بسم الله الرحمن الرحيم
یہ کوئی سفارتی ڈراما نہیں ہے۔خلافت کے لشکر مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرائیں گے
تحریر: استاد محمد عبداللہ – مقبوضہ کشمیر
(ترجمہ)
بھارت میں متعین امریکی سفیر سیرجیو غور کے حالیہ بیانات، جن میں انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو "بھارت کا ایک اہم حصہ" قرار دیا، اور اس کے بعد پاکستانی وزارتِ خارجہ کا وہ نمائشی احتجاج جو اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کی طلبی کی صورت میں سامنے آیا، ایک بار پھر اسلامی ممالک میں استعماری کافر طاقتوں اور ان کے کٹھ پتلی حکمران نظاموں کے سیاسی مقاصد کے مکر و فریب کی گہرائی کو بے نقاب کرتا ہے۔
روزنامہ 'ہندوستان ٹائمز' نے 19 اگست کو خبر دی کہ سفیر غور نے سرینگر کے اپنے پہلے دورے کے دوران—جو 2019 میں بھارت کی جانب سے اس خطے کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے باقاعدہ طور پر اپنے ساتھ ضم کرنے کے بعد کسی بھی حاضر سروس امریکی سفیر کا پہلا خود مختار دورہ ہے—یہ اعلان کیا کہ جموں و کشمیر "بھارت کا ایک اہم حصہ" ہے۔ اور یہ محض کوئی سفارتی خوش اخلاقی نہیں تھی، بلکہ کشمیر پر قابض ہندو ریاست کے ساتھ وفاداری کا ایک سوچا سمجھا اور نپا تلا اعلان تھا۔
دوسری طرف پاکستانی نظام کا ردعمل، جیسا کہ 20 اگست کو الجزیرہ نے بتایا، امریکی سفارت کار کو طلب کرنے اور اسلام آباد کی جانب سے "شدید احتجاج" پیش کرنے کی صورت میں سامنے آیا، جس میں بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر کو "بھارت کا حصہ" قرار دینے کو مسترد کیا گیا۔ تو یہ نمائشی تبادلہ حقیقت میں کیا ظاہر کرتا ہے؟ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ استعماری کافر قوتوں نے اپنے بدلتے ہوئے اسٹریٹجک حساب کتاب کے مطابق ہی ڈھالا ہے۔ چنانچہ سفیر غور کا بیان کوئی غلطی یا کوئی سفارتی لغزشِ زبان نہیں ہے، بلکہ یہ ہندو قوم پرستوں کے لیے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ جاری رکھنے کا ایک سوچا سمجھا اشارہ ہے۔
امریکی سفارت کار کو طلب کرنے، "شدید احتجاج" ریکارڈ کرانے، اور کشمیر کی متنازع حیثیت پر اصرار کرنے کی صورت میں پاکستانی نظام کا ردعمل ایک سیاسی ڈرامے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی کٹھ پتلی کی اداکاری ہے جسے غصے میں نظر آنے کا حکم تو دیا گیا ہو، لیکن وہ اندر سے مکمل طور پر مطیع و فرمانبردار رہے۔
پاکستان میں برسرِاقتدار آنے والے گروہ، خواہ وہ فوجی ہوں یا سویلین، خود کو "اسلام پسند" ظاہر کرنے والے ہوں یا کھلم کھلا سیکولر، ہمیشہ سے استعماری طاقتوں کے آلہ کار رہے ہیں۔ پاکستان نے کبھی بھی کشمیر کی آزادی کے لیے کوئی حقیقی کوشش نہیں کی، بلکہ کشمیر کے مسئلے کو ہمیشہ اپنے اقتدار کے جواز کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا؛ اور جب بھی اسے اپنی ناکامیوں سے عوامی توجہ ہٹانے کی ضرورت پڑی، اس نے عوامی جذبات کو ابھارا، جبکہ درپردہ وہ خاموشی سے موجودہ صورتحال کو قبول کرتا رہا۔ حتیٰ کہ پاک فوج نے کشمیر کے معاملے پر جو جنگیں لڑیں، وہ اس کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ اپنے اقتدار، مراعات اور قومی ریاست کے مفادات کے تحفظ کے لیے لڑی گئیں۔
وہ اصل بنیادی مسئلہ جسے استعماری امریکہ اور پاکستان میں اس کے آلہ کار حل کرنے سے کتراتے ہیں، وہ یہ ہے کہ کشمیر ایک اسلامی سرزمین ہے۔ کشمیر پر امریکہ کا موقف خواہ کچھ بھی ہو—چاہے وہ اسے "بھارت کا ایک اہم حصہ" تسلیم کرے یا اسے "ایک متنازع خطہ" قرار دے—اس کا کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ واحد موقف جو واقعی اہمیت رکھتا ہے، وہ صرف اسلام کا موقف ہے۔ اور وہ واحد قوت جو کشمیر سمیت تمام مسلم ممالک پر حکمرانی کا جائز شرعی حق رکھتی ہے، وہ خلافت کا اقتدار ہے؛ یعنی وہ اسلامی ریاست جو تمام مسلم علاقوں کو شریعتِ اسلامی کے نظامِ حکومت کے تحت متحد کرے گی۔
پاکستانی نظام کا واشنگٹن سے یہ مطالبہ کہ وہ کشمیر کو متنازع خطہ قرار دینے کے حوالے سے "اپنے عوامی موقف میں تسلسل برقرار رکھے"، اپنے استعماری آقا سے محض اس تنازع کے برقرار رہنے کے دھوکے کو قائم رکھنے کا مطالبہ ہے، تاکہ پاکستانی نظام کشمیر کی حقیقی آزادی کے لیے عملی طور پر کچھ کیے بغیر، مسلمانوں کے سامنے اپنے اقتدار کے جواز کے لیے اس مسئلے کو بطورِ ہتھیار استعمال کرنا جاری رکھ سکے۔
پاکستانی نظام اپنے اس ڈرامائی غصے کے باوجود اس حقیقت سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ مغرب کے اس قومی ریاست کے نظام کو کبھی نہیں چھوڑے گا جو ہماری شریعت کے لیے بالکل اجنبی اور اس کے منافی ہے، اور امریکی زبان و لہجے پر ہلکا پھلکا گلہ شکوہ کرتے ہوئے امریکی مفادات کی خدمت گزاری جاری رکھے گا۔ یوں کشمیر کے مسلمان بھارتی غاصبانہ قبضے تلے مسلسل سسکتے اور تکالیف جھیلتے رہیں گے، جبکہ پاکستانی حکمران محض بیانات جاری کرنے کے کھیل میں مصروف رہیں گے!
ہندو ریاست کشمیر اور دیگر مقامات پر امریکی ملی بھگت سے مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہی ہے، جبکہ پاکستانی نظام اسی امریکی طاقت کے ساتھ اپنے اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے محض احتجاج کا ناٹک کرتا ہے جس کا مقابلہ کرنے کا وہ جھوٹا دعویٰ کرتا ہے! کشمیر کے مسلمان عملاً دو استعماری نظاموں کے درمیان محصور ہو کر رہ گئے ہیں؛ نہ تو یہ ان کی نمائندگی کرتا ہے اور نہ ہی وہ ان کا دفاع کرتا ہے، اور اسلام کی رو سے ان دونوں میں سے کسی کے پاس بھی کوئی شرعی جواز حاصل نہیں ہے۔
مسئلہ کشمیر کا حل بھارت اور پاکستان کے مابین کسی ایک کو چننے کا نام نہیں ہے، اور نہ ہی یہ امریکہ کی طرف سے کشمیر کو "بھارت کا حصہ" تسلیم کرنے یا اسے "متنازع خطہ" قرار دینے کے درمیان کسی انتخاب کا معاملہ ہے؛ بلکہ اصل انتخاب استعماری نظام اور اسلامی نظام کے درمیان ہے، اور کفر کی حاکمیت یا اسلام کی حاکمیت کے درمیان ہے۔
پاکستان میں موجود مخلص اہل قوت کے نام یہ پکار دراصل ان کے اس شرعی فرض کی ادائیگی کی دعوت ہے جو خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کرنے کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ پس انہیں چاہیے کہ وہ اس امت اور اس کے دین کے مددگار (انصار) بنیں، نہ یہ کہ وہ قیامت کے دن ان رسوا اور خوار لوگوں کے ساتھ اٹھائے جائیں جنہوں نے امت کو غلام بنتے اور کٹتے مرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور خاموش رہے!
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ﴾
"اور جو لوگ کافر ہیں وہ ایک دوسرے کے رفیق اور مددگار ہیں۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے (یعنی آپس میں دوستی اور مدد و نصرت نہیں کرو گے) تو زمین میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور بہت بڑا فساد مچے گا۔" (سورۃ الانفال: آیت 73)
Latest from
- سویڈن: پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے خطرات!
- الرايہ کی متفرقات – شمارہ 615
- ابو الظہور: کیا اعلانیہ تصادم ، نارملائزیشن کی طرف لے جا رہا ہے؟
- سعودی سودانی رابطہ کونسل: سوڈان کی تقسیم کی کڑیوں میں سے ایک کڑی
- روسی فوجی لاجسٹکس اور معیشت کے خلاف ایک نئی جنگ یا وسطی ایشیا کو روسی اثر و رسوخ سے الگ کرنے کی پالیسی؟






