بسم الله الرحمن الرحيم
رشتۂ ازدواج محبت، رحمت اور بہترین رفاقت کے تعلق پر ہی قائم ہوتاہے
(عربی سے ترجمہ)
اللہ ﷻ نے نکاح کو اپنی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی بنایا ہے۔ اللہ ﷻ فرماتے ہیں،
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾
’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس میں سے جوڑے (بیویاں) پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نےتمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی‘‘ [سورۃ الروم؛ 30:21]۔
مرد اور اس کی بیوی کے درمیان تعلق باہمی ناچاقی یا تسلط حاصل ہونے کا تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ تعلق سکون، محبت اور رحمت کا تعلق ہے، جو کہ ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کرنے، ذمہ داریوں کو اٹھانے، حسنِ رفاقت اور اللہ ﷻ کی اطاعت میں باہمی تعاون کرنے پر قائم ہوتا ہے۔ شریعت نے یہ صاف واضح کر دیا ہے کہ نکاح میاں بیوی دونوں کے لئے ایک مشترکہ نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت کا تقاضا یہ ہے کہ رشتۂ ازدواج کے عہد کو ناانصافی، زیادتی اور بدسلوکی سے محفوظ رکھا جائے۔
مرد کی اپنی بیوی کے بارے میں ذمہ داری: اللہ ﷻ نے مرد کو اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرنے اور نگہداشت کی ذمہ داری دی ہے اور اس پر نفقہ، رہائش، لباس، حفاظت اور زندگی کے دیگر معاملات سے متعلق شرعی ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔ تاہم اس ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ مرد کو تسلط حاصل ہونے، بدتمیزی یا توہین کرنے یا ظلم وزیادتی کرنے کا اختیار مل گیا ہو۔ بلکہ یہ ایک شرعی فریضہ ہے، یعنی دیکھ بھال کرنا اور اس پر جواب دہ ہونا ہے۔ اللہ ﷻ نے مردوں کو جو اضافی درجہ دیا ہے، وہ زیادتی کے لئے کھلا اختیار نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری اور زیادہ بھاری بوجھ ہے۔ اسی لئے اللہ ﷻ نے مرد پر اپنے خاندان کی نگہبانی کرنے کو ان پر خرچ کرنے، ان کی دیکھ بھال کرنے اور اچھے سلوک کے ساتھ منسلک کیا ہے۔
اس نگہبانی کرنے اور ذمہ داری کا ایک حصہ یہ ہے کہ شوہر حسنِ معاشرت میں پہل کرے، اپنی بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، اس کی بعض ناپسندیدہ باتوں پر صبر کرے اور ہر اختلاف کو دشمنی، ترکِ تعلق یا طلاق کا سبب نہ بنائے۔
اللہ ﷻ فرماتا ہے:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾
’’اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو، پھر اگر تم انہیں ناپسند کرو تو ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی رکھ دے‘‘ [سورۃ النساء؛ 4:19]۔
ممکن ہے کہ مرد اپنی بیوی کی کسی خاص عادت یا صفت کو ناپسند کرے، لیکن اس میں دوسری ایسی خوبیاں موجود ہوں جنہیں وہ پسند کرتا اور سراہتا ہو۔ لہٰذا اس ایک خامی کو اسے اس بات پر آمادہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ بیوی سے مکمل نفرت کرنے لگے یا اس کے ساتھ بدسلوکی کرے۔
ناانصافی یا ظلم کرنا صرف مالی نفقہ روک دینے تک ہی محدود نہیں: بیوی سے ناانصافی یا ظلم کرنا صرف نفقہ سے محروم کرنے یا کھانا، لباس اور رہائش فراہم کرنے میں کوتاہی کرنے تک ہی محدود نہیں، حالانکہ یہ بنیادی واجب حقوق ہیں جنہیں کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ناانصافی یا ظلم کرنا جذبات اور احساسات میں بھی ہو سکتا ہے، جان بوجھ کر نظر انداز کرنے، سرد مہری برتنے، بدتمیزی یا تضحیک کرنے، حقیر سمجھنے اور بیوی کو یہ احساس دلانے کی صورت میں بھی کہ وہ بے وقعت یا ایک ناپسندیدہ بوجھ ہے۔
ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک مرد اپنی بیوی کو مکمل مالی نفقہ تو فراہم کر رہا ہو، لیکن پھر بھی اسے ایک محبت بھرے لفظ سے محروم کرکے، بار بار اس کا دل دکھا کر، اسے ٹھکرائے جانے کا احساس دلا کریا خود اپنے ذمہ اس کی حاجات کو اس پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنا کر اس پر ظلم کر سکتا ہے۔ معاشرت بالمعروف صرف مادی ذمہ داریاں پوری کرنے سے حاصل نہیں ہو جاتی۔ اس میں رویے کا انداز، بات چیت میں نرمی، دل کی خوش مزاجی، خوشی پہنچانا اور اس کے جذبات کا لحاظ رکھنا بھی شامل ہے۔ شریعت نے واضح کیا ہے کہ احسن طریقے (المعروف) کا مطلب شرعی ذمہ داری کو بہترین انداز میں ادا کرنا ہے، نہ کہ اسے ایسے طریقے سے پورا کرنا جس میں ذلت، طعنہ یا اذیت ہو۔
یہ بھی ظلم ہے کہ شوہر جان بوجھ کر اپنی بیوی کو جذباتی طور پر چھوڑ دے، طویل خاموشی کے ذریعے اسے سزا دے، یا کسی معمولی وقتی جھگڑے یا مزاج کے اختلاف کی وجہ سے اس سے محبت، قربت اور شفقت روک لے۔ اگر ایک مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کی اجازت نہیں، تو پھر ایک شوہر کس طرح اپنی بیوی کو مزاج کے ایسے اختلافات کی وجہ سے الگ چھوڑ سکتا ہے جو النشوز (نافرمانی یا سرکشی) کے احکام کے تحت بھی نہیں آتے؟ شریعت کے مطابق نکاح کا رشتہ جسمانی اختلاط، جذبات کا باہمی امتزاج، افکار میں شراکت اور روحوں کی رفاقت کا رشتہ ہے۔ لہٰذا ازدواجی زندگی کے جذباتی پہلو کو نقصان پہنچانا اس سکون کو تباہ کر سکتا ہے جسے اللہ ﷻ نے نکاح کے بنیادی مقاصد میں سے ایک بنایا ہے۔
معمولی معاملات سے بالاتر ہونا: ازدواجی زندگی اس وقت مستحکم نہیں رہ سکتی جب میاں بیوی ہر چھوٹی عادت یا اختلافِ رائے کو ایسی جنگ بنا لیں جس میں سزا دینا ضروری سمجھا جائے۔ لوگوں کے مزاج، رجحانات، اظہار کے طریقے اور گھر اور زندگی کے معاملات کے بارے میں رویےاور آراء مختلف ہوتی ہیں۔ جب تک کسی معاملے میں شرعی حکم کی خلاف ورزی یا کسی مقرر کردہ شرعی حق کی پامالی نہ ہو رہی ہو تو باہم مزاج کا اختلاف ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ظلم وناانصافی کرنے، ذلت کرنے یا سختی کو جائز کر لیا جائے۔
اسلام نے رہنمائی کی ہے کہ ایک مومن مرد اپنی بیوی کی کسی ناپسندیدہ عادت کی وجہ سے اس سے نفرت نہ کرے۔ بلکہ وہ اس کی مجموعی خوبیوں کو دیکھے، اس کی خوبیوں کی خاطر اس کی خامی کو معاف کرے اور جس چیز کو وہ پسند کرتا ہے اس کی خاطر ناپسندیدہ باتوں سے درگزر کرے۔ یہ ازدواجی رحمت کے عظیم ترین راستوں میں سے ایک ہے، کیونکہ کوئی انسان کامل نہیں اور کوئی رفاقت ایسی نہیں جس میں صبر اور برداشت کی ضرورت پیش نہ آئے۔
دونوں میاں بیوی کو معمولی معاملات سے بلند تر ہونا چاہیے اور شیطان کو چند چھوٹے چھوٹے اور عام سے اختلافات کو دائمی دشمنی میں تبدیل کرنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔ اکثر جھگڑوں کی وجوہات صرف عادات، گھر کے انتظامات، اندازِگفتگو، باہر جانے اور میل جول کی حدود، یا بعض چیزوں کی پسند و ناپسند میں فرق ہونا ہوتی ہیں۔ ان تمام معاملات کو پُرسکون گفتگو، نرم لہجے سے درخواست اور باہمی درگزر کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ دھمکی، سزا اور اذیت کے ذریعے سے۔
النشوز (نافرمانی) کا مطلب یہ نہیں کہ شوہر کی خواہش سے ہر طرح کا اختلاف ہو، اور نہ ہی ہر اختلافِ رائے، مزاج یا معاشرتی رسم کو النشوز کہا جا سکتا ہے۔ بلکہ نشوز کا تعلق شرعی احکام اور مقرر کردہ ازدواجی حقوق کی خلاف ورزی سے ہے۔ شوہر کو قطعی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی ذاتی عادات، خاندانی روایات یا ذاتی پسند کو اپنی بیوی کے لئے لازمی احکام بنا دے اور پھر ان کی خلاف ورزی پر اسے سزا دے۔
لہٰذا وہ نشوز جس کا علاج ضروری ہے، صرف یہ نہیں کہ بیوی کا مزاج مختلف ہو، وہ اس ماحول کے مطابق نہ ہو جبکہ اس کا شوہر اپنے گھر میں اس طرزِ ماحول کا عادی تھا، یا یہ کہ بیوی اپنے شوہر کی ہر ذاتی خواہش پوری نہ کرے۔ عادات، روایات اور ذاتی پسند کو گویا شرعی احکام بنا لینا اور پھر انہیں اپنی بیوی کو تابع کرنے اور ذلیل کرنے کا ذریعہ بنا لینا ایک ایسا ظلم ہے جو ہرگز جائز نہیں۔
محض اختلافات پر سزا نہیں: ازدواجی تعلق کی بنیاد محبت، رحمت اور حسنِ رفاقت ہے، سزا نہیں۔ لہٰذا کسی مرد کے لئے ہرگز یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو محض اس لئے سزا دے کہ اس نے اس سے بحث کیوں کی، کسی رائے میں اس سے اختلاف کیوں کیا، اس کی عادت یا رسم ورواج پر عمل کیوں نہ کیا، کسی ایسے معاملے میں کوتاہی کی جو کہ اسلام میں واجب ہی نہ تھا، یا یہ کہ اس بیوی کا رویہ اپنے شوہر سے مختلف کیوں تھا۔
شریعت نے واضح کیا ہے کہ نصیحت، علیحدگی اور نشوز کے علاج سے متعلق اقدامات صرف اس وقت کیے جائیں جب کوئی شرعی سبب موجود ہو، نہ کہ ذاتی غصے، جذباتی تکلیف یا برتری کے احساس کی وجہ سے۔ حتیٰ کہ نشوز موجود ہونے کی صورت میں بھی مقصد اصلاح کرنا اور حق کی طرف واپسی ہے، نہ کہ انتقام لینا، بدلہ یا اذیت پہنچانا۔ اسی طرح کسی اختلاف کے حل کا آغاز ایک دوسرے کو اللہ ﷻ کی یاد دہانی، باہمی بات چیت اور اصلاح سے ہونا چاہیے۔ شوہر کو حتی الامکان طور پر ضرورت کے بغیر اگلے مرحلے کی طرف نہیں جانا چاہیے، بلکہ شریعت کی حدود کی پابندی کرتے ہوئے اور ظلم وناانصافی سے بچتے ہوئے معاملہ کرنا چاہیے۔
یہ ایک سنگین غلطی ہے کہ شوہر اپنے حقِ القوامة (نگہبان ہونے) کو اس لئے استعمال کرے کہ ہر معاملے میں بیوی کو خاموش کرا دے، اسے اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے ہی روک دے، یا ان معاملات میں اپنی رائے مسلط کرے جن میں کوئی شرعی پابندی موجود نہیں۔ القوامة کا مطلب دیکھ بھال کرنا اور ذمہ دار ہونا ہے، نہ کہ بیوی کی ذاتی شخصیت کو رد کرنا،اور نہ ہی اس کی عقل یا جذبات کو سلب کر لینا ہے ۔ بیوی گھریلو زندگی کی پروان میں برابر کی شریک ہوتی ہے اور اسے پورا پورا حق حاصل ہے کہ اسے عزت دی جائے، اس کا احترام کیا جائے اور اچھی طرح سے اس کی بات سنی جائے۔
صبر اور اصلاح: اسلام میاں بیوی کو ایک دوسرے کی ناپسندیدہ باتوں پر صبر کی ترغیب دیتا ہے، کیونکہ صبر خاندان کے باقی رہنے اور اس میں خیر کے تسلسل کا سبب بن سکتا ہے۔ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ مظلوم ظالم کے ظلم ثابت ہونے پر بھی خاموش رہے یا زیادتی کو قبول کر لے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کمی یا ہر ناپسندیدہ بات کو گھر گرانے کا سبب نہ بنایا جائے اور جب تک اصلاح ممکن ہو، اصلاح کی کوشش کی جائے۔
جب اختلاف شدت اختیار کر جائے تو میاں بیوی کو یاد رکھنا چاہیے کہ طلاق آخری حل ہے، روزانہ دی جانے والی دھمکی نہیں۔ اس نہج تک پہنچنے سے پہلے معاملے کا علاج نصیحت، گفتگو، صلح، دانا لوگوں سے مدد لینے اور سرد مہری اور نشوز کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کے ذریعے ہونا چاہیے۔ اللہ ﷻ نے میاں بیوی کے درمیان صلح کو گھرٹوٹنے سے پہلے کا راستہ بنایا ہے، کیونکہ نکاح کا مقصد سکون، خاندان کا تحفظ اور بچوں کی حفاظت ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مرد اور اس کی بیوی کا تعلق محبت اور رحمت کی بنیاد پر قائم ایک عہد ہوتا ہے، جس میں ہر ایک فریق دوسرے کا حق حسنِ سلوک کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ مرد اپنی بیوی کا ذمہ دار ہوتا ہے اور یہ ذمہ داری نفقہ، حفاظت اور دیکھ بھال کرنے کا اسی طرح سے تقاضا کرتی ہے، جس طرح یہ نرمی، احترام اور بیوی کے جذبات کی حفاظت کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ مرد کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ بیوی کے مال، جان، عزت یا جذبات کے معاملے میں اس پر کوئی ظلم کرے۔
اسی طرح شوہر کےلئے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو محض مزاج، عادات، روایات یا آراء کے اختلاف کی وجہ سے سزا دے۔ علاج صرف اس وقت جائز ہے جب کسی شرعی حکم یا مقرر کردہ شرعی حق کی خلاف ورزی سے متعلق حقیقی نشوز موجود ہو، اور وہ بھی اس حد تک جو اصلاح کا سبب بنے اور ظلم کو روکے۔ جہاں تک معمولی معاملات کا تعلق ہے، ان کو معاف کرنا، ان سے درگزر کرنا، مزاج کے اختلاف کو قبول کرنا اور نیکی میں جلدی کرنا، یہ سب محبت اور رحمت کے قائم رہنے اور گھر کو انتشار اور تباہی کے اسباب سے محفوظ رکھنے کے ذرائع میں سے ہیں۔
بلال المہاجر — ولایہ پاکستان




