الأحد، 10 ربيع الأول 1448| 2026/08/23
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

متفرقاتِ الرایہ - شمارہ 613

 

پہلے صفحے کی پیشانی پر

بے شک خلافت کی وہ ریاست جس کے لیے ہم اپنے رسول ﷺ کے طریقے پر مضبوطی سے کاربند رہتے ہوئے کوشاں ہیں، کسی مخصوص جماعت یا گروہ کی ریاست نہیں ہے، بلکہ یہ تمام مسلمانوں کی ریاست ہے؛ جو اللہ کی شریعت کو نافذ کرے گی، مسلمانوں کو متحد کرے گی، اقصیٰ کو آزاد کروائے گی، اور اسلام کا وہ پیغام اٹھائے گی جو پوری انسانیت کو سرمایہ داری کے ظلم اور انسانوں کے خود ساختہ نظاموں کی ناانصافی سے نجات دلائے گا۔ اور یہ ریاست، سازش کرنے والوں کی سازشوں اور مکر کرنے والوں کے مکر و فریب کے باوجود، اللہ کے حکم سے یقیناً قائم ہو کر رہے گی۔

 

===

 

پہلے صفحے کے لیے

 

قومیت کی آفت ملائیشیا میں روہنگیا مسلمانوں کا پیچھا کر رہی ہے

ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران روہنگیا کے مسلمان پناہ گزینوں کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز بیانات، گمراہ کن معلومات اور غیر انسانی خطابات میں اضافے کے باعث ملک بھر میں ان کے کم از کم نو خصوصی اسکول بند ہو چکے ہیں۔ روہنگیا مخالف جذبات میں اس شدت نے ان کے بہت سے بچوں کو تعلیم سے محروم کر دیا ہے، اور دوسروں کو اسکول جانے یا گھروں سے نکلنے سے بھی خوفزدہ کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ پر بعض پوسٹس میں روہنگیا اور ان کے بچوں کے خلاف تشدد پر اکسایا گیا ہے، جن میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ "انہیں ایک کمرے میں بند کر کے آگ لگا دی جائے، ان کا ریپ کیا جائے، انہیں کوّوں کی طرح گولی مار دی جائے، اور عورتوں کو بانجھ بنا دیا جائے"! ملائیشیا سے ان کی بے دخلی کا مطالبہ کرنے والی ایک آن لائن مہم پر تقریباً پانچ لاکھ دستخط حاصل ہو چکے ہیں۔ یہ تمام صورتحال اس نفرت اور نسل کشی کی یاد تازہ کرتی ہے جس کا روہنگیا کو میانمار میں سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے تھے۔

 

اس سلسلے میں حزب التحرير کے مرکزی میڈیا آفس کے خواتین کے شعبے کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے: 'وطن پرستی (قومیت) کا یہ زہریلا نظریہ ہی اس مظلوم مسلمان قوم کے خلاف شدید نفرت کو ہوا دے رہا ہے، جن کا واحد قصور نسل کشی سے بچنے کے لیے پڑوسی اسلامی ملک میں پناہ لینا ہے۔ یہ زہریلا اور خطرناک عقیدہ، جس کے بارے میں ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا:«دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ» "اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ بدبودار ہے"، اس کا سبب بن رہا ہے کہ مختلف نسلی پس منظر یا علاقوں سے تعلق رکھنے والے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اچھوتوں اور مجرموں جیسا سلوک کیا جائے، اور ان کے بچوں کو ان کے اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں ہراساں کیا جائے، دھمکیاں دی جائیں اور ان کے اسکولوں اور گھروں سے نکالا جائے، بجائے اس کے کہ انہیں تحفظ، مدد، مناسب رہائش، معیاری تعلیم اور باعزت زندگی فراہم کی جائے۔ گزشتہ 27 جولائی کو، ملائیشیا کے حکام نے 100 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کو حراست میں لے لیا جو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (UNHCR) کے دفتر میں پناہ کی تلاش میں تھے، جب انہیں مقامی باشندوں نے پینانگ میں ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا تھا، جنہوں نے اس علاقے کو "روہنگیا سے پاک علاقہ" قرار دے دیا تھا۔ ملائیشیا باقاعدہ طور پر روہنگیا کو پناہ گزین تسلیم نہیں کرتا، بلکہ انہیں غیر قانونی تارکینِ وطن قرار دیتا ہے، اور انہیں شہریت کے حقوق سے محروم رکھتا ہے، بشمول کام کرنے کا حق اور ان کے بچوں کا سرکاری اسکولوں میں داخلے کا حق، جس کے نتیجے میں ان پر گرفتاری کی تلوار مسلسل لٹکتی رہتی ہے۔'

 

اور مزید کہا: یہ سب انتہائی شرمناک اور حرام ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا:﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ "مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں"۔ (سورۃ الحجرات: آیت 10) اور: ﴿إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴾ "بے شک تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری ہی عبادت کرو"۔ (سورۃ الانبیاء: آیت 92)؟! کیا ہمارے نبی ﷺ نے نہیں فرمایا: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَخْذُرُهُ» "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے"؟! کیا آپ ﷺ نے ہمیں یہ نہیں دکھایا کہ جب مسلمانوں کے پاس ان کے مہاجر بھائی ہجرت کر کے آئے تو ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جانا چاہیے، جب آپ ﷺ نے انصار اور مہاجرین کو اسلامی اخوت کے رشتے میں پرو دیا، یہاں تک کہ انصار نے مہاجرین کی مدد کے لیے اپنے آدھے مال، گھر اور زمینیں پیش کر دیں؟

 

بیان کے آخر میں کہا گیا ہے: یہ افسوسناک صورتحال جو ترکی میں پناہ گزین روہنگیا اور ایغور مسلمانوں، پاکستان میں افغان پناہ گزینوں، اور دنیا بھر کے ان مظلوم مسلمانوں کو متاثر کر رہی ہے جنہیں مسلمانوں کے ممالک میں پناہ اور باعزت زندگی دینے سے انکار کیا جا رہا ہے، اسی وقت تک جاری رہے گی جب تک ہم قوم پرستی (قومیت) کو اپنائے رکھیں گے اور ان قومی سرحدوں کی حفاظت کرتے رہیں گے جو ہمارے دلوں اور دماغوں کو تقسیم کرتی ہیں۔ اور پناہ گزین مسلمانوں کی یہ تذلیل اس وقت تک قائم رہے گی جب تک نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ غائب رہے گی، جو تمام مسلمانوں کی محافظ ریاست ہے، قطع نظر ان کی نسل، قبیلے یا رنگ کے۔ یہ وہ ریاست ہے جو قوم پرستی کو مسترد کرتی ہے اور اسلامی ممالک کو متحد کرنے اور انہیں پناہ کے متلاشی کسی بھی مظلوم قوم کے لیے کھولنے کے لیے کام کرتی ہے، اور انہیں شہریت کے مکمل حقوق فراہم کرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جیسا کہ خلفاء نے کر کے دکھایا، جیسے سلطان بایزید ثانی، جنہوں نے اسپین میں احتسابِ عدالتوں (انکوئزیشن) کے دوران مظلوم مسلمانوں اور یہودیوں کو بچانے کے لیے اپنا بحری بیڑا بھیجا اور ان میں سے لاکھوں کو خلافت کی سرزمین پر بسایا۔

 

===

 

اے سوڈان کے لوگو! ہم تمہیں پکار رہے ہیں، تو پچھتاوے سے پہلے معاملے کو سنبھال لو، ورنہ پچھتانے کا وقت بھی نہیں ملے گا!

اے ہمارے عظیم اسلام کے سوڈان کے لوگو... دنقلا مسجد کا سوڈان، جو پہلی مسجد ہے جسے سوڈان میں اولین مسلمانوں نے تعمیر کیا تھا... عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں عظیم اسلامی فتح کا سوڈان، جب انہوں نے مصر کے گورنر کو حکم دیا تھا کہ سوڈان میں اسلام کا نور داخل کریں، تو انہوں نے عبداللہ بن ابی السرح کی قیادت میں اسلام کا لشکر روانہ کیا، اور یہ فتح سن 31 ہجری میں ہوئی... اور اسی طرح اسلام اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فضل سے تیزی سے پھیلا یہاں تک کہ اس نے پورے سوڈان کو اپنے دامن میں لے لیا، اس کے شمال سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک... پھر یہ مسلم خلفاء کے دور میں بھی جاری رہا...

 

اے سوڈان کے ہمارے لوگو، جنہوں نے 1896 سے لے کر پہلی جنگ عظیم کے وسط 1916 تک انگریزوں کے خلاف جہاد کیا، جب دارفور کے گورنر، پرہیزگار اور طاقتور ہیرو "علی بن دینار" شہید ہوئے، وہ عالمِ مجاہد جن کا یہ احسان تھا کہ انہوں نے مدینہ منورہ اور اہل شام کے میقات "ذوالحلیفہ" کی مرمت کی اور حاجیوں کو پانی پلانے کے لیے کنویں کھدوائے جو آج تک ان کے نام پر "ابیارِ علی" کہلاتے ہیں...

 

اے سوڈان کے لوگو! ہم تمہیں پکار رہے ہیں، تو پچھتاوے سے پہلے معاملے کو سنبھال لو، ورنہ پچھتانے کا وقت بھی نہیں ملے گا... اور لڑنے والے دونوں فریقوں کے ہاتھ پکڑو اور انہیں حق پر سختی سے کاربند کرو... اور دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے حزب التحرير کی مدد کرو، کیونکہ اسی میں اسلام اور مسلمانوں کی عزت ہے اور کفر و کافروں کی ذلت... اور اللہ کی رضا سب سے بڑی چیز ہے... ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ﴾ "بے شک اس میں نصیحت ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو یا توجہ سے سنے اور وہ حاضر ہو"۔ (سورۃ ق: آیت 37)

 

اس طرح سوڈان اسلام کے ذریعے طاقتور اور معزز ہو کر لوٹے گا، جس پر عقاب کا پرچم  لہرائے گا، جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا پرچم ہے: ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيم﴾ "اور اس روز ایمان والے خوش ہوں گے۔ اللہ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ غالب اور نہایت رحم والا ہے"۔ (سورۃ الروم: آیت 4-5)

 

===

 

حزب التحرير/ ولایہ سوڈان کے وفود نے اہل سوڈان کے معززین اور قبائلی سربراہان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے

دو الگ الگ ملاقاتوں میں، پیر 10 اگست 2026ء کو حزب التحرير/ ولایہ سوڈان کے ایک وفد نے، ولایہ سوڈان میں حزب التحرير کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین استاد ناصر رضا کی سربراہی میں، جن کے ہمراہ ولایہ سوڈان میں حزب التحرير کے کونسل ممبر استاد محمد مختار، اور پارٹی کے ارکان جناب عبدالصمد الطيب اور جناب المنور دفع اللہ شامل تھے، ملاقاتیں کیں۔

 

پہلی ملاقات القضارف میں صوفی خانقاہ (مسيد الصوفي) کی تھی، جہاں وفد نے شیوخ عثمان عبدالرحمن الازرق، حمد عبدالرحمن الازرق، اور احمد عثمان عبدالرحمن الازرق سے ملاقات کی۔ وفد کے سربراہ ناصر نے سوڈان کے سیاسی اور عسکری حالات اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والے استعماری کافر کے خطرناک منصوبے پر گفتگو کی۔ اسی بنا پر حزب التحرير نے لوگوں کے رہنماؤں اور قبائل کے سربراہان (نظّار اور عمد) سے رابطہ کیا ہے تاکہ انہیں اس خطرناک صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے، انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ خلافت کے علاوہ اسلام کے نام پر حکمرانی کی کوئی بھی بات یا دعوت دھوکہ دہی اور حق سے انحراف ہے۔

 

معزز شیوخ نے جناب ناصر کی باتوں کی تائید کی، بالخصوص شیخ عثمان نے پارٹی کے لیے خیر کی دعا کی۔

 

دوسری ملاقات میں وفد نے قبیلہ ضبائینہ کے سربراہ (ناظر عموم) اور سوڈان میں سول ایڈمنسٹریشن کے نائب صدر ناظر عوض الکریم محمود زاید (ود زاید) سے ان کے القضارف بازار والے دفتر میں ملاقات کی۔ ناظر نے وفد کا خیرمقدم کیا اور انہیں اپنے قبیلے کی تاریخ سے روشناس کرایا کہ وہ سخاوت اور بہادری والے لوگ ہیں، جس کے بعد وفد کے سربراہ ناصر نے دورے کے مقصد کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد سوڈان کے خلاف استعماری کافر کے منصوبوں سے آگاہ کرنا، انہیں ناکام بنانا، صفوں کو یکجا کرنا، کلمہ واحد پر جمع ہونا اور قبائل کو امت کو متحد کرنے اور نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ قائم کرنے کے لیے ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے۔

ناظر نے اس بات کی تائید کی اور کہا: "ہم آپ کے ساتھ ہیں اور صفوں کو یکجا کرنے، کلمہ واحد پر جمع کرنے اور خلافت قائم کرنے کی آپ کی کوششوں کی تائید کرتے ہیں۔"

 

اسی طرح وفد نے منگل 11 اگست 2026ء کو دن کے وقت قبیلہ بوادرہ کے سربراہ (مک) استاد متوكل حسن دكين سے القضارف میں ان کے دفتر میں ملاقات کی، جہاں وفد کے امیر نے مک کو دورے کے مقصد سے آگاہ کرتے ہوئے سوڈان کی سیاسی اور عسکری صورتحال اور استعماری مغربی کافر کے منصوبے کی خدمت میں قبائل کو مسلح کرنے کے جاری عمل پر روشنی ڈالی جو سوڈان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ جو چیز سوڈان کے لوگوں کو ان کے مختلف قبائل کے باوجود متحد کرتی ہے وہ عظیم اسلام ہے، اور قبائلی قیادت کا فرض ہے کہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ قائم کر کے اسلام کی نصرت کے لیے کام کریں۔ مک نے وفد کا دورے پر شکریہ ادا کیا اور ناصر کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے منصوبے کو کوئی مسترد نہیں کرتا۔

 

منگل کے روز غروبِ آفتاب کے بعد، وفد نے دارفور کے قبائل کے سربراہ (ناظر عموم) شیخ سیف الدولة حيدر الطاهر بكر سے القضارف میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جہاں ان کے ہمراہ ناظر کے ڈپٹی الطاهر حيدر اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عزيز حيدر بھی موجود تھے۔ تعارف کے بعد، وفد کے سربراہ ناصر نے حزب التحرير کا تعارف کرواتے ہوئے اپنی گفتگو کا آغاز کیا اور بتایا کہ اس کا مقصد نبوت کے نقشِ قدم پر  خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلامی طرزِ زندگی کا احیاء ہے، اور اس دورے کا مقصد سوڈان کے حالات اور ان سازشوں سے آگاہ کرنا ہے جن سے وہ گزر رہا ہے، جو کہ سوڈان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والے استعماری منصوبے کے خلاف، عظیم اسلام کے منصوبے یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے ذریعے مشترکہ کوششوں کا تقاضا کرتی ہے۔ پھر ناظر کے ڈپٹی نے گفتگو کرتے ہوئے امت بیداری میں حزب التحرير کے کردار اور اس کے اخلاص کو سراہا، اور خلافت کے قیام کے لیے اس کی سرگرمیوں اور جدوجہد کی تعریف کی، اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عزيز نے بھی ڈپٹی کی بات کی تائید کی اور سب کو اس مبارک کام میں رابطے میں رہنے کی دعوت دی۔

 

اسی طرح جمعرات 13 اگست 2026ء کو اسی وفد نے نوبہ کے سربراہ (مک) مأمون الجاك سے القضارف شہر میں ان کے گھر پر ملاقات کی، اور ان کے ہمراہ ولایت القضارف میں قبیلے کی شوریٰ کونسل کے صدر كافي كوة دوداي، جو نوبہ کے ایک دھڑے (الشاہ) کے سربراہ (عمدہ) ہیں، إبراهيم مكي، جو نوبہ کے ایک دھڑے (الكتلہ) کے سربراہ (عمدہ) ہیں، اور محمد تيه دقاق، جو (ابو ہشيم) کے سربراہ (عمدہ) ہیں، موجود تھے۔

 

جناب ناصر نے موجودہ صورتحال اور ملک کو تقسیم کرنے کے منصوبے کے ذریعے ہمارے ملک کے خلاف استعماری کفار کی سازشوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: 'آج کل ہم قبائل کو واضح طور پر متحرک کرنے کا عمل دیکھ رہے ہیں اور ہر قبیلے کے لیے ایک فوج بنائی جا رہی ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک بات یہ ہے کہ ریاست ان تحریکوں کو مسلح کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور ہر تحریک کو ایک قبیلے سے جوڑ رہی ہے، اور یہ ایک بدشگونی ہے، لہٰذا ہم حزب التحرير میں آپ کو اور سوڈان کے تمام قبائل کو دعوت دیتے ہیں کہ استعماری کافر کے اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کام کریں، اور ہم قبیلے کی درست سمت میں رہنمائی کرتے ہیں؛ اور وہ یہ ہے کہ قبیلہ اسلامی ریاست کے قیام کے منصوبے یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر  خلافتِ راشدہ کی نصرت کرے، بالکل اسی طرح جیسے انصار یعنی اوس اور خزرج نے کی تھی۔

 

' مک مأمون نے اس طرحِ کار کی تائید کی، وفد کا شکریہ ادا کیا اور کہا: 'ملک میں کوئی ایسی سیاسی پارٹی  نہیں ہے جو حزب التحرير کی طرح کا کوئی جامع منصوبہ پیش کرتی ہو۔' پھر عمدہ کافی کوۃ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: '(یہ اچھی باتیں ہی ہیں جو لوگوں کو اکٹھا کرتی ہیں)'، اور ابو ہشیم کے عمدہ نے بھی جناب ناصر کی بات کی تائید کی۔ اور إبراهيم مكي (عمدہ الکتلہ) نے بھی گفتگو کرتے ہوئے جناب ناصر کی بات کی تائید کی، اور سب نے رابطے میں رہنے پر زور دیا۔

 

===

 

امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے بحری اتحاد اور دفاعی معاہدے!

ارضِ مقدسہ میں شہروں اور دیہاتوں پر یہودی وجود کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، وہ مقدسات کی حرمت پامال کرتے ہیں، لوگوں کو ذلت آمیز طریقے سے گرفتار کرتے ہیں، انہیں ان کے گھروں سے بے دخل کر کے ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیتے ہیں، بلکہ پتھر، درخت اور جانور بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں ہیں، اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جو اس طرح کے حملوں سے خالی ہو، اگر یہودی وجود کی مسخ شدہ فوج خود یہ کام نہ کرے تو فوج کی نگرانی میں آباد کار یہ کام انجام دیتے ہیں۔

 

الرایہ: ان سب کے دوران مسلم ممالک کے حکمران اور حکام اجلاس منعقد کرتے ہیں، لیکن وہ کیوں جمع ہوتے ہیں؟ ان میں سے کچھ امریکی حکم پر بحری اتحاد بنانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تاکہ خطے میں اس کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے! اور کچھ امریکی حکم پر ہی دفاعی معاہدہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تاکہ اس کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے! اور کچھ مذمتی اور احتجاجی بیانات جاری کرتے ہیں، اور یہودی وجود کی جارحیت کی ذمہ داری عالمی نظام پر ڈالتے ہیں، اور ان میں سے کچھ سلامتی کونسل سے مدد مانگتے ہیں، اور کچھ یہودی وجود کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم قائم کرنے کا اعلان کرتے ہیں!

 

بے شک مسلمان حکمران اس بنیاد پر کام کر رہے ہیں کہ ارضِ مقدسہ میں یہودی وجود کا قیام ایک امرِ واقعہ (حقیقت) بن چکا ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی اسے اسی نظر سے دیکھیں، لیکن اللہ کے حکم سے ایسا کبھی نہیں ہوگا، کیونکہ مسئلہ فلسطین مسلمانوں کے دلوں میں ایک مرکزی اور بنیادی مسئلہ ہے، اور ان کے دل مسجد اقصیٰ سے اسی طرح جڑے ہوئے ہیں جیسے مسجد حرام اور مسجد نبوی سے جڑے ہیں، اور کافر استعمار اور یہودی وجود کے ساتھ حکمرانوں کی یہ سازشیں اسے کبھی امرِ واقعہ نہیں بنا سکیں گی، اور جلد ہی امت ان رائیبضہ (کم عقل و نااہل) حکمرانوں سے چھٹکارا پانے کے لیے حرکت میں آئے گی، اور یہودی وجود کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکے گی، اور بے شک وہ دن دور نہیں ۔

 

===

 

قومِ لوط کے فاجر لوگوں کا جہاز مراکش کے ساحل پر لنگرانداز!

اتوار 9 اگست 2026ء کی صبح، تفریحی بحری جہاز 'سیلیبرٹی ایکوینوکس' طنجہ کی بندرگاہ پر پہنچا، جو بحیرہ روم کے ایک ایسے بحری سفر کا حصہ تھا جسے 'وکایا' کمپنی نے ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں (متحولینِ جنس) کے لیے ایک خصوصی سیاحتی پروگرام کے تحت ترتیب دیا تھا، اور اس سفر کے دوران مراکش شرکاء کے لیے پہلا پڑاؤ تھا۔

یہ جہاز صبح سات بجے کے قریب بندرگاہ پر پہنچا، جس کے بعد متعدد ہم جنس پرست طنجہ شہر کے وسط کی طرف روانہ ہوئے، جہاں ان کے دوروں میں پہلے سے طے شدہ معروف مقامات اور محلے شامل تھے، جن میں پرانا شہر ، قصبہ اور گرینڈ اسکوائر  شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مختلف دکانوں، ریستورانوں اور کیفے کا بھی رخ کیا، اور اس کے بعد یہ جہاز شام چار بجے کے قریب بندرگاہ سے روانہ ہو گیا۔

 

الرایہ: اے اہل مراکش! اس طاغوتی نظام نے تمہارے لیے کوئی ایسی بے حیائی نہیں چھوڑی جس میں تمہیں نہ دھکیلا ہو، چنانچہ یہ تمہارے پاس 'سیداو' (CEDAW) معاہدے کی بے حیائی لے کر آیا اور اسے تم پر بطور سماجی قانون اور نظام مسلط کر دیا، جس نے تمہارے خاندانوں کو تباہ کیا، تمہارے بچوں کو بے گھر کیا اور تمہاری سماجی زندگی کو جہنم بنا دیا۔

 

اور یہ یہیں نہیں رکا، یہاں تک کہ اس نے تمہیں سب سے قبیح اور گھناؤنی بے حیائی اور گناہِ کبیرہ، یعنی قومِ لوط کے فاجر فضلے کے جرم میں دھکیل دیا اور انہیں تمہارے گھروں میں گھسا دیا، تاکہ تمہیں اس گندگیوں کی گندگی، روئے زمین کے سب سے بڑے فساد اور مخلوق کی ہلاکت کے ساتھ ہم آہنگ (نارملائز) کر سکے۔

 

کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم اپنے اوپر سے ذلت کی گرد جھاڑو، رسوائی کا لباس اتار پھینکو اور قہر کے طوق توڑ ڈالو؟ اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب تم اپنے رب کی شریعت کے نفاذ کو اپنا بنیادی مسئلہ (قضیہ مصیریہ) بناؤ گے، اور اپنا چھینا ہوا اقتدار ان رائیبضہ حکمرانوں سے واپس لو گے جو خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے تمہیں بھی گمراہ کیا، تمہیں بدترین عذاب کا مزہ چکھایا، تمہیں ہلاکت کے دہانے پر پہنچایا اور تم پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے غضب کو دعوت دی؛ اور تم کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ پر اپنے خلیفہ راشد کی بیعت کرو گے تاکہ تم امن و امان پاؤ، معزز بنو اور اپنے رب کی حقیقی عبادت کا حق ادا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

 

===

 

اے پاکستان کے مسلمانو: اپنے حکمرانوں کو چھوڑ دو جیسے انہوں نے تمہیں اور مسلمانوں کو چھوڑ دیا ہے

اے پاکستان کے مسلمانو: تم پر فرض ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں کو چھوڑ دو، جیسے انہوں نے مسلمانوں اور ان کے مسائل کو چھوڑ دیا ہے۔ ان کو نصیحت کرنے، ان کی اصلاح کرنے یا ان سے اپیل کرنے کی راہ میں کوئی امید نہیں ہے۔ کیونکہ فیصلہ سازی میں ان کی کوئی آزاد مرضی نہیں ہے، کیونکہ وہ ایک کافر آقا کے تابع ایجنٹ ہیں۔ ان کے پاس آزادانہ سوچنے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے، اور ان کا واحد کردار احکامات پر عمل درآمد کرنا ہے، جب کہ وہ آپ کو دھوکہ دینے کے لیے من گھڑت کہانیاں سناتے ہیں۔ انہوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا ہے، حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں متنبہ کیا ہے کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ انہی میں سے ہو جاتے ہیں:

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾

"اے ایمان والو! تم یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو کوئی ان کو دوست بنائے گا تو وہ انہی میں سے ہو گا"۔ (سورۃ المائدہ: آیت 51)

 

اے پاکستان کے مسلمانو: کافروں کے سامنے خیانت اور ذلت کو ختم کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ وہ پاکیزہ اور طیب پاکستان میں تمام انسانوں کے رب، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کے نفاذ کا راستہ ہے۔ اور یہ تمام اسلامی ممالک کو ایک واحد اسلامی ریاست، یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ میں متحد کرنے کو یقینی بنانے کا راستہ ہے، بشرطیکہ پاکستان اس کا مرکز  بنے، کیونکہ یہ مادی طور پر ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہاں کے اچھے لوگ اس اعزاز کے حقدار ہیں۔ پس حزب التحرير کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کرو تاکہ یہودیوں، ہندوؤں اور امریکی صلیبیوں پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے دین کو سربلند کیا جا سکے، اور مسلح افواج میں موجود اپنے بیٹوں، بھائیوں اور باپوں کو ترغیب دو کہ وہ جلیل القدر عالم دین شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کی قیادت میں حزب التحرير کو نصرت (کامیابی کے لیے قوت و مدد) فراہم کریں:

 

﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾

"اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے"۔ (سورۃ آل عمران: آیت 133)

 

===

 

اسلام نے عورت کو عزت دی اور سیکولرزم نے اسے ذلیل کیا

ولایہ تیونس میں حزب التحرير کے میڈیا آفس کے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے: اس عنوان کے تحت حزب التحرير کے نوجوانوں نے قلیبیہ شہر کے متعدد باشندوں کے ساتھ مل کر، جمعرات 13 اگست 2026ء کو شہر کے معتمدیہ (لوکل ایڈمنسٹریشن) کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تاکہ مقامی حکام کی طرف سے شہر کی ملکہ حسن (بیوٹی کوئین) کے انتخاب کے لیے ساحلِ سمندر پر ایک فحش شو کے انعقاد کی اجازت دینے کی مذمت کی جا سکے۔

 

مزید کہا گیا: اس احتجاجی مظاہرے کے دوران استاد نزار القبجي نے خطاب کیا جس میں انہوں نے اس برائی کی شدید مذمت کی جو حیا کو مجروح کرتی ہے، مسلمان خواتین کی عزت و ناموس کو پامال کرتی ہے اور ان کے جسموں کو غلاموں کی منڈی میں ایک سستی جنس بنا دیتی ہے۔

 

استاد نزار نے مسلمانوں کی اقدار اور ان کی عزت و ناموس کو نشانہ بنانے والے اس گھناؤنے جرم کے خلاف قلیبیہ کے عوام کے انکار اور شدید غصے کا اظہار کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ قلیبیہ کے عوام مسلمان ہیں، اپنے دین پر فخر کرتے ہیں، اپنی اسلامی شناخت پر قائم ہیں اور زوال پذیر مغربی تہذیب کو مسترد کرتے ہیں۔

 

استاد نزار نے مقامی حکام کو ان مشکوک شوز کی اجازت دینے کا ذمہ دار ٹھہرایا جنہوں نے مسلمان بچیوں کی معصومیت کا فائدہ اٹھایا اور انہیں ایسے روپ میں ظاہر ہونے پر اکسایا جو عورت کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کے خلاف ہے اور شہر کے باشندوں کے وقار کے منافی ہے۔

 

پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا: اس احتجاجی مظاہرے سے قبل حزب التحرير کے نوجوانوں نے شہر میں رابطوں کی ایک وسیع مہم چلائی تاکہ لوگوں کو اس ہولناک برائی کو روکنے کی ذمہ داری کا احساس دلایا جا سکے۔ ان کی اس مہم کو شہر کے لوگوں کی طرف سے وسیع تائید حاصل ہوئی جنہوں نے ان مشکوک سرگرمیوں کی مذمت کی جو ان کے اسلامی طرزِ زندگی کے منافی ہیں، اور انہوں نے اسلام کی اقدار کے ساتھ اپنے تمسک کا اظہار کیا جس نے عورت کو عزت دی، اسے ماں اور ناموس کا درجہ دیا جس کا تحفظ فرض ہے، اور انہوں نے سیکولرزم کو یکسر مسترد کر دیا جس نے عورت کی توہین کی اور اسے ایک سستی جنس بنا دیا، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا چھٹکارا صرف اسلام اور اسلام کی حکمرانی میں ہی ممکن ہے۔

 

===

 

امتِ مسلمہ میں مردوں کی کمی نہیں ہے بلکہ اسلام کی حکمرانی کی کمی ہے

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ﴾ "اور عزت تو اللہ ہی کے لیے، اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے ہے"۔ (سورۃ المنافقون:آیت 8) اور بے شک امتِ مسلمہ میں مردوں کی کمی نہیں ہے، بلکہ اس میں اسلام کی حکمرانی کی کمی ہے، جو کہ خلافت کی ریاست کے سائے میں ہو، جو اسے اندرونی طور پر نافذ کرے اور دعوت و جہاد کے ذریعے اسے پوری دنیا تک پہنچائے۔

 

پس اے مسلم ممالک کی افواج! تاریخ ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جنہوں نے ٹرمپ اور سرمایہ دارانہ نظام کو کنٹرول کرنے والے دیگر صدور اور ان کے ساتھ کام کرنے والوں یا دیگر خود ساختہ نظاموں کو راضی کیا، بلکہ تاریخ ان لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے جنہوں نے اللہ کے دین کی مدد کی اور اسے لوگوں کے درمیان قائم کیا۔

 

بے شک امریکہ یا کسی اور کی رضا عارضی ہے، جب کہ اللہ کی رضا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ پس اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کی طرف رجوع کرو، اور امریکہ اور دیگر استعماری ممالک کے احکامات کی تعمیل بند کر دو، کیونکہ عزت اسلام میں ہے، وقار اللہ کی اطاعت میں ہے، اور حقیقی امن اس کی شریعت کو نافذ کرنے میں ہے، نہ کہ ٹرمپ یا دیگر جابر، ظالم اور متکبر بین الاقوامی قوتوں کی پناہ لینے میں۔

 

اے اہل اسلام! اللہ کے تاریخی قوانین کے مطابق حقیقی تبدیلی جمہوری بنیادوں پر کھڑی جماعتوں یا چهروں کو بدلنے سے نہیں آتی، بلکہ یہ اسلام کی حکمرانی قائم کرنے سے آتی ہے، تاکہ مسلمانوں کا وہ سیاسی وجود (ریاست) بحال ہو سکے جو انہیں متحد کرے، ان کے مقدسات کی حفاظت کرے اور دنیا تک اسلام کا پیغام پہنچائے۔

 

===

 

تاریخ کے فیصلہ کن لمحات تماشائیوں کا انتظار نہیں کرتے!

امت کا بنیادی اور بقا کا مسئلہ (قضیہ مصیریہ) پیوند کاری والے حل یا آدھے راستے کے سمجھوتوں کا تقاضا نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک ایسے جامع اور دور رس نظریے کا تقاضا کرتا ہے جو اسلامی طرزِ زندگی کو عملی طور پر بحال کرے، اور مبدأ (آئیڈیالوجی) اور اس ٹھوس فکری بنیاد پر کھڑا ہو جو عارضی حالات کی تبدیلیوں سے متاثر نہ ہو۔ یہ مروجہ نظاموں کی عارضی تبدیلیوں سے بے نیاز ہو کر عمیق سیاسی شعور، بڑی طاقتوں کے منصوبوں کو بے نقاب کرنے اور ان ہتھکنڈوں کو فاش کرنے کا تقاضا کرتا ہے جنہیں قوموں کے مقدر پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یہ متبادل کی تیاری اور زندگی کے تمام شعبوں؛ معاشی، سیاسی، معاشرتی اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے ایک جامع اسلامی حل پیش کرنے کا تقاضا کرتا ہے، جو ایک تیار تہذیبی متبادل کے طور پر انسانوں کے معاملات کی انصاف کے ساتھ دیکھ بھال کرے۔

 

پس ہر عقلِ سلیم اور پاکیزہ دل رکھنے والے کے لیے: بے شک تاریخ کے فیصلہ کن لمحات تماشائیوں کا انتظار نہیں کرتے، اور آج یہ پکار امت کے ہر فرد، ہر مفکر اور اس کے مستقبل کی فکر کرنے والے ہر شخص کے لیے ہے، کہ واضح و شفاف نظریے کا ہونا اور مبدأ (آئیڈیالوجی) پر کاربند رہنا ہی بیداری کا پہلا راستہ ہے۔ ہم صرف فکری نظریات پیش کرنے کی دعوت نہیں دے رہے، بلکہ ایک گہرے سیاسی شعور، غیر متزلزل عزم اور اس مخلصانہ عمل کی دعوت دے رہے ہیں جو امت کا اقتدار اسے واپس دلائے اور انسان کو اس کا وقار بحال کرے، تاکہ اسلام ہمیشہ کی طرح ایک ایسا نور بن کر ابھرے جو انسانیت کو جہالت اور مفاد پرستی کی تاریکیوں سے نکال کر حق کے انصاف اور رحمت کی طرف لے جائے۔

 

===

 

محمد ﷺ کی نیابت کون کرے گا اور ان کی امت کا دفاع کون کرے گا؟

بے شک غزہ میں ہمارے لوگوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے، مغربی کنارے میں انہیں بے گھر کیا جا رہا ہے، ہمارے ایغور بھائیوں کو ہر روز ان کے اسلامی عقیدے سے دور کیا جا رہا ہے، سوڈان کو اس کے لوگوں سمیت بدترین عذاب میں مبتلا کر کے ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے، شام پر ان لوگوں کو مسلط کر دیا گیا ہے جو اس کے انقلاب اور وہاں کے معزز لوگوں کی قربانیوں کا سودا کرتے ہیں، اور روئے زمین کا کوئی بھی گوشہ جہاں مسلمان آباد ہیں، وہ ان کے مصائب اور زخموں سے خالی نہیں ہے۔

 

مسلمانوں کا یہ حال اس وقت سے ہے جب سے ان کی خلافت کو منہدم کیا گیا اور ان کی زندگیوں سے اسلام کا اقتدار رخصت ہو گیا؛ ان پر دشمن چڑھ دوڑے اور ان پر ایسے کم عقل لوگوں کو مسلط کر دیا گیا جنہیں ٹیڑھی ٹانگوں والی کرسیوں کے عوض مسلمانوں کا حاکم بنا دیا گیا، اور ان کے علماء کو ان حکمرانوں کے سانچے میں ڈھال دیا گیا جو گونگے شیطان بن چکے ہیں۔

 

بے شک امتِ مسلمہ ایک بڑی آزمائش میں ہے، اور اللہ کے حکم سے اس بڑی آزمائش کے پیٹ سے ہی کوئی بڑا تحفہ اور انعام برآمد ہوگا، اور ہم اس آزمائش اور مصیبت کا خاتمہ صرف خلافت کی ریاست اور ایک ایسے ربانی خلیفہ کے ذریعے ہی دیکھتے ہیں جو جابر کافروں اور ان کے آلہ کاروں کو شیطان کے وسوسے بھلا دے۔

 

اے مسلمانوں کی افواج! اس مظلوم امت کے لیے مضبوط قلعہ اور سہارا کون بنے گا؟ اے صلاح الدین کے جانشینوں! محمد ﷺ کی نیابت کون کرے گا اور ان کی امت کا دفاع کون کرے گا؟ اے فاتحین کے بیٹوں! کون بیڑیاں کاٹے گا اور شہروں اور انسانوں کو ظالموں کے چنگل سے آزاد کرائے گا؟

 

بے شک حزب التحرير تمہیں پکار رہی ہے اور تمہارے جذبوں کو بیدار کر رہی ہے کہ تم اس کی مدد کرو، تاکہ تم اپنے اوپر سے اور اپنی امت کے اوپر سے ان قحط زدہ دہائیوں کی گرد جھاڑ سکو، ذلت کو عزت میں بدل سکو، اور اپنے ہاتھوں سے فتح اور غلبے کی صبح کا آغاز لکھ سکو؛ پس اس پکار پر لبیک کہو اور حق اور دین کی سربلندی کے لیے کام کرنے والے مخلصین کے قافلے میں شامل ہو جاؤ، تاکہ تم نبوت کے نقشِ قدم پر  خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اپنی امت کو آزاد کرانے کا شرف حاصل کر سکو، کیونکہ خدا کی قسم، یہی وقت کا فرض اور گھڑی کا تقاضا ہے۔

 

 

===

 

 

Last modified onاتوار, 23 اگست 2026 17:09

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک