمی کو) "جمود" کا نام دے دیا ہے!

 

 

لوگوں کو الجھائے رکھنے یا ان کی توجہ بھٹکانے کا معاملہ تو ان بناوٹی جماعتوں میں پایا جاتا ہے جو اصولی افکار سے خالی ہوں یا موجودہ نظاموں کے ساتھ وابستہ ہوں، اور جو ان افکار کو عوام کے لیے ایک نشہ آور دوا کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ لیکن جہاں تک حزب التحریر کا تعلق ہے، تو یہ ایک آیڈیلوجیکل جماعت ہے جو اپنا نظریہ اور طریقہ کار شریعتِ مطہرہ سے اخذ کرتی ہے، اور اس کے لیے ایسے اسالیب اور ذرائع کا انتخاب کرتی ہے جو اس کے بلند پایہ اور سنجیدہ نظریے کے شایانِ شان ہوں، بالکل اسی طرح جیسے رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت میں کیا تھا جس کا اختتام مدینہ منورہ میں پہلی اسلامی ریاست کے قیام کی صورت میں ہوا۔ وہ افکار جنہیں ہم عام کرنے اور امتِ مسلمہ کے لیے پختہ یقین میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں، اتنے زیادہ ہیں کہ ہم ان کی اشاعت کے لیے بمشکل ہی ضروری کام اور سرگرمیاں انجام دے پا رہے ہیں، خاص طور پر جب غدار حکمران، ان کے حواری، ان کی تحریکیں، ان کے لکھاری اور سیاسی حلقے استعمار کی پشت پناہی میں اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے انتھک کوششیں کر رہے ہوں۔ یہ تمام طاقتیں حزب کی دعوت کے سامنے اس لیے کھڑی ہیں کیونکہ وہ اسے حکمرانوں کے تخت و تاج اور مسلم ممالک میں قائم نقصان دہ نظاموں کے لیے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔

 

 

حزب التحریر بڑے فخر کے ساتھ دن رات ایک کیے ہوئے ہے، اور پانچوں براعظموں میں اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز کے لیے نبوت کے نقشِ قدم پر "دوسری خلافتِ راشدہ " کے قیام کی خاطر اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ جماعت اس مقصد سے ذرہ برابر بھی کم پر راضی نہیں ہوتی، اور نہ ہی موجودہ نظاموں یا استعمار کی گود میں بیٹھنے، ان سے مدد مانگنے یا ان پر بھروسہ کرنے کو قبول کرتی ہے۔ یہ اپنے شرعی نظریے اور طریقے پر مضبوطی سے قائم ہے، اور اسے اللہ کی نصرت کی پوری امید ہے جیسے اس نے اپنے سچے اور امانت دار بندے اور رسول ﷺ کی مدد فرمائی تھی۔ جہاں تک حزب التحریر کی ان کامیابیوں کا تعلق ہے جو کاتب کو نظر نہیں آئیں یا اس نے جان بوجھ کر انہیں نظر انداز کر دیا، تو وہ انہیں ان حکمرانوں کی آنکھوں میں دیکھ سکتا ہے جو حزب کے کام اور نظریے کے خوف سے لرز رہے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے اس جماعت سے محض وابستگی یا اس کی حمایت کو ہی ایک ایسا جرم قرار دے دیا ہے جس پر کسی نوجوان کو برسوں بلکہ بعض ممالک میں تو کئی دہائیوں تک قید کی سزا دی جاتی ہے۔ یا پھر وہ استعمار کے ان لیڈروں کی زبان سے سن سکتا ہے جو اس خلافت کے منصوبے سے ڈرا رہے ہیں جس کی تکمیل حزب کے ہاتھوں انہیں قریب نظر آ رہی ہے۔

 

 

اس کی تازہ ترین مثال چند روز پہلے امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ کا بیان ہے، جنہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا: "ایک ایسا خطرہ موجود ہے جس کے بارے میں ہم خاطر خواہ بات نہیں کرتے... ہماری آزادی اور سلامتی کے لیے قریب اور دور کا سب سے بڑا خطرہ 'اسلام پسند نظریات' ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسی عالمی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں جو یہاں امریکہ میں ہم پر حکومت کرے، اور یہ شریعت کے نفاذ اور اپنے نام نہاد اسلامی اصولوں کے ذریعے مغربی تہذیب کے لیے خطرہ ہے، اور اگر اس کی تعمیل میں ناکامی ہوئی تو وہ ہمیں خاموش کرانے کے لیے تشدد یا جو بھی طریقہ ضروری سمجھیں گے اسے استعمال کریں گے"۔ یا پھر کاتب اس وقت تک کا انتظار کر سکتا ہے جب وہ کسی دن جاگے اور اپنی آنکھوں سے نبوت کے نقشِ قدم پر قائم ہونے والی خلافتِ راشدہ ثانیہ کو دیکھ لے، جس کے قیام کی خبر کافر استعماری مغرب اور اس کے چیلوں اور آلہ کاروں کے تخت و تاج تلے زمین کو ہلا کر رکھ دے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(إنَّ اللهَ زوَى لي الأرضَ فرأَيْتُ مَشارِقَها ومَغارِبَها فإنَّ أُمَّتي سيبلُغُ مُلْكُها ما زوَى لي منها"، وقال عليه وآله الصلاة والسلام: "ليبلغَنَّ هذا الأمرُ ما بلغ الليلُ والنهارُ ولا يتركُ اللهُ بيتَ مدرٍ ولا وبرٍ إلا أدخله اللهُ هذا الدينَ بعزِّ عزيزٍ أو بذلِّ ذليلٍ عزًّا يعزُّ اللهُ به الإسلامَ وأهلَه وذلًّا يذلُّ اللهُ به الكفرَ) "اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا، تو میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھا، اور یقیناً میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک زمین کو میرے لیے سکیڑا گیا ہے"۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ دین وہاں تک پہنچ کر رہے گا جہاں تک دن اور رات کی پہنچ ہے، اور اللہ تعالیٰ مٹی کے بنے کسی گھر اور نہ ہی کسی خیمے کو چھوڑے گا مگر اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت والے کی عزت کے ساتھ یا ذلیل ہونے والے کی ذلت کے ساتھ؛ ایسی عزت جس کے ذریعے اللہ اسلام اور اہل اسلام کو معزز کرے گا اور ایسی ذلت جس کے ذریعے اللہ کفر کو رسوا کرے گا

 

اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:

 

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾

 

"تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت (حکمرانی) عطا فرمائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو عطا فرمائی تھی، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے (حالتِ) خوف کے بعد اسے امن سے بدل دے گا، وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھهرائیں گے، اور جو اس کے بعد کفر کرے تو وہی لوگ فاسق ہیں"(سورۃ النور: آیت 24)

 

 

 

Last modified onہفتہ, 21 فروری 2026 01:22

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک