المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر
| ہجری تاریخ | 15 من ربيع الثاني 1448هـ | شمارہ نمبر: 1448/048 |
| عیسوی تاریخ | اتوار, 27 ستمبر 2026 م |
پریس ریلیز
اے مسلمانو کی افواج! تمہاری عقلیں اور ہوش کہاں ہیں؟
کیا تم آپس میں برسرِ پیکار ہو، جبکہ استعمار کو اپنی طاقت بحال کرنے کی مہلت دے رہے ہو؟
(ترجمہ)
چین کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نشانہ بنانے والی حالیہ خبروں کے طوفان کے دوران، "ایغور ٹائمز" نے بیان کیا کہ: "اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ ٹرمپ کی جنگ مسلسل مسلم سرزمینوں اور ان کے گرد و نواح کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔ تاہم، اسی دوران اس جنگ نے امریکہ کی حقیقی فوجی صلاحیتوں اور ان کی حدود کو بھی بے نقاب کردیا ہے۔ اس جنگ نے ظاہر کردیا ہے کہ امریکہ طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور جب اسے مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے، حتیٰ کہ ایسی قوتوں کی جانب سے بھی جن کے پاس نسبتاً کم ترقی یافتہ فوجی ٹیکنالوجی ہو، تو وہ تیزی سے جنگ کے دلدل میں پھنس جاتا ہے اور اس کی قوت میں کمزوری کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اس جنگ نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ اگر امت مسلمہ عزم کرے اور فتح کے حصول کے لیے ضروری کوشش کرے تو وہ اپنے اور مغرب کے درمیان موجود تکنیکی خلا کو پُر کرسکتی ہے۔ جہاں تک مشکلات برداشت کرنے کی امت کی صلاحیت کا تعلق ہے، تو واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ امت سخت ترین اور مشکل ترین حالات بھی برداشت کرسکتی ہے۔
جب سے امریکہ اس جنگ میں الجھا ہے، وہ اس سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں مسلسل مشکلات کا شکار ہے اور دوسروں کو اس تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ اس کی طرف سے جنگ لڑیں۔ اس نے یورپی ممالک سے مدد مانگی، لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ پھر اس نے مشرقی ایشیائی ممالک کا رخ کیا، لیکن انہوں نے بھی انکار کردیا۔ یہ ممالک چاہتے ہیں کہ امریکہ اپنے اقدامات کے نتائج خود بھگتے اور ٹرمپ کی سرکشی کو لگام دی جائے۔ وہ امریکہ کی جنگ میں الجھنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ چنانچہ کوئی اور راستہ نہ ملنے پر امریکہ نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کو مکہ اتحاد قائم کرنے پر آمادہ کیا، تاکہ ان ممالک کو جنگ میں داخل ہونے اور امریکہ کو اس مشکل صورتِ حال سے نکالنے کے لیے تیار کیا جاسکے۔
ان ممالک کے حکمرانوں نے صورتِ حال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے اور یہ سمجھنے کے بجائے کہ امریکہ جنگ کے دلدل میں پھنس چکا ہے اور یہ موقع اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ خلیج عرب میں امریکی اثر و رسوخ سے خود کو آزاد کریں، ایسا اتحاد قائم کرلیا جو امریکہ کی طرف سے جنگ لڑے، بجائے اس کے کہ وہ امریکہ کو یہاں سے نکالنے اور اس کے نقصان دہ اثر و رسوخ سے خود کو نجات دلانے کے لیے کام کرتے! یہ سب ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکی صدر مسلسل خلیج عرب کے نقشے شائع کر رہا ہے جن پر “ٹرمپ آبنائے (Trump Strait)” کا نام درج ہے!
اس نوعیت کی جنگ ایک ہولناک تباہی ثابت ہوگی۔ دونوں جانب مسلمانوں کا خون بہے گا اور مسلم دنیا کی افواج اور عوام مزید تھک کر کمزور ہوجائیں گے۔ دوسری جانب مسجد اقصیٰ اسی طرح قبضے میں رہے گی، جبکہ فلسطین، شام اور لبنان بھی بدستور غیر ملکی تسلط کا شکار رہیں گے۔ امریکہ اور یہودی وجود مسلم بچوں اور عورتوں کی زندگیوں کے ملبے پر اپنی فتح کا جشن منائیں گے اور مسلم سرزمینوں کے شہروں کو اپنے بموں سے تباہ کرکے ان کے کھنڈرات پر اپنے غلبے کی سلطنت قائم کریں گے۔
ہم مسلم سرزمینوں میں اہلِ رائے اور بااثر فیصلہ سازوں میں موجود ہر مخلص اور آزاد آواز سے اپیل کرتے ہیں: خاموش تماشائی بن کر یہ نہ دیکھتے رہیں کہ پورا خطہ تباہی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ یاد کریں کہ اندلس کیسے ہاتھ سے گیا: اس کے امراء آپس میں لڑتے رہے اور ایک دوسرے کے خلاف کفار سے سازباز کرتے رہے، یہاں تک کہ 700 سالہ اسلامی اقتدار ضائع ہوگیا۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری بار بار کی جنگ، جس میں آج ترکیہ اور پاکستان جیسی مسلم ریاستیں بھی کھینچی جارہی ہیں، ایک ظالمانہ اور گناہ پر مبنی جنگ ہے۔ ترکیہ اور پاکستان پر شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مداخلت کرکے دونوں فریقوں کو اس تنازع کو مزید بھڑکانے سے روکیں۔ اسلام کے ساتھ مخلصانہ وابستگی فوری اقدام کا تقاضا کرتی ہے تاکہ اس جنگ کو ختم کیا جاسکے۔ یہ جنگ مسلمانوں اور ان کی سرزمینوں کے لیے مزید مصائب کے سوا کچھ نہیں لائے گی، جبکہ مسلمانوں کے دشمنوں اور ان کی معیشتوں کو نئی زندگی ملے گی۔
جہاں تک ایران کا تعلق ہے، جس نے ماضی میں عراق، افغانستان اور شام پر امریکی غلبے کو مستحکم کرنے میں مدد کی، تو اس کی نئی قیادت کو اللہ ﷻ اور مسلمانوں کے ساتھ اپنے تعلق کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے۔ اگر امریکہ کے اس کے خلاف ہوجانے سے اسے یہ سبق ملا ہے کہ استعماری کافر کے ساتھ اتحاد کرنا اور مسلمانوں کی تکالیف کی قیمت پر اس کے مفادات کو آگے بڑھانا اسلام میں حرام جرم ہے، خواہ اسے درست ثابت کرنے کے لیے گمراہ کن فتوے ہی کیوں نہ جاری کیے جائیں، تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ ایسا راستہ سیاسی خودکشی کے مترادف ہے، جیسا کہ واقعات نے ثابت کردیا ہے۔ یہ سبق سیکھ لینے کے بعد ایران کو مسلمانوں کی نجات اور ان کے اتحاد کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ ان کے درمیان مزید جنگیں بھڑکانے پر۔ اسے وہ تمام بہانے بھی ختم کرنے چاہئیں جنہیں استعماری کافر مغرب اس جنگ کو بھڑکانے اور مزید ہوا دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
جہاں تک دونوں جانب سے جاری کیے جانے والے ان فتووں کا تعلق ہے جن میں مسلمانوں کا ایک دوسرے کے خلاف لڑنا اللہ ﷻ کی راہ میں جہاد قرار دیا جارہا ہے، تو یہ گمراہ کن احکام ہیں جو دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ فتوے لوگوں کو اس حقیقی شرعی حکم سے دور کرنے کا سبب بنتے ہیں جو بلا تاخیر جاری کیا جانا چاہیے: یعنی کفار کے خلاف جہاد کا اعلان، استعماری اثر و رسوخ کے خاتمے کے لیے متحرک ہونا، مسجد اقصیٰ کی آزادی اور ان تمام سرزمینوں کی آزادی جو استعماری کفار کے قبضے میں ہیں، جن میں لبنان، جنوبی شام اور کشمیر بھی شامل ہیں۔
جہاں تک مسلم افواج کے ان افسران کا تعلق ہے جن کے پاس فوجی قوت اور طاقت موجود ہے، تو امریکہ کی طرف سے بالواسطہ جنگ (Proxy War) میں شامل ہونا ان کے لیے دوہری خیانت ہوگی۔ کل تک وہ غزہ کی تباہی، مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور کشمیر کے قبضے پر خاموش تماشائی بنے رہے، کیونکہ وہ ایسے حکمرانوں کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں جو غیر ملکی مفادات کی خدمت کرتے ہیں۔ اور اب وہ اس وقت بھی خاموش کھڑے ہیں جب یہی حکمران انہیں ان کے اپنے بھائیوں کے خلاف جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔ دوسری جانب وہ اس استعماری کافر کو، جو مسلم سرزمینوں پر اپنا اثر و رسوخ کھونے کے قریب ہے، سنبھلنے اور اپنی تزویراتی برتری بحال کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔
اے افسران اور کمانڈروں! بیدار ہوجاؤ!
اللہ ﷻ فرماتا ہے:
﴿قَاتِلُواْ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَلاَ بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَلاَ يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَلاَ يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابِ حَتَّى يُعْطُواْ الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾
“ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور ان چیزوں کو حرام نہیں ٹھہراتے جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے، اور دینِ حق کو اپنا دین نہیں بناتے، ان اہلِ کتاب میں سے، یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور وہ مغلوب ہوں” [سورۃ التوبہ: 29]۔
حزب التحریر کا مرکزی میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير مرکزی حزب التحریر |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon تلفون: 009611307594 موبائل: 0096171724043 https://www.hizbut-tahrir.info |
فاكس: 009611307594 E-Mail: E-Mail: media (at) hizbut-tahrir.info |




