الإثنين، 05 شوال 1447| 2026/03/23
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

تبدیلی کو یقینی بنانے کے لیے نظام کو جڑ سے اکھاڑنا

 

 

مجلہ الوعی، شمارہ نمبر 474-475-476

 

تحریر:  استاد عصام الشيخ غانم

 

(ترجمہ)

 

خوشنما اصطلاحات سے قطع نظر، حکومت، اقتدار اور ریاست بنیادی طور پر ایسی غالب اور بے مثال قوت کی متقاضی ہوتی ہے جس کا کوئی مدمقابل نہ ہو، تاکہ حکمران اپنے احکامات کو نافذ کر سکے۔ کسی بھی قوم میں حکومت اس وقت مستحکم ہوتی ہے جب وہ قوم خود اس کی حقیقی محافظ ہو، اور حکومت کے استحکام میں کمی کا تناسب اسی قدر ہوتا ہے جس قدر وہ قوم کے افکار اور مقاصد سے منحرف ہوتی ہے۔ ہمارے ممالک میں 1924 کے بعد سے اقتدار اور کتاب (قرآن) ایک دوسرے سے مکمل طور پر جدا ہو چکے ہیں، یعنی کتاب ایک وادی میں ہے اور اقتدار دوسری وادی میں، بلکہ یہ کتاب کے بالکل مخالف اور اس کا دشمن ہے؛ یہی وہ حقیقت ہے جسے حکمران  چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس سچائی کو چھپانا مشکل ہے جو بہت سے اہم واقعات کے دوران کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔

 

اقتدار یا حکومت، خواہ اس کی قسم کوئی بھی ہو، در حقیقت لوگوں کے ایک ایسے گروہ کی نمائندگی کرتی ہے جو ایک مخصوص نظریے اور متعین سیاسی رجحانات پر اکٹھے ہوئے ہوں، اور ان کا یہ گروہ ایک ایسے طریقے سے منظم ہوا ہو کہ وہ "صاحبِ اقتدار" بن جائے، یعنی وہ  رہنما، سپہ سالار اور باوزن و بااثر شخصیات بن جاتے ہیں۔ جب وہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں، تو ان کا اقتدار ہی وہ طریقہ بن جاتا ہے جس سے ان کا اجتماع اور گروہ منظم رہتا ہے، اور وہ اُمت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے اس کی شاخیں پھیلاتا چلا جاتا ہے تاکہ اقتدار پراپنی گرفت کو مکمل اور یقینی بنا سکے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قوم کی قیادت اور رہنمائی میں کوئی اس کا مدمقابل نہ ہو اور نہ ہی کوئی اس کے اقتدار میں خلل ڈال سکے، اس امید پر کہ وہ قوم کو اسی سمت میں لے جائے گا جو اس نے اپنے لیے طے کی ہے اور جس پر اس کا گروہ متحد ہوا ہے، اور یہ سمت اس ریاستی ڈھانچے کا ایسا جزو بن چکی ہے جو اس سے الگ نہیں ہو سکتی۔

 

اگر ہم یہ کہیں کہ معاشرہ لوگوں اور ان کے باہمی تعلقات کا نام ہے، تو ان تعلقات کی سربراہی کرنے والا حکمران یہ چاہتا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے ایسے افکار پیدا کرے جن پر وہ یقین کر لیں، تاکہ وہ قوم فکر کے اعتبار سے "حاکم کی قوم" بن جائے۔ یہ حکمران طبقہ قوم کے دلوں میں ایسے جذبات پیدا کرنا اور بونا چاہتا ہے جیسے وطن اور وطن پرستی، قوم اور قوم پرستی ، تاکہ قوم اُسی طرف جھکے جس طرف حکمران طبقہ مائل ہے، اس لالچ میں کہ یہ اقتدار قائم رہے اور قوم خود اس اقتدار کی محافظ بن جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نظامِ حکومت اپنی فکری سطح کے مطابق پوری کوشش کرتا ہے کہ قوم کو وہی سوچ دے جو اس کی اپنی ہے اور اسے اسی طرف موڑ دے جس طرف وہ خود مائل ہے۔ چونکہ ہمارے ممالک میں حکمران امت پر ایک مغربی سیکولر نظریہ مسلط کرتے ہیں،    خواہ یہ سیکولر نظریہ وطن پرستی، قوم پرستی، سوشلزم یا کسی بھی دوسرے لبادے میں لپٹا ہو ، امت کے افکار اور رجحانات سے متصادم  ہے۔ امت میں شعور کی بیداری اور تبدیلی کے لیے کام کرنے والی باشعور تحریکوں کی موجودگی کی وجہ سے امت اور حکمرانوں کے درمیان پایا جانے والا تضاد نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ آج امتِ مسلمہ کی صورتحال یہ ہے کہ امت اس اقتدار کی ہرگز محافظ نہیں اور نا ہی کبھی ہوگی، بلکہ وہ اس کی تاک میں ہے اور اس کے برے وقت کا انتظار کر رہی ہے۔ 'عرب بہار' کے دوران عوام تبدیلی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے، لیکن حکمرانوں نے اپنے آقاؤں کی حمایت یافتہ وحشیانہ طاقت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔ نتیجتاً امت اور حکمرانوں کے درمیان دوری مزید بڑھ گئی، اور حکمرانوں نے خود کو ایک اجنبی کے طور پر پایا جو ہیرا پھیری، دھوکہ دہی، جعل سازی اور غنڈہ گردی کے سوا کسی کی نمائندگی نہیں کرتا۔

 

اگرچہ ہم اپنے ہر ملک کے نظام اور طرزِ حکومت کے مابین فرق کی تفصیلات، نظامِ حکومت کے تشکیل پانے کے طریقے ، اس کے مقامی حالات اور اس کے بین الاقوامی تانے بانے سے واقف ہیں، تاہم ہم یہاں نظام ہائے حکومت کی محض ایک خصوصیت کے خلاصے پر اکتفا کریں گے اور تفصیلات کو ان کے مناسب وقت کے لیے چھوڑ دیں گے۔ہم کہتے ہیں کہ: اس حکمران مقتدرہ، یا حکومت کے افراد، لوگوں کا ایک ایساگروہ ہیں جو اپنی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے راتوں کو نہیں سوتے ، کیونکہ ان کے اس اقتدار کے ساتھ مختلف مفادات وابستہ ہیں۔ ان مفادات میں اقتدار و قیادت کا مزہ، لوگوں کے ایک بڑے گروہ کو اپنی مرضی اور نظریات پر چلنے کے لیے مجبور کرنا، اور اس نگرانی و پاسبانی کے مشن میں کامیابی اور برتری کا احساس شامل ہے جو مغرب نے ان کے سپرد کیا ہے؛ جیسے اسلام کے خلاف جنگ، اسے اقتدار میں آنے سے روکنا اور مغرب کے اثر و رسوخ کا تحفظ کرنا۔ ہم اس بڑے انعام یا اجرت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے جسے یہ پہرے دار برقرار رکھنا چاہتے ہیں؛ اور وہ ہے مالی اور سیاسی بدعنوانی میں غرق ہونا اور اس فانی زندگی کی لذتوں سے لطف اندوز ہونا۔

 

جب وہ مطلوبہ تبدیلی آتی ہے تو ایک طاقتور گروہ، جسے یہ حکمران اپنا ہی سمجھتا ہے، اس کے خلاف بغاوت کر دیتا ہے اور پلک جھپکتے میں حالات بدل دیتا ہے۔ جب یہ گروہ ابتدائی دنوں میں نئی صورتحال کو مستحکم کرنے اور پرانے حکمران کو دوبارہ طاقت جمع کرنے سے روکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تاکہ حالات پہلے والی پوزیشن پر واپس نہ جا سکیں، تو حکمران کو شکست ہو جاتی ہے۔ پھر اسلام ایک نئے اقتدار کے طور پر جڑیں پکڑنے لگتا ہے۔ ایسے میں نئے اقتدار کا فوری مشن یہ ہوتا ہے کہ وہ فی الفور پرانے اقتدار کے کارندوں سے چھٹکارا حاصل کرے۔

 

جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ پرانے اقتدار کی حرکت کرنے کی صلاحیتوں کو مفلوج کرنا ایک خودکار عمل یا محض نتیجہ ہے، وہ غلطی پر ہے؛ بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔ اگر اسے صحیح طریقے سے انجام نہ دیاجائے تو معزول حکمران کے باقی ماندہ عناصر  کا دوبارہ اکٹھا ہونا ممکن رہتا ہے۔ لہٰذا، فوری اور ہنگامی اقدامات اٹھانا ناگزیر ہے، جن میں کم از کم اقدام یہ ہے کہ معزول نظام کے گماشتوں یا کارندوں کو ایسی سخت نگرانی میں رکھا جائے جو کسی بھی قسم کی سرگرمی کو ناکام بنانے اور اسے ابتدائی مرحلے میں ہی کچل دینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ لیکن سابقہ نظام کے وہ کارندے کون ہیں جن پر مکمل قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات ضروری ہیں؟ اور ان کے عہدے اور اقسام کیا ہیں؟

 

یہ مضمون نظام سے وابستہ ان لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے: پہلا "نظام کے اصل نمائندے" اور دوسرا "ان کے معاونین"۔ اس مضمو ن میں  سیاسی نظام کو ایک ایسے درخت سے تشبیہ دی جاتی ہے جس کا ایک موٹا تنا ہے اور مختلف شاخیں ہیں، جن میں سے کچھ مضبوط اور کچھ کمزور ہیں، اور اسی طرح اس کی ٹہنیاں اور جڑیں بھی ہیں۔ اس بنیاد پر ہم نظام کے درخت کے ہر حصے اور گروہ کی خصوصیات، ان کے خطرے کی شدت، ان کے خلاف کیے جانے والے ضروری اقدامات اور ان کے لیے مقررہ وقت کو واضح کریں گے۔

 

جہاں تک "تنے"  کا تعلق ہے، تو یہ نظام کے وہ لوگ ہیں جو اس کا "ٹھوس مرکز" (Core) بناتے ہیں، اور یہ لوگ اس نظام کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ اگر نظام گر جائے تو آپ انہیں دوبارہ اکٹھا ہوتے اور اسے واپس لانے کی راہیں تلاش کرنے کے لیے مشورے کرتے ہوئے دیکھیں گے؛ مطلب یہ کہ یہ لوگ نظام کے سیاسی حلقے کا سب سے مضبوط گروہ ہیں۔ ان لوگوں کی یہ زنجیر اپنی پہلی کڑی سے لے کر (جو ہلاک ہو چکی) اور جس کی وراثت اگلی کڑی نے سنبھال لی ہے، اپنی سیکولر سوچ اور اسلام دشمنی پر سختی سے قائم ہے، اور وہ اس دشمنی کو نسل در نسل درپردہ منتقل کرتے آ رہے ہیں، خواہ مغرب کا ان سےکوئی رابطہ ہو یا نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ گروہ خود مختار طور پر کام کرنے اور اپنی صفوں کودوبارہ منظم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔با اثر افراد کا یہ گروہ بذاتِ خود وہ نظام ہے، اور یہی ہمارے ممالک میں مغربی اثر و رسوخ اور توسیع کے لیے قدم جمانے کا ذریعہ ہیں۔ ہر ملک کے لحاظ سے ان کی تعداد مختلف ہوتی ہے؛ اندازہ ہے کہ لیبیا اور یمن جیسے چھوٹے ممالک میں یہ سینکڑوں کے لگ بھگ ہیں، جبکہ مصر اور پاکستان جیسے بڑے ممالک میں ان کی تعداد ایک ہزار وں تک ہو سکتی ہے۔ یہ لوگ نظام کے دیگر کارندوں اور سیاسی حلقوں کے لیے پہلا ستون سمجھے جاتے ہیں اور نظام کی تمام شاخوں کے لیے مرجع (Reference) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ اتنے طاقتور، تجربہ کار اور بااثر ہیں کہ مغرب کے کہے بغیر بھی نظام کے دفاع کے لیے خود بخود حرکت میں آ جاتے ہیں، اور یہی لوگ ہر نظام میں طاقت کا اصل مرکز ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ تبدیلی کے ابتدائی گھنٹوں میں سختی سے نمٹا جانا چاہیے اور ان کی بھاری اکثریت سے نمٹنے کا عمل تبدیلی کے پہلے تین دنوں کے اندر مکمل ہو جانا چاہیے۔

 

نظام کے درخت کی شاخوں کا جہاں تک تعلق ہے، تو یہ وہ لوگ ہیں جنہیں پہلے حصے یعنی 'تنے' کے لوگوں نے نظام کے تحفظ کے لیے مختلف عہدوں پر فائز کیا ہوتا ہے، جیسے سیکورٹی اداروں کی قیادت، وزراء، گورنرز یا صوبائی قائدین اور اسی طرح کے دیگر عہدیدار۔ اصل میں ان کی حیثیت محض ملازمین کی ہے اور نظام کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کی ملازمتیں بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں، لیکن نظام کے کارندوں کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے اور اپنی زندگیوں اور مفادات کو اس نظام سے وابستہ کر لینے کی وجہ سے یہ اس کا اٹوٹ انگ بن چکے ہیں۔ یہ لوگ سابقہ حالات کی واپسی کی امید پر نظام کے اصل کارندوں (یعنی 'تنے') میں سے کسی کے بھی اشارے پر نئے نظام کے خلاف حرکت میں آ سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ لوگ خود سے کوئی اقدام نہیں کرتے بلکہ نظام کے طاقتور مہروں کے اشارے پرحرکت میں آتے ہیں اور ان میں خود سے کسی مخالفانہ کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے کی جرات نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف ان کے پیروکار ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے خطرے کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔

 

نظام کے اصل نمائندے اس طبقے کے لوگوں کو مغرب کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ انہیں سیکولرازم کی تعلیم دیں اور انہیں اپنی وزارتوں اور محکموں کے ذریعے اسے پھیلانے اور اس کے تحفظ کا انتظام کریں۔ اس طبقے کے لوگوں میں سے نظام کے ساتھ وابستگی کے لحاظ سے 'مضبوط شاخ' اور 'کمزور شاخ' کے درمیان فرق کرنے کا سب سے نمایاں ذریعہ ان کا مغرب کے ساتھ رابطہ ہے۔ تبدیلی کے داعیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ موجودہ حکومتوں میں ان تمام مراکز سے باخبر ہوں جن سے مغرب رابطہ رکھتا ہے؛ کیونکہ وہ یقینی طور پر فوج اور سیکورٹی اداروں کی قیادت سے رابطہ میں رہتا ہے۔ یہ بات صرف دارالحکومت کے حلقوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ کار ان سے آگے بڑھ کر صوبوں یا اضلاع تک پھیل جاتا ہے، اور یہ تعلیم جیسی غیر اساسی (غیر ضروری) وزارتوں سے بھی رابطے میں رہتا ہے تاکہ اپنے لادین نظریات کی ترویج کر سکے اور اسلام کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کر سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ 'کمزور شاخیں' جنہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے وہ ہیں جن سے مغرب کا (سیاسی یا فکری) رابطہ نہیں ہوتا، اور یہ ہر ملک کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے، جیسے وزارتِ اوقاف، زراعت، نقل و حمل اور مواصلات وغیرہ۔ لیکن اگر مغرب کے ان کمزور شاخوں کے ساتھ روابط صرف فنی اور پیشہ ورانہ تعاون کی حد تک ہوں، تو اسے بھی نظر انداز کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہمارے ممالک میں مغرب کا اثر و رسوخ بہت پھیل چکا ہے۔ یعنی وہ بے وقعت عناصر، جو محض تنخواہ دار ملازم رہے، اور ان اہم افراد کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے جن کی نظام سے وابستگی نے انہیں اس کا حصہ بنا دیا۔

 

نظام کی 'مضبوط شاخوں' کی نمائندگی کرنے والے یہ لوگ دارالحکومت کی مرکزی قیادت اور ان کے حواری، اور اسی طرح صوبوں اور اضلاع کی قیادت اور ان کے ساتھ جڑے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے ساتھ بھی فوری طور پر نمٹنا ضروری ہے، جس کا آغاز تبدیلی کے پہلے ہی ہفتے میں ان کے سرغنوں سے ہونا چاہیے، اور پھر ان کے بعد دوسروں کی باری آنی چاہیے، تاکہ تبدیلی کے بعد دوسرا مہینہ شروع ہونے سے پہلے ان پر مکمل قابو پا لیا جائے۔ مصر، سعودی عرب یا عراق جیسے ممالک میں ان کی تعداد دس ہزار سے کم نہیں ہوگی۔

 
 

رہی بات نظام کے درخت کی 'ٹہنیوں' کی، تو وہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں، جیسے چھوٹے افسران، سیکورٹی اہلکار اور سابقہ نظام کے باقی ماندہ ملازمین۔ یہ لوگ زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہیں اور ان کے ساتھ اس وقت تک نمٹنے کی ضرورت نہیں جب تک ان میں سے کسی کی طرف سے کوئی خطرہ ظاہر نہ ہو۔ یہ لوگ عموماً تنخواہ دار ملازم ہوتے ہیں؛ مطلب یہ کہ اگر کوئی دوسرا ادارہ انہیں ان کی سابقہ سرکاری تنخواہ سے زیادہ رقم ادا کرے یا کام کے بہتر حالات فراہم کرے تو وہ نظام کی وابستگی سے باہر نکل آئیں گے۔ اگرچہ امت انہیں اپنی تحریکوں کے خلاف نظام کے 'ہراول دستے' کے طور پر دیکھتی ہے جیسے چھوٹے درجے کے سیکورٹی اہلکار اور ملازمت کی مجبوری کی بنا پر نظام کا دفاع کرنے والے، لیکن مجموعی طور پر یہ لوگ خطرناک نہیں ہیں اور نہ ہی یہ اقتدار کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ یہ محض اقتدار کے 'معاونین' ہیں۔ ان کی ازسرنو بھرتی کو روکنے کے لیے ان کی کڑی اور طویل مدتی نگرانی ضروری ہے۔ یہ معاونین، امت اور اس کے نئے اقتدار کے خلاف جاسوسی کا اڈا بنے رہتے ہیں اور یہ وہ سستا ترین مال ہے جسے مغرب اسلامی ممالک میں خرید سکتا ہے۔ ان میں سے کچھ امت کی عزت کے ظہور کے ساتھ بدل جائیں گے، جبکہ کچھ دوسرے غلاظت کے ڈھیروں  میں رہنے کے ہی متمنی رہیں گے کیونکہ وہ سالہا سال اس کی بد بو کے عادی ہو چکے ہیں اور انہیں یہی پسند ہے۔

 

اقتدار کے کارندوں کا اب ایک حصہ باقی رہ گیا ہے جسے ہم نے "جڑوں" ، یعنی تیسرے درجےسے تعبیر کیا ہے، اور اس حصے کی خطرناکی یہ ہے کہ یہ امت میں افقی طور پر (ہر سطح پر) پھیلا ہوا ہے، یعنی یہ تمام شہروں اور دیہاتوں میں موجود ہے۔ ہو سکتا ہے ان میں سے بعض ریاست کے ملازم بالکل نہ ہوں، بلکہ ان کے دوسرےمشاغل ہوں، لیکن وہ اقتدار کا اس طرح جان توڑ دفاع کرتے ہیں جو ان کے پختہ یقین کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں تک ان کی پہچان کا تعلق ہے، تو یہ مضمون یہ تجویز کرتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نظام کے دفاع کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرتے ہیں اور کسی کے کہے بغیر اس کی مدد کے لیے لپکتے ہیں، اور ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ اقتدار گرنے سے ان کی نوکری یا روزی چھن جائے گی، بلکہ اس لیے کہ یہ نظام ان کے نظریات اور رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ لوگ ان "جڑوں" کو پہچانتے ہیں اور انہیں معاشرے میں نظام کے آخری نمائندوں کے طور پر دیکھتے ہیں، یعنی نظام کے مرکزِ ثقل سے دوری کے اعتبار سے۔ اندازہ ہے کہ یہ طبقہ امت کے ہر ہزار افراد میں دو کی نمائندگی کرتا ہے، جو مقام کے لحاظ سے تھوڑے کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں۔

 

یہ لوگ خطرناک اور اسلام اور اس کی حکمرانی کے دشمن ہیں، کیونکہ ان کی شخصیات سیکولر یا وطن پرست بنیادوں پر تعمیر ہوئی ہیں، جو ان میں راسخ ہو چکی ہیں اور ان کے نفوس پر غالب آ چکی ہیں، خواہ وہ نماز پڑھیں اور روزے رکھیں۔ وہ اسلام کو ایسا مذہب سمجھتے ہیں جسے سیاست میں مداخلت کا کوئی حق نہیں، اور آپ انہیں مختلف اسلامی تحریکوں کے خلاف ان کی شدید دشمنی سے پہچان سکتے ہیں۔ نظام کے کارندے امت میں سرایت کرنے کے لیے ان پر بھروسہ کرتے ہیں، خواہ یہ لوگ ریاست کے ملازم نہ ہوں یا اس سے فائدہ نہ اٹھا رہے ہوں، یا چاہے وہ ریاست کی "اپوزیشن"  میں ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ ہر نظام کی ایک اپوزیشن ہوتی ہے جو اسی کی طرح اور اسی کی جنس سے ہوتی ہے۔ اگر (تبدیلی کی) مخالف ہوائیں چلیں تو آپ انہیں اسلام کو اقتدار سے گرانے کے لیے رضاکاروں میں سب سے آگے پائیں گے، اس لیے ان سے نمٹنا ضروری ہے، اور انہیں تبدیلی کے آغاز کے پہلے تین ماہ کے عرصے میں محدود کرنا اور کڑی نگرانی میں رکھنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی تحریک کو شروع ہوتے ہی کچلا جا سکے۔ اس طبقے کے افراد کے ساتھ نمٹنے کی یہ کم از کم صورت ہے۔ معاشرے میں اسلام کا نفاذ اس وقت تک کامیاب اور گہرا نہیں ہو سکتا جب تک اس طبقے کے افراد کی معاشرے میں کوئی عزت یا اثر و رسوخ باقی رہے، اس لیے انہیں ایک خاص مدت تک کسی بھی عوامی سرگرمی سے مکمل طور پر روک دینا ضروری ہے تاکہ اسلام مستحکم ہو جائے اور اس کے مردِ کار سامنے آ جائیں، یہاں تک کہ دور دراز کے چھوٹے دیہاتوں میں بھی۔

