بسم الله الرحمن الرحيم
جدید سیاسی بت پرستی
بتوں کے مجاور جمہوری نظام کے بت کی حفاظت کیسے کرتے ہیں؟!
تحریر: استاد سیف مرزوق – ولایہ یمن
(ترجمہ)
نام نہاد صدارتی قیادت کونسل کے رکن اور مأرب کے گورنر، میجر جنرل سلطان العرادہ نے "میدانِ جمہوریہ" کے قیام کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ "انقلاب کا ٹینک" وہاں منتقل کیا جا سکے، انہوں نے اس اقدام کے پیچھے موجود سیاسی مقاصد کو علامتی ناموں سے بالاتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد جمہوری نظام کی بحالی، اس کی حاکمیت کا قیام اور پورے ملک میں اس کا پرچم بلند کرنا ہے۔ العرادہ نے اپنی ہدایت کے دوران دعویٰ کیا کہ عام سادہ لوح لوگوں کے تصورات شاید اس اقدام کے تاریخی پہلوؤں اور معانی کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے. ساتھ ہی انہوں نے متعلقہ انجینئرنگ اور ایگزیکٹو اداروں کو اس میدان کی تعمیر مختصر وقت میں مکمل کرنے پر زور دیا ہے۔
اس اقدام کو اگر سطحی سیاسی تجزیے کے ترازو میں تولا جائے تو یہ ان حکمرانوں کی اپنے دین کے ساتھ خیانت کو ظاہر کرتا ہے، تو پھر اس شخص کا کیا عالم ہوگا جو گہرائی میں جا کر اپنی فکر کو روشن کر لے تو اس کا ادراک کہاں تک پہنچے گا؟ یقیناً اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مسلم ممالک میں موجود ان ایجنٹ حکمرانوں کا صفایا کرنا واجب ہے کیونکہ یہ ہمارے ممالک میں کفر کے افکار اور نظاموں کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ حکمرانوں کے اس حقیقی کردار کی پردہ پوشی اور جھوٹ کا تقاضا ہے کہ ہم ان لوگوں کا پردہ چاک کریں جو اس قومیت پر مبنی نظام کی دعوت دیتے ہیں جو عقلوں کی توہین کرتا ہے، خون کو مباح قرار دیتا ہے اور جذبات کی پاکیزگی کو سلب کر لیتا ہے، تاکہ وہ لوگوں کے جذبات کو ان جبری نظاموں کے ستونوں کی حفاظت کے لیے ایک ڈھال بنا سکیں۔
لوہے کی تقدیس کی طرف بھاگنا اور میدانِ جمہوریہ کا افتتاح کرنا—ایک ایسی عمارت جس کا مقصد اس جگہ کو ایک ایسی بت پرستانہ شناخت دینا ہے جو مأرب کے قلب میں جمہوریت کے بت کو راسخ کرے—یہ اس سیاسی بت پرستی کی انتہا ہے جس کا سہارا وضعی نظام اس وقت لیتے ہیں جب ان کی دیکھ بھال کی قلعی کھل جاتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنی بے بسی میں اللہ کی شریعت کو بے دخل کرنے کی برائی کو میدانوں کے شور و غل سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، اور کھوکھلے مادی بتوں کی تخلیق کی آڑ لیتے ہیں۔ لیکن ان کی ناکامی کے باعث جلد ہی یہ میدان ان کے افکار کے دیوالیے پن اور ان کے باطل منصوبوں کے انہدام کی بولتی ہوئی گواہی بن جائیں گے، یہاں تک کہ ان کی تعمیر کردہ ہر عمارت ان کے حق میں نہیں بلکہ ان کے خلاف حجت بن جائے گی۔ یہ سب اس وقت ہوگا جب صحیح شعور کا وہ طوفان آئے گا جس کے داعی پوری دنیا کو اسلامی عقیدے کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ یہ آنے والا شعور، اللہ کے حکم سے، ان کے جھوٹ کا نام و نشان باقی نہیں رہنے دے گا۔
یمن اور مسلم ممالک میں قائم دیگر نقصان دہ ریاستوں میں جمہوریت کبھی بھی امت کے اس اقتدارِ اعلیٰ کی ترجمان نہیں رہی جو اس کے عقیدے سے پھوٹتا ہے؛ بلکہ یہ وہ دستوری بت ہیں جنہیں کافر استعمار نے اپنی سیاہی سے تحریر کیا ہے، اور جن کی حفاظت ان مصنوعی تنازعات کی آگ سے کی گئی جو ہمارے نوجوانوں کی جانوں پر پلتے ہیں اور جن کی ڈوریاں بین الاقوامی غلامی کے ہاتھوں میں ہیں۔ جمہوری نظام دراصل اداروں کے لبادے میں چھپی آمریت ہے، اور یہ ذہنی و سیاسی غلامی کی انتہا ہے؛ کیونکہ اس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کی جگہ درآمد شدہ وضعی قوانین کو دے دی ہے، اور شورٰی راشدہ کا نعم البدل ان پارلیمانوں کو بنا دیا ہے جو بین الاقوامی طاغوت کے معاہدوں کو قانونی جواز فراہم کرتی ہیں۔
حقیقی المیہ سیاسی قوتوں کے درمیان اقتدار کے لیے بظاہر ہونے والی کشمکش اور اختلاف میں نہیں ہے، بلکہ اس باطنی اتفاق میں ہے جو انہوں نے حکمرانی سے اسلامی شریعت کو نکالنے پر کر رکھا ہے، اور ان دستوری بتوں کے سامنے ان کے اجتماعی سجدے میں ہے جو ظاہر میں پرکشش لیکن اپنی حقیقت میں خبیث ہیں۔ اس تنازع کے تمام فریق بین الاقوامی کفر کے ان اماموں کے سامنے فیصلے کے لیے جھکے ہوئے مقامی آلات کار کے طور پر دوڑ رہے ہیں جنہوں نے اس طاغوت کو قانونی حیثیت دی اور اس کے قوانین وضع کیے، جبکہ وہ اللہ کے اس حتمی اور دو ٹوک فیصلے سے غافل ہیں:
﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ﴾
"حکم صرف اللہ ہی کا ہے، اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو" (سورۃ یوسف:آیت 40)۔
﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْماً لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾
"تو کیا یہ پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟" (سورۃ المائدہ: آیت 50)۔
استعماری کرداروں کی یہ تقسیم عملی طور پر یمن کے تین شہروں کے نقشے پر واضح نظر آتی ہے، جہاں کافر مغرب ہماری امت کے بیٹوں کے ساتھ تضادات کا کھیل کھیل رہا ہے۔
مأرب میں، جو نام نہاد تسلیم شدہ حکومت کا گڑھ ہے، وہاں خون بہایا جا رہا ہے اور بت پرستانہ میدان تعمیر کیے جا رہے ہیں، تاکہ اس جمہوریت کے سراب کی حفاظت کی جا سکے جس کی قانونی حیثیت اللہ کی رضا حاصل کرنے اور اس کی روشن شریعت کو نافذ کرنے کی بجائے بین الاقوامی نظام کے ایوانوں میں کفار کو خوش کرنے کے لیے وضع کی گئی ہے!
صنعاء میں، مخلص نوجوانوں کو گمراہ کن جذباتی نعروں کے تحت اسی جمہوری نظام اور اس کی دستوری علامات کو مضبوط کرنے کے لیے جھونکا جا رہا ہے، جبکہ وہاں کے سیاست دان اقوام متحدہ کے سامنے اپنی وفاداری کا اظہار کرنے کے لیے دوڑ رہے ہیں تاکہ وہ بین الاقوامی اعتراف کی سند حاصل کر سکیں اور کافر استعمار کی کھینچی ہوئی سرحدوں کے وفادار محافظ بن سکیں۔
جہاں تک عدن کا تعلق ہے، تو وہاں تقسیم در تقسیم اور جمہوری مسخ پر مبنی علیحدگی پسند منصوبے پر کام ہو رہا ہے، تاکہ وسائل کی لوٹ مار کو آسان بنایا جا سکے اور امت کی تزویراتی آبی گزرگاہوں اور آبنائے پر عالمی طاغوت کی گرفت مضبوط کی جا سکے۔
خدا کی قسم! یہ ایک ایسا دردناک کھیل ہے جو ہمارے خون سے کھیلا جا رہا ہے، اور ہماری امت کی عقلوں کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے، جس میں اس زمانے کے فرعونوں کے چہرے تو مختلف ہیں اور وہ اس بات پر آپس میں لڑ رہے ہیں کہ جلاد کا کوڑا کون تھامائے گا تاکہ دشمن کے تیار کردہ جمہوری نظام کے بت کی پہرے داری کر سکے، جبکہ ان کی مکیاری کی تمام ڈوریاں ایک ہی مقصد پر ملتی ہیں؛ اور وہ ہے اسلام کو حکمرانی اور زندگی سے نکال باہر کرنا اور امت کو اپنی ہی داخلی لڑائیوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکائے رکھنا، اور اسے آزادی کی راہ اور حقیقی عروج کی منزلوں سے روکنا۔ جب تک ہم سب مل کر عقیدے کی بنیاد پر نفوس اور حقیقت میں ہمہ گیر اور جڑ سے تبدیلی لانے کے لیے اکٹھے نہیں ہوں گے، اور امت اپنے اس مقدر کے منصوبے یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلادتِ راشدہ کے گرد جمع نہیں ہوگی جس کا دستور رب العالمین کی وحی سے مستنبط ہے، تب تک امت ان جدید بتوں کی غلامی سے دنیا میں رسوائی اور تنگ زندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں کرے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾
"اور جس نے میری یاد سے اعراض کیا تو اس کے لیے معیشت (زندگی) تنگ ہوگی اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے" (سورۃ طٰہٰ: 124)۔
اے ہمارے معزز اہل و عیال اور پیارو، اور اے وہ لوگو جو یمن کے میدانوں اور محاذوں پر اپنی جانیں پیش کرنے کے لیے نکلتے ہو: تمہاری یہ عظیم قربانیاں یقیناً بین الاقوامی سودے بازی کی منڈیوں میں سستے داموں بیچی جا رہی ہیں، اور تمہارے یہ "رویبضہ" (نا اہل)قائدین اس کافر طاغوتی نظام کے وفادار مجاور ہیں جو تم سے تمہاری لڑائی کا پھل چھین رہا ہے۔ ہماری امت کے لیے عزت اور وقار صرف اس اصولی اور انتھک جدوجہد میں ہے جو اس باشعور اور مخلص گروہ کے ساتھ مل کر کی جائے، جس نے ان دستوری بتوں کو ان کی بنیادوں سے ڈھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ وہ حقیقی میدان جو جان و مال کی قربانی کا مستحق ہے، وہ قومی بتوں اور زنگ آلود لوہے کے میدان نہیں ہیں، بلکہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کا میدان ہے۔ وہ ریاست جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکمرانی کرتی ہے، اور جہاں اقتدار امت کا اور حاکمیت صرف اللہ کی شریعت کی ہوتی ہے۔
آج تمہارا انتخاب تمہارے وجود کا مسئلہ ہے۔ یا تو عقلوں کی اس ڈکیتی پر راضی ہو کر جاہلیت کے تنازعات اور جمہوری مادی و دستوری بتوں کی غلامی میں رہو، یا پھر اسلام کی ہدایت اور اس کی عزت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہو تاکہ زندگی اور اللہ کی حاکمیت کی پکار پر لبیک کہو،
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا استَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾
"اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے" (سورۃ الانفال:آیت 24)؛
تاکہ تم اپنی سچی قربانی اور اپنے دین کی نصرت کے ذریعے اس تمکین کا شرف حاصل کر سکو جس کا وعدہ کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾
"اور اللہ یقیناً اس کی مدد کرے گا جو اس کی (دین کی) مدد کرے گا۔ بے شک اللہ بڑی قوت والا، نہایت غالب ہے" (سورۃ الحج:آیت 40)۔




