الأربعاء، 22 رمضان 1447| 2026/03/11
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

پاکستان کی مسلح افواج کو ایران کے مسلمانوں کی حمایت میں امریکی صلیبیوں اور یہودی وجود کے خلاف کھڑے ہونے سے اب بھی کیا چیز روک رہی ہے؟

 

ایران کے مسلمانوں پر امریکہ اور یہودی وجود کے حملوں کی وجہ سے پاکستان کے مسلمان شدید تکلیف اور کرب میں مبتلا ہیں۔ یہ حملے بالکل ویسے ہی ہیں جیسے غزہ میں کیے گئے تھے۔ ان وحشیانہ حملوں نے نہ بچوں کو بخشا، نہ عورتوں کو اور نہ ہی بوڑھوں کو۔ حتیٰ کہ اسکول اور کھیل کے میدان بھی ان حملوں سے محفوظ نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «مَثَلُ المُؤْمِنِينَ في تَوادِّهِمْ، وتَراحُمِهِمْ، وتَعاطُفِهِمْ مَثَلُ الجَسَدِ إذا اشْتَكَى منه عُضْوٌ تَداعَى له سائِرُ الجَسَدِ بالسَّهَرِ والْحُمَّى» "مومن آپس کی محبت، رحم دلی اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں۔ اگر اس کے کسی ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے" [مسلم]

 

لہٰذا یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان کی مسلح افواج نے اب تک ایران کے مسلمانوں کی حمایت میں قدم کیوں نہیں اٹھایا؟

 

اسلامی عقیدے کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کی فوج کو ایسا کرنے سے روکنے والی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ ایران کے مسلمان، پاکستان کے مسلمانوں کے بھائی ہیں۔ ایمان کا رشتہ زمین پر سب سے مضبوط رشتہ ہے۔ یہ اسلامی عقیدہ ہی تھا جس نے سلمان فارسی کو بلال حبشی جا اور ابو بکر عربی کو صہیب رومی کا بھائی بنا دیا، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ

 

"بے شک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔" [سورۃ الحجرات: آیت 10]

 

 

اسلامی عقیدہ اس تفرقہ پیدا کرنے والی قوم پرستی کو باطل قرار دیتا ہے جو مسلمانوں کی وحدت میں رکاوٹ بنتی ہے۔

 

اسلامی فقہ کے نقطۂ نظر سے بھی پاکستان کی فوج کو روکنے والی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کی طرف سے جس فقہی مکتبِ فکر کی پیروی کی جاتی ہے، یعنی فقہ حنفی، اس کے بانی امام ابو حنیفہ ہیں۔ امام ابو حنیفہ، امام جعفر الصادق کے شاگرد تھے، جو فقہ جعفری کے بانی ہیں اور جس کی پیروی ایران کے مسلمان کرتے ہیں۔ امام بخاری نے اپنی کتاب تاریخ الاسلام میں کہا ہے: (حدث عنه: أبو حنيفة) "ابو حنیفہ نے ان سے روایت بیان کی۔" لہٰذا یہ حقیقت فرقہ واریت کو بھی باطل قرار دیتی ہے، جو مسلمانوں کی وحدت میں رکاوٹ بنتی ہے۔

 

عوامی روابط کے نقطۂ نظر سے بھی پاکستان کی فوج کو روکنے والی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ ایران کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی شیعہ مسلم آبادی پاکستان میں موجود ہے۔ اس خطے میں سنی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان صدیوں پرانے مضبوط تعلقات موجود ہیں۔ سب کے سب نماز ادا کرتے ہیں، رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور بابرکت مہینے کی راتوں میں اپنے رب کی عبادت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔

 

جغرافیے کے اعتبار سے بھی پاکستان اور ایران کے درمیان 909 کلومیٹر (565 میل) طویل سرحد موجود ہے۔ یہ سرحد ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے جدا کرتی ہے۔ اگر پاکستان آرمی کی بارہویں کور (XII Corps) کوئٹہ سے جہاد کا اعلان کر دے تو سرحد تک پہنچنے سے پہلے ہی استعماری قوتوں کی کھینچی ہوئی اس مصنوعی سرحد کے دونوں طرف سے دسیوں ہزار افراد اس کے ساتھ شامل ہو کر اسے مزید مضبوط بنا دیں گے۔

 

جہاں تک بین الاقوامی برادری کے پہلو کا تعلق ہے تو ایران پر امریکی جارحیت کے معاملے میں بڑی طاقتوں کے درمیان گہری تقسیم پائی جاتی ہے۔ یورپی طاقتیں امریکی فوجی خلاف ورزیوں کو کھل کر مسترد کر رہی ہیں۔ جہاں تک روس کا تعلق ہے تو 6 مارچ 2026 کو واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ روس نے ایران کو امریکی فوجی اثاثوں کے بارے میں اہم خفیہ معلومات فراہم کی ہیں۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے تو وہ تیل کی فراہمی کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہے اور اس نے ایران کے ساتھ راستے کھلے رکھے ہوئے ہیں۔

 

