الأربعاء، 15 صَفر 1448| 2026/07/29
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

آرتش (اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج) اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مابین باہمی اختلاف اور آپسی تعلق کی نوعیت، اور ان کے باعث پیدا ہونے والی باہمی کمزوریاں

 

)ترجمہ(

 

ایران میں 1979ء میں آنے والے انقلاب کے نتیجے میں اسلام پسندوں کے اقتدار پر آنے کے فوراً بعد آیت اللہ خمینی کے حکم پر پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا قیام عمل میں لایا گیا، تاکہ یہ نئی سیاسی حکومت کو اس کے اندرونی اور بیرونی مخالفین سے محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ بن سکے۔ ایران کے آئین میں یہ مقرر کیا گیا ہے کہ "پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا ادارہ، اس انقلاب اور اس کے مقاصد کے تحفظ میں اپنے کردار کی انجام دہی کے لئے مضبوطی سے قائم رہے گا"۔ آئین نے" ایمان اور عقیدے کو مسلح افواج کی تشکیل، تربیت اور تنظیم کی بنیاد قرار دیا" اس آئین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "مسلح افواج صرف ملک کی سرحدوں کے دفاع اور حفاظت کی ذمہ دار نہیں ہیں، بلکہ وہ اپنے ایمان پر مبنی مشن کی ذمہ داریوں کی بھی پابند ہیں، اور وہ مشن جہاد ہے"۔

 

پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے ایک نظریاتی ملیشیا کے طور پر آغاز کیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ریاست کے سب سے بااثر اور طاقتور اداروں میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس کے پاس بے پناہ عسکری صلاحیتیں موجود ہیں، جبکہ اس کا اثر و رسوخ ملکی معیشت، انٹیلی جنس اور علاقائی سیاست تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی تناظر میں فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کے مطابق، فرانس کی 'جین جورس فاؤنڈیشن' (Jean Jaurès Foundation) کے ایک محقق، ڈیوڈ خَلفا (David Khalfa) نے پاسدارانِ انقلاب کو "سلطنت کے اندر موجود ایک اور سلطنت" قرار دیا ہے۔

 

ڈیوڈ خلفا مزید کہتے ہیں کہ یہ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) ہی ہیں جو "عملی طور پر ایرانی معیشت پر کنٹرول رکھتے ہیں"۔ اور ان کے اندازے کے مطابق پاسداران انقلاب کا سالانہ بجٹ 6 سے 9 ارب امریکی ڈالر کے درمیان ہے، جو ایران کے سرکاری فوجی بجٹ کا تقریباً 40 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ مختلف صحافتی تجزیے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاسدارانِ انقلاب محض ایک مسلح فوج نہیں، بلکہ اپنی جگہ ایک مکمل معاشی قوت ہے۔ اس کی قیادت اس کے سب سے نمایاں شعبے، یعنی انجینئرنگ اور سرمایہ کاری کے ادارے، خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ہاتھ میں ہے، جبکہ اس کے ساتھ نیم سرکاری کمپنیوں کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی وابستہ ہے، جس کی مجموعی مالیت کا اندازہ ایران کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تقریباً نصف کے برابر لگایا جاتا ہے۔ مارچ 2025ء سے مارچ 2026ء کے سالانہ بجٹ (جو کہ ایرانی شمسی سال 1404ھ بنتا ہے) کے مطابق، یہ ادارے بجٹ میں سکیورٹی فورسز کے لئے مختص تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا نصف سے زیادہ حصہ اپنے اختیار میں رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کے روابط سپریم لیڈر کے دفتر سے وابستہ بڑے کاروباری و سرمایہ کاری کے اداروں سے بھی ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 200 ارب امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔

 

پاسدارانِ انقلاب کے قیام کی بنیادی وجہ آیت اللہ خمینی کا آرتش (اسلامی جمہوریۂ ایران کی مسلح افواج) پر عدم اعتماد تھا، حالانکہ انقلاب کے بعد اس فوج کو بڑی حد تک کھوکھلا اور کمزور کر دیا گیا تھا۔ تاریخی حقائق کے مطابق، 16 جنوری 1979ء کو شاہِ ایران ملک چھوڑ کر چلے گئے اور شاہپور بختیار کو وزیرِ اعظم مقرر کر گئے۔ اگرچہ آیت اللہ خمینی یکم فروری 1979ء کو جلاوطنی سے واپس آ چکے تھے، تاہم فوج کے سینئر افسران ابتدائی ایام میں شاہ کے وفادار رہے اور انقلاب کے خلاف اپنی شدید مخالفت پر قائم رہے۔

 

منظرِ عام پر آنے والی خفیہ دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ آیت اللہ خمینی نے انقلابی تحریک کے عروج کے زمانے میں، جبکہ وہ عوامی طور پر واشنگٹن کے خلاف سخت بیانات بھی دے رہے تھے، انہوں نے جنوری 1979ء میں خفیہ طور پر امریکہ سے رابطہ بھی قائم کیا اور ایک پیغام بھیجا تھا کہ عوام تو ان کی بات سنتے ہیں جبکہ فوج امریکہ کی فرمانبردار ہی ہے۔ خمینی نے واشنگٹن سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ فوج کو غیر جانبدار رہنے اور انہیں اقتدار سنبھالنے دینے پر راضی کر لے، تو وہ خطے کے استحکام کو برقرار رکھیں گے اور امریکی مفادات کی ضمانت بھی دیتے ہیں۔

 

یورپ میں مقیم ایرانی کرد سیاسی کارکن آسو قادری کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور ایرانی فوج (آرتش) کے درمیان کشیدگی اصلاحات یا سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کی خواہش کا نتیجہ نہیں، بلکہ "اقتدار اور اثر و رسوخ کے لئے ایک شدید کشمکش" ہے۔ آسو قادری نے الحرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا: "نظریاتی طور پر تو مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ کے فیصلہ سازی کے عمل میں ایک نمایاں شخصیت تصور کیا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر وہ اس طرح کا حتمی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر رہے جیسا کہ ان کے والد کا مقام اور کردار رہا تھا۔ اس صورتحال نے طاقت کے حقیقی مراکز کو ایک ایسے سکیورٹی اور فوجی نیٹ ورک میں منتقل کر دیا ہے جس میں اثر و رسوخ کے متعدد حلقے بیک وقت ایک دوسرے سے مقابلہ بھی کرتے ہیں اور تعاون بھی، کیونکہ پاسدارانِ انقلاب ریاست کے تمام اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے"۔

 

ایرانی روزنامے 'جمہوری اسلامی' نے کچھ عرصہ قبل ایک ایسا چُبھتا ہوا سوال اٹھا دیا تھا جس پر بات کرنا ہی دہائیوں سے ایک ممنوعہ موضوع سمجھا جاتا تھا، کہ "کیا ریاست اب بھی دو افواج – آرتش اور پاسدارانِ انقلاب– کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہے؟"

 

اخبار نے نشاندہی کی کہ پاسدارانِ انقلاب  کا معیشت، سیاست، سفارت کاری اور ذرائع ابلاغ میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اسے ایک ایسے دھڑے دار (Factional) ادارے میں تبدیل کر چکا ہے جو اندرونِ ملک مسلسل تنازعات کو جنم دے رہا ہے، جبکہ خارجی سطح پر بین الاقوامی دباؤ کے لئے ایک مستقل جواز بھی فراہم کر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق، دو الگ الگ افواج کا وجود کبھی بھی محض عسکری ضرورت یا دفاعی کفایت کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ یہ حکومت کی بقا کے لئے اختیار کی گئی ایک واضح حکمتِ عملی تھی: یعنی ایک طرف ایک روایتی فوج ہو جو ملکی سرحدوں کا دفاع کرے، اور اس کے ساتھ ایک متوازی نظریاتی قوت ہو جو اسی فوج پر نظر رکھے، معاشرے کو کنٹرول کرے، اور مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان طاقت کے توازن کو برقرار رکھے۔ اگرچہ تاریخی طور پر آیت اللہ خمینی نے مستقبل میں ان دونوں افواج کو ضم کرنے کے امکان کو تسلیم کیا تھا، اور سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے بھی دونوں کی وزارتوں کو یکجا کر کے ایک واحد وزارتِ دفاع قائم کرنے کی کوشش بھی کی تھی، تاہم عملی سطح پر ان دونوں افواج کا انضمام کبھی مکمل نہ ہو سکا، اور یہ منصوبہ آج تک تعطل کا شکار ہے۔

 

گرچہ پاسدارانِ انقلاب کو 'ریاست کے اندر موجود ایک اور ریاست' کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، تاہم باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو اسے تین ایسے مخالف گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جو ایک ہی یونیفارم پہنے ہوئے ہیں :

 

1)کٹر اصولی و نظریاتی دھڑا: جوکہ ولایتِ فقیہ کے براہ راست تابع ہے، تاہم اندرونی سیاسی تبدیلیوں کے باعث اس کا اثر و رسوخ نسبتاً کمزور پڑ چکا ہے۔

2) پیشہ ورانہ فوجی ڈھانچہ: جو نظریاتی طور پر شہادت اور مسلح طور پر سامنا کرنے کے فلسفے پر قائم ہے۔

3) مالی اشرافیہ: ایک ایسا طاقتور طبقہ ہے جس کی طاقت باہمی مفادات کے مضبوط روابط، اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش، اور سیاسی جوڑ توڑ پر قائم ہے۔

 

یوں اس داخلی تشکیل نے ایک بنیادی تضاد کو جنم دیا ہے جہاں ایک طرف ملٹری ڈاکٹرائن کو دیکھا جائے تو وہ محاذ آرائی، جنگ اور آخری حد تک لڑ جانے پر زور دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف مالی اشرافیہ کا رجحان بقا کی ایسی حکمتِ عملی کی طرف ہے جو اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے مذاکرات، حالات سے مطابقت پیدا کرنے اور ضرورت پڑنے پر سمجھوتے یعنی رعایتیں دینے کو بھی قبول کرتی ہے۔

 

یہ دوہرا پن موجودہ منظر نامے میں واضح طور پر جھلکتا نظر آتا ہے، جہاں 'ایران انٹرنیشنل' جیسی میڈیا رپورٹس، ایک طرف مسعود پزشکیان کی قیادت میں حکومت کے انتظامی و ایگزیکٹو ونگ اور دوسری طرف پاسدرانِ انقلاب کے بااثر فوجی و سکیورٹی رہنماؤں اور ان کے اتحادیوں جیسا کہ احمد وحیدی اور سینئر فوجی کمانڈروں کے درمیان شدید اختلافات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اور ان کے درمیان اس تنازع کا بنیادی محور یہودی وجود اور امریکہ کے ساتھ جاری علاقائی کشیدگی کے معاشی اور سماجی اثرات ہیں۔

 

ایک طرف جہاں پزشکیان کی قیادت میں سول حکومتی ونگ عوامی معاشی و سفارتی بحرانوں کی شدت کو کم کرنے کے لئے انتظامی اور ایگزیکٹو اختیارات کا حکومت کو واپس کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف پاسدرانِ انقلاب کی سکیورٹی قیادت اس بات پر مُصر ہے کہ علاقائی کشیدگی سے متعلق حکمت عملی اور مالی معاملات کی نگرانی اور انتظام انہی کے اختیار میں برقرار رہے۔

 

یوں اس طرح ملکی سطح پر فیصلہ سازی اور کمان کے متعدد مراکز کا وجود ہونا ایرانی حکومت کے ڈھانچے میں ایک بنیادی اور بڑی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب مغربی اور یہودی انٹیلی جنس ادارے وسیع پیمانے پر سکیورٹی دراندازی کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جس کی نمایاں مثال پاسدرانِ انقلاب کی پہلی صف کے متعدد لیڈران کی پے در پے ٹارگٹ کلنگز ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سکیورٹی کے میدان میں واضح کمزوریاں موجود ہیں۔ اور یہ صورتحال اندرونِ ملک اس تقسیم کو مزید گمبھیر کر رہی ہے جو ایک طرف سخت گیر نظریاتی دھڑے اور دوسری طرف ایسے عملیت پسند (Pragmatic) اور حقیقت پسند (Realist) دھڑے کے درمیان پائی جاتی ہے، جو حکومت کی بقا اور تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے مفاہمت اور سمجھوتوں کا راستہ اختیار کرنے کا خواہاں ہے۔

 

حسن حمدان کی طرف سے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو براڈکاسٹ کے لئے تحریر کردہ

Last modified onبدھ, 29 جولائی 2026 19:28

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک