بسم الله الرحمن الرحيم
جزب التحریر ولايۃ ترکیہ نے دیاربکر میں “الاقصیٰ طوفان کی تیسری برسی پر غزہ” کانفرنس منعقد کی
جزب التحریر ولايۃ ترکیہ کی حیثیت سے، ہم نے دیاربکر میں “الاقصیٰ طوفان کی تیسری برسی پر غزہ" کے عنوان سے اپنی کانفرنس منعقد کی، جس میں مقامی باشندوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں اور اسلامی علماء نے بھرپور شرکت کی۔
یہ تقریب اتوار، 4 اکتوبر، 2026 کو صلاح الدین ایوبی مسجد کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔ پروگرام کا آغاز مہمت کایا کے تعارفی کلمات سے ہوا، جس کے بعد حافظ جمال یغیت نے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ کانفرنس میں غزہ میں نسل کشی کے پس منظر، قابض صہیونی ریاست کے مقاصد، اور مسلم سرزمینوں کو متحدہ قیادت سے محروم چھوڑے جانے کے مسئلے کا جائزہ لیا گیا۔
کانفرنس کے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کا مسئلہ نہ تو کوئی قومی مسئلہ ہے اور نہ ہی محض انسانی امداد کا معاملہ، بلکہ یہ براہ راست اسلام سے متعلق ایک مسئلہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مسئلے کے حل کا راستہ مغربی اداروں سے نہیں، بلکہ مسلم امت کے اتحاد سے ہو کر گزرتا ہے۔
برہان ارجان: “حل دو ریاستوں کی افسانوی کہانی نہیں، بلکہ ایک اسلامی فوج ہے!”
کوکلو دیغیشیم کے دیاربکر کے نمائندے برہان ارجان نے اپنی تقریر کا آغاز اس بات سے کیا کہ غزہ 79 سال سے قبضے کا شکار ہے اور گزشتہ تین سالوں سے وحشیانہ نسل کشی کا سامنا کر رہا ہے۔
ارجان نے کہا کہ بیت المقدس اور غزہ کی سرزمین نہ تو “تین مذاہب کی مشترکہ مقدس سرزمین” ہے، جیسا کہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے خواہش مند دعویٰ کرتے ہیں، اور نہ ہی یہ ایسا علاقہ ہے جہاں صہیونیوں کے ساتھ بقائے باہمی پر مبنی “دو ریاستی حل” قائم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے درج ذیل الفاظ کہے:
“یہ مسجد اقصیٰ، ہمارے پہلے قبلے، اور اسراء و معراج کی سرزمین ہے۔ ان سرزمینوں پر تقریباً 400 سال تک خلافت عثمانیہ کے تحت امن اور اسلام کے عدل کے ساتھ حکومت کی گئی۔استعماری کافروں کے ہاتھوں خلافت کی تباہی کے بعد سے ظلم کبھی ختم نہیں ہوا۔غزہ اور فلسطین کا مسئلہ ایک اسلامی مسئلہ ہے۔ قبضہ بین الاقوامی تنظیموں کے خوش نما وعدوں کے ذریعے ختم نہیں ہوگا، بلکہ صرف ایک ایسی اسلامی فوج کے ذریعے ختم ہوگا جو قابضین کو ان کی اوقات میں رکھ سکے۔”
ملا طیب ایلچی: “قومی ریاستوں نے ہمیں تقسیم کیا اور ہمارے درمیان اختلافات کے بیج بوئے”
مدرسہ علماء فاؤنڈیشن کے صدر ملا طیب ایلچی نے کہا کہ غزہ میں ہونے والے مظالم کے سامنے مسلمان ذلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی فیصلہ کن موڑ مسلم امت کی تقسیم تھا۔ اپنی تقریر میں ایلچی نے کہا:
“جب غزہ میں ہمارے بھائی اور بہنیں ایمان کے جوش و جذبے کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں، تو ہم یہاں ذلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ہم نے اپنی طاقت کب کھو دی؟خلافت کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی قومی ریاستوں نے ہمیں تقسیم کیا اور ہمارے درمیان اختلافات کے بیج بوئے، اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ امت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ اس ذلت سے نجات اسی وقت ممکن ہے جب امت ایک بار پھر خلیفہ کے گرد متحد ہو جائے۔”
رمضان تکدمیر: “اسلامی امت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا فقدان ہے”
میمور-سین کے دیاربکر کے صوبائی صدر رمضان تکدمیر نے اس مایوس کن صورت حال کی طرف توجہ دلائی جس میں غزہ تک انسانی امداد کی ترسیل میں بھی رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں صہیونی اپنے جھوٹے عقائد کی خاطر ہر چیز داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں، وہیں مسلمان عزم اور سیاسی ارادے کی کمی کا شکار ہیں۔
تکدمیر نے کہا:
“آج اسلامی امت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ قیادت سے محرومی کا مسئلہ ہے۔ مسلمان ان ریاستوں کی حکمرانی کے تحت اپنی شناخت کھو چکے ہیں جن میں وہ رہتے ہیں۔ کسی نجات دہندہ کا انتظار کرنے کے بجائے، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کے مطابق عمل کرنا چاہیے اور اسلام کے اصولوں کے مطابق اقدامات کرنے چاہئیں۔”
ملا سعداللہ ارگون: “57 مسلم ممالک محض تماشا دیکھ رہے ہیں”
1187 میں صلاح الدین ایوبی کی جانب سے بیت المقدس کو قبضے سے آزاد کرانے کے موقع پر ظاہر ہونے والی اسلامی ذمہ داری کو یاد دلاتے ہوئے، ملا سعداللہ ارگون نے آج کے حکمرانوں کی خاموشی پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا:
“اس نسل کشی کے سامنے اب مذمت کا نہیں، بلکہ عمل کا وقت آ گیا ہے۔ جب ہم یہاں بات کر رہے ہیں، صہیونی اپنے قتل عام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود 57 مسلم ممالک کے حکمران ان مظالم کے سامنے کسی مؤثر عزم کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔استعمار کرنے والوں اور ان کے چھوڑے ہوئے ایجنٹوں نے ہمارے درمیان جو سرحدیں کھینچی ہیں، انہوں نے ہمیں تقسیم ک ر دیا ہے۔عنجات ایک بار پھر قرآن کی طرف لوٹنے میں ہے۔”
محمود کار: “صلاح الدین کی طرح، ہمیں جہاد کے میدان میں انہیں ان کی اوقات میں رکھنا ہوگا”
کانفرنس کے اختتامی خطاب میں، حزب التحریر / ولایت ترکیہ کے میڈیا آفس کے سربراہ محمود کار نے 7 اکتوبر کے الاقصیٰ طوفان آپریشن اور 2 اکتوبر کو صلاح الدین ایوبی کی جانب سے بیت المقدس کی آزادی کے درمیان موجود تاریخی اہمیت اور شعور کی طرف توجہ دلائی۔
مسلم افواج اور حکمرانوں سے خطاب کرتے ہوئے، کار نے درج ذیل الفاظ کہے:
“جب تک غزہ قبضے میں رہے گا، بغداد، دیاربکر اور استنبول بھی قبضے کے سائے میں رہیں گے۔
ہم خاموش تماشائی نہیں بن سکتے! ہم خاموش نہیں رہ سکتے! ہم پر لازم ہے کہ ہم مسلم حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں کو حقیقت یاد دلائیں۔ جب نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں اسلامی رہنماؤں کو دھمکیاں دیں، تو انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ لیکن صلیبی قبضے کے دوران، صلاح الدین ایوبی نے جہاد کے میدان میں ان کافروں کو ان کی اوقات میں رکھ دیا تھا۔”
دیاربکر کے لوگوں کی جانب سے نمایاں دلچسپی حاصل کرنے والی یہ کانفرنس دعاؤں اور مسلم امت کے اتحاد پر نئے سرے سے زور دینے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
https://www.hizbut-tahrir.info/ur/index.php/%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%AA/%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%AA%DB%8C-%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/4820.html#sigProId979e788566
Latest from
- امریکی ایماء پر قبائلی علاقوں میں مزید فوجی آپریشنوں کے لئے خیبر پختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ حالات کو مزید تباہی کی جانب دھکیل دے گا، کیونکہ 'ہارڈ اسٹیٹ اپروچ' سے پاکستان کے مسلمانوں کو امریکی راج کے سامنے نہیں جھکایا جا سکتا
- حزب التحریر/ولایہ پاکستان:امت کے دشمنوں سے لڑنے کے لیے مسلمانوں کی افواج کو ایک امام کے تحت اکٹھا ہونا چاہیے!
- ولایۂ سوڈان: ستمبر 2026ء کے دوران تقریبات اور سرگرمیاں
- حزب التحرير ولايہ ترکیہ نے استنبول میں “غزہ نسل کشی، سازشوں اور غداری کی گرفت میں” کے عنوان سے کانفرنس منعقد کی
- مسلمانوں کی افواج کو 'فتنہ' کی طویل جنگوں میں جھونکنے کے امریکی منصوبے کو روکیں