جہاں تک علاقائی حکومتوں کا تعلق ہے تو خلیج میں مغرب کے ایجنٹوں اور پیروکاروں کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ حکمران دیگر مسلم حکمرانوں ہی کی طرح ہیں، جو غزہ کے مسلمانوں کی حمایت کرنے سے مسلمانوں کی افواج کو روکے ہوئے ہیں۔ وہ مسلمانوں کی افواج کو اس وقت بھی روک رہے ہیں جب کہ ان کی تعداد امریکہ کی تعینات کردہ افواج سے کہیں زیادہ ہے۔ 5 مارچ 2026 کو امریکی جنرل کرسٹوفر سی لانیو (Christopher C. LaNeve)، جو امریکی فوج کے نائب چیف آف اسٹاف ہیں، نے تصدیق کی کہ دنیا کے 160 ممالک میں صرف 108,000 امریکی فوجی تعینات یا پیشگی پوزیشن پر موجود ہیں، جن میں سے 91,000 فوجی ہند-بحرالکاہل کے خطے میں ہیں۔ امت کے لاکھوں فوجیوں اور کروڑوں بہادر مردوں کے مقابلے میں یہ معمولی تعداد آخر کیا حیثیت رکھتی ہے؟

 

جہاں تک مسلمانوں کے درمیان موجودہ لڑائی کا تعلق ہے تو یہ مسلمانوں کو ان کے دین کی خاطر ایک دوسرے کی مدد کرنے کے شرعی فریضے سے نہیں روک سکتی۔ مزید یہ کہ پاکستان کی فوج اور افغانستان کے مجاہدین کے درمیان لڑائی کے حوالے سے جہاد کی فطرت یہ ہے کہ وہ امت کے دشمنوں کے خلاف غصے کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان موجود دشمنی کو ختم کر دیتا ہے۔ جہاد باہمی بدلے کی خواہش کو بھی ختم کر دیتا ہے، کیونکہ اس کے مقابلے میں فتح اور شہادت کی طاقتور خواہش غالب آ جاتی ہے۔

 

اسی طرح کی صورتحال پاکستان کی فوج اور پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں لڑنے والے جنگجوؤں کے درمیان بھی پائی جاتی ہے۔ مزید برآں، ان جنگجوؤں کے ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے مسلمانوں کے ساتھ مضبوط قبائلی روابط موجود ہیں۔ امریکی صلیبیوں اور یہودی وجود کے خلاف جہاد کے لیے متحرک ہونا مسلمانوں کو اس طرح متحد کر دے گا کہ باقاعدہ لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی دشمنوں کے دلوں میں خوف پیدا ہو جائے گا۔

 

جہاں تک پاکستان کی فوجی قیادت کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ اس کے مضبوط ذاتی تعلقات پاکستان کو نقصان سے بچا لیں گے، تو یہ دعویٰ مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ پرویز مشرف کا جارج بش جونیئر کے ساتھ اتحاد اور اس کے مضبوط ذاتی تعلقات پاکستان کو دولت اور جانوں کے بڑے نقصانات سے نہیں بچا سکے۔ یہاں تک کہ جب امریکہ کو اس کی ضرورت نہ رہی تو یہ تعلقات، مشرف کو اگلے امریکی ایجنٹ کے ذریعے تبدیل کرنے سے بھی نہ روک سکے۔ تو پھر عاصم منیر کا معاملہ اس سے کیسے مختلف ہے؟ اس کے ٹرمپ کے ساتھ ذاتی تعلقات اور امریکہ کے ساتھ اتحاد میں آخر کیا فرق ہے؟

 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا ۖ وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ ۖ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

 

"جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا مددگار بناتے ہیں ان کی مثال اس مکڑی کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا، اور بے شک سب گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے، کاش وہ جانتے۔" [سورۃ العنکبوت: آیت 41]

 

اے افغانستان، پاکستان اور ایران کے مسلمانو!

 

ہم بھائی ہیں مگر ہم بہت طویل عرصے سے باہمی دشمنی میں مبتلا رہے ہیں۔ ہمیں قوم پرستی اور فرقہ واریت نے تقسیم کر رکھا ہے۔ ہماری اس تقسیم سے صرف ہمارے دشمنوں کو فائدہ ہوا ہے یعنی امریکی صلیبیوں کو، یہودی وجود کو اور ہندو ریاست کو۔ ہم ماضی میں برطانوی استعماری طاقتوں کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی کو جانتے ہیں، تو پھر آج امریکی استعماری طاقتوں کی اسی پالیسی کو ہم کیوں نہیں دیکھ پا رہے؟

 

ہم نے غزہ کی حمایت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اب ہم ایران اور غزہ دونوں کی حمایت میں کوئی قدم نہیں اٹھا رہے۔ آئیں رمضان کے مہینے میں سچی توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف لوٹ جائیں۔ آئیں متحد ہو جائیں، اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق نظامِ حکومت قائم کریں اور فتوحات کے اس مہینے میں جہاد کے لیے متحرک ہو جائیں!

 

حزب التحریر آپ کے ساتھ ہے، آپ کے درمیان ہے اور آپ کے اندر موجود ہے۔ اس کے ساتھ مل کر نیک اعمال انجام دیں، تاکہ دینِ اسلام تمام دوسرے نظام ہائے زندگی پر غالب آ جائے، چاہے کافر اس کو ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔

 

اے پاکستان کی مسلح افواج کے مسلمانو!

 

تم امت کی سب سے مضبوط فوجی قوت ہو، لہذا اللہ تعالیٰ کے سامنے تم پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اپنی قیادت میں موجود امریکی ایجنٹوں کی وجہ سے جہنم کی آگ میں داخل نہ ہو۔ انہیں ہٹا دو اور حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کرو تاکہ خلافتِ راشدہ کو نبوت کے نقشِ قدم پر دوبارہ قائم کیا جا سکے۔ اس اقدام میں پہل کرو تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی وسیع جنت کے مستحق بن سکو۔

 

مصعب عمیر، ولایہ پاکستان

Last modified onبدھ, 11 مارچ 2026 02:45

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک