بسم الله الرحمن الرحيم
برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کا استعفیٰ
برطانوی مسئلہ یا تہذیبی بحران؟
تحریر: انجینئر وسام الاطرش
(ترجمہ)
آج مغرب کا بحران محض قیادت کا بحران نہیں ہے بلکہ یہ ایک نظریاتی بحران ہے۔ مغربی دارالحکومتوں میں ہم رہنماؤں کے تیزی سے گرنے اور حکومتوں کی تبدیلی کے جو مناظر دیکھ رہے ہیں، وہ دراصل اس گہری بیماری کی ظاہری علامت ہیں جو اس فکری اور تہذیبی ڈھانچے کو لگ چکی ہے جس پر جدید مغربی نظام کھڑا ہے۔ لندن سے برلن اور پیرس سے واشنگٹن تک، وہی منظر دہرایا جا رہا ہے جو اب ایک معمول بن چکا ہے: ایک لیڈر تبدیلی اور نجات کے وعدوں کے سہارے اقتدار میں آتا ہے، لیکن جلد ہی وہ خود کو انہی بحرانوں میں گھرا ہوا پاتا ہے جن کا سامنا اس کے پیشرو کو تھا۔ اس کے نتیجے میں اس کی مقبولیت تیزی سے ختم ہو جاتی ہے اور وہ ایک نئے لیڈر کے لیے جگہ چھوڑ کر منظر سے ہٹ جاتا ہے جو وہی وعدے کرتا ہے جو اس سے پہلے والے کر چکے ہوتے ہیں، اور پھر بالآخر اس کا انجام بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔
جرمن اخبارات نے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کے بعد سے برطانیہ قیادت اور حکومتوں کی تبدیلی کے ایک ایسے بھنور میں پھنس چکا ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں، اور یہ کہ سربراہانِ حکومت کی یہ تیز رفتار تبدیلی نہ تو جرمنی میں اور نہ ہی برطانیہ میں مسائل کا کوئی مناسب حل پیش کرتی ہے۔ (الجزیرہ، 24/06/2026)
چنانچہ اب مسئلہ شخصیات کی انفرادی غلطیوں سے زیادہ سیاسی نظام کی اس نااہلی اور عاجزی سے جڑ گیا ہے کہ وہ وقت کے ساتھ جمع ہونے والے سنگین بحرانوں کا کوئی پائیدار حل نکالنے سے قاصر ہے۔ اسی تناظر میں اناطولیہ نیوز ایجنسی نے روسی صدر پیوٹن کے خصوصی مندوب کیرل دمیتریوف کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ اگر موجودہ پالیسیاں اسی ڈگر پر چلتی رہیں تو اسٹارمر کے بعد اب جرمن چانسلر فریڈرک میرز "اگلے" فرد ہو سکتے ہیں (جنہیں اقتدار سے رخصت ہونا پڑے گا)۔ (اناطولیہ، 22/06/2026)
اس بیان اور اس کے سیاسی محرکات کے بارے میں جو بھی موقف اختیار کیا جائے، مگر یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جو اب بالکل واضح ہو چکی ہےکہ مغربی قیادتوں کی مدتِ اقتدار اب پہلے سے کہیں مختصر ہو گئی ہے، اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کی ان کی صلاحیت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور پڑ چکی ہے۔ سب سے زیادہ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ صرف سال 2024 کے دوران فرانس میں چار وزرائے اعظم دیکھے گئے: گیبریل اٹل، پھر مشیل بارنیئر، اور پھر فرانسوا بائرو، جبکہ بارنیئر کی حکومت تحریکِ عدم اعتماد کے نتیجے میں گر گئی اور پارلیمانی تقسیم نے سیاسی عدم استحکام کی صورتحال پیدا کر دی۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، ٹرمپ کے گرد گھومتی مستقل بحث، ان کا ابھرنا، پھر پیچھے ہٹنا اور پھر دوبارہ منظرِ عام پر آنا، محض ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے درمیان کسی مقابلے سے کہیں گہرے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ وہ خود پسند صدر جو سوشل میڈیا پر ٹویٹس کرنے اور بھرپور میڈیا کوریج حاصل کرنے میں مگن رہا، امریکی معاشرے کے ڈھانچہ جاتی مسائل کا کوئی بنیادی حل پیش نہ کر سکا۔ اس نے صرف اتنا کیا کہ امریکیوں کے ان وسیع طبقات کے غصے کو زبان دی جو یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی معاشی، سماجی اور ثقافتی زندگی تنزلی کا شکار ہے۔ یوں امریکی انتخابات مستقبل کے منصوبوں کے درمیان مقابلے کے بجائے عوامی بے چینی کی سطح جانچنے کا بار بار دہرایا جانے والا ریفرنڈم بن کر رہ گئے ہیں۔
اس شکست و ریخت نے اپنی علامتی انتہا 2021 کے آغاز میں امریکی کانگریس کی عمارت پر حملے کے واقعات کے دوران چھو لی، جب باہمی تقسیم کی صورتحال محض ایک سخت سیاسی مقابلے سے بڑھ کر اقتدار کے جواز اور انتخابی نتائج پر براہِ راست تصادم میں بدل گئی۔ اس روز دنیا محض ایک عارضی انتخابی بحران نہیں دیکھ رہی تھی، بلکہ وہ اس بنیادی اور ڈھانچہ جاتی بحران کا ایک بڑا اظہار دیکھ رہی تھی جو مغربی ماڈل کے مرکز کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ اس وقت یہ محسوس ہوا کہ وہ ادارے، جنہیں طویل عرصے تک جمہوریت اور استحکام کی مضبوط پناہ گاہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا تھا، اب خود تنازع اور شک کی زد میں ہیں۔ اس صورتحال نے اس گہری مشکل کو بے نقاب کر دیا جس کا سامنا سیاسی اشرافیہ کو اپنے معاشروں میں برسوں سے جمع شدہ تضادات کو سنبھالنے میں ہے، اور ساتھ ہی ریاست اور عوام کے درمیان ٹوٹے ہوئے اعتماد کو بحال کرنے میں ان کی بے بسی کو بھی واضح کر دیا۔
ان مظاہر کی عام طور پر جو تشریح کی جاتی ہے وہ سیاست دانوں کی غلطیوں، قیادت کی کمزوری یا بدانتظامی پر مرکوز ہوتی ہے، لیکن یہ تشریح اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتی کہ مختلف لیڈروں، مختلف جماعتوں اور مختلف پروگراموں کے باوجود وہی ایک جیسا بحران بار بار کیوں پیدا ہوتا ہے؟ کیوں ایک قدامت پسند بھی اسی طرح ناکام ہوتا ہے جیسے ایک لبرل؟ اور کیوں دائیں بازو کے لوگ بھی اتنے ہی بے بس نظر آتے ہیں جتنے بائیں بازو والے؟ اور کیوں حکومتیں ایک بحران سے نکل کر دوسرے میں پھنستی نظر آتی ہیں، بغیر اس کے کہ وہ ان گہری وجوہات کا علاج کر سکیں جو ان بحرانوں کو جنم دیتی ہیں؟ وہ جواب جو اب کھل کر سامنے آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ مسئلہ اب محض اشخاص کا نہیں رہا، بلکہ یہ ایک پورے تہذیبی ماڈل کا مسئلہ ہے۔ وہ مغربی تہذیب جس نے ایک طویل عرصے تک اپنی سائنسی، معاشی، فوجی اور سیاسی پیداواری صلاحیت سے دنیا کو مرعوب کیے رکھا، آج اپنی تاریخی حدود کو پہنچ چکی ہے۔ اس تہذیب نے اپنے عروج کے دور میں بڑے بڑے وعدے کیے تھے: مسلسل معاشی ترقی، معیارِ زندگی میں بہتری، متوسط طبقے کا پھیلاؤ، سماجی بہبود اور نئی نسلوں کے لیے ترقی کے مواقع۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان وعدوں کی تکمیل مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ قرض لینا اس معاشی نظام کے فلسفے کا ایک بنیادی حصہ بن چکا ہے، نہ کہ محض ایک عارضی انتظام۔
آج عالمی قرضوں کی کل مالیت دنیا کی سالانہ مجموعی پیداوار سے تقریباً تین گنا زیادہ ہو چکی ہے، اور صرف یہی موازنہ اس ڈھانچہ جاتی خرابی کی گہرائی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام، جو اپنے ابتدائی دور میں بڑی تیزی سے دولت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، اب پے در پے آنے والے گردشی بحرانوں کا شکار ہے؛ امیروں اور غریبوں کے درمیان فرق بڑھ گیا ہے، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، اور نوجوانوں کے لیے گھر بنانا یا ایک مستحکم معاشی مستقبل کو یقینی بنانا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ آج ہر انسان ان قرضوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے جو اس نے خود نہیں لیے تھے۔ اسی طرح، مغربی ممالک عوامی قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور وہ ایسی مالیاتی پالیسیوں پر تکیہ کر رہے ہیں جو کسی بڑے معاشی دھماکے کا علاج کرنے کے بجائے اسے صرف کچھ وقت کے لیے ٹالتی ہیں۔ اس طرح سیاست اب حل تلاش کرنے کے فن کے بجائے محض بحرانوں کو سنبھالنے اور ان کے نتائج کو پیچھے دھکیلنے کا نام بن گئی ہے۔
اور شاید اس معاملے میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ خود مغربی اشرافیہ کے پاس اب اپنے عوام کو پیش کرنے کے لیے کوئی نیا تہذیبی منصوبہ باقی نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی سیاسی بیانیہ اب فرسودہ نظر آتا ہے اور وہ محض نقصانات کو سنبھالنے اور انہیں کم سے کم کرنے کی زبان سے آگے بڑھنے میں ناکام ہے۔ انتخابی پروگرام تو بدلتے رہتے ہیں، لیکن بنیادی مسائل اپنی جگہ قائم رہتے ہیں، گویا ہر کوئی ایک ایسے بند دائرے میں گھوم رہا ہو جس سے نکلنا ممکن نہیں۔ اسی تناظر میں قیادت کے تیزی سے بدلنے یا 'کھپ جانے' کے رجحان کو سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ لیڈر جو آج اقتدار میں آتا ہے، اسے وراثت میں ایسے بحران ملتے ہیں جو اس کی حل کرنے کی صلاحیت سے کہیں بڑے ہوتے ہیں، اور وہ خود کو ان بگاڑوں کی اصلاح کا ذمہ دار پاتا ہے جو کئی دہائیوں سے جمع ہو رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے بلند و بانگ وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو وہ خود عوامی غصے کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ لیڈروں کا گرنا اب محض ان کی ذاتی ناکامی کا ثبوت نہیں رہا، بلکہ یہ اس نظام کی عاجزی کا ثبوت بن چکا ہے جس کے اندر رہ کر وہ حقیقی حل پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔
اسٹارمر کا استعفیٰ، میرٹز پر بڑھتا ہوا دباؤ اور ٹرمپ کے گرد پایا جانے والا شدید اختلاف، یہ الگ الگ واقعات نہیں ہیں بلکہ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں جو اشخاص، جماعتوں اور حکومتوں سے کہیں گہری کسی بحران کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ یہ ایک ایسی تہذیب کا بحران ہے جو اپنی چمک دمک اور حقائق سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت بڑی حد تک کھو چکی ہے، اور جس کے سرمایہ دارانہ نظام نے تباہیوں کے سوا کچھ نہیں چھوڑا، چنانچہ اب یہ تہذیب تعمیر کے بجائے پیوند کاری پر، اور ترقی کی راہ دکھانے کے بجائے پسپائی کو سنبھالنے پر منحصر ہو کر رہ گئی ہے۔
اسی لیے اب وہ سوال جو مغرب کو خود سے پوچھنا چاہیے، یہ نہیں رہا کہ "اگلا لیڈر کون ہوگا؟" بلکہ یہ ہے کہ: "کیا وہ فکری اور معاشی نظام جس نے ان بحرانوں کو جنم دیا ہے، اب بھی حل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟" اگر مسئلہ بنیادوں ہی میں موجود ہو تو چہرے بدلنے سے نتائج میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ایسی صورت میں قیادت کا بحران محض ایک گہری بیماری کی علامت بن کر رہ جاتا ہے، اور وہ بیماری خود اس تہذیبی ماڈل کا بحران ہے، اپنے تمام تر معاشی، سیاسی اور سماجی تصورات اور ان فکری بنیادوں سمیت جن پر وہ کھڑا ہے۔ اور جب قومیں اس مرحلے پر پہنچ جاتی ہیں، تو محض کسی نئے شخص کی تلاش کافی نہیں رہتی، بلکہ انسانیت کو بچانے کے لیے کسی نئی 'فکر' کی تلاش ہی اصل چیلنج بن جاتی ہے۔