 

یہ وہ تجاویز ہیں جن پر یہ مضمون عمل درآمد کی تحریک دیتا ہے تاکہ مغرب کے آلہ کار حکمران کے کینسر، یعنی اس کی قیادت، رہنمائی اور ریاست و معاشرے میں اس کے بااثر کارندوں کی کامیابی کے ساتھ بیخ کنی کی جا سکے، اور تبدیلی کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی سیکولرازم کے کینسر کو جڑ سے اکھاڑنا ضروری ہے، تاکہ یہ سیاہ گروہ راکھ کے نیچے دبی ہوئی آگ نہ بن  جائیں جو اسلام کے نئے اقتدار کے سامنے کبھی بھی دوبارہ بھڑک سکے۔

 

یہ بات طے شدہ اور مسلمہ ہونی چاہیے کہ اقتدار کے نمائندے ، اپنے تینوں مذکورہ اقسام میں، وہ مضبوط چٹان ہیں جو اللہ کے دین کو غالب آنے سے روکتے ہیں، یہی ہمارے ممالک میں مغرب کے سرخیل ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جوہمارے ملک میں مغرب کا" ہراول دستہ "ہیں، جنہوں نے وہ اولیں مورچہ بننا قبول کیا ہمہ وقت بیدار رہتا تاکہ "لا الہ الا اللہ" کا کلمہ سربلند نہ ہو سکے۔ اللہ کے کلمے کوغالب کرنے کی خاطر، اس ہراول دستے کے "تنے" کا فوری تدارک کچھ یوں ہونا چاہیے، کہ اس کی "مضبوط شاخوں" کا تیزی کے ساتھ قلع قمع کیا جائے، اور اس کی "جڑوں" کو اکھاڑنے میں ہرگز تاخیر نہ برتی جائے۔ "جاؤ تم سب آزاد ہو"  کے تصور سے استدلال کرنا نادانی ہے، کیونکہ یہ جبری اقتدار ،  جو امت کو کچلنے، ان پر کفر مسلط کرنے اور اسلام کو غالب ہونے سے روکنے کے لیے پہرے دینے پر قائم ہے ، اس استدلال پر پورا نہیں اترتا۔ اقتدار کے یہ نمائندے اپنی مذکورہ اقسام کے ساتھ اس اُمت کا حصہ نہیں ہیں، وہ اسلام کے دشمن ہیں، اور وہ کافروں کے ساتھ پہلی صف میں کھڑے ہو کر اسلام کے خلاف لڑتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی صورت میں ان کے ساتھ حسنِ سلوک جائز نہیں ہے، اور آپ مصر میں محمد مرسی کے ساتھ سیسی کا "حسنِ سلوک" دیکھ چکے ہیں، اور آپ نے بہت کچھ دیکھا ہے... بلکہ ان پر خاص اور سخت احکام نافذ کرنا واجب ہیں۔ رہا یہ سوال کہ ان کے ساتھ یہ سلوک کیسا ہوگا، تو خبرناموں میں ان واقعات کی تفصیلات ان الفاظ سے کہیں بہتر ہوں گی جو یہاں بیان کیے جائیں،

 

﴿وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَۖ قُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَرِيبٗا﴾

 

"اور وہ کہتے ہیں کہ یہ کب ہوگا؟ کہہ دیجیے کہ شاید وہ قریب ہی ہو"۔ (سورۃ الاِسراء: آیت 51)

Last modified onپیر, 23 مارچ 2026 00:08

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک