بسم الله الرحمن الرحيم
رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور صلہ رحمی
(ترجمہ)
رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک بہترین اعمال اور عظیم ترین عبادات میں سے ہے، کیونکہ ایک رشتہ دار پر اسلام کا بھی حق ہوتا ہے اور قرابت داری کا بھی حق ہے۔ اسی وجہ سے قرآنِ کریم نے اس حق پر بہت زور دیا ہے اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کو ان اعمال میں شمار کیا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ اللہ ﷻٰفرماتے ہیں،
﴿وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾
’’اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، اور رشتہ داروں، یتیموں، محتاجوں، اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی، اور پاس بیٹھنے والے (ہم مجلس) ساتھی سے اور مسافر کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرو‘‘ [النساء؛ 4:36]
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے مزید فرمایا ہے،
﴿وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا﴾
’’اور رشتہ دار کو اس کا حق دو، اور مسکین اور مسافر کو بھی، اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ‘‘ [الإسراء؛ 17:26]۔
یہ آیت واضح طور پر مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کریں، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، ان کی مدد کریں، ان کے حالات معلوم کرتے رہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی ضروریات پوری کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے صلہ رحمی کی ترغیب دی اور اسے ایمان کی علامت قرار دیتے ہوئے اسے براہِ راست ایمان کے ساتھ جوڑا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «مَن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليصل رحمه» ’’جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے‘‘ (بخاری و مسلم)۔ صلہ رحمی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان اچھائی کا جواب اچھائی سے دے اور تعلق کو باہمی طور پر برقرار رکھے۔ اس کا حقیقی مفہوم اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب رشتہ داروں کے درمیان دوری یا تلخی پیدا ہو جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ليس الواصل بالمكافئ، ولكن الواصل الذي إذا قطعت رحمه وصلها» ’’ واصل(رشتوں کو جوڑنے والا ) وہ نہیں جو رشتے داروں کی طرف سے اچھا سلوک کرنے پر ان سے اچھا سلوک کرتا ہے بلکہ واصل وہ ہے کہ جب رشتے دار اس سے قطع رحمی کریں تو وہ ان سے رشتہ جوڑے‘‘ (رواہ بخاری)۔
چنانچہ ایک مومن اپنے کسی رشتہ دار کی بدسلوکی کو رشتہ توڑنے کا سبب نہیں بناتا اور نہ ہی وہ قطع تعلق کے جواب میں قطع تعلق کرتا ہے۔ بلکہ وہ صلح کی کوشش کرتا ہے، سلام میں پہل کرتا ہے، معمولی غلطیوں سے درگزر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ملنے والے اجر کی امید رکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صلہ رحمی کرنے والے کے رزق میں وسعت اور میراث میں اضافہ کی خوشخبری بھی دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «مَن أحب أن يُبسط له في رزقه، ويُنسأ له في أثره، فليصل رحمه» ’’جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں فراخی (وسعت) ہو اور اس کی عمر دراز ہو، اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے‘‘ (اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے)۔
رشتہ داروں کے درمیان غلطیاں، غلط فہمیاں اور تکلیف دہ حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ معاف کرے اور درگزر کرے اور کسی وقتی غلطی کو دائمی اختلاف یا طویل قطع تعلق کا سبب نہ بننے دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ﴾
’’اور تم میں سے فضیلت اور کشادگی والے لوگ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے قرابت داروں کو، مسکینوں کو اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے۔ انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟‘‘ [النور؛ 24:22]۔
یہ آیت مسلمان کو سکھاتی ہے کہ برائی کے جواب میں معافی اختیار کرے اور اسے یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت چاہتا ہے، اسے اللہ کے بندوں کو بھی معاف کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ﴾
’’اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی۔ برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو، پھر جس شخص کے اور آپ کے درمیان عداوت (دشمنی) تھی وہ ایسا ہو جائے گا گویا وہ گہرا دوست ہے‘‘ [فصلت؛ 41:34]۔
رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان کی باتوں کو حتی الامکان اچھے معنی میں لیا جائے، ان کی خامیاں تلاش نہ کی جائیں، ان کی غلطیوں پر انہیں ملامت کرنے سے گریز کیا جائے اور ان کی خامیوں کو لوگوں میں نہ پھیلایا جائے۔ اگر کسی رشتہ دار کو نصیحت کی ضرورت ہو تو اسے نرمی اور رازداری کے ساتھ نصیحت کی جائے، تاکہ اسے ذلت یا لوگوں کے سامنے رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«مَن ستر مسلمًا ستره الله في الدنيا والآخرة» ’’جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا‘‘ (مسلم)۔
رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی ایک اور صورت غصے اور اختلاف کے مواقع پر اپنے آپ کو قابو میں رکھنا ہے۔ رشتہ داروں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت خود پر قابو رکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کے بارے میں ایسے معاملات دیکھ سکتا ہے جو دوسرے لوگ نہیں دیکھتے، اور خاندان کے کسی فرد کے ساتھ ہونے والا اختلاف زیادہ تکلیف دہ اور زیادہ دیرپا ہو سکتا ہے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ليس الشديد بالصُّرَعة، إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب» ’’طاقتور وہ نہیں جو دوسرے پر قابوپا لے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے‘‘ (بخاری و مسلم)۔
حقیقی طاقت بلند آواز میں بولنے، مخالف کو شکست دینے یا بدتمیزی کے جواب میں بدتمیزی کرنے میں نہیں ہے۔ بلکہ حقیقی طاقت غصے پر قابو پانے، اچھے اخلاق برقرار رکھنے اور غصہ ٹھنڈا ہونے تک اپنے ردِعمل کو مؤخر کرنے میں ہے۔ غصے کی حالت میں بحث سے بچنا، نرم الفاظ کا انتخاب کرنا اور یہ یاد رکھنا دانش مندی ہے کہ صلہ رحمی کسی عارضی صورتِ حال میں بحث جیتنے یا اپنی بات منوانے سے زیادہ اہم ہے۔
رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی صورتوں میں ضرورت مندوں کا حال معلوم کرنا، غریبوں کی مدد کرنا، بیماروں کی معاونت کرنا، مصیبت میں مبتلا افراد کے ساتھ کھڑا ہونا اور اپنی استطاعت کے مطابق مالی مدد یا ہمدردی فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، «الصدقة على المسكين صدقة، وهي على ذي الرحم اثنتان: صدقة وصلة» ’’مسکین کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے، لیکن رشتہ دار کو صدقہ دینا دو امر ہیں: صدقہ بھی اور صلہ رحمی بھی‘‘ آپ ﷺ نے مزید فرمایا: «المسلم أخو المسلم، لا يظلمه ولا يُسلمه، ومن كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته، ومن فرّج عن مسلم كربة فرّج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة، ومن ستر مسلمًا ستره الله يوم القيامة» ’’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے بے یارو مدد گار چھوڑتا ہے، جو کوئی اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے میں اس کی مدد کرتا ہے اللہ اس کی ضرورت کو پورا کرے گا اور جو کسی مسلمان کی مصیبت کو دور کرنے میں اس کی مدد کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت کو دور کرے گا اور جو کسی مسلمان کے عیبوں پر پردہ ڈالتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کے عیبوں کی پردہ پوشی کرے گا‘‘ (بخاری و مسلم)۔ اگر کسی عام مسلمان کی مدد کرنے کی یہ فضیلت ہے تو کسی رشتہ دار کی مدد کرنا اس سے بھی زیادہ مستحق اور اجر کا باعث ہے، کیونکہ اس میں مصیبت دور کرنے، صلہ رحمی کرنے اور خاندان کے افراد کے درمیان محبت کے رشتوں کو مضبوط کرنے کی فضیلتیں جمع ہو جاتی ہیں۔
اس کے برعکس اسلام نے قطع رحمی سے سختی سے خبردار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ * أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ﴾
’’ تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہو جاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور رشتوں کو توڑ ڈالو۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور ان کو بہرا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے‘‘ [محمد؛ 47: 22-23]
اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:
﴿وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ﴾
’’اور وہ لوگ جو ان رشتوں کو جوڑتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں‘‘ [الرعد؛ 13:21]،
اور آگے مزید فرمایا،
﴿أُولَٰئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ﴾
’’یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت کا بہترین ٹھکانہ ہے‘‘ [الرعد؛ 13:22]
قطع رحمی صرف کسی سے ملنے سے انکار کرنے تک محدود نہیں۔ اس کی صورت کسی کا بائیکاٹ کرنا، منہ پھیر لینا، لوگوں کے حقوق روکنا، زبان سے تکلیف پہنچانا، ان کی خامیاں پھیلانا یا کسی ضرورت مند رشتہ دار کو اس وقت چھوڑ دینا بھی ہو سکتی ہے جب اسے مدد کی ضرورت ہو۔ اس کے برعکس صلہ رحمی، رشتہ داروں سے ملاقات کرنے، بات چیت کرنے، ایک دوسرے کے حالات دریافت کرنے، تحائف دینے، مدد کرنے، اچھے انداز میں گفتگو کرنے، ایک دوسرے کے لئے دعا کرنے اور دیگر نیک اعمال کے ذریعے بھی قائم کی جا سکتی ہے۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کا مطلب ظلم کے سامنے خاموش رہنا، زیادتی برداشت کرنا یا کسی ظالم کو دوسروں کو نقصان پہنچاتے رہنے کا موقع دینا نہیں ہے۔ بلکہ حسنِ سلوک حکمت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ انسان معمولی خطاؤں کو معاف کر سکتا ہے، عیوب کی پردہ پوشی کر سکتا ہے، نرمی سے نصیحت کر سکتا ہے، حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے اور صبر، درست فیصلے اور جائز ذرائع اختیار کرتے ہوئے نقصان کو روک سکتا ہے۔ رشتہ داروں کے ساتھ معاملے کے بہترین طریقوں میں یہ شامل ہیں کہ جو شخص تعلق توڑ دے، اس سے تعلق قائم رکھا جائے؛ جس نے نقصان پہنچایا ہو، اسے معاف کیا جائے؛ جس بات کو کوئی شخص پسند نہ کرتا ہو کہ وہ لوگوں کے سامنے ظاہر ہو، اسے پوشیدہ رکھا جائے؛ ضرورت مندوں کی مدد کی جائے؛ بزرگوں کے ساتھ رحمت اور احترام کا معاملہ کیا جائے؛ چھوٹوں کے ساتھ نرمی سے پیش آیا جائے؛ والدین اور اہلِ فضیلت کی عزت کی جائے؛ اور اپنی ذاتی فتح حاصل کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کو اپنا مقصد بنایا جائے۔
رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک، معافی، عیوب کی پردہ پوشی اور اچھا برتاؤ صرف قریبی رشتہ داروں تک ہی محدود نہیں۔ اس میں دور کے رشتہ دار اور خاندان کے تمام افراد بھی شامل ہیں۔ صلہ رحمی کا مطلب عمومی طور پر رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ﴾
’’بے شک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو (ان کے حقوق) دینے کا حکم دیتا ہے‘‘ [النحل؛ 16:90]،
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ مزید فرماتا ہے:
﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾
’’اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو، اور رشتہ داریوں کا لحاظ رکھو۔ بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے‘‘ [النساء؛ 4:1]
لہٰذا اوپر بیان کیے گئے تمام اعمال—رشتہ داروں سے رابطہ برقرار رکھنا، حسنِ سلوک کرنا، ان کی ضروریات پوری کرنا، معاف کرنا، غلطیوں کی پردہ پوشی کرنا، عیوب سے درگزر کرنا اور اچھی بات کرنا—دور کے رشتہ داروں اور خاندان کے تمام افراد کے لئے بھی ہیں، خواہ وہ قریب رہتے ہوں یا دور، اور خواہ انہوں نے ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ کیا ہو یا کوتاہی کی ہو۔ ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہی ان سے صلہ رحمی برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح وہ خاندان کے اتحاد ویگانگت کو محفوظ کرتا ہے، رشتہ داری کے حقوق ادا کرتا ہے اور صلہ رحمی و حسنِ سلوک کی فضیلت حاصل کرتا ہے۔
حاصل کلام یہ کہ صلہ رحمی عظیم اطاعت ہے، رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک ایمان کا حصہ ہے، اور ان کی غلطیوں کو معاف کرنا اللہ تعالیٰ کی مغفرت حاصل کرنے اور محبت کو برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندان میں خیر کی کنجی، دلوں کو جوڑنے والا، عیوب کی پردہ پوشی کرنے والا اور مشکل وقت میں سہارا بننے والا ہو۔ اسے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ان الفاظ کو یاد رکھنا چاہیے:
﴿أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ﴾
’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟‘‘ [النور؛ 24:22]
بلال المہاجر — ولایہ پاکستان




